Pakistan Columns

All Columns (Urdu and English)Of Pakistan You Could Easily Read Here/

” Zia Shahid Hai “

سات دہائیوں کی پاکستانی صحافت میں بڑے بڑے قدآورنام آئے ‘بہت سے گردش ایام میں گم ہوچکے ‘ بہت کم ایسے ہیں جن کے نام سے آج کی صحافت آشنا ہے۔ لیکن گزشتہ نصف صدی کاتجزیہ کیاجائے تو چند ایسی نابغہ روزگار شخصیات سامنے آتی ہیں جنہوں نے اپنی سکہ بند صحافت کی وجہ سے نام بھی کمایا اورعزت وتوقیر کے شہ نشینوں پر بھی براجمان ہوئے۔ ان پیشہ ورصحافیوں نے ملک میں پے درپے آنے والے مارشل لاﺅں کاسامنا بھی کیااورجابر حکومتوں کے سامنے سینہ سپر ہوکرحق بات لکھنے اورکہنے پرسودابازی نہیں کی‘ اس دیانت پرانہوں نے قیدوبند کی صعوبتیں بھی برداشت کیں اورکوڑے بھی کھائے‘ صاف گو اور بے داغ یہ صحافتی شخصیات بفضل خدا آج بھی زندہ ہیں اوراپنی تحاریر وتقاریر سے نوآمدہ صحافیوں کی تربیت میں اپنا کردارادا کررہی ہیں۔ حتیٰ کہ حالیہ میڈیا کے کمرشل دورمیں بھی یہ لوگ اپنی مضبوط‘ دوٹوک اور زوردار آواز رکھتے ہیں۔ احترام کے قابل ان تمام ہستیوں میں یکتائی کادعویٰ اگر کسی کے متعلق کیاجاسکتاہے تو اس صحافی کانام ضیاشاہد ہے۔ انہوں نے اپنی جائے پیدائش گڑھی خدابخش ضلع شکار پور (سندھ) سے لاہور تک کاسفر اورپھر ہفت روزہ اقدام‘ کوہستان پھر ”نوائے وقت“ سے ” جنگ“ سے ”خبریں“ تک کاصحافتی سفر کیسے طے کیا،اس کی تفصیل خاصی طویل ہے لیکن گزشتہ کوئی چالیس سال سے اگر پاکستان کاصحافتی دور دیکھا جائے تو ضیاصاحب کاکوئی مخالف بھی انتہائی ایمانداری سے یہ اعتراف ضرور کرے گا کہ آج کی صحافت میں ضیاشاہد صرف ایک ہے!
ذاتی طورپر میں ضیاصاحب کی اس شعبہ میں یکتائی پرقوی دلائل اس لئے بھی دے سکتا ہوں کہ صحافت کی زیرزبر اورشد سے جس قدربھی واقفیت آج مجھے ہے یہ فقط جناب ضیاشاہد کی صحافتی تقلید اور ان کے زیرسایہ صحافت کرنے کی وجہ سے ہی ہے۔ ضیاصاحب کوصحافت کے ہرشعبہ میں کماحقہ عبور تو حاصل ہے لیکن اس کے ساتھ ساتھ وہ کمال کے ایڈمنسٹریٹر بھی ہیں لہٰذا یہ وصف بھی انہیں دوسروں سے ممتاز کرتاہے۔ 1980ءکی دہائی میں روزنامہ”جنگ لاہور“ کے ڈپٹی ریذیڈنٹ ایڈیٹر کی حیثیت میں انہوں نے نئے‘ اچھوتے صحافتی اسلوب اور زاویے متعارف کروائے۔ آج کی نئی صحافت کے تاروپود انہی بنیادوں پرچل رہے ہیں اوریہ عمارت انہی کے بنائے ہوئے ستونوں پر کھڑی ہے۔ترجمہ‘تحقیق‘ فیچر‘ سیاسی وادبی مضامین‘ ایڈیٹنگ ورپورٹنگ غرضیکہ ہرشعبہ میں انہوں نے اپنی بے پناہ صلاحیتوں کومنوایا۔ ہر موضو ع پرفورم اور ”جمعہ بخیر“ کے عنوان سے سیاسی وسماجی کالمز کاسلسلہ شروع کیا تو ان کے اچھوتے اسلوب وبیان کی خوبصورتی وگہرائی کی پہنچ تک کوئی ان کی ہم عصری نہ کرسکا‘ پھر روزنامہ ”خبریں“ کی تعمیروترقی اورطویل سفر کے پس پردہ جناب ضیاشاہد کی ذات‘ ان کی شبانہ روز کی محنت اور عرق ریزی پنہاں ہے۔ لہٰذا ضیاشاہد صاحب کیلئے توصیفی کلمات مجھے ہی نہیں اس پیشہ سے تعلق رکھنے والے ہر اس صاحب کو ادا کرنے چاہئیں جس نے پاکستان کی صحافت کے گزشتہ چالیس سال کامشاہدہ وتجربہ کیاہے۔ جناب ضیاشاہد اس ”صحافتی لشکر“ کے سپہ سالار اسلئے بھی ہیں کہ وہ ایک کارکن صحافی تھے لیکن اس کے باوجود انہوں نے پہلے سے موجود صاحب ثروت میڈیا مالکان کی صف میں اپنی قابل تحسین جگہ بنائی اور ”خبریں“ کو ایک میڈیا گروپ اورمضبوط ادارہ بنایا۔لہٰذا وہ قابل تقلید وستائش یوں بھی ہیں کہ ایسی کوئی حالیہ مثال صحافت میںایسی نہیں ہے کہ کسی کارکن صحافی نے صحافتی سیٹھوں کی موجودگی میں اپنا اخبار شروع کیا اورپھر پیچھے مڑ کر نہیں دیکھا۔
بدقسمتی ہے کہ آج کی الیکٹرانک میڈیا انڈسٹری میں ایسے چینلز کی بھرمار ہے جن کے مالکان کاتعلق صحافت سے ہے اورنہ ان میں کام کرنے والوں کاکوئی تعلق صحافت سے بنتاہے۔ میڈیا انڈسٹری میں نت نئے رسہ گیر‘ ٹیکس چور گھسے تو بدقسمتی سے آج چینلز پرجومعروف صحافی بنے بیٹھے ہیںڈاکٹر‘ انجینئر‘ اداکار اور کلاکار تو ہیں لیکن میرے نزدیک صحافی نہیں ہیں۔ یہ طبقہ زیادہ تر ٹی وی اینکرز کی شکل میں نمودار ہواہے بلکہ یہ کسی چھاتہ بردار کی طرح میڈیا میں داخل ہوچکے ہیں ۔ کسی صحافتی پس منظر کے بغیر خاموشی سے میڈیا میں درآنے والے ان لوگوں کے پاس یاتوکسی طاقتور حلقے کی پرچی تھی یا کوئی سفارش‘ آج کوئی پیشہ ورصحافی میڈیا کی اس صورتگری پر سوال اٹھائے تو اس پر ہمچو قسم کے الزامات لگاکراس کی کردار کشی کی جاتی ہے۔ اس قسم کے ماحول میں ”خبریں“ کااپنا اچھوتا کردار قائم رکھنابھی ضیاصاحب کی مینجمنٹ کی وجہ سے ہی ممکن ہواہے اوریہ اخبار ”جہاں ظلم‘ وہاں خبریں“ کے سلوگن کے ساتھ غریب‘ ضرورت مندوں اور معاشرے کے پسے ہوئے طبقہ کی آواز بنا ہوا ہے۔ ضیاصاحب کی ادارت میں کام کرچکے سینکڑوں لوگ آج کے معروف صحافی‘ اینکر اور تجزیہ کار ہیں۔ میں خود پچھلے تیس سال سے ضیاشاہد صاحب کی صحافتی تقلید کر رہا ہوں اور یہ انہی کی تربیت کااعجاز ہے کہ میں ”خبریں“ سے پہلے کئی ایک صف اول کے صحافتی اداروں میں ناکام نہیں ہوا۔ 1987ءمیں جب میں نے ”جنگ“ سے اپنے صحافتی سفر کاآغاز کیاتو ضیاصاحب ڈپٹی ریذیڈنٹ ایڈیٹر تھے میں نے ان کی ادارت میں ہرصحافتی صنف میں کام کیا، اس کی وجہ بھی یہی تھی کہ ضیاصاحب نئے آنے والوںکو ہر قسم کے تربیتی مراحل سے گزارتے تھے اوراس تربیت میں وہ خاصے سخت بھی واقع ہوئے تھے ،ان کے غصے سے سبھی کوڈر لگتاتھا ،ہم انہیں اکھڑ مزاج افسر سمجھا کرتے تھے لیکن حالات اوروقت نے ثابت کیاان کی یہ سختی اوراکھڑمزاجی کام کے دوران تھی، وہ ناحق اورنادرست بات پسند نہیں کرتے تھے لیکن کسی کی اہانت نہیں اصلاح کیلئے سختی کرتے اور دفتری کاموں میں انہیں برداشت کایارانہ تھا۔
جناب ضیاشاہد نے صحافت میں بددیانتی نہیں کی‘ بیرون ملک جائیدادیں بنائیں نہ بنک بیلنس اور نہ ہی اپنے بچوں کوتعلیم کیلئے امریکہ یا برطانیہ بھیجا حالانکہ وہ جس قسم کی بھاری بھرکم صحافتی شخصیت تھے اور ہیں وہ کسی بھی آتی جاتی حکومتوں سے بے انتہا مالی فوائد حاصل کرسکتے تھے جس طرح کہ ان کے بہت سے ہم عصروں نے کیا اور آج بھی کررہے ہیں۔ ضیاصاحب نے صحافتی زندگی کے مدارج طے کرتے ہوئے بڑا عروج پایا ،اس عروج اوراونچائیوں سے بڑے بڑے لوگ پھسل جاتے ہیں لیکن وہ اس سے دامن بچا کر گزرگئے ۔ ویسے تنقید کے چھینٹوں سے تو فرشتے ہی محفوظ ہیں‘ بشری کمزوریاں تو ضیاصاحب میں بھی ہوسکتی ہیں۔ اگر انسانی حوالوں سے دیکھا جائے تو ضیاصاحب انسان دوست اوروسیع القلب ذہن ودل کے مالک ہیں ،انہوں نے عہدوں اورمناصب کیلئے کبھی تگ ودونہیں کی‘ حصول مقصد کے لئے یامسند اقتدارکا قرب حاصل کرنے کیلئے چاپلوسی ورواداری کے بھی قائل نہیں رہے۔ میں تو اپنی زندگی کی تین دہائیاں ان کوجانتے ہوئے گزارچکا ہوں اوراپنا تجربہ ومشاہدہ بیان کر رہا ہوں ان کی ذات سے کسی کواختلاف بھی ہوسکتا ہے لیکن میں کسی قسم کی لگی لپٹی کے بغیر کہہ سکتا ہوں کہ وہ مرنجاں مرنج صاف ستھری شخصیت کے مالک ہیں،غبارکدورت انہیں چھوکربھی نہیں گیا،عمر کے اس حصے میں بھی بلاکی یادداشت ہے اورتمام دفتری امورمستعدی سے نبھاتے ہیں‘ کسی بھی قسم کے بحران میں باوقار‘ پریشان کن حالات کے باوجود نرم خو لیکن یہ بات درست ہے کہ سخت غصے میں ضرور چیں بہ چیں ہوتے ہیں جوایک فطری عمل ہے ، کوئی انسان اس سے مبرا نہیں ہے۔
معاملہ یہ ہے کہ ہمارے آس پاس بہترین انسان‘انتہائی تجربہ کار دماغ موجود ہیں لیکن ہمیں ان کی قدرہوتی ہے اورنہ ہی ہم ان کی ستائش اور ان کی خدمات کااعتراف کرتے ہیں۔ لیکن جب وہ اس دنیا سے چلے جائیں تو ان کی یاد میں قصیدے لکھتے اورتعزیتی ریفرنس منعقد کراتے ہیں۔چنانچہ اس قسم کے رویوں اورتقریبات کاکوئی فائدہ نہیں ہوتا۔ کیایہ بہتر نہیں کہ مختلف شعبوں میں جن لوگوں نے اپنی زندگیوں کی دہائیاں لگائی ہوں انہیں سراہنے کیلئے ان کی زندگی میں ہی ان کی خدمات کااعتراف کیاجائے ان کے تجربات سے فائدہ اٹھایاجائے تاکہ نئے آنے والے اپنے سینئرز کے تجربات سے فائدہ اٹھائیں۔ وہ جناب ضیاشاہد ہوں یا اس قبیل کے بعض دیگر صحافی‘ سب سے پہلے تو ہماری صحافتی برادری کایہ اولین فرض ہے کہ کسی قسم کے بغض وعداوت سے بالاتر ہوکر اپنے شعبہ میں گراں قدر خدمات انجام دینے والے سینئرز کی خدمات کے اعتراف کیلئے تقریبات کروائیں ‘انہیں اعزازات دیں‘ ورکشاپس منعقد کروائیں جہاں یہ سینئرز لیکچرزدیں۔ حالیہ دور میں ہمیں اس قسم کی تقریبات کی ضرورت اس لئے بھی زیادہ ہے کہ روز افزوں صحافت کی گرتی ہوئی اقدار اوراس شعبہ کی ساکھ کی بحالی کیلئے کیااقدامات ممکن ہوسکتے ہیں۔ اس سلسلے میں ان سے رہنمائی لی جاسکتی ہے درخواست کی جاسکتی ہے کہ اس صحافتی شوروشغب اوردھکم پیل کے ماحول میں اس شعبہ کی زبوں حالی کو کیسے کنٹرول کیاجاسکتاہے اور پاکستان کا ”عالم ِصحافت“ جوگزشتہ پندرہ سال سے خصوصاً لرزہ براندام ہے اس عمارت کو ریزہ ریزہ ہونے سے بچانے کے لئے کیا گُر استعمال کیاجائے اور اپنی صحافت کو نامانوس اوربھانت بھانت کی بولیاں بولنے والوں سے کس طرح رہائی دلوائی جاسکتی ہے یقینا ہمارے بہت سے صحافتی گورو راہ راست کی طرف ہماری رہنمائی فرماسکتے ہیں اورپھرضیاشاہد تو صحافی ہونے کے ساتھ دانشور‘ منتظم اوردرجنوں کتب کے مصنف بھی ہیں۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Copied!