Pakistan Columns

All Columns (Urdu and English)Of Pakistan You Could Easily Read Here/

” Young Doctoro Ny PTI Ko Vote Dia Tha “

میں نے میڈیکل ٹیچنگ انسٹی ٹیوشنز ایکٹ کے خلاف احتجاج کرتے ہوئے دو ، چار نہیں بلکہ بیس ، تیس ، چالیس ینگ ڈاکٹروں سے پوچھا کہ آپ نے عام انتخابات میں کس کو ووٹ دیا تھا، سب کا ایک ہی جواب تھا، پی ٹی آئی کو، کسی ایک نے بھی اس جماعت کو ووٹ دینے کا اقرار نہیں کیا جس کے دور میں ان کی تنخواہیں دو گنا سے بھی زیادہ ہوئیں، ان کا سروس سٹرکچر فارمولہ سامنے آیا،تیز رفتاری سے ترقیاں ہوئیں اور نئے ہسپتال بننے کے ساتھ ہزاروں ڈاکٹروں کو نوکریاں ملیں، جی ہاں، وہی نوکریاں جن کا کریڈٹ ایک ٹی وی پروگرام میں وزیر صحت پنجاب ڈاکٹر یاسمین راشد لے رہی تھیں اور وائے ڈی پنجاب کے عہدے دار ان کے منہ پر کہہ رہے تھے کہ یہ محکمہ صحت میں اب تک جتنے بھی اچھے کاموں کے فیتے کاٹے گئے ہیں، وہ سب شہباز شریف، سلمان رفیق اور عمران نذیر کے تھے۔ میرا اضافی کیا جاتا ہے کہ اگر نواز شریف جیل چلے جائیں اور شہباز شریف کو بھی بیٹوںسمیت ہتھکڑیاں لگ جائیں کہ میرا بھی اتنا ہی جاتا ہے جتنا سب کا جاتا ہے۔ پی ٹی آئی کو ووٹ دینے والے تمام ڈاکٹروں میں سے بہت ساروں نے میرے اگلے سوال سے پہلے ہی اپنی مایوسی کا اظہار اور غلطی کا اعتراف کر لیا، ہاں،ایک ممی ڈیڈی سٹوڈنٹ نے کہا وہ د وبرس انتظار کرنا چاہتا ہے۔ پی ٹی آئی کو ووٹ دینے والے تمام ڈاکٹر کہہ رہے تھے کہ خیبرپختونخوا میں ٹیچنگ ہسپتالوں کو پرائیویٹ بورڈ ز کے حوالے کرنے سے وہاں صحت کا نظام تباہ ہو گیا ہے تو مجھے سابق چیف جسٹس ثاقب نثار یاد آ گئے جنہیں میں ایک تجزیہ کار کے طور پر ایک سیاسی جماعت کے بدترین مخالف کے طور پر ہمیشہ یاد رکھوں گا، انہوں نے ایک سوو موٹو کیس میں تینوں صوبوں میں ہسپتالوں کی حالت کا جائزہ لیتے ہوئے کہا تھا کہ خیبرپختونخوا کے ہسپتال پنجاب اور سندھ دونوں سے برے ہیں۔ میڈیکل ٹیچنگ انسٹی ٹیوشنز ایکٹ جس طرح اسمبلی میں پیش کیا گیا ہے اسی طرح منظور ہوجاتا ہے تو پی ٹی آئی کو ووٹ دینے والے یہ تمام ڈاکٹر سرکاری نوکریوں سے فارغ ہوجائیں گے۔ انہیں قانون کے مطابق کہا جائے گا کہ اگر وہ ٹیچنگ ہسپتال میں نوکری کرنا چاہتے ہیں تو ایم ٹی آئی کو اڈاپٹ کر لیں بصورت دیگر انہیں پیرافیری یعنی چھوٹے ہسپتالوں میں ٹرانسفر کر دیا جائے گا۔ پی ٹی آئی والوں کا اب تک یہی کہنا ہے کہ یہ ایکٹ کام چور ڈاکٹروں کو کام کرنے پر مجبور کر دے گا کہ جب ان کی جاب سیکورٹی نہیں ہوگی توسارے کام چور، بندے کے پتروں کی طرح کام کریں گے اور بونس میں وائے ڈی اے والی عیاشی اور بدمعاشی بھی ختم ہوجائے گی۔ مجھے ایک عام شہری کے طور پر یہ بات بہت بھاتی ہے کیونکہ عام شہریوں کی نظر میں وائے ڈی اے بدمعاش ڈاکٹروں کا ٹولہ ہے مگر جب میں ایک ذمہ دار صحافی کے طور پر دیکھتا ہوں تو مجھے احتجاج کے طریق کار سے قطع نظرینگ ڈاکٹروں کی تنظیم اپنے بہت سارے مطالبات میںسو فیصد حق بجانب نظر آتی ہے، یاد ماضی ہے، جب میں ینگ ڈاکٹروں کو شہباز شریف کے پاس لے کر گیا تھا اور کہا تھا کہ ان کی تنخواہ ساڑھے تئیس ہزا ر روپے مہینہ بہت ہی کم ہے، اسے کم از کم دوگنا ہونا چاہئے تو میں اس پر مکمل طور پر قائل تھا کہ ہماری سوسائٹی کی کریم کو ایک کلرک کے برابر نہیں رکھا جانا چاہئے اور یہ کہ ان کا سروس سٹرکچر ہونا چاہئے تو اس میں کون سی غلط بات ہے۔ نئے قانون میں بڑے ہسپتالوں میں انتظامی بورڈ بنا کے خود مختاری دی جا رہی ہے۔ قانون نافذ ہونے کے بعد پی ٹی آئی حکومت کے بنائے ہوئے بورڈ ہر ہسپتال کے ان داتا ہوں گے، وہ فیصلہ کریں گے کہ کس ٹیسٹ کی کتنی فیس لینی ہے اور کس بیڈ کا کتنا کرایہ ہونا چاہئے ، وہی فیصلہ کریں گے کہ ایک چپڑاسی سے پروفیسر تک کس کو نوکری پر رکھنا ہے اور کس کو نکالنا ہے۔ میں نے پہلے بھی کہا کہ ایسی خود مختاری بظاہر بہت اچھی لگتی ہے مگر ہم اس تجربے کے بھیانک نتائج بھگت چکے ، اول یہ بورڈ اختیارات کی جنگ شروع کروا دیتے ہیں اور دوسرا مسئلہ کنٹریکٹ جاب کا ہے کہ عمومی تاثر کے مطابق پکے ڈاکٹر پکے ڈھیٹ ہوجاتے ہیں اور کام نہیں کرتے مگرپھر یہ ہوا کہ سولہ، سولہ برس تک ڈاکٹر ایک ہی گریڈ میں رہے اور ہمارے پاس نہ تو پروفیسرز بنے اور نہ ہی سینئر رجسٹرار۔ ہم نے ڈاکٹروں کو کنٹریکٹ پر رکھ کر ان کے سر پر جو تلوار لٹکائی وہ پڑھانے اور علاج کرنے والے پورے میڈیکل پروفیشن پر چل گئی۔ اس وقت ینگ ڈاکٹرزایسوسی ایشن کے ساتھ ساتھ ینگ نرسز ایسوسی ایشن( یہاں لفظ’ ینگُ لکھنے پر میرا ضمیر اور میرے قارئین مجھے معاف کریں) اور پیرامیڈکس بھی سراپا احتجاج ہیں مگر دوسری طرف پی ایم اے حکومت نے دو کشتیوں میں اپنے دونوں پاو¿ں رکھے ہوئے ہیں ۔وہ وایوان وزیرا علیٰ میں سرکار کی فزیو تھراپی بھی کرتی ہے اور ایم ٹی آئی ایکٹ کے خلاف کچھ بیان دے کرمنہ کی ایکسر سائز بھی کر لیتی ہے۔ پی ایم اے کا عملی طور پر کوئی اثر و رسوخ یا کردار نہیں مگر کتابی اور اصولی طور پر ضرور ہے۔ ان کا معاملہ یہ ہے کہ ڈاکٹر یاسمین راشد پی ایم اے کی رہنما رہی ہیں اور اب پی ایم اے والے یا تو اخلاقی طور پر اپنی رہنما کو اکیلا نہیں چھوڑنا چاہتے چاہے وہ پورے پروفیشن میں خود ایک بار پھر اکیلے ہوجائیں یا وہ سمجھتے ہیں کہ یہ آخری موقع ہے( آخری موقعے پر نوکمنٹس)، حالانکہ کہیں زیادہ بہتر ہو کہ وہ اپنی رہنما کی مجبوریاں بیان کریں کہ صوبے میں صحت کے معاملات کی ابتری اور باالخصوص بڑے سرکاری ہسپتالوں کی نجکاری والے قانون سے جھلکتی بربادی کی وہ ہرگز، ہرگز ذمہ دار نہیں۔ وہ نہ تو اس قانون کی ذمہ دار ہیں اور نہ ہی ادویات کی قیمتوں میں اضافے کی، ہاں، کسی حد تک سرکاری ہسپتالوں ادویات کے بحران کی ذمہ داری ان پر ضرور عائد ہوتی ہے کہ مریض ڈرپس، انجکشنوں اور روئی کے پھاہوں تک کے لئے ترس رہے ہیں۔ڈاکٹر صاحبہ اپنے تگڑے مخالفین سے اپنی وزارت بچا رہی ہیں ۔وہ ہمارے جیسے دوست میڈیا کا سامنا بھی نہیں کرنا چاہتیں کیونکہ ہسپتالوں کی نجکاری کے قانون کے خالق کے طور پرنوشیرواں برکی کا نام پہلوانوں کے خاندان سے ہونے کے باوجود نہیں لے سکتیں کیونکہ وہ عمران خان کے کزن ہیں اور نہ ہی وہ ادویات مہنگی کروانے والے طاقت ور عناصر کا نام لے سکتی ہیں کہ اس صورت میںو ہ اڑتالیس گھنٹے پہلے ہی وزارت سے فارغ ہو سکتی ہیں،یقین کیجئے، میرے دل میں ان کے لئے غصے کے بجائے چھوٹے بھائیوں جیسی محبت کچھ زیادہ بھرتی جا رہی چلی جا رہی ہے۔ لمبی بات کا کیا فائدہ،ہاں، سچی بات کا ضرور ہے کہ مجھے یہ مکافات عمل لگ رہا ہے، ہمارے ینگ ڈاکٹروں نے ( چاہے احتجاج کے بعد ہی سہی )تنخواہیں دوگنی ہونے سمیت بہت ساری سہولیات ، مراعات اور فوائد لینے کے بعد طوطا چشمی کی اورجس تبدیلی کو ووٹ دیاانہیں اس کا مزا ضرور چکھنا چاہیے مگر سوال سرکاری ہسپتالوں میں آنے والی مڈل اور لوئر مڈل کلاس کا ہے،غریبوں کو ممی ڈیڈی کلاس کی غلطیوں کی سزا کیوں ملے گی؟


Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Copied!