Pakistan Columns

All Columns (Urdu and English)Of Pakistan You Could Easily Read Here/

Umeedain Tootny Na Paye

اس موسم سرما نے توقعات اور امکانات کی گرمی کو سرد کئے رکھا ۔ دھوپ خوب کھلی رہی لیکن جسم میں گردش کرنے والا خون جس نقطہ انجماد پر پہنچ چکا تھا وہ واپس نہیں آیا۔ حکومتی اقدامات نے امیدوں پر اوس ڈال دی اور جو لوگ پچھلے سال ان دنوں اپنی دکانوں، اپنے گھروں اور اپنے اٹھنے بیٹھنے کی جگہوں پر پی ٹی آئی کے پوسٹر اور اشتہارات آویزاں کئے ہوئے تھے، انہوںنے شاید ان سب کو یہاں سے ہٹادیا۔ یہ سب وہ لوگ تھے جو ایک نئی جماعت کو آزمانے کی خواہش لیے ہوئے تھے۔ ان کا خیال تھا کہ جناب عمران خان نے جس طرح 1992ءکا ورلڈ کپ جیت کر قوم کو ایک ایسی شاندار خوشی دی جو اس سے پہلے یا اِس کے بعد نصیب نہیں ہوسکی، اس طرح یقین ِ محکم ہے کہ کپتان صاحب حکومت کی باگ ڈور سنبھالتے اور ملکی امور چلاتے ہوئے عوام کو بھی ایسی ہی خوشی فراہم کرینگے جو اس سے پہلی کی حکومتیں ڈلیور کرنے میں ناکام رہیں۔دراصل انسانی جبلت و فطرت کا ہمیشہ سے ایک المیہ رہاہے۔ یہ جبلت اور فطرت کبھی ایک حلقے اورایک مقام پر زیادہ دیر تک ٹکنے کی روادار نہیں ہوپاتی۔ ہر کچھ عرصے بعد اس میں تغیر آنے لگتا ہے۔ اگر حالات برے ہیں تو یہ جبلت اور فطرت موزوں اور بہتر حالات کی طرف کوچ کرنے کی کوشش کرے گی اور اگر حالات اچھے ہوں تو تب بھی اِسے سکون میسر نہیں آتا اور یہ خرابی کی جانب گامزن ہونے لگے گی۔ اسی وجہ سے یہ جبلت اور فطرت ہمیشہ ایک تیسری چیز کے لئے تگ ودو میں مصروف عمل رہتی ہے۔ یہ ہر نئی حالت میں خود کو ڈھالنے کی کوشش کرتی ہے اور اس واسطے جو بھی اور جب بھی کوئی نیا داعی اِسے اپنی طرف راغب کرنے کی تبلیغ کرتا ہے ، تو یہ ایک ہنگامہ برپا کرتے ہوئے اس مبلغ کے پیچھے چل پڑتی ہے۔ ہمارے ساتھ بھی کچھ ایسا ہی ہوا۔ ہم آزمائے ہوﺅں کے شر سے نکل کر نئے ہاتھوں میں اپنا مستقبل دینے کی فکر میں یہ بھی بھول بیٹھے کہ یہاں نیا تو کچھ بھی نہیں۔ سب وہی پرانے لوگ ہیں اور وہی خوب اچھی طرح آزمائے ہوئے بھی۔ نوے فیصد سے زائد تو ایسے ہیں جن کی ساکھ کبھی اچھی نہیں رہی۔
اب جب فارماسیوٹیکل کمپنیاں ادویات کی قیمتوں میں حکومتی منظوری کے بغیر سواور دوسو فیصد اضافہ کرڈالتی ہیں اور جب موسم سرما کے آغاز پر گیس کی قیمتیں پانچ چھ سو فیصد سے بھی زیادہ بڑھا دی جاتی ہیں اور جب وزیراعظم کے مشیر تجارت یہ کہتے ہیں کہ مہنگائی کا تسلسل پانچ چھ ماہ تک جاری رہے گا اور اس کے بعد حالات بہتر ہوجائیں گے اور جب عالمی ادارے یعنی آئی ایم ایف، ورلڈ بینک اور ایشیائی ترقیاتی بینک یہ کہتے ہیں کہ پاکستانی معیشت روبہ زوال ہے اور مہنگائی کی رفتار کہیں زیادہ تیزی سے جاری رہے گی، تو ہمیں کوئی حیرانی نہیں ہوتی۔ ہمیں جناب عمران خان کی نیت پر کوئی شک نہیں کہ وہ منجدھار میں پھنسی ناﺅ کو نکالنے اور ساحل ِ مراد تک پہنچانے کا ارادہ لئے ہوئے ہیں لیکن جن زمینی حقائق سے ملک اور قوم کو واسطہ پڑرہاہے ، وہ کوئی اتنے بھی کم اہم نہیں کہ انہیں نظرانداز کرکے حکومتی پالیسیوں پر تحسین کے ڈونگرے برسائے جائیں۔
کسی زمانے میں بجلی کے میٹر جستی چادر کے بنے ہوئے اور سیاہ رنگ کے ہوتے تھے۔ یہ ہماری معیشت کی طرح بڑے دھیمی رفتار سے چلتے تھے اور ان کا بل بھی اسی رفتار کے مطابق بہت کم آتا تھا۔ پھر غالباً پچیس تیس برس پہلے کسی ظالم کو خیال آیا کہ ان کی رفتار تیز ہونی چاہیے تاکہ حکومت کو بل کی مد میں زیادہ رقم وصول ہو چنانچہ پلاسٹک کے شیشے کے میٹر لگنے شروع ہوئے۔ جب اس پر بھی قرار نہ آیا تو تیسرے مرحلے میں زیادہ رفتار کے ساتھ چلنے والے میٹروں کی تنصیب شروع کی گئی جس کے باعث بجلی کا بل ، استعمال سے کہیں زیادہ آتا ہے اور پھر ان میں جو ٹیکس اور سرچارج شامل ہوتے ہیں، وہ اصل بل سے بھی کہیں زائد ہوتے ہیں ۔ بجلی کے میٹروں کی دیکھا دیکھی گیس والوں نے بھی چالاکی دکھانا شروع کردی۔ ان سے میٹر تو تبدیل نہ ہوسکے لیکن انہوںنے سلیب کی رفتار ہی تیز کردی اور نئی سلیب کے مطابق جب صارفین کو بلات موصول ہوئے تو وہ کئی کئی گنا زیاد ہ تھے۔ سب سے زیادہ بوجھ کمرشل صارفین کو برداشت کرنا پڑا۔اب وفاقی وزیر پٹرولیم نے تسلیم کرلیا ہے کہ یہ زائد بلات سلیب کی رفتار ضرورت سے کہیں زیادہ ہونے کے باعث موصول ہوئے۔ انہوںنے کہا ہے کہ اب یہ اضافی رقم اگلے بلوں میں ایڈجسٹ کرلی جائے گی لیکن اس کے باوجود عوام کی جیبوں سے جو رقوم نکال لی گئی ہیں ان کی اصل واپسی ناممکن ہے۔
حکومتی نظم ونسق ہونے کے باوجود جس طرح کمپنیوںنے ادویات کی قیمتیں بڑھالیں ، وہ لمحہ فکریہ ہے۔ اب انہیں کہاجارہاہے کہ وہ قیمتیں فوری واپس لائیں لیکن کیا عملی طور پر ایسا ممکن ہے۔ یہ کمپنیاں قیمتیں واپس لاتے ہی ادویات ہی مارکیٹ سے غائب کردیں گی اور مریض بیچارے بلیک میں مہنگے داموں دوائی خریدنے پر مجبور ہوجائیں گے۔ وہ جنہیں پہلے مہنگے داموں لیکن آسانی سے دوائی مل جاتی تھی اب یہی دوائی جب اسی داموں لیکن بمشکل حاصل کرپائیں گے تو ان کے دل کیا کہیں گے۔ ؟یہی کہ حکومت ہرچند ہونے کے باوجود کہیں نظرنہیں آرہی۔
وزیراعظم کے مشیر برائے تجارت نے یہ کہہ کر مزید ڈرا دیا ہے کہ ابھی مہنگائی کچھ عرصہ مزید بڑھے گی اور اس کے بعد حالات بہترہوجائیں گے۔ کیا مناسب نہ ہوگا کہ اس موقع پر ایک لطیفہ آپ کی نذر کیاجائے۔ ایک مفلوک الحال شخص ایک دست شناس کے پاس گیا اور اپنا ہاتھ دکھاتے ہوئے فرمائش کی کہ میرے مستقبل کے بارے میں پیشین گوئی کی جائے۔ دست شناس نے محدب عدسہ لے کر بڑی عمیق نگاہوںسے ہاتھ کا معائنہ کیا اور پھر بولا کہ چالیس سال کی عمر تک آپ کے ہاں غربت رہے گی۔ ” اچھا ! اس کے بعد پھر کیا ہوگا“ ۔ مفلوک الحال شخص نے خوشی کے ملے جلے تاثر کے ساتھ بڑی بے تابی اور بے چینی کے ساتھ پوچھا ۔ وہ توقع کررہا تھا کہ اب دست شناس اُس سے بہت اچھی بات کہے گا چنانچہ دست شناس محدب عدسہ پیچھے ہٹاتے اور اپنی کمر کرسی کی پشت سے لگاتے ہوئے بولا ” اس کے بعد آپ اِس غربت کے عادی ہوجائیں گے“۔ لگتا ہے کہ کچھ عرصے تک مہنگائی بڑھے گی اور اس کے بعد یقینا حالات بہتر ہوجائیں گے ۔ پھر ہم چیخنا چلانا اور حکومت کو کوسنا بند کردیں گے کہ تب تک ہم اس مہنگائی کے عادی ہوچکے ہونگے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Copied!