Pakistan Columns

All Columns (Urdu and English)Of Pakistan You Could Easily Read Here/

Wazir e Azam Imran Khan Ka Cricket Board Intazamia Par Adam Aetammad ???????

پاکستان کرکٹ بورڈ کے بڑوں کا ایک وفد وزیراعظم عمران خان کو کرکٹ کے نئے ڈھانچے کے حوالے سے تفصیلات دینے گیا۔سب بڑے ایک طرف اور انیس سو بانوے عالمی کپ کے فاتح کپتان ایک طرف، کئی ماہ کی تیاریاں، میٹنگز پر میٹنگز، سفارشات، کاغذی کارروائی، اہم نکات سب دھرے کے دھرے رہ گئے، وزیراعظم نے پی سی بی کے اعلیٰ دماغوں کی مہینوں کی محنت ایک لمحے میں غیر ضروری قرار دیتے ہوئے میٹنگ کا رخ ہی موڑ دیا۔ پاکستان کرکٹ بورڈ کے تمام بڑے مل کر وزیراعظم کو ذرہ برابر بھی قائل کرنے میں ناکام رہے۔ نا صرف ناکام رہے بلکہ کئی ماہ کی کوششوں اور میٹنگز کے بعد تیار کی جانے والی سفارشات کو وزیراعظم نے ایک لمحے میں میں ردی کی ٹوکریاں کی نذر کر دیا۔ واقفان حال بتاتے ہیں کہ ڈائریکٹر ڈومیسٹک کرکٹ ہارون رشید نے بات شروع کی لیکن وزیراعظم نے آغاز میں ہی انہیں روک کر اپنا منصوبہ بتانا شروع کر دیا کہ پاکستان کرکٹ کا ڈھانچہ کیا ہونا چاہیے، انہوں نے اپنا تجربہ بیان کیا اور واضح کر دیا کہ پاکستان کرکٹ کا مستقبل علاقائی کرکٹ ہے، علاقائی کرکٹ کو مضبوط کریں دنیا میں کوئی ٹیم پاکستان کا مقابلہ نہیں کر سکے گی۔ محکموں کا اس سے کوئی تعلق نہیں، انہوں نے محکمہ جاتی کرکٹ کے حوالے سے بہت سخت الفاظ استعمال کیے۔ پاکستان کی کرکٹ کا خاکہ کیا ہونا چاہیے اس حوالے سے انہوں نے واضح بتا دیا ہے۔ چیئرمین پی سی بی نے وزیراعظم کو بتایا کہ ہم آئین میں تبدیلی کر کے نظام کو مضبوط بنانے کی کوشش کریں گے۔ میٹنگ میں وزیراعظم کو بتایا گیا کہ حکمران جماعت سے تعلق کی وجہ سے معاملات پر اثر انداز ہونے کی کوشش کرتے ہیں۔ پاکستان کرکٹ میں سیاسی شخصیات کا آنا جانا لگا رہتا ہے، عون چودھری بھی چکر لگاتے ہیں، ملتان سلطانز خریدنے سے پہلے علی ترین بھی اس حوالے سے خبروں میں رہتے تھے، رہنما پاکستان تحریک انصاف فردوس عاشق اعوان نے بھی سیالکوٹ ریجنل کرکٹ ایسوسی ایشن کے سابق صدر ملک ذوالفقار کے ہمراہ احسان مانی سے ملاقات کی تھی۔ ابھی ملک ذوالفقار کا فون آیا۔ وہ بھی بتا رہے تھے کہ علاقائی کرکٹ کے فروغ میں ہی کرکٹ کی بقا ہے۔ واقفان حال بتاتے ہیں کہ وزیراعظم سے ملاقات میں فیصل آباد ریجنل کرکٹ ایسوسی ایشن کے صدر چودھری انور کا بھی اس حوالے سے ذکر ہوا کہ وہ بھی حکمران جماعت کے ساتھ تعلق کی وجہ سے اثر انداز ہونے کی کوشش کرتے ہیں۔ اور بھی کئی واقعات ہیں جہاں سیاسی شخصیات نظر آتی ہیں انکا ذکر پھرکبھی،تاہم وزیراعظم نے ہدایت کی کہ کرکٹ کے معاملات میں مصلحتوں سے آزاد ہو کر فیصلے کیے جائیں۔ واقفان حال کہتے ہیں کہ ایم ڈی وسیم خان نے راولپنڈی سٹیڈیم کی اپ گریڈیشن پر زور دیا انہوں نے بتایا کہ موجودہ حالات میں وہاں پی ایس ایل میچز کا انعقاد ممکن نہیں ہے۔ دلچسپ امر یہ ہے کہ پاکستان کرکٹ بورڈ کے بڑے مل کر اس منصوبے پر کام کر رہے تھے۔ حقیقت کا علم ہونے کے باوجود انہوں نے وزیراعظم کو چکمہ دینے کی کوشش کی، اس کارروائی کو کیا کہا جائے، اس عرصے میں جو سرمایہ خرچ ہوا، وقت ضائع ہوا ، چینی پھیلی اسکا ذمہ دار کون ہے، کیا یہ پاکستان کرکٹ بورڈ کی ناکامی نہیں کہ وزیراعظم کو خود نیچے سے اوپر اور اوپر سے نیچے سب کچھ خود بتانا پڑا ہے۔

کئی ماہ پہلے پاکستان کرکٹ بورڈ کے ایک اعلی عہدیدار سے ایک دوست نے پوچھا جناب کیا کر رہے پاکستان کرکٹ کے ساتھ، ملکی کرکٹ کا نیا ڈھانچہ کیا ہو گا، کیا محکموں کی ٹیمیں بند کر دی جائیں گی، کیا انکا کردار بدل جائے گا، کیا محکمے صرف سپانسرز کا کردار ادا کریں گے، گریڈ ٹو میں حصہ لینے والی ٹیموں کا کیا بنے گا، علاقائی ٹیموں کو کن بنیادوں پر چلایا جائے گا، کس طرح چلایا جائے گا، آخر کیا ہو رہا ہے۔ جواب ملا کہ ملکی کرکٹ کا مستقبل ہے۔

وزیراعظم پاکستان سیاست دان بعد میں اور کرکٹر پہلے ہیں۔لگ بھگ پینتیس سال قبل روزنامہ نوائے وقت میں عمران خان کا ایک آرٹیکل “پاکستان کرکٹ کا فرسودہ نظام” کے عنوان سے شائع ہوا تھا۔ عمران خان ڈومیسٹک کرکٹ میں ریجنل کرکٹ کے سب سے بڑے حامی ہیں وہ محکمہ جاتی کرکٹ کے مخالف رہے ہیں اور وہ آج بھی اپنے موقف پر قائم ہیں۔ عمران خان ماڈل کی بنیاد علاقائی کرکٹ پر ہے۔ آج پاکستان کرکٹ بورڈ کے بڑے وزیراعظم عمران خان کو نئے ڈھانچے کے حوالے سے بریفنگ دیں گے۔ واقفان حال بتاتے ہیں کہ اس میٹنگ پاکستان کرکٹ بورڈ کے چیئرمین احسان مانی، گورننگ بورڈ کے رکن لیفٹیننٹ جنرل ریٹائرڈ مزمل حسین، ذاکر خان، ہارون رشید اور مدثر نذر بھی موجود ہونگے۔ اس اہم مسئلہ پر گورننگ بورڈ کے رکن مزمل حسین خاصا کام کر چکے ہیں۔ میٹنگ میں وزیراعظم کو ڈومیسٹک کرکٹ ڈھانچے میں تبدیلی کے لیے اب تک ہونے والے کام کے بارے بتایا جائے گا۔ واقفان حال بتاتے ہیں کہ کرکٹ بورڈ کی طرف سے دو تجاویز وزیراعظم عمران خان کے سامنے رکھی جائیں گی۔ ایک تجویز یہ ہے کہ محکموں کو علاقائی ٹیموں کے سپانسرز کا کردار دے دیا جائے۔ اس صورتحال میں ریجنز اور محکموں میں نیا سیٹ اپ بنایا جائے گا۔ہر ریجن میں ایک بورڈ بنایا جائے گا جسمیں محکمے اور ریجن کے نمائندے شامل ہونگے۔ یہ سب مل کر کام کریں گے۔ دوسری تجویز یہ ہے کہ موجودہ نظام کو ہی چلتا رہنے دیں اور اس نظام میں موجود خامیوں کو دور کرنے پر کامیاب کیا جائے۔ دیکھنا یہ ہے کہ وزیراعظم کس طرف جاتے ہیں۔ وہ محکموں کی ٹیموں کے حق میں نہیں ہیں۔ انکے اردگرد اہم اور نمایاں کرکٹرز کی اکثریت بھی ایسے ہی خیالات کی حامی ہے، ممکن ہے کہ وہ سب عمران خان کے خیالات کے زیر اثر ہوں۔ محکمہ جاتی کرکٹ کی حمایت کی سب سے بڑی وجہ سینکڑوں کرکٹرز کی ملازمتیں ہیں جبکہ اس نظام کے مخالف لوگ سمجھتے ہیں کہ کرکٹ بورڈ کی ذمہ داری کرکٹ کروانا ہے۔ پلیئرز کے لیے ملازمتوں کا بندوبست کرنا کرکٹ بورڈ کا کام نہیں ہے۔ اس حوالے سے ماضی میں بھی کئی مرتبہ کوششیں کی گئی ہیں اور یہ سب کوششیں ملکی کرکٹ میں عمران خان ماڈل کے نفاذ کے لیے کی گئیں لیکن کامیابی نہیں مل سکی۔ اب عمران خان وزیراعظم ہیں یوں یہ کام اب نسبتا آسان ہو گیا ہے۔ سابق چیف سلیکٹر اقبال قاسم کہتے ہیں کہ ادارے حکومت کے زیر اثر ہوتے ہیں کون مزاحمت کر سکتا ہے۔ کسی کی جرات ہے کہ وہ وزیراعظم کو انکار کر سکے۔ واقفان حال بتاتے ہیں کہ عمران خان کی حلف برداری تقریب میں جب وہ ساتھی کرکٹرز سے ملے تو اس وقت بھی نمایاں کرکٹرز موجود تھے اس ملاقات میں عبدالقادر نے محکموں کی کرکٹ جاری رکھنے کی حمایت کی تھی انکے علاوہ کسی کرکٹر نے ڈیپارٹمنٹ کرکٹ کو جاری رکھنے کے حوالے سے عبدالقادر کا ساتھ نہیں دیا تھا۔ ملکی کرکٹ کی شکل بدلنے کی کاغذی تیاری مکمل ہو چکی ہے۔ دیکھنا یہ ہے کہ اس پر مکمل عملدرآمد میں کتنا وقت لگتا ہے اور کھلاڑیوں کے معاشی مستقبل کا تحفظ کیسے کیا جائے گا۔

کیا ملکی کرکٹ کا ڈھانچہ بدلنا سب سے اہم مسئلہ ہے۔ کوئی بھی نظام لائیں۔ کھیل کی مقبولیت میں اضافہ اور بہتری اچھے کرکٹرز کے سامنے آنے سے ہی ممکن ہے۔ ملک میں نوے فیصد نوجوان کرکٹ کھیلتے ہیں۔ کرکٹ کے ڈھانچے میں تبدیلی سے بہتری آتی ہے تو کرنے میں حرج نہیں ہے لیکن سب سے اہم مسئلہ دیگر کھیلوں میں مستقبل کا نہ ہونا ہے۔ کیا یہ بہتر نہیں کہ حکومت ملک میں سپورٹس کلچر کی بحالی اور ترقی کے لیے اقدامات کرے،نوجوانوں کو تمام کھیلوں میں صلاحیتوں کے اظہار کے یکساں مواقع مل سکیں، انہیں ہاکی ، ٹینس، ٹیبل ٹینس، بیڈ منٹن، سائیکلنگ، اسکواش اور ہاکی سمیت دیگر کھیلوں میں بھی مستقبل نظر آئے گا تو کرکٹ پر کرکٹرز کا بوجھ بھی کم ہو گا۔

کھیل کے معاملے پر وزیراعظم کی سمجھ بوجھ پر کسی کو کوئی شک نہیں ہے۔ پاکستان کرکٹ بورڈ کے تمام ڈائریکٹرز مل کر ایک انچ بھی عمران خان کو ان کے موقف سے پیچھے نہیں ہٹا سکتے، انہیں وہی کرنا ہو گا جو وزیراعظم چاہتے ہیں۔پاکستان کرکٹ کے بارے انکی اپنی سوچ ہے وہ اسے حقیقی معنوں میں فرسٹ کلاس بنانا چاہتے ہیں ضرور بنائیں، علاقائی کرکٹ کا فروغ اور اسکی ترقی یہ عمران خان کا خواب ہے ماضی میں بھی اس حوالے سے کرکٹ بورڈ میں کام ہوا لیکن رکاوٹوں کی وجہ محکمہ جاتی کرکٹ کا کردار ختم نہیں کیا جا سکا۔ اب عمران خان وزیراعظم ہیں تو وہ برسوں پرانے منصوبے کو مکمل کر کے رہیں گے۔

لیکن اس کے ساتھ دیگر کھیلوں کی بحالی کیلئے بھی ہنگامی بنیادوں پر کام کرنے کی ضرورت ہے جو کرکٹ نہیں کھیلتے وہ یہ سمجھتے ہیں کہ اس کھیل کی وجہ سے وہ نظرانداز ہوتے ہیں اب وزیراعظم کی توجہ بھی صرف کرکٹ پر رہی تو دیگر کھیلوں سے تعلق رکھے والے کھلاڑیوں کو مایوسی ہو گی ملک میں کرکٹ کلچر نہیں مضبوط اور بھرپور سپورٹس کلچر کی ضرورت ہے کلچر کو پروان چڑھانے کیلئے نوجوانوں کی نظریں وزیراعظم عمران خان پر ہیں پاکستان کرکٹ بورڈ حکام میں اپنا قبلہ درست کریں زبانی جمع خرچ اور ٹھنڈے کمروں میں بیٹھ کر کاغذ کالے کرنے کے بجائے میدان میں آکر کام کریں۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Copied!