Pakistan Columns

All Columns (Urdu and English)Of Pakistan You Could Easily Read Here/

WCB Ya PCB !!!!!

کچھ کام اس انداز سے ہو رہے ہیں، بار بار یہ گمان ہوتا ہے کہ معاملات ایسے چلانے کی کوشش کی جا رہی ہے جیسے ہم کسی اور دنیا میں رہتے ہیں، یا ہم سمندر کے گہرے پانیوں کے باسی ہیں یا ہمارا بسیرا زیر زمین ہے یا ہم کہیں خلا میں معلق ہیں یا ہم کہیں جنگل میں رہتے ہیں یا ہم ایسی دنیا سے ہیں جہاں کسی کو کچھ عقل سمجھ نہیں ہے، کسی کو علم نہیں ہے، کسی کو سمجھ بوجھ نہیں ہے، کوئی یہ نہیں جانتا کہ کارروائیاں کیسے ڈالی جاتی ہیں، کوئی یہ نہیں سمجھتا کہ فائلوں اور الفاظ کا ہیر پھیر کیسے کیا جاتا ہے۔ قابل لوگ کیسے اختیارات کا استعمال کرتے ہوئے لوگوں کی آنکھوں میں دھول جھونکنے کی کوشش کرتے ہیں، کیسے اختیارات تقسیم کرنے کا بہانہ بنا کر اپنے من پسند افراد کو طاقت کا مرکز بنا کر کھیلنے کی کوشش کرتے ہیں، عوامی سطح پر اختیارات کی تقسیم اور منتقلی کا ڈھونگ رچاتے ہیں جبکہ حقیقت میں پیچھے بیٹھ کر وسائل پر قبضہ کرتے اور اختیارات کا مرکز بنے رہنے کے لیے قواعد و ضوابط کی خلاف ورزی کرتے رہتے ہیں پاکستان کرکٹ بورڈ میں ان دنوں “کارروائیوں”کا سیزن ہے۔ چیئرمین بننے کے بعد احسان مانی نے متعدد بار یہ کہا کہ وہ اختیارات تقسیم کرنا چاہتے ہیں سننے پڑھنے والوں کو اچھا لگا لیکن اس وقت بھی پس پردہ کام کچھ اور ہی چل رہا تھا۔ کارپوریٹ کلچر اور اختیارات کی تقسیم و منتقلی کے نام پر نیا کھیل شروع کیا ہے۔ واقفان حال بتاتے ہیں کہ پی سی بی نے اپنے گورننگ بورڈ کو سرکلر ریزولوشن بھیجا ہے جس میں مینجنگ ڈائریکٹر وسیم خان کو اختیارات کا مرکز بنایا جا رہا ہے، قومی ٹیم کے کپتان، کوچنگ سٹاف، سلیکشن کمیٹی، بڑے مالی معاہدے، مالی معاملات، تقرری، ترقی و تنزلی، کرکٹ گراونڈز کی تزئین و آرائش، ساز و سامان کی خریداری، بجٹ کی تیاری،فرنیچر و گاڑیوں کی خریداری، قومی و بین الاقوامی کرکٹ کے اہم معاملات، یوٹیلیٹی بلز، مارکیٹنگ اور براڈ کاسٹنگ ڈیلز، قانونی مشیر کی تعیناتی، ٹیکس سمیت دیگر تمام اہم معاملات اور اختیارات پاکستان کرکٹ بورڈ کے چیئرمین احسان مانی نئے مینجنگ ڈائریکٹر وسیم خان کو منتقل کرنا چاہتے ہیں۔ یہ کارروائی کامیاب ہوئی تو میڈیا میں پی سی بی کا خوش کن تاثر ابھارنے کی ذمہ داری بھی نئے مینجنگ ڈائریکٹر وسیم خان ہی نبھاتے نظر آئیں گے۔ اس فہرست میں کوئی کمی رہ جائے تو وہ اختیارات براہ راست چیئرمین استعمال کریں گے۔ حیران کن بات یہ ہے کہ پاکستان کرکٹ بورڈ نے اتنی بڑی تبدیلی کے لیے خط کا سہارا لیا، اس مشق کو گورننگ بورڈ کے اجلاس تک روک کیوں نہیں گیا یا اس سے پہلے ہونیوالے اجلاس میں پیش کیوںنہیں کیا گیا۔ ہم احسان مانی سے اچھا گمان کر سکتے ہیں کیونکہ انہیں وزیر اعظم پاکستان عمران خان نے تعینات کیا ہے لیکن جب چوری چھپے ایسے کام کیے جائیں گے تو خوش گمانیاں بدگمانی میں تبدیل ہونے لگتی ہے، جب اختیارات کی منتقلی کا نعرہ بلند کر کے “امپورٹڈ” شخص کو ذمہ داریاں دینے کے لیے قوانین کی خلاف ورزی کی جائے، آئین توڑا جائے تو شکوک و شبہات پیدا ہوتے ہیں۔ دلچسپ امر یہ ہے کہ تمام معاہدوں اور مالی معاملات پر احتساب کا کوئی پیمانہ مقرر نہیں کیا جا رہا۔ واقفان حال بتاتے ہیں کہ سارا کام کرنے کے بعد کاغذات پر دستخط کے لیے فائلیں گورننگ بورڈ کے سامنے رکھ دی جائیں گی۔ یہ سارے کام اس شخصیت کے دور میں ہو رہے ہیں جنکے بارے میں عمومی طور پر اچھی رائے پائی جاتی ہے۔ اب انہوں نے کام شروع کیا ہے تو لوگوں کو اندازہ ہو رہا ہے ہر چمکنے والی چیز سونا نہیں ہوتی۔

جہاں تک تعلق گراؤنڈز، ٹیکس اور حکومت کے مختلف محکموں کے ساتھ روابط کا ہے تو لاکھوں روپے ماہانہ پر تعینات کیے جانے والے چیف امپلی مینٹیشن اسٹرٹیجی آفیسر کو کیوں رکھا گیا ہے، ڈومیسٹک کرکٹ کے ڈائریکٹر اور اسکے ماتحت کام کرنیوالوں کی تنخواہوں کا بوجھ بورڈ کیوں برداشت کر رہا ہے، انٹرنیشنل کرکٹ کے ڈائریکٹر اور اسکا ماتحت عملہ کس مرض کی دوا ہے، انفراسٹرکچر کا ڈائریکٹر اور اسکا ماتحت عملہ کیا کرے گا، چیف فنانشل آفیسر اور اسکی ٹیم کو لاکھوں ماہانہ ادا کیے جاتے ہیں اسکی ضرورت کیا ہے۔

سب سے اہم بات یہ ہے کہ اس ایکسرسائز کی ضرورت کیوں ہے، ماضی میں یہ سارا کام چیئرمین کرکٹ بورڈ خود کیا کرتے تھے ان پر “ون مین شو” کی تنقید ہوتی تھی تو کرکٹ بورڈ کے موجودہ حکمران کا طرح مختلف ہیں البتہ یہ الٹا خزانے پر اضافی بوجھ ڈال رہے ہیں۔ ہیوی ویٹس پر مشتمل کرکٹ کمیٹی جس میں وسیم اکرم، محسن خان اور مصباح الحق جیسے کامیاب کرکٹرز شامل ہیں انکا کردار صرف مشورے دینے کا ہے لیکن وسیم خان کو تمام فیصلوں کا اختیار ہے۔ عجب فیصلوں کی غضب کہانی ہے۔

کیا احسان مانی نے وزیراعظم عمران خان کے ساتھ ملاقات میں نہیں سنا تھا کہ انکے چہیتے مینجنگ ڈائریکٹر کو بولنے پر وزیراعظم نے کیا جواب دیا تھا۔ انٹرنیشنل کرکٹ کونسل کی صدارت کا تجربہ رکھنے والے احسان مانی کیا پاکستانی عوام کو یہ بتانا پسند کریں گے کہ کرکٹ بورڈ کے موجودہ آئین میں ایم ڈی کے عہدے کی کوئی گنجائش نہ ہونے کے باوجود انہوں نے یہ تقرری کیوں کی، وہ بورڈ آف گورنرز کے اختیارات کو محدود کیوں کرنا چاہتے ہیں، کیا وہ عوام کو بتانا پسند کریں گے کہ لاکھوں روپے ماہانہ کرکٹ بورڈ کے خزانے پر اضافی بوجھ ڈالنے کی ضرورت کیوں پیش آئی، کیا وہ عوام کو بتانا پسند کریں گے کہ وہ اہم فائلوں پر دستخط کرنے سے کیوں ہچکچاتے ہیں، کیا وہ عوام کو بتانا پسند کریں گے کہ اتنی بڑی غیر آئینی و قانونی ایکسرسائز کرتے ہوئے انہوں نے وزیراعظم پاکستان کو اعتماد میں لیا، کیا نہوں نے وزارت بین الصوبائی رابطہ کو اعتماد میں لیا، کیا وہ پاکستان کے کرکٹرز کو بتانا پسند کریں گے کہ انہوں نے چھپ چھپا کر یہ سارا کھیل کیوں کھیلا، کیا وہ عوام کو بتانا پسند کریں گے کہ کروڑوں اربوں کے مالی معاملات کا اختیار ایک ہی شخص کو دینے کے محرکات کیا ہیں، آئینی و قانونی معاملات میں ماہر قانون کی رائے کے بغیر گورننگ بورڈ کو الجھانے کی وجہ کیا ہے۔ پی سی بی پر پاکستان کی عوام اور اس کے اثاثوں پر سب سے پہلا اور بڑا حق پاکستان کے کرکٹرز کا ہے۔ اس کے بارے میں اہم فیصلے کرتے ہوئے ذاتی مفادات کا تحفظ مفادات کے تصادم کہلاتا ہے۔ آپ کب تک وزیر اعظم عمران خان کے سائے میں چھپنے اور ان سے حقائق چھپاتے رہیں گے۔ میڈیا سے کچھ نہ چھپانے کا وعدہ کرنے والے کرکٹ بورڈ کے موجودہ چیئرمین میڈیا سے سب کچھ کیوں چھپا رہے ہیں؟ اتنے بڑے پیمانے پر اختیارات ایسے شخص کو دینے کی تیاریاں کی جا رہی ہیں جو ہمارے زمینی حالات سے واقف نہیں، جو ہماری کرکٹ کے مسائل سے واقف نہیں ہے، جو ہمارے کرکٹرز کے مسائل کو نہیں جانتا کیا یہ پاکستان کرکٹ بورڈ ہے یا وسیم کرکٹ بورڈ؟؟؟؟؟ دلچسپ امر یہ ہے کہ یہ سارے کام ماضی میں بورڈ کے سربراہان اعزازی طور پر کیا کرتے تھے لیکن موجودہ چیئرمین نے خود کو بچانے کے لیے پی سی بی کے خزانے پر لاکھوں ماہانہ کا اضافی بوجھ ڈال دیا ہے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Copied!