Pakistan Columns

All Columns (Urdu and English)Of Pakistan You Could Easily Read Here/

Watan e Aziz Ki Khidmat Ka Jazba

یہ حقیقت ہے کہ بیوروکریسی میں ایسے گوہر آبدار بھی اپنی چمک دکھا گئے جن کا کردار آنے والے بیوروکریٹس کیلئے مشعل راہ بنا۔ ان قابل عزت اور قابل احترام افراد میں ایک نام سرفراز حسن کا بھی ہے۔ سرفراز حسن 23 مارچ 1924ء کو پیدا ہوئے۔ انہوں نے 1947ء میں فیڈرل پبلک کمشن کا امتحان (بھارت) سے پاس کیا اور 1948ء میں پاکستان پولیس میں بھرتی ہوئے۔ پولیس نوکری سے قبل حبیب بنک لمیٹڈ میں سینئر آفیسر بھی رہے۔سرفراز حسن ایک پڑھے لکھے اور با کردار خاندان سے تعلق رکھتے تھے۔ ان کے خاندان کا ہر فرد نمایاں حیثیت اور اعلیٰ عہدوں پر فائز رہا ہے۔ ان کے والد گرامی محمد حسن متحدہ پنجاب میں پہلے مسلمان سیشن جج مقرر ہوئے تھے۔انہوں نے سیشن جج کی حیثیت سے ایک پراپرٹی کیس میں ہندو کے مقابلے میں مسلمان کے حق میں فیصلہ کر دیا جس پر ہر طرف سے شور بلند ہونے لگا اور اپیل پر جسٹس شادی لال نے اس فیصلے کو کالعدم قرار دے دیا۔ مگر پریوری کونسل نے ان کے فیصلے کو درست قرار دیتے ہوئے بحال کر دیا۔ ان کے ایک بھائی ممتاز حسن ملک کے پہلے سیکرٹری خزانہ ، دوسرے بھائی نعیم حسن حکومت کے مشیر قانون اور تیسرے بھائی مشتاق حسن ڈاؤ میڈیکل کالج کے پرنسپل رہے۔ سرفراز حسن پولیس سروس میں آنے کے بعد پولیس ٹریننگ کالج، سردھا ، راج شاہی (مشرقی پاکستان) میں بطور اسسٹنٹ سپرنٹنڈنٹ پولیس تعینات ہوئے۔ یہاں انہوں نے 1952ء کے اوائل تک کام کیا۔ اسی دوران منشی گانگ میں سب ڈیژنل پولیس آفیسر تعینات ہوئے۔انہوںنے بطورسب ڈویژنل آفیسر نارائن گنج میں بھی خدمات سرانجام دیں۔ 1963ء میں ہی ڈپٹی انسپکٹر جنرل کے عہدے پر تعینات ہوتے ہوئے حیدر آباد، خیر پور، بہاولپور، کوئٹہ، قلات ، ملتان اور لاہور میں خدمات سرانجام دیں۔ انہوں نے ریلویز ہیڈ کوارٹر اور ٹیلی مواصلات میں بھی بطور ڈی آئی جی کام کیا ۔ 1969-70ء میں جنرل مٹھا کی سربراہی میں پاکستان پولیس کمشن کے ممبر بنے اسی دوران ملتان میں D.I.G کی ڈیوٹی بھی سرانجام دی۔ سرفراز حسن مغربی پاکستان کے واحد ڈی آئی جی تھے جو بطور خاص اہم مناصب پر تعینات ہوئے۔ 1970 میں ایڈیشنل انسپکٹر جنرل ، انسپکٹر جنرل پولیس تعینات ہوئے ۔ سرفراز حسن نے 1970-72ء میں چیئرمین روڈ ٹرانسپورٹ کارپوریشن منتخب ہونے کے بعدنہ صرف ادارے سے کرپشن کا خاتمہ کیا بلکہ اس کی کارکردگی کو بھی بہتر بنایا۔ کرپشن مافیا کے خلاف جہادکیا اور کرپشن میں ڈوبے ہوئے 36 افسران کو چارج شیٹ کیا۔ کرپشن کی وجہ سے روڈ ٹرانسپورٹ کارپوریشن خسارے میں چل رہی تھی اسی لئے آپ نے اپنے لئے سرکاری گاڑی (مرسیڈیز)لینے سے انکار کر دیا اور اپنی چھوٹی فیٹ کار 1966 ء ماڈل 1100/D پر ہی دفتر آتے جاتے ۔ یہ واحد نئی کار تھی جو کہ سرفراز حسن نے اپنی ملازمت کے دوران قسطوں پر خریدی تھی۔ اپریل سے جولائی 1975ء وزارت داخلہ میں ایڈیشنل سیکرٹری تعینات ہوئے اس کے ساتھ ساتھ تین سال 1975-78ء کیلئے پنجاب کے ایڈیشنل چیف سیکرٹری تعینات ہوئے۔ اس کے ساتھ ساتھ چیئرمین پنجاب روڈ ٹرانسپورٹ بورڈ کا اضافی چارج بھی تھا۔ اس کے علاوہ نیشنل انسٹیٹیوٹ آف پبلک ایڈمنسٹریشن کے چیئرمین بورڈ آف گورنرز بھی رہے۔ اس عرصہ کے دوران انہوںنے بڑے شہروں میں ٹریفک مشکلات پر ایک رپورٹ بھی تحریر کی جس کو مختلف مکتبہ فکر میں بہت سراہا گیا۔ لاہور رنگ روڈ کی تعمیر میں ان کی تمام سفارشات کو مد نظر رکھا گیا۔ سرفراز حسن نے بطور پولیس آفیسر اور سیکریٹریٹ گروپ ، جوائنٹ سیکرٹری کیبنٹ ڈویژن اور جوائنٹ سیکرٹری انٹیریر ڈویژن میں خدمات سرانجام دیں۔ اس کے علاوہ چیف سیکرٹری اور فنانشل کمشنر آزاد کشمیر کی نشست پرتعیناتی کے دوران آزاد کشمیر گورنمنٹ کے لئے رولز آف بزنس اور بہت سے فائدہ مند منصوبے بنائے۔ انہوں نے چیئرمین پی آئی اے کو ایئر پور ٹ بنانے اور ڈی جی ریڈیو پاکستان کو پاکستان ریڈیو کی فریکونسی بہتر بنانے کیلئے بہت سے خطوط بھی تحریر کیے کیونکہ بھارتی آل انڈیا ریڈیو آزاد کشمیر میں پاکستان کے خلاف اپنا پروپیگنڈہ پھیلا رہا تھا۔ ان کے اقدامات کی وجہ سے پاکستان ریڈیو کی آواز مقبوضہ کشمیر تک پہنچی۔ آزاد کشمیر میں اسی طرح کے بہت سے منصوبے ان کے خطوط کی وجہ سے پورے ہوئے۔ انہوں نے انٹی کرپشن کے چیئرمین کی حیثیت سے آزاد کشمیر کے سیاستدانوں، وزراء اور بااثر افراد کے خلاف دبائے گئے کرپشن کیس دو بارہ اوپن کئے ۔ ان کے پاس چیئرمین مظفر آباد ڈویلپمنٹ اتھارٹی کا اضافی چارج بھی تھا۔ شاید وہ پہلے پی ایس پی آفیسر تھے جنہوں نے چیف سیکرٹری کاعہدہ حاصل کیا۔ سرفراز حسن کا ایک بڑا کارنامہ بلوچ لیوی پرکتاب لکھنا بھی ہے۔ 1952ء میں بطور اے ایس پی اور کمانڈنٹ بلوچ لیوی ، ڈیرہ غازی خان ، 100 صفحوں پر مشتمل بلوچ لیوی کی نئی تاریخ رقم کی جو کہ چھپ نہ سکی مگر کمشنر ملتان نے ان کے اس کام کوبڑا سراہا اور اسے پنجاب سیکرٹریٹ میں شائع کرنے کیلئے بھیجا ۔ آخر کار گورنمنٹ پبلیکیشنز نے اسے چھاپا۔ بلوچ لیوی پر مغربی پاکستان پبلیکیشنز کی اشاعت جونیئر افسران کے لئے ایک منفرد تصنیف تھی۔ مرکزی یا صوبائی سول سروس کا کوئی بھی آفیسر اس سے مستفید ہوئے بغیر نہیں رہ سکتا تھا۔ مغربی پاکستان کے انسپکٹر جنرل آف پولیس کے حکم پر اس کی کاپیاں ملک کی مختلف لائبریریوں جن میں مختلف صوبوں میں وزارت داخلہ کی لائبریریاں، وزارت خارجہ ، نیشنل انسٹیٹیوٹ آف پبلک ایڈمنسٹریشن ، سول سروس اکیڈمی، پاکستان ایڈمنسٹریٹو سٹاف کالج لاہور، جی ایچ کیو راولپنڈی، کمانڈ اینڈ سٹاف کالج کوئٹہ، صدارتی لائبریری شامل ہیں، بھیجی گئیں۔ تقریباً ہر جگہ سے اس کتاب کو تعریفی خطوط موصول ہوئے۔ خاص طور پر کمانڈ اینڈ سٹاف کالج کوئٹہ کے کمانڈنٹ ، سابق وزیر خارجہ صاحبزادہ یعقوب خان، پرنسپل پاکستان ایڈمنسٹریٹو سٹاف کالج لاہور اور اس وقت کے صدر فیلڈ مارشل محمد ایوب خان کی طرف سے اس کو بہت پذیرائی ملی۔ اس کتاب کی اہمیت کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ 1901ء میں بلوچ لیوی کے آغاز کے بعد سے دنیا میں بلوچ لیوی پر یہ واحد کتاب تھی۔ انہوں نے بلوچی زبان کا امتحان اچھے نمبروں سے پاس کیا اور گورنمنٹ سے 750/- روپے کا انعام بھی حاصل کیا۔ آپ نے 90 سال ی عمر میں وفات پائی۔ 

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Copied!