Pakistan Columns

All Columns (Urdu and English)Of Pakistan You Could Easily Read Here/

Ye ” Naam ” Koi Kaam Bigadny Nahi Deta

’’92نیوز‘‘کے ایم ڈی ۔میاں محمد رشید کا یہ اعتماد اور یقین بڑا مضبوط اور مستحکم ہے کہ ان کی سکرین اور صفحات کی رونق افروزی اور آباد کاری تو اُس اسم مبارک کی برکت سے ہے ،جس کی نسبت ان کے ٹی وی چینل اور اخبار— بلکہ ان کے پورے میڈیا گروپ کو میسر ہے ،وگرنہ اتنی کم مّدت میں ، میڈیائی ادار ے ایسے ’’Grow‘‘ نہیں کرتے ۔ حضرت اقبال ؒنے توبہت پہلے کہہ دیا تھا : آبروئے ما زِ نام مصطفی یعنی: ہماری ساری عزتیں اور عظمتیں تو محمد مصطفی کریم ﷺ کے نام نامی اسم گرامی کی برکتوں اور عنایتوں کے سبب ہیں ۔ اقبال مزید عرض گذار ہوتے ہیں : گردِ تو گردد حریمِ کائنات از تو خواہم یک نگاہِ التفات ذکر و فکر و علم و عرفانم تُوئی کشتی و دریا و طوفانم توئی اے پناہِ من حریم کوئے تو من بامیدے رمیدم سوئے تو (یارسول اللہ ﷺ) ساری کائنات آپ کے حریم ناز کا طواف کرتی ہے اور میں آپ کی ایک نگاہِ کرم کا بھکاری ہوں۔ میرا ذکر وفکر علم وعرفان سب کچھ آپ ہیں ۔میری کشتی بھی آپ ہیں ، دریابھی اور طوفان بھی آپ ہیں ۔(یارسو ل اللہ ﷺ) آپ کے کوچے کا حریمِ پاک ہی میری پناہ گاہ ہے ، اور میں اسی پناہ کی امید میں آپ کی طرف دوڑتا چلا آرہا ہوں ۔ حُسنِ اتفاق کہ 10اپریل کو ’’92اخبار‘‘ کی دوسری اور6– فروری کو 92چینل کی چوتھی سالگرہ کی تقریبات میں شامل رہنے کا موقع میسر رہا، اداروں کے بننے اور سنورنے میں 2یا چار سال کا عرصہ —کوئی ایسا نہیں ، کہ جس میں ایسا احترام اور اعتبار میسر آسکے،موجودہ حالات میں ادارہ سازی institutionalization)) کوئی اتنا آسان کام بھی نہیں ،ادارے بنانے آسان اور پروان چڑھانے مشکل ہیں ، لیکن ، یہ اللہ تعالیٰ کا خاص کرم اور نبی رحمتﷺ کی خصوصی توجہ کا فیضا ن ہے ،کہ یہ ادارہ اس قدر اعزاز اور اکرام کا حامل ہوا ۔اور پھر میاں صاحبان کو محنت ،اخلاص اور نیک نیتی کی دولت بھی میسر ہے،جسکا اظہار وزیر اعظم پاکستان نے پرائم منسٹر سکریٹریٹ میں ’’صوفی یونیورسٹی ‘‘کے قیام کے حوالے سے منعقدہ اجلاس بمطابق 25 فروری 2019ء میں ، 92 میڈیا گروپ کے چیئرمین محترم میاں محمد حنیف صاحب کے بارے میں بھی کیا اور بالخصوص اوقاف ومذہبی امور کے حوالے سے کچھ اہم ذمہ داریاں تفویض کرنے کا بھی عندیہ دیا ۔دنیا میں کامیابی انہی اداروں او ر افراد کو ملتی ہے جن کو اپنے کام سے سچی لگن ، کامیابی کا یقین اوراپنے مقاصد کا مکمل ادراک ہوتا ہے ،جو اپنی خامیوں کو دور کرنے اور خوبیوں اور صلاحیتوں کو بڑھانے کا ہنر اور خود کو منظم رکھنے کا فن جانتے ہوں ۔ حضرت عمر فاروقؓ کا قول ہے ۔’’حاسبوا قبل ان تحاسبوا‘‘ اپنا احتساب کرو قبل اس کے کہ تمہارا احتساب کیا جائے ۔ کامیاب سربراہ وہ ہے جو اپنی صلاحیتوں کو بھی پہنچانے اور اپنے ساتھ کام کرنے والے لوگوں کی استعداد سے بھی آگاہ ہو، اور پھر ان کی Capacityکے مطابق ان سے کام لے اور ان میں بڑے اہداف حاصل کرنے کا حوصلہ اور ان میں تواتر ، توازن ترتیب اور تسلسل کو برقرار رکھنے کا جذبہ پیدا کرے ۔بہرحال۔۔۔ہم بات کر رہے ہیں اس اسم گرامی کے فیضان کی …اور پھر یہ کہ اسم محمدؐ (92)کس طرح بنتا ہیکہ : یہی اک نام تھا لاھوت کی تختی پہ رقم یہی اک ذات تھی امکان بقا سے پہلے علم الاعداد کی تاریخ بہت پرانی ہے ،یونانیوں کے بعد،عبرانیوں نے اپنے ابجد کے بائیس حروف کو اعداد میںمنتقل کرکے ، ان سے طرح طرح کی تاویلات اخذ کرنے کا طریقہ رائج کیا ۔ عربوں نے ،عبرانیوں کے حروف ابجد میں چھ حروف کا مزید اضافہ کیا ، اس طرح عربی ابجد کے کل حروف اٹھائیس وضع ہوئے ، ان اٹھائیس حروف ابجد کو چاند کی اٹھائیس منازل پر منطبق کرکے ،ہر منزل کا ایک الگ حرف مقرر اور پھر ہر حرف کی ایک خاص تاثیر معین ہوئی ،انہی تاثیرات کے زیر اثر ،علم جفر کی مشہور شاخ ’’علم الآثار‘‘ معرضِ وجود میں آئی ۔’’ علم الآثار‘‘ کے اصول وقواعد کے مطابق ہی مختلف اورادو نقش اور تعویزات وغیرہ مرتّب ہوتے ہیں ،ان میں وہ اورادو وظائف بھی شامل ہیں ،جو کلام پاک کی مختلف آیات سے لیکر ،علم الآثار کے مطابق ،مختلف تاثیرات پیدا کرنے کے لیے استعمال ہوتے ہیں ۔اسی طرح بعض آیات ِ قرآنی کے حروف کی ابجدی قدریں محمل کرکے ،نقوش ترتیب اور ترکیب پاتے اور مختلف مطالب کے اخذ وحصول کے کام آتے ہیں ۔اسی علم الاعداد کے مطابق م کے عدد 40،ح کے عدد8، م کے عدد40،اور د کے عدد 4ہیں ،جس کے مطابق محمد (ﷺ) کے اسم مبارک کے کل عدد 40 + 8 + 40 + 4 = 92بنتے ہیں ۔ اقبال کا کہنا تو اپنی جگہ کہ ـ : دہر میں اسم ’’محمد‘‘ سے اُجالا کردے لیکن حیرت تو یہ ہے کہ بابا گورونانک نے اپنے ایک شعر کے ذریعے دنیا کو یہ پیغام دیا کہ ہر اسم کے حروفِ ابجد میں اسم ’’محمد‘‘تک رسائی اوراُن کے اخذِ فیض کا فارمولا موجود ہے۔ لونام چراچر کا چوگنا کردتا دو ملا کر پانچ گن کاٹو بیس بنا جو باقی رہے سو نو گن دو نو ہور ملا نانک اس بدہر کے نام محمدﷺ بنا یعنی کائنات کا جو بھی نام ہو ،اس کے حروف کی تعداد کو چار سے ضرب دیں ،پھراس میں دوجمع کریں اور پھر پانچ سے ضرب دیکر ،اس کو بیس پر تقسیم کریں ،جو باقی بچے اسے نو سے ضرب دیکر ،اس میں دوجمع کردیں جو عدد نکلے گا وہ’’92‘‘ہو گا ۔اس خطّہ پاک کی خوش بختی کہ اس کو تو کنٹری کوڈبھی’’92‘‘ میسر آیا، کہ دنیا بھرمیں آپ کہیں بھی ہوں ، اس وقت تک آپ کا پاکستان سے رابطہ ممکن ہی نہیں ،جب تک آپ ’’92‘‘ڈائیل نہ کریں ۔ خیمہ افلاک کا ایستادہ اسی نام سے ہے نبض ہستی تپش آمادہ اسی نام سے ہے ’’92‘‘میڈیا گروپ بالخصوص دین دار اورخوش عقیدہ طبقے کے لیے بہت بڑی نعمت ہے ، کہ انہیں اس میں عشقِ رسالتمآب ﷺ کے ساتھ آپ کے اہل بیت اطہار اور صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین سے محبت کی مہک میسر آتی ہے ۔ میاں صاحبان از خود دینی نسبتوں اور روحانی سلسلوں کے فیضان کے امین ہیں ۔دنیا اور اس کے مال واسباب کی فراوانی کے اثرات مسلمہ —دنیا کا عیش وآرام اور آسودگی بڑے بڑے دینی گھرانوں کوبھی چوکڑی بھلا دیتا ہے، اور پھر میڈیا کی چکا چوند — اس کا وار سہنا تو اس سے بھی زیادہ مشکل ہے ۔مگر92نیوزمیڈیا گروپ نے یہ ثابت کیا ہے کہ مذہبی روایات ،دینی ترجیحات اور اخلاقی اقدار کواوّلیت دے کر بھی اس انڈسٹری میں سرخروئی حاصل کی جاسکتی ہے۔ 

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Copied!