Pakistan Columns

All Columns (Urdu and English)Of Pakistan You Could Easily Read Here/

Waseb Wasio Ky Masail kam Kary

میں یہ ہرگز نہیں کہنا چاہتا کہ بھکر میں روڈ ایکسیڈنٹ میں مرنے ولی چھ طالبات ہماری غفلت کی بھینٹ چڑھی ہیں کہ بار بار کی عرضداشتوں کے باوجود ایم ایم ایسے قاتل روڈ کو دورویہ نہیں کیا جارہا ،میں یہ بھی نہیں کہنا چاہتا کہ ہمارے ملتانی آرٹسٹ استاد اعجاز نظامی بھی حکومتی عدم توجہی اور بے رخی کے باعث سرکاری علاج کے بغیر اس دنیا سے رخصت ہوگئے ،میں یہ باتیں اس وجہ سے نہیں کہنا چاہتا کہ ہمارے حکمرانوں کو شاید وسیب واسیوں کے مسائل سے اب کوئی دلچسپی نہیں رہی ور نہ وہ آپس میں عورتوں کی طرح نہ لڑتے رہتے۔ جب سے وہ اقتدار میں آئے ہیں اپنے وسیب کے لیے کچھ نہ کچھ تو کرتے،رہی بات وزیراعلیٰ عثمان بزدارکی تو انہوں نے سب سے پہلا جو کام کیا ہے وہ ریڈیو ملتان سے بلوچی زبان میں ایک پروگرام کا آغاز ہے ۔ہمیں بلوچی زبان سے کوئی نفرت نہیں بلکہ عثمان بزدار کو چاہیے کہ وہ ایک بلوچی پروگرام سرگودھا ،فیصل آباد اور لاہور سے بھی شروع کریں کیونکہ بلوچ وہاں بھی رہتے ہیں ،ویسے ہمارے علاقوں میں رہنے والے بلوچوں کو بلوچی زبان بالکل نہیں آتی پھر ایسے پروگرام کا آغاز سمجھ سے بالاتر ہے ۔ابھی کچھ دن قبل سرائیکی ،پنجابی لسانی وثقافتی ہم آہنگی کے سلسلے میںاپنے دوست آصف اقبال کی شادی پر فیصل آباد جانے کا اتفاق ہوا تو راستے میں جگہ جگہ لگے موٹروے پر بینرز دیکھ کر خوشی ہوئی جن پر لکھا تھا کہ اب موٹروے کے چالو ہونے سے ملتان سے فیصل آباد اور ملتان سے لاہور تک کا فاصلہ خاصا کم ہوگا تو یہ فاصلے کم کرنے والوں کو کون بتائے کہ وسیب کے لوگوں کا مسئلہ فاصلے کبھی بھی نہیں رہے جو ثقافتی میلے دیکھنے کے لیے میلوں کا سفر بیل گاڑیوں ،تانگوں اور اٹھ کچاوں پر کرتے رہے ہیں ان کا مسئلہ اپنی شناخت تو ہوسکتی ہے اپنی پہچان تو ہوسکتی ہے یہ فاصلے نہیں ‘تو اب وقت کا تقاضا ہے کہ اس خطے کا سیاسی اور ثقافتی مسئلہ فوری حل کیا جائے اور نیلی اجرک پہن کروسیب زادوں سے ووٹ مانگنے والوں کو چاہئے کہ آپس میں لڑنے کے بجائے اپنے سیاسی حقوق کی واگزاری کے لیے اکٹھے ہوکر کام کریں ۔
اگلے دن نواں شہر کے قریب طارق بشیر چیمہ کے خلاف جاری مظاہرے میں جانے کا اتفاق ہواتو وہاں موجود پولیس اہلکاروں نے بتایا کہ ہمیں بھی اپنے چھوٹے چھوٹے کاموں کے لیے لاہور جانا پڑتا ہے،اگر ہم کسی کیس کے سلسلے میں کوئی شے برآمد کرلیں تو اسے جمع کروانے یا اس کے ٹیسٹ ،موازنے کے لیے ہمیں لاہور جانا پڑتا ہے بلکہ پورے پنجاب کے لوگوں کو لاہور جانا پڑتا ہے،پنجاب فرانزک سائنس ایجنسی میں رش کی وجہ سے وہاں کے اہلکاروں کا رویہ متکبرانہ اور اہانت آمیز ہوتا ہے اگر اس کے لیے دو چار زون بنا دیئے جائیں تو آسانی ہوجائے گی ،اسی طرح پورے وسیب کے لوگوں کوبیرون ممالک جانے کے لیے و دیگر چھوٹے چھوٹے کاموں کے لیے لاہور یا اسلام آباد جانا پڑتا ہے اگر فوری طور پر فارن آفس کا کیمپ آفس ملتان میں بھی بنا دیا جائے تو یہاں کے کافی لوگوں کو ریلیف ملے گا ۔خطے کے لوگ پہلے انٹری ٹیسٹ کے خلاف بولتے تھے اب تو پانچویں کے امتحان بھی لاہور کے ادارے لے رہے ہیں ایک عجیب وغریب مرکزیت قائم کی جارہی ہے جو دوریوں کو جنم دے رہی ہے اور یہ چیز وسیب کے ارکان اسمبلی کو سمجھ نہیں آرہی اگر آبھی رہی ہے تو مجرمانہ غفلت اختیار کیئے ہوئے ہیں کہ عوامی مفاد کے لیے بولتے بھی نہیں ۔ہاں اب بھی اگر کسی کا تبادلہ کروانا ہو تو فوری طور پر سی ایم یا گورنر سے ملاقات کر کے اپنا ٹارگٹ مکمل کرلیتے ہیں۔
جس طرح میں نے پہلے کہا کہ یہاں کا اہم مسئلہ ثقافتی اور شناختی ہے جس کی وجہ سے یہاں کے لوگ عرصہ دراز سے جدوجہد کررہے ہیں ،یہاں کے وڈیرے اور سردار تو کافی عرصے سے کسی نہ کسی طرح اقتدار میں رہے ہیں ،ا ب بھی اگر وسیب زادوں اور الگ صوبے کے ووٹوں سے عمران خان کو اقتدار ملا ہے تو انہوں نے بھی ان لوگوں کو اقتدار سے دور رکھا ہوا ہے جن کے نعرے کو پہلے پی پی نے چرا کر اقتدار کے مزے لوٹے اور اب عمران خان وعثمان خان مزے لوٹ رہے ہیں جبکہ دھرتی کے اصل باشندے آج بھی اقتدار کے سرکل سے دور ہیں۔ ہونا تو یہ چاہئے تھا کہ یہاں کی اجرک گلے میں پہن کرووٹ مانگ کر اقتدار تک پہنچنے والوں کو پہلے ان لوگوں کے پاس شکریئے کے لیے آنا چاہیے تھا ۔انہیں،اکادمی ادبیات، لوک ورثہ ،پلاک اور دوسرے ثقافتی اداروںمیں جگہ دینی چاہیے تاکہ ان کے اندر کالسانی اور ثقافتی احساس محرومی ختم کیا جاسکے لیکن افسوس تحریک انصاف نے بھی ن لیگ کی طرح دھرتی کے اصل وارثوں سے منہ موڑ لیا ہے جس کی وجہ سے یہاں کے تحریکی لوگوں کے اندر موجود احساس محرومی اب احساس بےگانگی کے طرف جارہا ہے۔یہ تو بھلا ہو جھمر کا اور دوسرے ثقافتی اظہاریوں کا کہ جس کی وجہ سے چالیس سال گزرنے کے باوجود یہاں کے لوگ پرامن ہیں اور آج بھی شاعری اور جھمر کے ذریعے اپنے حقوق مانگ رہے ہیں لیکن اب یہی لگتا ہے کہ وسیب زادوں کے لہجوں میں بھی تلخی آسکتی ہے۔ اس لیے پالیسی ساز اور دوسرے اداروں کو چاہیے کہ نیک نیتی سے پاکستان کے استحکام کے لیے اس خطے کے لوگوں کے حقیقی مسائل کو کم سے کم کیا جائے ،ویسے ایک ملاقات میں ایک حکومتی منسٹر کہ رہے تھے کہ ہمیں ابھی پورے پنجاب پر حکومت کرنے دیں ،اگر اب جنوبی پنجاب صوبہ بن گیا تو اپر پنجاب کا اقتدار ن لیگ کے پاس چلا جائے گا ۔ویسے یہ عجیب منطق ہے اگر ن لیگ اس بات کا فائدہ اٹھا لے تو سرائیکی وسیب اور پنجاب دونوں علاقے ان کے پاس چلے جائیں گے، ویسے 2018ءکے الیکشن نتائج نے پنجاب کی سیاسی تقسیم کردی ہے کہ جنوبی پنجاب میں پی ٹی آئی اور اپر پنجاب میں ن لیگ نے زیادہ نشستیں حاصل کی تھیں ،اس لیے عمران خان کو اپنے وعدے کی لاج رکھنی چاہئے کیونکہ وسیب کے لوگوں نے ہمیشہ مقامی لوگوں پر اعتبار کرنے کے بجائے لاڑکانہ اور لاہور کے لیڈروں پر اعتبار کیا ہے اور اب کے بار بنی گالہ پر بھروسہ کیا ہے ۔ شاہ محمود اور جہانگیر ترین کو اس خطہ کے واسیوں کے مسائل کم کرنے کیلئے کام کرنا چاہئے ، اگر وسیب کے واسیوں سے کیے گئے وعدے ایفا نہ ہوئے توتحریک انصاف کیلئے آئندہ مشکلات میں اضافہ ہو جائے گا۔اس لیے آئندہ کے ضمنی الیکشن سے پہلے وسیب واسیوں کو خاص طور پر ملتانیوں کو کچھ نہ کچھ دینا پڑے گا۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Copied!