Pakistan Columns

All Columns (Urdu and English)Of Pakistan You Could Easily Read Here/

Ukad Pichad !

مرحوم صوفی دانشور اشفاق احمد بڑے مزے مزے کے قصے سنایا کرتے تھے، وہ موقع کی مناسبت سے بیٹھے بیٹھائے قِصے بنالیتے تھے اور قِصے سنانے کا انداز بھی دِل موہ لینے والا ہوتا تھا۔ اِس کے علاوہ اُن قِصوںمیں کوئی نہ کوئی ایسی نصیحت، کوئی نہ کوئی ایسا سبق ضرور ہوتا جِس سے ہم اپنی اور دوسروں کی زندگی میں کئی طرح کی آسانیاں پیدا کرسکتے تھے، آج ایسے ہی پنجاب میں باربار ہونے والی انتظامی اُکھاڑ پچھاڑ سے مجھے اُن کا ایک قِصہ یا واقعہ یاد آگیا، یہ بڑے مزے کا قصہ ہے، یہ قِصہ اُنہوں نے ٹریفک پولیس کے ایک سیمینار میں سنایا تھا، میں بھی وہاں موجودتھا، ایک بار لاہور کی سڑک سے گزرتے ہوئے اپنی گاڑی اُنہوں نے ٹریفک اشارے پر روکی تو کسی سوچ میں گُم ہوگئے، ٹریفک اشارے کئی بار سرخ، سبز اور سفید ہوئے مگر اُن کی گاڑی وہیں رُکی رہی، اِس وجہ سے ٹریفک کی روانی بھی متاثر ہورہی تھی، قریب کھڑے ٹریفک پولیس کے ایک اے ایس آئی نے یہ منظر دیکھا وہ بھاگ کر اُن کی گاڑی کے قریب آیا اور ٹریفک سگنل کی طرف اشارہ کرکے کہنے لگا ”چاچا تینوں کوئی وی رنگ پسند نئیں آریا؟“….اب پنجاب میں پولیس و سول افسران کی جِس طرح بار بار اُکھاڑ پچھاڑ کی جارہی ہے ، جی چاہتا ہے ہم بھی اپنے کسی حکمران سے پوچھیں ” چاچا تینوں کوئی وی افسر پسند نئیں آریا ؟“….مگر مسئلہ یہ ہے ہم کِس حکمران سے پوچھیں کہ حکمرانی کے معیار پر کوئی پورا ہی نہیں اُتر آرہا، البتہ نااہلی کے معیار پر پورا اُترنے والوں کی تعداد روز بروز بڑھتی جارہی ہے، کل چھ ہفتوں میں تین بار تبدیل ہونے والے ایک بڑے افسر بڑے جذباتی انداز میں مجھ سے کہہ رہے تھے ”میرے والدین مجھے فوج میں بھیجنا چاہتے تھے، مجھ پر مگر سی ایس ایس کرنے کا بھوت سوار تھا، اب میں سوچتا ہوں کاش میں فوج میں ہوتا حکمرانوں کو جرا¿ت نہ ہوتی ہر چوتھے روز کہیں نہ کہیں میرا تبادلہ کرکے میری زندگی اجیرن بنا دیتے،…. ویسے میں سوچ رہا تھا جِس طرح ہمارے حکمرانوں کو افسروں کی کارکردگی پسند نہیں آرہی، ممکن ہے اپنے وزیروں کی کارکردگی بھی پسند نہ آرہی ہو، مگر وزیروں کو تبدیل یا بار بار تبدیل کرنا اِس لیے ناممکن ہے کئی وزیر اتنے طاقتور ہیں وہ سمجھتے ہیں وہ وزیراعظم تبدیل کرواسکتے ہیں، خود نہیں ہوسکتے، سوسارا زور صِرف افسروں پر چل رہا ہے، ہم اِس یقین میں مبتلا تھے نئی حکومت بننے کے بعد انتظامی اداروں میں سیاسی، عدالتی وفوجی مداخلتوںسمیت ہرقسم کی مداخلتیں مکمل طورپر ختم ہو جائیں گی، جس کے نتیجے میں ادارے مضبوط ہوں گے، اور ملک ترقی کی نئی منزل جانب رواں دواں ہوجائے گا۔ ایک ہماری بیوروکریسی پر نیب کا خوف طاری ہے اُوپر سے افسران اِس نفسیاتی دباﺅ کا شکار ہوتے جارہے ہیں اللہ جانے کب کِسی معمولی سی غلطی یا کوتاہی کو جواز بناکر اُن کا تبادلہ کردیا جائے۔ اِن حالات میں کم ازکم پنجاب میں سارے کام ٹھپ ہوکر رہ گئے ہیں۔ نااہل اور نکمے وزیراعلیٰ پنجاب بزدار اتنے کمزور ہیں جِس افسر کا ”اُوپر“ سے تبادلہ ہوتا ہے اُسے فوراً یقین دہانی کروانا شروع کردیتے ہیں وہ بے بس ہیں اور یہ تبادلہ اُن کی مرضی سے ہوا، یہ وہ شاید اِس لیے کرتے ہیں اُنہیں پتہ ہے آج نہیں تو کل اُنہیں اپنی آنے والی تھاں پر آنا پڑے گا۔ لہٰذا بڑے بڑے افسروں کو ناراض کرنا وہ افورڈ نہیں کرسکتے، ایسے تو کوئی پٹواریوں اور تھانیداروں کے تبادلے نہیں کرتا جیسے روزانہ بڑے بڑے سیکرٹریوں اور پولیس افسروں کے کئے جارہے ہیں۔ جی چاہتا ہے وزیراعظم عمران خان کو کسی روز اُن کے واٹس ایپ پر مسیج کروں ”پنجاب میں بار بار تھوک کے حساب سے افسران کے تبادلے کرنے سے سسٹم میں کوئی بہتری نہیں آرہی، یا سسٹم مزید خراب ہوتا جارہا ہے تو ایک بار آزمائشی طورپر اپنے لاڈلے وزیراعلیٰ بزدار کا تبادلہ کرکے دیکھ لیں، شاید اِس سے ہی پنجاب کے حالات ذرا بہترہوجائیں“۔ مجھے اِس موقع پر اپنے مرحوم دوست دلدار پرویز بھٹی یاد آرہے ہیں، وہ وزیراعظم عمران خان کے بھی دوست تھے، ایک بار ایک مشہور کالم نویس سے اُنہوں نے پوچھا ”آپ کی شادی کو کافی عرصہ ہوگیا ہے، کوئی ”خوشخبری“ ہے ؟“۔کالم نویس بولے ”بھٹی صاحب اب تو میری شادی کو دس ماہ ہوگئے ہیں اِس دوران ایک بھی ناغہ میں نے نہیں ڈالا، مگر فی الحال کوئی ”خوشخبری“ نہیں ہے“،….دلدار بولا ”اچھا پھر ایسے کرو اب ایک ناغہ ڈال کر دیکھو“

،….دلدار بھٹی آج زندہ ہوتا وہ ضرور وزیراعظم عمران خان کی خدمت میں عرض کرتا ”خان صاحب بار بار افسران کو تبدیل کرنے سے کوئی خوشخبری نہیں مِل رہی تو ایک بار وزیراعلیٰ کو ہی تبدیل کرکے دیکھ لیں، شاید کوئی ایسی خوشخبری آپ کو مل جائے جو پنجاب میں تبدیلی کے حوالے سے آپ کے سارے خواب پورے کردے، جو فی الحال مکمل طورپر اُدھورے ہیں “، ….مختلف سول وپولیس افسران کو بار بار تبدیل کرتے ہوئے جواز یہ تراشا جاتا ہے وہ اہلیت کا مظاہرہ نہیں کررہے۔ حکمران خصوصاً وزیراعظم یہ سمجھتے ہیں وہ یا اُن کی حکومت عوام میں تیزی سے نامقبول ہورہے ہیں یا اُن کی ساکھ کو نقصان پہنچ رہا ہے تو اس کی واحد وجہ بیوروکریسی کا اُن کے ساتھ عدم تعاون ہے، اِس کے علاوہ وہ اِس شک میں بھی مبتلا ہیں بے شمار افسران ابھی تک شریف برادران خصوصاً شہباز شریف یا حمزے شریف سے رابطے میں ہیں، دوسری طرف کچھ افسران کا گِلہ یہ ہے اگر وزیراعلیٰ بزدار نون لیگ کے ساتھ رابطے میں ہوسکتے ہیں تو وہ کیوں نہیں ہوسکتے؟…. بہرحال مختلف حوالوں سے پنجاب میں بے چینی بڑھتی جارہی ہے، گندگی بھی بڑھتی جارہی ہے، بلکہ کچھ واقعات میرے ذاتی نوٹس میں ہیں جن کی بنیاد پر میں یہ کہنے میں بھی عار محسوس نہیں کرتا کرپشن بھی کم نہیں ہورہی، ریاست مدینہ میں اب ”یوٹرن“ کی کوئی گنجائش نہیں، اِس کا تصور بھی نہیں کیا جاسکتا، مگر دنیاوی یا سیاسی لحاظ سے ”یوٹرن “ کو صرف ایک ہی صورت میں ایک ”خصوصیت“ یا ”کارِ ثواب“ قرار دیا جاسکتا ہے کہ وزیراعظم، وزیراعلیٰ پنجاب کے معاملے میں ”یوٹرن “ لے لیں، ….پاکستان کے سب سے بڑے صوبے کے ساتھ سیاسی وانتظامی لحاظ سے ” فنا بالجبر“ کی اجازت نہیں دی جاسکتی ۔ ….بیوروکریسی سے کام لینا ایک فن ہے، موجودہ حکمران یہ فن سیکھے بغیر کسی شعبے میں کوئی بہتری نہیں لاسکتے، یہ تاثر کسی حدتک درست ہے بیوروکریسی موجودہ حکمرانوں کو ناکام کرنے پر تُلی ہوئی ہے۔ مگر اِس کا واحد حل یہ نہیں روزانہ تھوک کے حساب سے تبادلے کردیئے جائیں، اِس سے معاملات مزید خراب ہوں گے، بیوروکریسی میں اِس وقت جو بے چینی پائی جاتی ہے حکمرانوں کو اُس کا شاید اندازہ نہیں ہے، حکمران اگرواقعی عوام کی خدمت کا جذبہ لے کر آئے ہیں تو بیوروکریسی کو ”نتھ“ ڈالنے کے جذبے کو اُنہیں پرے پھینکنا ہوگا، اِس ”مگرمچھ“ یا ”زکوٹے جِن“ کو آج تک کوئی قابو نہیں کرسکا، فی الحال اِس مقابلے میں بیوروکریسی آگے نکلتی دکھائی دیتی ہے، …. پیچھے رہ گیا ملکی مفاد…. اُس کی پرواکون کرتا ہے ؟؟

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Copied!