Pakistan Columns

All Columns (Urdu and English)Of Pakistan You Could Easily Read Here/

Warchoyel World ,Laghar Jism Aur Nayee Nasal

چند روز پہلے بھارتی شہر کولام کے ہسپتال میں ایک مریضہ کو لایا گیا۔ ڈاکٹروں نے چیک اپ کے بعد اسے مردہ قرار دے دیا تاہم جب لاش کا پوسٹ مارٹم کیا گیا تو یہ خوفناک انکشاف سامنے آیا کہ اس خاتون کی موت کا اصل سبب طویل عرصہ کی بھوک تھی۔ پولیس نے تحقیقات شروع کیں تو معلوم ہوا کہ 2013 ء میں اس کی شادی ہوئی، چند ماہ بعد شوہر نے دو لاکھ جہیز کا مطالبہ کیا جو خاتون کے والدین ادا نہیں کر سکتے تھے۔ جہیز کا مطالبہ بڑھتا گیا اور اس دوران دو بچے بھی پیدا ہو گئے۔ آخرکار شوہر اور ساس نے اس عورت کو سزا دینے کا فیصلہ کیا۔ اس کا کھانا بند کر دیا گیا اور صرف میٹھا پانی اور بھیگے چاول دیے جانے لگے۔ اسے اپنے ماں باپ سے ملنے کی بھی اجازت نہیں تھی۔ اس دوران خاتون کو ذہنی اور جسمانی تشدد کا نشانہ بنایا جاتا رہا۔ دو برس تک یہ غیرانسانی سلوک اور اذیتیں سہنے کی وجہ سے اس کا وزن کم ہوتے ہوتے جب صرف بیس کلو گرام رہ گیا تو لاغر جسم نے ہتھیار ڈال دیے۔ نمونیہ ایک بہانہ بنا، حالت بگڑی اور ہڈیوں کے ڈھانچے کو ہسپتال پہنچا دیا گیا جہاں اس کی موت کا سرٹیفیکٹ جاری ہو گیا۔ جب سے یہ خبر پڑھی ہے اداسیاں ماتم کرتی داسیوں کی طرح دل کے مندر میں جاں گزیں ہو گئی ہیں اور خیالات ردھالیوں کی مانند بین کر رہے ہیں۔ وہ ایک معمولی سے گاؤں کی گمنام عورت تھی جو ہمارے شہر سے ہزاروں میل دور یہ سب اذیتیں سہہ رہی تھی۔ اس کے گھر کے آس پاس رہنے والوں کو بھی علم نہ ہو سکا کہ اس کے ساتھ غیرانسانی سلوک کیا جا رہا ہے۔ لیکن جب یہ خبر پھیلی تو جدید ٹیکنالوجی کے پروں پر ہزاروں میل کا سفر طے کر کے ہماری روح کی حساس دھرتی تک پہنچ گئی۔ دکھ اور خوشی کی کمیت قرب سے بڑھتی اور دوریوں سے کم ہوتی ہے۔ انسان کے سب سے زیادہ قریب اس کی اپنی ذات ہے اس لیے اپنے اوپر بیتنے والی اذیت کی شدت سب سے زیادہ محسوس ہوتی ہے۔ اس کے بعد وہ افراد آتے ہیں جن سے انسان جذباتی سطح پر جڑا ہوتا ہے۔ فاصلے جذبوں کی شدت کم کرتے جاتے ہیں یہاں تک کہ ایک سطح پرجیتا جاگتا انسان پیچھے رہ جاتا ہے اور انسانیت جیسے مجرد تصورات اس کی جگہ لے لیتے ہیں۔ اس حساب سے دیکھا جائے تو ہزاروں میل دور پیش آنے والے اس المیے کو ہلکا سا دکھی کرنا چاہیئے تھا لیکن نہ جانے کیوں باوجود تمام تر کوشش کے، یہ کرب روح کو چمٹ کر رہ گیا ہے۔ جدید دور نے کہیں انسانوں کو ایک دوسرے سے قریب کیا ہے تو کہیں انہیں ایک دوسرے سے دور بھی کر دیا ہے۔ ہاتھ میں موبائل تھامے خاندان کے افراد جب ایک دوسرے سے بے نیاز ایسی بزم سجا لیتے ہیں جس میں مختلف شہروں، ممالک اور براعظموں کے رہنے والے باسی شریک ہوتے ہیں تو دوریوں اور قربتوں کے مفاہیم بدل جاتے ہیں۔ غاروں کے دور میں رہنے والے انسان کی بقا کا دارومدار ہی اپنے خاندان، قبیلے اور برادری سے جڑ کر رہنے پر تھا لیکن آج اس کی ذات دو حصوں میں تقسیم ہو چکی ہے۔ ایک حصہ تو روایتی طور پر اپنے اردگرد بسنے والے افراد اور رشتوں سے جڑا ہے تاہم انسانی تاریخ میں پہلی بار اس کی ذات کا ایک جزو ان افراد کے لیے مختص ہو چکا ہے جو مکانی طور پر اس سے بہت دور بس رہے ہیں اور جن کے ساتھ اس کی کبھی ملاقات نہیں ہوئی بلکہ بہت سی صورتوں میں اس ملاقات کا کوئی امکان بھی موجود نہیں۔ ہماری ذات کے یہ دو حصے بعض اوقات آپس میں دست و گریباں ہونے لگتے ہیں۔ جب بوڑھا باپ ساتھ بیٹھا توجہ کی بھیک مانگ رہا ہو اور انسان دنیا کے مختلف حصوں میں بکھرے ورچوئل دوستوں کے ساتھ لطف انگیز گفتگو کر رہا ہو تو حقیقی دنیا میں لوٹنے کو جی نہیں چاہتا۔ تخیل میں بسائی گئی دنیا حقیقی دنیا سے کہیں زیادہ خوبصورت ہوتی ہے۔ ورچوئل دنیا بھی تخیل کے فسوں پر زندہ ہے۔ یہاں محبتیں بھی ہوتی ہیں، دوستیاں بھی بنتی بگڑتی ہیں، ناراضی بھی چلتی ہے لیکن ان تمام تجربات میں ایک عجیب سا رومانس چھپا ہوتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ حقیقی دنیا کی بے رنگ حقیقتوں کی نسبت تخیل کی لہروں پر ڈولتی ورچوئل ناؤ بہت دلکش نظارہ پیش کرتی ہے۔ ان تعلقات میں وہی لطف، ہیجان اور نیاپن ہوتا ہے جو نئی نویلی محبتوں میں پایا جاتا ہے۔ لیکن یہ بھی ہے کہ انسان کا ذہنی افق وسیع کرنے میں بھی ورچوئل دنیا بہت بڑا کردار ادا کرتی ہے۔ یہ غیرمحسوس انداز میں دوسری ثقافتوں کے رنگ میں رنگے افراد کا زندہ رہنے کا حق تسلیم کراتی رہتی ہے۔ غاروں میں رہنے والے انسان نے دور بسنے والوں سے محتاط اور خوفزدہ ہونا سیکھا تھا۔ یہ جبلت ابھی تک ہمارے ساتھ ساتھ چل رہی ہے اور ہم دوسرے ممالک، اقوام اور معاشروں کو شک اور حقارت کی نگاہ سے دیکھتے ہیں۔ تاریخ میں اکثر جنگوں کے پیچھے یہی بداعتمادی اور خوف بھرا شک کارفرما ہوتا ہے۔ ورچوئل دنیا کی وجہ سے یہ جبلت کمزور پڑ رہی ہے اور انسان کثیرالثقافتی معاشرے کو تسلیم کرنے کی جانب رواں دواں ہے۔ ابھی ہماری ذات کسی معصوم بچے کی طرح ایک لطف انگیز تحیر کے ساتھ اس نئی دنیا میں جھانک رہی ہے۔ اگلی ایک دو نسلوں کے لیے البتہ یہ ایک معمول بن جائے گا۔ اس وقت نسل انسانی کے سامنے بہت بڑا موقع ہو گا کہ وہ کرہ ارض پر پھیلے سماجی تنوع اور ثقافتی رنگارنگی کو تسلیم کر سکے اور ان نفرتوں سے چھٹکارا پا سکے جن کی وجہ سے ہزارہا سال سے وہ ایک دوسرے کا خون بہاتا چلا آ رہا ہے۔ اگر آج انسان ورچوئل ورلڈ کی وجہ سے قریبی رشتوں کو نظرانداز کرنے کی روش پر چل رہا ہے تو عین ممکن ہے کہ اس شر سے بھی خیر برآمد ہو جائے اور مختلف معاشروں کے باہمی روابط کی وجہ سے انسان کے شعور اور اخلاقیات کی سطح اسقدر بلند ہو جائے کہ کولام جیسے انسانیت سوز واقعات کم ہوتے ہوتے مٹ جائیں۔ شاید تخیل کی وادی میں تحیر کا فسوں پھونک کر قدرت ہمیں اسی منزل کی جانب لیے جا رہی ہے۔ 

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Copied!