Pakistan Columns

All Columns (Urdu and English)Of Pakistan You Could Easily Read Here/

Tarbiat e …. Namnaak

ایک مشہور چینل کے تفریحی پروگرام کے مہمان بہاولنگر سے مسلم لیگ ن کے باجوہ صاحب، مدعوتھے، اور جہاندیدہ میزبان واصف چودھری نے ان کے ساتھ سوال وجواب کا سلسلہ شروع کررکھا تھا، چونکہ میزبان کے ترازو عدل میں ”فنی خرابی“ ہے اور وہ گاہے بگاہے تحریک انصاف کی، کچھ اِس انداز سے مثبت انداز میں پذیرائی کرتے ہیں، تو مجھے علامہ اقبالؒ بھی یاد آنے لگتے ہیں، فرماتے ہیں۔

کرتو بھی حکومت کے وزیروں کی خوشامد

دستور نیا اور نئے دور کا آغاز!

بہرکیف پروگرام کے دوران باتوں باتوں میں ن لیگ کے ممبر قومی اسمبلی نے کہا کہ جلد ہی ہماری جماعت دوبارہ برسراقتدار آجائے گی، اور تحریک انصاف کے سہولت کار اپنی غلطی پہ پچھتارہے ہوں گے، تو میزبان نے ایک نہایت چبھتاہواسوال کیا کہ آپ کے سہولت کار کون تھے ؟ وہ بولے عوام ،اس سوال پہ تھوڑی سے لے دے کے بعد قہقہوں کے گونج سنائی دی اور پروگرام اپنی ڈگر پہ چلنے سے پہلے، ایک ایسی تلخ حقیقت کی یادیں چھوڑگیا، کہ جس کو کوئی محب وطن پاکستانی بھولنے کو تیار نہیں کیونکہ پاکستان کی انتخابی تاریخ میں منصفانہ اور شفاف الیکشن آج تک نہیں ہوئے۔ جنرل یحییٰ کے دور اقتدار میں البتہ جو انتخابات ہوئے تھے، وہ بالکل شفاف اور غیرجانبدارانہ تھے، مگر افسوس کہ ان انتخابات کا مثبت نتیجہ اس لیے نہیں نکلا کہ جیت جانے کے باوجود اقتدار شیخ مجیب الرحمن کے حوالے نہیں کیا گیا، اب اس کے پیچھے کیا سازش تھی یا محرکات اور پوشیدہ عوامل تھے؟ قوم کو اس بارے میں قیاس آرائیاں کرنے کی ضرورت نہیں، بلکہ وہ تلخ حقائق سے آگاہ ہے۔ یا پھر اس کو یوں سمجھیے کہ کہا جاتا ہے کہ ستر سالوں میں ملک کی عسکری اور سیاسی قیادت ایک ”پیج“ پہ ہے، اور پہلے ایسے کبھی نہیں ہوا تھا، بلکہ میں تو یوں کہتا ہوں کہ آئندہ بھی کبھی نہیں ہوگا کہ ایک وزیراعظم بمعہ اپنی کابینہ کے آٹھ گھنٹے تک مسلسل جی ایچ کیو میں رہا، اور بریفنگ کے نام پہ دل کے پھپھولے پھولے گئے، اور ایسا کیونکر نہ ہوتا، کہ یہ بھی تو پہلی دفعہ ہوا ہے، اور نیویارک سے لےکر گلف کے اخبارات نے یہ سرخیاں لگائی تھیں کہ پولنگ سٹیشنز پہ انتخابی نتائج ، حسب روایات، اور حسب قانون پولنگ سٹیشنز کے عملے نے نہیں بلکہ جو سب سے زیادہ حساس تھے، وہ متعینہ اعدادوشمار کے مطابق اُمید عسکری پہ پورا اترے۔ عسکری، اور سیاسی قیادت ماشاءاللہ اتنی ایک پیج پہ ہے کہ آج تک جتنے حکمران رہے، ان کی عسکری قیادت سے اتنی میل ملاقاتیں نہیں ہوئیں جتنی اب تک عمران خان، اور باجوہ صاحب کی ہوچکی ہیں، حتیٰ کہ اسدعمر کو فارغ کرنا ہو، یا کابینہ میں ردوبدل کرنا ہو تو قوم یونیفارم میں ملبوس ایک عکس اور ایک ہیولا ضرور دیکھتی ہے۔ قارئین میں اپنی بات سمجھانے کے لیے، اپنے لفظی تسلسل سے ہٹ کر بات کرتا ہوں، آج کل کراچی میں جو بچے، اور خواتین مررہی ہیں اس کی محض ایک وجہ ہے، کہ ان کو تربیت دیئے بغیر تعینات کردیا گیا ہے، مثلاً پولیس کے ہاتھوں، میں جو ہتھیار دیئے گئے ، بندوق یا پستول ان کو چلانے کی تربیت ہی نہیں دی گئی، اور نہ ہی صحت کے حوالے سے ہسپتالوں کے جونیئر عملے نرسوں اور ہیلتھ وزیٹرزاور چھوٹے ملازمین کو کسی قسم کی تربیت دی گئی ہے۔ حتیٰ کہ ایک شخص سکندر نے پورے اسلام آباد کو مفلوج کردیا تھا، اس وقت بظاہر نہ تو تربیت یافتہ عملے کی کمی تھی، اور نہ ہی کمی تعداد کا مسئلہ تھا، مگر اس وقت جو دشواری آڑے آئی کہ اس قسم کا واقعہ کوئی ماضی میں چونکہ وقوع پذیر نہیں ہواتھا، اس لیے تجربے کی کمی تھی، حالانکہ پولیس بھی موقعے پہ موجود تھی، اور دیگر ادارے کے لوگ بھی دوردور سے نظارہ کررہے تھے ۔ اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ پاکستان میں نہ تو بس ڈرائیور کی صحیح تربیت کی جاتی ہے، حالانکہ ساٹھ ،ستر انسانوں کی زندگی کا وہ ناخدا بنا ہوتا ہے، حتیٰ کہ جہاز اڑانے والا بھی تربیت یافتہ نہیں ہوتا، اور وہ سینکڑوں زندگیوں سے کھیلتا ہوا، اپنی ہوابازی کو انجوائے کرتا اور لطف اندوز ہوتا ہے اور یہ میں ایسے ہی نہیں لکھ رہا ، ہمارے ملک میں ایسے ہوتا ہے، جب ایئر لائنز کے پائلٹس کے لائسنسز ز چیک کیے گئے تو ان میں سے بیشتر ایسے تھے کہ جن کے پاس مطلوبہ معیار ہوابازی نہ تھا، اور نہ ہی ان کی تربیت کی گئی تھی اور ایسے ہی ہم نے دیکھا کہ پاکستان کے ہسپتالوں اکثر وبیشتر ایسے بھی ہوتا ہے کہ نازک ترین آپریشن ، بلکہ ”گائنی“ کے یعنی حاملہ خواتین کے آپریشن ٹیکنیشنز ، یا اٹینڈنٹ تک کرلیتے ہیں، اور کامیاب بھی ہوجاتے ہیں، تو پھر خدا یاد آتا ہے، اور یہ خبر عوام تک بھی پہنچ جاتی ہے، اور بقول علامہ اقبالؒ

سمجھ گئی ہے، اسے ہرطبیعت چالاک

قارئین کرام ، ہمارے صوبے پنجاب کی آبادی کم وبیش دس گیارہ کروڑ ہے اور یہ پورے ملک کی آبادی کا نصف ہے، جسے عثمان بزدار صاحب بغیر کسی تربیت اور آداب واقفیت حکمرانی سے نابلد ہوکر چلا رہے ہیں تاہم یونین کونسل کی حدتک، اور فورٹ منزدپہاڑی علاقہ میں مگر بائیس کروڑ کی آبادی کے لیے، جو حکمران ہے، انہیں تو صرف گیارہ بندوں کی سربراہی کا شرف حاصل ہے، اور اس طرح سے یہ کیسی حیران کن بات ہے کہ وزیراعظم سے وزیراعلیٰ کچھ تو تربیت یافتہ ہے مگر ان کی وجہ اہلیت خاتون اول کے خیالات احبانہ بیگم بزدار صاحبہ سے ہیں، مگر جب مکتب کی کوئی کرامت نظر نہ آئے تو پھر انسان لامحالہ سوچنے پہ مجبور ہوجاتا ہے، کہ بائیس سال تربیت کرنے والے بھی ناتجربہ کار نکلے، اسی لیے تو بزرگ کہتے ہیں کہ انسان پنگھوڑے میں پہچانا جاتا ہے اور ریاست مدینہ کے بانی حضور نے پنگھوڑے میں ہی چاند کو دوٹکڑے کردیا تھا، مگر ہمارے حاکم ملک کو دوٹکڑے کرنے میں، دیر نہیں لگاتے، والدہ کی تربیت انسانی زندگی میں جتنی اہم ہوتی ہے انسان میں اخلاق، مروت، تہذیب، رواداری اور اخوت کی وہ اولین درس گاہ ہوتی ہے، ہم نے سنا تھا کہ رمضان میں سبسڈی ملے گی، مگر حضور کھجورسے روزہ رکھتے، اور کھولتے تھے، آج کل کھجورکا پیکٹ 250کا ہوگیا ہے جو پہلے 180میں ہم لاتے تھے، ستر روپے مہنگی کردی گئی ہے …. ابھی رمضان آنے میں تو بہت دیر ہے لہٰذا جتنا ہوسکے خدا کو یاد کریں۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Copied!