Pakistan Columns

All Columns (Urdu and English)Of Pakistan You Could Easily Read Here/

Wzir e Imran Khan Se Voter Ke Sawalat

امیروں کے پاس وقت ہے کہ وہ خواب دیکھیں، انکا پیچھا کریں، اہداف حاصل کریں، نئی فیکٹریاں لگائیں، لاکھوں کروڑوں کمائیں، دنیا گھومیں، مزے کریں، زندگی سے لطف اندوز ہوں، اچھا کھائیں، اچھا پہنیں، نئی گاڑیاں خریدیں، پرتعیش زندگی گذاریں۔ لیکن کیا ملک کے غریب کے پاس اتنا وقت ہے کہ وہ خواب دیکھے، اچھی زندگی کا سوچے، اچھا کھانا کھائے اہلخانہ کے ساتھ وقت گذارے بچوں کی شرارتوں سے محظوظ ہو، بدقسمتی سے آج وسائل سے محروم طبقے کے پاس تو سونے کا ہی وقت نہیں ہے خواب کہاں دیکھے گا۔ کہاں مستقبل کی تعمیر بارے منصوبہ بنائے گا، کہاں ملک کی تعمیر میں مثبت کردار ادا کرے گا۔ کیا یہ عمران خان کا پاکستان ہے، یقینا نہیں، عمران خان کا پاکستان ایک پاکستان ہے جہاں طبقاتی تقسیم نہیں ہو گی۔ عمران خان کا پاکستان وہ پاکستان ہے جہاں ہر شہری کے پاس نیند پوری کرنے، خواب دیکھنے اور ان خوابوں کے حصول کے لیے کام کرنے کا وقت ہو گا۔ اس پاکستان کی تعمیر کے لیے تمام اقدامات اٹھانا بھی وزیر اعظم کی ذمہ داری ہے۔ ایک اور نئے پاکستان کے لیے عمران خان کو ملک میں وسائل سے محروم طبقے کے ساتھ کھڑا ہونا پڑے گا، اس طبقے کی محرومی کو ختم کرنے کے لیے کام کرنا ہو گا۔ اس محروم طبقے نے تبدیلی کے نام پر عمران خان کو ووٹ دیا ہے، اس طبقے نے انہیں وزیر اعظم کے عہدے پر بٹھانے کے لیے خون پسینہ بہایا ہے، موسموں کی سختی برداشت کی ہے، سڑکوں پر دھکے اور ڈنڈے کھائے ہیں۔ نئے پاکستان کی تعمیر کے لیے عمران خان کو اس طبقے کے مفادات کا تحفظ کرنا ہے، حقیقی معنوں میں انکا لیڈر بننا ہے۔ آج یہ طبقہ وزیراعظم سے سوال پوچھتا ہے کہ پیارے وزیراعظم میرا کیا قصور ہے کہ آپ کے دور حکومت میں زندگی تنگ ہوتی جا رہی ہے، میرے وزیراعظم کھانے پینے کی اشیا میری پہنچ سے نکل رہی ہیں، میرے وزیراعظم ہر دوسرے دن مہنگائی کا ریلہ آتا ہے اور اس ریلے میں میرا سب کچھ بہہ جاتا ہے، وہ محروم طبقہ اپنے وزیر اعظم سے پوچھ رہا ہے کہ میرے وزیراعظم یہ پٹرول کی قیمتوں کو “پر” لگ گئے ہیں، اس اضافے نے میری بچی کھچی طاقت بھی ختم کر دی ہے، یہ طبقہ سوال پوچھتا ہے میرے وزیراعظم مجھے تبدیلی کا ہمسفر بننے کی اتنی سخت سزا کیو دی جا رہی ہے؟؟؟ کیا وزیراعظم عمران خان ان سوالات کا جواب دے سکتے ہیں۔ آج وسائل سے محروم طبقہ اپنے پسندیدہ وزیراعظم سے سوال کر رہا ہے کہ کیوں مہنگائی پر قابو نہیں پایا جا سکتا، کیوں ایسے اقدامات نہیں کیے جا سکتے کہ زندگی گذارنے کی بنیادی اشیا آسانی سے ہر شہری کی پہنچ میں ہوں، کیوں مافیا کو بیرحمی سے کچلا نہیں جا سکتا، کیوں غریبوں کی بیحسی کا مذاق بنایا جا رہا ہے، کیوں ان کے ارمانوں کا خون کیا جا رہا ہے، کیوں انکے ووٹ کے بیحرمتی کی جا رہی ہے، کیوں بڑے سٹوروں میں ڈی سی ریٹ کا غیر معیاری اشیا کا ایک کاؤنٹر بنا کر ہماری تذلیل کی جاتی ہے، کیا یہ ایک پاکستان ہے، کیا یہ نیا پاکستان ہے،

کیوں ہمارے لیے زندگی تنگ کی جا رہی ہے؟؟؟

عمران خان کو ان مسائل پر فوری توجہ دینے کی ضرورت ہے۔ ایوب خان کی حکومت گرنے کی وجہ کیا تھی، کیا تاریخ ہمیں یہ سبق نہیں دیتی کہ عوام کو بنیادی اشیاء کی فراہمی میں تعطل کس قدر خوفناک نتائج کا باعث بنتا ہے، کیا تاریخ ہمیں یہ سبق نہیں دیتی کہ عوام کی قوت خرید کم ہونے سے اقتدار جاتا رہتا ہے۔ قوموں کی زندگی میں دو چار سو ارب کی سبسڈی کوئی معنی نہیں رکھتی، وہ قوم جس نے اپنا پیٹ کاٹ کر عمران خان کو وزیراعظم بنایا ہے دو چار سو ارب کی سبسڈی قوم کے اس محروم اور ضرورت مند سے زیادہ اہم نہیں ہے۔ تبدیلی کے لیے ووٹ دینے والوں کو اس کی سزا نہ دیں، انکا کھانا نہ چھینیں، انکی سہولت کے لیے اقدامات کریں کیونکہ یہی وہ لوگ ہیں جو آپکو اقتدار میں لائے، آپ ان لوگوں کی امیدوں کا محور و مرکز ہیں، آپ انکی امید ہیں، آپ ان کے ساتھ نہیں کھڑے ہونگے تو تاریخ آپ کے ساتھ نہیں ہو گی۔

بہت ساری مثبت چیزیں ذہنی سکون کے ساتھ جڑی ہوئی ہیں۔ آج ذہنوں پر مہنگائی کا دباؤ ہے، اشیاء خوردونوش عام ادمی کی پہنچ سے باہر ہیں، ان حالات میں کوئی تعمیری کام کیسے کر سکتا ہے، کیسے اچھا سوچ سکتا ہے، کیسے آپکا ساتھ دے سکتا ہے، کیسے نئے پاکستان کے لیے کام کر سکتا ہے، وہ نوجوان جو آگے بڑھنا چاہتا ہے اس کے لیے ماحول پیدا کرنا ریاست کی ذمہ داری ہے۔ ریاست ماں جیسی ہوتی ہے۔ ماں اپنے بچوں کو تکلیف میں کیسے دیکھ سکتی ہے، ماں اپنے بچوں کے تڑپنے کا سامان کیسے کر سکتی، ماں اپنے بچوں کو بھوکا سوتے ہوئے کیسے دیکھ سکتی ہے۔ ہاں ماں بگڑے بچوں کو ڈانٹ ڈپٹ کرے، سزا دے، سختی سے پیش آئے لیکن جو اچھے بچے ہیں انکا بھی تو خیال کرے۔ انکے لیے تو زندگی آسان کرے۔ کیا ہم ایران کو نہیں دیکھ رہے کہ ڈالر کی قیمت آسمان کو چھو رہی ہے لیکن وہاں حکومت نے بہتر تدبیر سے، اچھی حکمت عملی سے بنیادی ضرورت کی چیزوں کو قیمتوں کو ایک خاص حد سے بڑھنے نہیں دیا، ہم کیوں ایسی حکمت عملی ترتیب نہیں دے سکتے؟؟؟

رمضان المبارک شروع ہونے کو ہے۔ہم ذاتی حیثیت میں مکمل طور پر عوام کو اشیاء خوردونوش کی ارزاں نرخوں پر فراہمی کو ممکن بنانے میں ناکام ہوئے ہیں، تاہم اس سلسلہ میں کوشش اپنی بساط سے بڑھکر کی ہے، دشمنیاں پالی ہیں، دوستیوں کو نقصان پہنچایا ہے، سرمایہ داروں کی مخالفت مول لی ہے، حملے برداشت کیے ہیں، شہر کے دو بڑے سٹوروں کے باہر حملے کا سامنا کرنا پڑا۔ یہ سب اس نئے پاکستان کی تعمیر کی خاطر برداشت کیا ہے۔ کیا یہ سٹور مالکان دنیا نہیں گھومے، کیا یہ نہیں جاتے کہ کینیڈا میں رمضان المبارک میں بڑے سٹوروں پر مسلمانوں کے لیے اشیاء خوردونوش کی قیمتوں میں پچاس فیصد، امریکہ میں دس فیصد حتی کہ بھارت میں بھی پچیس فیصد تک کمی کر دی جاتی ہے۔ کیا ہم ان سے بھی گئے گذرے ہیں، بڑے سٹوروں کے مالکان کو صرف منافع کمانے کا ہی شوق کیوں ہے۔ رمضان المبارک کے دوران قیمتوں میں کمی صرف قومی ہی مذہبی خدمت بھی ہے۔ ہمارے ہاں بڑے سٹوروں کے مالکان قومی نہ سہی مذہبی خدمت سمجھ کر ہی کچھ خیال کریں۔ عوام کی خدمت کو شعار بناتے ہوئے نئے پاکستان کی تعمیر میں وزیراعظم کا ساتھ دیں۔دہائیوں سے قابض مافیا اپنے طور طریقے بدل لے، مستقبل میں حکومت اس حوالے سے اقدامات ضرور اٹھائے گی۔ یہ بات طے ہے کہ آج وسائل سے محروم طبقہ اپنے وزیر اعظم کی طرف دیکھ رہا ہے امید ہے عمران خان اپنے پاکستانیوں کی توقعات پر پورا اتریں گے اور انکے مسائل کو حل کرنے اور مہنگائی کو کنٹرول کرنے کے لیے اقدامات اٹھائیں گے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Copied!