Pakistan Columns

All Columns (Urdu and English)Of Pakistan You Could Easily Read Here/

Teepo Sultan Ka Jaum e Shahadath

شیر میسور ٹیپو سلطان شہیدؒ ایک غیرت مند حکمران تھا جس نے انگریزوں کی غلامی پر شہادت کو ترجیح دی اور یوں ہمیشہ کیلئے امر ہو گیا۔پاکستان کو بھی ایک ایسے ہی مجاہد صفت رہنما کی ضرورت ہے جو قوت ِ ایمانی سے مالا مال اور جذبۂ جہاد سے سرشار ہو۔ اس عظیم المرتبت حکمران کا فکر و عمل ہمارے لئے مشعل راہ ہے مگر افسوس کہ ہماری قومی تاریخ میں اسے وہ مقام و مرتبہ نہیں دیا گیا جس کا وہ سزاوار ہے۔ وطن عزیز میں نظریۂ پاکستان ٹرسٹ واحد قومی ادارہ ہے جو 1999ء سے مسلسل ہر سال 4مئی کو ٹیپو سلطان ؒ کا یوم شہادت مناتا چلا آ رہا ہے۔ اس موقع پر منعقدہ خصوصی تقریب میں نسل نو کے نمائندوں کو بطور خاص مدعو کیا جاتا ہے تاکہ ان میں مسلمانان برصغیر کے اس بطل جلیل کے نقش قدم پر چلنے کا شوق پروان چڑھ سکے۔ ٹیپو سلطانؒ ایک دیندار اور متقی مسلمان تھا۔ وہ اکثر و بیشتر جنگوں میں مصروف رہا مگر اس کے باوجوداس کی کوئی نماز کبھی قضا نہ ہوئی۔اگر کوئی شخص حکیم الامت علامہ محمد اقبالؒ کے مرد مومن کو مجسم صورت میں دیکھنا چاہے تو وہ سلطان فتح علی ٹیپوؒ کو دیکھ لے۔ اس نے سرنگا پٹم میں انتہائی خوبصورت’’مسجد ِ اعلیٰ‘‘ تعمیر کرائی۔ 1790ء میں عید الفطر کے دن اس مسجد میں پہلی نماز ادا کرنے کا وقت آیا تو اس موقع پر اپنے زمانے کے مشہور و معروف مشائخ عظام اور علمائے کرام موجود تھے۔ ٹیپو سلطانؒ کی خواہش تھی کہ اس افتتاحی نماز کی امامت کوئی ایسا شخص کرائے جو صاحب ِ ترتیب ہو یعنی سن بلوغت کو پہنچنے کے بعد اس کی کوئی نماز کبھی قضا نہ ہوئی ہو۔ وہاں موجود سینکڑوں علما و مشائخ میں سے کوئی بھی یقین سے نہیں کہہ سکتا تھا کہ وہ صاحب ِ ترتیب ہے‘لہٰذا کوئی آگے نہ آیا۔ یہ دیکھ کر ٹیپو سلطانؒ خود آگے بڑھے اور کہا کہ الحمد للہ! میں صاحب ِ ترتیب ہوں اور نماز کی امامت کی سعادت حاصل کی۔ اسلامیانِ ہند کے اس قابل فخر رہنما نے اپنے 17سالہ دور حکمرانی میں جو اہم خواب دیکھے‘ وہ ایک ڈائری میں خود اپنے ہاتھ سے قلم بند کر لئے تھے۔ فارسی زبان میں لکھی گئی یہ ڈائری لندن کی برٹش میوزیم لائبریری میں محفوظ ہے۔ اس میں درج ایک خواب بزبان اردو کچھ یوں ہے:-’’مجھے ایسا لگ رہا تھا کہ روز محشر بپا ہے اور ہر طرف نفسا نفسی کا عالم ہے ۔ ایک اجنبی میرے پاس آیا۔ اس کا چہرہ نورانی، داڑھی اور مونچھ سرخ اور شخصیت پروقار تھی۔ وہ قوت مجسم لگتا تھا۔اس نے میرا ہاتھ پکڑا اور پوچھا:’’تم مجھے پہچانتے ہو؟‘‘ میں نے کہا’’نہیں‘‘۔ اجنبی نے کہا کہ ’’میں علی (مرتضیٰ ؓ) ہوں اور تمہیں یہ بتانے آیا ہوں کہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وآلہٖ واصحابہٖ وسلم نے دہرا دہرا کر یہ فرمایا ہے کہ’’وہ جنت کے دروازے پر تمہارا انتظار کریں گے اور تمہیں ساتھ لے کر جنت میں داخل ہوں گے۔ ‘‘ یہ سن کر میری خوشی کا ٹھکانہ نہ رہا ۔ بھلا اس سے زیادہ میں کیا چاہ سکتا تھا۔ پھر اچانک میں بیدار ہو گیا۔‘‘ ٹیپو سلطانؒ نے اپنی سلطنت کا نام ’’سلطنتِ خدادادِ میسور‘‘ رکھا تھا جو کم و بیش80ہزار مربع میل پر پھیلی ہوئی تھی۔ وہ26دسمبر1782ء کو اپنے والد سلطان حیدر علی کی وفات کے بعد تخت نشین ہوا اور اپنی رعایاسے خطاب کرتے ہوئے کہا:-’’میں عام لوگوں کی طرح ایک عام انسان ہوں۔ مجھ میں اور ایک شہری میں کوئی فرق نہیں ہے۔ میں اور میری حکومت ہمیشہ رہنے والی نہیں ہے۔ میرے لیے بھی فنا ہے اور میری حکومت کے لیے بھی۔ میں اپنی زندگی کو اس قابل نہیں سمجھتا کہ اس پر بھروسہ کرسکوں۔ پھر بھی میرا فرض ہے کہ وطن کی آزادی کے لیے لڑتا رہوں اور اسی دھن میں اپنی جان دے دوں۔ میرے ارادے بلند اور پختہ ہیں۔ دنیا کی کوئی طاقت انہیں کم نہیں کرسکتی۔ اگر میں وطن کی آزادی کے لیے لڑتا ہوا مارا بھی جائوں تو اس کی پرواہ نہیں کروں گا۔ انسان آزادی کی جنگ کرتا ہوا مر سکتا ہے‘ اس کا خلوص اور وطن کی محبت کا جذبہ کبھی نہیں مرسکتا۔‘‘ تخت نشینی سے لے کر 4مئی 1799ء کو اپنی شہادت تک اس کی زندگی جہد مسلسل سے عبارت رہی ۔ علامہ محمد اقبالؒکو شیر میسور سے بے پناہ عقیدت تھی۔ ان کے مجموعۂ کلام ضرب کلیم میں ایک نظم بعنوان’’سلطان ٹیپو کی وصیت‘‘ موجود ہے۔ علاوہ ازیں وہ جاوید نامہ میں ٹیپو سلطانؒ کو یوں خراج عقیدت پیش کرتے ہیں

از نگاہِ خواجۂ بدر و حنین!

آبروئے ہند و چین و روم و شام

فقرِ سلطاں، وارثِ جذبِ حسینؒ!

ٹیپو سلطانؒ نے نہایت سادہ زندگی بسر کی۔ ریشم و کمخواب کے بستر کی بجائے فرش پر موٹی دری بچھا کر سونے والے اس جلیل القدر حکمران نے ہمیشہ دیسی کپـڑے زیب تن کئے۔ اسے مطالعہ کا بے حد شوق تھا اور اس کے کتب خانے میں تقریباً45ہزار کتب موجود تھیں۔ اسے راکٹ سازی کا بانی تسلیم کیا جاتا ہے اور امریکہ کے خلائی تحقیقی ادارے ’’ناسا‘‘ کے میوزیم میں ایک دیوار پر ٹیپوسلطانؒ کے ایجاد کردہ راکٹوں کی تصاویر آویزاں ہیں۔ وہ ایک روشن خیال اور مذہبی رواداری کا علمبردار حکمران تھا۔ یہی وجہ ہے کہ اس کے مزار پر مسلمانوں کے علاوہ دیگر مذاہب کے پیروکار بھی بڑی تعداد میں حاضر ہوتے ہیں۔

پاکستانی قوم کیلئے ٹیپو سلطانؒ کا فرمان’’شیر کی ایک دن کی زندگی گیدڑ کی سو سالہ زندگی سے بہتر ہے‘‘ماٹو ہونا چاہیے۔ اسلامیانِ ہند کا یہ قابل فخر رہنما اپنوں سے زیادہ غداروں میں گھرا ہوا تھا۔ انگریزوں کے خلاف آخری معرکہ سے قبل اسے اِن ملت فروشوں کی اصلیت کا پتہ چل گیا تھا مگر وہ دل برداشتہ نہ ہوا اور مالک کائنات پر توکل کرتے ہوئے میدان جنگ میں اتر گیا۔ انگریزوں نے اس جنگ میں فوجی طاقت سے زیادہ ٹیپو سلطان کی صفوں میں موجود غداروں پر انحصار کیا۔دین اسلام کی ناموس اور مادرِ وطن کی حرمت پر جان نچھاور کر دینے والے اس عظیم المرتبت حکمران کی عظمت کا خورشید تاقیامت روشن رہے گا اور عالم اسلام کے حریت پسند اس کی روشنی سے اپنے قلب و روح کو منور کرتے رہیں گے۔ ٹیپو سلطان شہید کے 220ویں یوم شہادت پر نظریۂ پاکستان ٹرسٹ نے ایوانِ کارکنان تحریک پاکستان لاہور میں گزشتہ روز ایک خصوصی نشست کا اہتمام کیا جس کی نظامت کے فرائض ٹرسٹ کے سیکرٹری شاہد رشید نے انجام دیے اور کہا کہ ہم یہ دن بڑی باقاعدگی سے مناتے ہیں تاکہ عوام الناس بالخصوص نسل نو کو اس عظیم رہنما کی حیات و خدمات سے روشناس کرایا جا سکے۔انہوں نے وزیراعظم پاکستان عمران خان کی طرف سے ٹیپو سلطان کو پاکستانی قوم کا ہیرو قرار دینے کو سراہتے ہوئے کہا کہ حکومت پاکستان کو یہ دن قومی سطح پر منانا چاہیے کیونکہ قائداعظم محمد علی جناحؒنے پاکستان قائم کر کے درحقیقت ٹیپو سلطان شہیدؒ کے مقدس مشن کو ہی پورا کیا ہے۔

نشست سے پیر سید ہارون علی گیلانی، چوہدری نعیم حسین چٹھہ‘ بریگیڈیئر(ر) لیاقت علی طور‘ کرنل(ر) عبدالرزاق بگٹی، خالد محمود، پروفیسر محمد اسلم ناز اور شیراز الطاف نے بھی اظہار خیال کیا اور ٹیپو سلطانؒ کی عظمت کے گن گائے۔ مقررین نے نظریۂ پاکستان ٹرسٹ کی جانب سے پمفلٹ بعنوان’’ہمارے ہیروٹیپو سلطان شہیدؒ ‘‘، ماہنامہ نظریۂ پاکستان کا ٹیپو سلطان شہیدؒ نمبر اور ٹیپو سلطان ؒکے پورٹریٹ پر مشتمل پوسٹر شائع کرنے پر مبارکباد پیش کی اور کہا کہ یہ ادارہ اپنی انہی قوم ساز سرگرمیوں کی بدولت ہر محب وطن کی آنکھوں کا تارا بن گیاہے ۔نشست میں شریک ہر فرد کوپمفلٹ اور پوسٹر بطور تحفہ پیش کئے گئے ۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Copied!