Pakistan Columns

All Columns (Urdu and English)Of Pakistan You Could Easily Read Here/

Tecno Karetas Ka Naya Pakistan

ٹیکنوکریسی ایک طاقتور تکنیکی اشرافیہ یا تکنیکی ماہرین کی بالادستی کی وکالت کو کہا جاسکتا ہے جس کا تصور زیادہ تر غیر حقیقی ہے۔ جبکہ ٹیکنوکریٹ حکومت ایک ایسا نظام حکومت ہے جس میں سائنس دان، انجینئرز، ماہرین اقتصادیات اور کسی خصوصی علم میں مہارت رکھنے والے افراد مل کر حکومت چلانے کا کام سر انجام دیتے ہیں. یہٹیکنوکریٹس سیاست دانوں کے بجائے خود حکومت تشکیل دیتے ہیں اور حکومتی امور سر انجام دیتے ہیں۔ ایسی حکومتوں کا وجود بیسویں صدی تک مغربی دنیا میں رہا لیکن اب یہ نظام مکمل طور پر ختم ہوچکا ہے۔ اب دنیا بھر میں اس طرح کی کسی حکومت کی کوئی مثال نہیں ملتی۔ آئین پاکستان میں بھی ٹیکنوکریٹ حکومت کی کوئی گنجائش نہیں ہے۔ آئینی طریق کار کے مطابق وزیراعظم منتخب نمائندوں میں سے وزراءکاانتخاب کرتا ہے اور انہیں وزارتیں سپرد کی جاتی ہیں جسے کابینہ کہا جاتا ہے۔ پاکستان کی تاریخ میں ٹیکنوکریٹس کا زیادہ تر کردار صدارتی نظام حکومت میں ہی نظر آتا ہے کیونکہ صدارتی نظام ہی ایک ایسا طرز حکومت ہے جس میں تمام تر انتظامی اختیارات صدر مملکت کے پاس ہوتے ہیں۔ صدر کو ٹیکنوکریٹس پر مشتمل کابینہ کی تشکیل، اس میں تبدیلی اور کسی وزیر کو اس کے عہدے سے برطرف کرنے کا مکمل اختیار ہوتا ہے۔ صدر کسی بھی شعبے کے ماہر شخص کو کابینہ میں شامل کر سکتا ہے جس کے لئے عوامی انتخاب میں حصہ لینا بھی ضروری نہیں. اس طرح یہ بات واضح ہے کہ ٹیکنوکریسی صرف صدارتی نظام حکومت میں ہی چل سکتی ہے. پارلیمانی نظام حکومت میں یہ اقدام براہ راست آئین سے متصادم ہے. پارلیمانی طرز حکومت میں مجلس عاملہ کے وزراءپارلیمنٹ اور مقننہ کو جوابدہ ہوتے ہیں۔ ایک کابینہ بالواسطہ یا بلا واسطہ ایک پارلیمنٹ کے تحت کام کرتی ہے۔ اس وجہ سے آئینی طور پر غیر منتخب شدہ افراد کی کابینہ میں شمولیت کی کوئی گنجائش نہیں ہے. حالیہ دنوں میں وزیراعظم عمران خان نے وفاقی کابینہ میں بڑے پیمانے پر تبدیلی کی ہے اور ٹیکنوکریٹس اور غیر منتخب افراد پر مشتمل ایک نئے پاکستان کی بنیاد رکھ دی ہے. اس تبدیلی کے نتیجے میں عوامی مینڈیٹ حاصل کرنے والے سیاستدانوں سے اہم ترین وزارتیں لے کر ٹیکنوکریٹساور غیر منتخب افراد کے حوالے کر دی گئی ہیں. جس کے نتیجے میں حکومت کی 47 رکنی کابینہ میں غیر منتخب افراد کی تعداد 16 ہو گئی ہے۔ غیر منتخب اور کابینہ کا حصہ بننے والے ٹیکنوکریٹس میں وزیراعظم کے پانچ مشیران اور تیرہ معاونین خصوصی شامل ہیں. وفاقی کابینہ میں شامل پانچوں مشیران ٹیکنوکریٹس ہیں اور انھیں وفاقی وزیر کادرجہ دیا گیا ہے جبکہ معاونین خصوصی میں چار ٹیکنوکریٹس اور قومی انتخابات میں شکست کھانے والے امیدوار بھی شامل ہیں. اسی طرح چار معاونین کو بھی وزرائے مملکت کا درجہ دیا گیا ہے. وفاقی وزیر بننے والےٹیکنوکریٹس مشیران میں ڈاکٹر عبدالحفیظ شیخ کو فنانس، ریونیو اور اکنامک افیئرز، ڈاکٹر عشرت حسین کو ادارہ جاتی اصلاحات و سادگی، ملک امین اسلم کو ماحولیاتی تبدیلی، عبدالرزاق داو¿د کو کامرس، ٹیکسٹائل انڈسٹری و سرمایہ کاری اور شہزاد ارباب کو اسٹیبلشمنٹ کے امور سونپے گئے ہیں. اسی طرح تیرہ معاونین خصوصی میں سے وزیر مملکت کے عہدے پر فائز ہونے والوں میں نعیم الحق کو سیاسی امور، مرزا شہزاد اکبر کو احتساب، سید ذوالفقار عباس بخاری کو اوور سیز پاکستانیز و ہیومن ریسورسز ڈویژن اور افتخار درانی کو معاون خصوصی برائے میڈیا مقرر کیا گیا ہے. اسی طرح شہزاد سید قاسم کو پاور سیکٹر، ندیم افضل چن کو پارلیمانی کوآرڈینیشن، یوسف بیگ مرزا کو میڈیا افیئرز، فردوس عاشق اعوان کو اطلاعات و نشریات، ندیم بابر کو پٹرولیم ڈویژن، ظفر اللہ مرزا کو نیشنل ہیلتھ سروسز، ریگولیشن و کوآرڈینیشن اور سردار یار محمد رند کو واٹر ریسورسز، پاور اینڈ پٹرولیم بلوچستان کا معاون مقرر کیا گیا ہے. معاونین خصوصی میں سے صرف علی نواز اعوان رکن قومی اسمبلی جبکہ یار محمد رند رکن بلوچستان اسمبلی ہیں۔ غیر منتخب اور قومی انتخابات میں شکست کھانے کے باوجود اہم عہدوں پر فائز ہونے والے معاونین میں نعیم الحق، عثمان ڈار، فردوس عاشق اعوان اور ندیم افضل چن شامل ہیں. مبصرین کے خیال میں اس اقدام سے صدارتی نظام ایک طرح سے نافذ کر دیا گیا ہے. آئینی ماہرین کے مطابق کسی ٹیکنوکریٹ یا غیر منتخب شخص کو وفاقی وزیر یا وزیر مملکت کے عہدے پر تعینات نہیں کیا جا سکتا اور نہ ہی وہ کسی صورت وفاقی وزیر یا مملکتکا اختیار استعمال کر سکتا ہے. سپریم کورٹ مصطفی امپیکس بنام حکومت پاکستان ( پی ایل ڈی 2016) میں آئین کے آرٹیکل 90 کی تشریح کرتے ہوئے واضح کر چکی ہے کہ وفاقی حکومت کا مطلب وزیراعظم اور وفاقی وزراءہیں، جسے کابینہ کہا جاتا ہے. اس آرٹیکل کے تحت ایگزیکٹو اتھارٹی کا اختیار وفاقی حکومت یعنی کابینہ استعمال کر سکتی ہے. آرٹیکل 91 کے تحت وزیراعظم کابینہ کا سربراہ تو ہے لیکن وہ کابینہ نہیں ہے اور نہ ہی کابینہ کا نعم البدل ہو سکتا ہے. آرٹیکل (1) 92 کے تحت وزیراعظم کی ایڈوائس پر وفاقی وزیر اور وزرائے مملکت صرف رکن پارلیمنٹ کو ہی بنایا جا سکتا ہے اور وہی اپنی وزارتوں کے امور دیکھ سکتے ہیں. اسی طرح آرٹیکل 93 کے تحت وزیراعظم پانچ سے زائد مشیر نہیں رکھ سکتا اور نہ ہی مشیر آرٹیکل(1 )91 اور آرٹیکل(9) 91 کے تحت وفاقی حکومت کا اختیار استعمال کر سکتے ہیں. ماہرین کے نزدیک عمران خان کا یہ اقدام ماورائے آئین ہے اورٹیکنوکریٹس اور غیر منتخب افراد کی یہ کابینہ بھی غیر آئینی ہے. اس حوالے سے معروف قانون دان اے کے ڈوگر نے بھی اس اہم آئینی نکتے پر عدالت عالیہ سے رجوع کر لیا ہے اور کابینہ کو غیر آئینی قرار دینے کی استدعا کی ہے. اس صورت حال میں وزیراعظم کے لئے بہتر ہو گا کہ وہ آئینی تقاضوں کو مدنظر رکھتے ہوئے کابینہ کی ازسرنو تشکیل کریں جس میں صرف منتخب نمائندوں کو شامل کیا جائے، ورنہ آنے والے دنوں میں سپریم کورٹ کے فیصلے کی روشنی میں اعلی عدلیہ اس کابینہ کو غیر آئینی قرار دے سکتی ہے۔


Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Copied!