Pakistan Columns

All Columns (Urdu and English)Of Pakistan You Could Easily Read Here/

Tel Ki Talash

وزیراعظم ذوالفقار علی بھٹو نے 1973 میں قومی اسمبلی کے اجلاس میں یہ ڈرامائی اعلان کرکے پاکستان میں تیل کا بہت بڑا ذخیرہ تلاش کرلیا گیا ہے ارکان اسمبلی اور قوم کو حیران کن خوش خبری سنائی تھی۔ مسٹربھٹو نے اپنے مخصوص ڈرامائی انداز میں پاکستان میں تیل کی ڈسکوری کا اعلان کیا۔ پاکستان کی تاریخ پر نظر رکھنے والوں کو پتہ ہے کہ وزیراعظم بھٹو اپنی نشست سے چل کر سیدھے اس وقت کے اپوزیشن لیڈر مولانا مفتی محمود کے پاس پہنچے اور اچانک اپنے کوٹ کی جیب سے ایک چھوٹی بوتل نکالی اس کا ڈھکن اتار کر مفتی محمود کو یہ کہہ کر کہ مولانا سونگھ لیں یہ تیل کی بوتل ہے جو پوٹھوہار کے علاقہ ڈھو ڈک کے آئل فیلڈ سے حاصل کیا گیا ہے۔ یہ ایک ڈرامائی اعلان تھا مشرقی پاکستان پاکستان سے الگ ہو کر بنگلہ دیش بن چکا تھا۔ بچے کچھے پاکستان میں لوگ سخت مایوسی کا شکار تھے۔ مسٹر بھٹو ان کا مورال بلند کرنے کے لیے کوئی بھی بڑی خوش خبری سنانے کی کوشش میں تھے۔ بھٹو صاحب نے اس موقع پر ڈاکٹر شہزاد صادق نامی ایک شخص کو متعارف کرایا تھا جو غالباً آئیل اینڈ گیس ڈویلپمنٹ کارپوریشن کے چیئرمین تھے۔ ڈاکٹر شہزاد صادق کو مسٹر بھٹو نے تیل کی دریافت کا کریڈٹ دیا تھا۔ بعد میں معلوم ہوا کہ تیل تو ضرور ملا ہے لیکن وہ اتنی بڑی مقدار میں نہیں کہ پاکستان کی اس وقت کی تیل کی ضروریات پوری کرسکے۔

اس کے کچھ عرصہ کے بعد اپریل 1974ء میں ذوالفقار علی بھٹو نے لاہور میں اسلامی سربراہ کانفرنس منعقد کرائی اور تیل پیدا کرنے والے عرب ملکوں کے سربراہوں جن میں سعودی عرب کے شاہ فیصل‘ متحدہ عرب امارات کے شیخ زید بن سلطان النہیان ،لیبیا کے سربراہ کرنل محمدمعمر قذافی اور دوسرے لیڈر شامل تھے نے اس کانفرنس میں شرکت کی۔ اس کانفرنس نے تیل پیدا کرنے والے اسلامی ملکوں سے پاکستان کے تعلقات نہ صرف مستحکم ہوگئے بلکہ لاکھوں کی تعداد میں پاکستانی مزدور ترکھان ،راج‘ ڈرائیور اور دوسرے ہنرمند اور غیر ہنر مند افراد روزگار کے لیے تیل پیدا کرنے والے ان ملکوں چلے گئے یہ ورکرز پاکستان کو بڑے پیمانے پر زرمبادلہ کما کر بھیجنے لگ گئے۔

پاکستان میں تیل کی تلاش کی کوششیں پچاس کی دہائی سے شروع ہوگئی تھیں۔ بلوچستان میں 1952 میں سوئی کے مقام پر جہاں سے گیس کے انتہائی وسیع ذخائر ملے تھے اسکے قریب تیل کے ذخائر کا پتہ چلایا گیا تھا۔ ایوب خان کے دور میں سویت یونین کی مدد جسے ہی بلوچستان اور دوسرے علاقوں میں تیل کی تلاش شروع کی گئی تھی۔ ایوب خان نے پاکستان میں پہلی قومی معدنی ترقی کی پالیسی کا اعلان کیا اس پالیسی کے تحت سویت ماہرین کو پاکستان میں تیل اور گیس کے ذخائر کی تلاش کی دعوت دی گئی تھی۔ اس پالیسی کے تحت پوٹھوار کے علاقہ توت میں تیل دریافت کیا گیا تھا۔ 1967ء میں توت آئیل فیلڈ سے تجارتی بنیادوں پر تیل نکلنا شروع ہوا تھا۔ بعض ماہرین کا دعوی ہے کہ ایوب خان پر امریکی حکومت نے اپنا اثرورسوخ بڑھا لیا تھا اس لیے سویت یونین کی طرف سے پاکستان میں تیل کی تلاش کا عمل جاری نہ رہ سکا اور سویت ماہرین کو جلد ہی پاکستان سے پیک اپ کرنے کی ہدایت کی گئی۔

سترکی دہائی میں امریکی کمپنیوں کو سندھ کے علاقہ میں تیل اور گیس کی تلاش کی اجازت دی گئی۔ گزشتہ چند دہائیوں میں کئی غیر ملکی کمپینوں کو پاکستان کے مختلف علاقوں میں تیل اور گیس کی تلاش کے لیے اجازت دی گئی۔ لیکن پاکستان میں تیل اور گیس کی اس سطح کی ڈسکوری نہیں ہوسکی جو پاکستان کی تیل اور گیس کی ضروریات پوری کرسکے۔ آبادی میں بے تحاشا اضافے اور صنعتوں کے قیام کی وجہ سے تیل اور گیس کی مانگ میں بے پناہ اضافہ ہوا ہے۔ ان ضروریات کو پورا کرنے کے لیے پاکستان اربوں ڈالر مالیت کا تیل کویت ‘ سعودی عرب اور دوسرے ملکوں سے درآمد کررہا ہے۔ پاکستان اپنی تیل کی ضروریات کا زیادہ حصہ درآمدی تیل سے پورا کررہا ہے۔ 2018ء کے اعدادوشمار کے مطابق پاکستان اپنے تمام آئیل فیلڈز سے 87 ہزار بیرل یومیہ تیل حاصل کررہا ہے۔ قریباً 60 لاکھ ٹن تیل پاکستان دوست عرب ملکوں سے درآمد کرتا ہے۔ پاکستان میں پٹرولیم مصنوعات کی درآمد مسلسل بڑھ رہی ہے۔ گزشتہ برس پاکستان کی تیل کا درآمدی بل 8 ارب ڈالر کے قریب تھا۔

وزیراعظم عمران خان نے کراچی کے ساحلی علاقے سے تیل اور گیس کے بہت وسیع ذخائر کے دریافت ہونے کی خوش خبری دی ہے اور کہا ہے کہ وہ بہت جلد قوم کو ایک بڑی خبر دیں گے۔ موجودہ مشکل معاشی صورت حال میں اگر پاکستان میں آف شور تیل اور گیس ڈسکور ہوتے ہیں تو پاکستان کی بڑی خوش قسمتی ہوگی۔ موجودہ حکومت کے ناقدین اور بعض ماہرین اس شبہ کااظہار کررہے ہیں کہ ساحل سمندر سے کوئی بڑا تیل باگس کا ذخیرہ ملنے کا امکان نہیںہے ۔ سابق وزیر پٹرولیم چوہدری نثار علی خان نے تو حیرت کا اظہار کیا ہے کہ نہ جانے کس نے وزیراعظم کو کہہ دیا ہے کہ ساحل سمندر سے تیل اور گیس ملنے والے ہیں ۔ (ن) لیگ کے پٹرولیم کے دوسرے سابق وزیر اور سابق وزیراعظم شاہد خاقان عباسی بھی ماننے کے لیے تیار نہیں کہ ساحل سمندر سے تیل کا کوئی وسیع ذخیرہ مل سکتا ہے اور اگر ملا بھی تو یہ تیل اتنا مہنگا پڑے گا کہ قوم کے لیے کوئی خوش خبری نہیں ہوگی۔ خداکرے آف شور تیل نکل آئے اور پاکستان موجود ہ بحران سے نکل جائے ۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Copied!