Pakistan Columns

All Columns (Urdu and English)Of Pakistan You Could Easily Read Here/

Tahreek Pakistan Par Aek Nazar

23 مارچ1940ءقرارداد پاکستان کی منظوری کا دن گزرے 79 برس ہوگئے ہیں ۔گوکہ قومو ںکی تاریخ میں اتنا عرصہ غالباً ایک لمحے کی طرح ہوتا ہے۔ مگر تاریخ پاکستان میں یہ ایک کٹھن سفر ہے ۔ روز اول سے جب قرار داد پاس ہوئی تو کانگریسی لیڈرشپ نے اسے دیوانے کا خواب کہا ۔ گاندھی نے علی اعلان کہا یہ ناممکن ہے ۔ ہندو پراپیگنڈہ اتنا شدید تھا کہ بہت سارے مسلمان بھی اس میں شامل ہوگئے تھے ۔ اس قرارداد کی منطوری کے پیچھے ایک مکمل تاریخ تھی۔ 1934ءمیں جب قائد اعظم انگلستان سے واپس آئے تھے تو مسلمانوں میں ایک شدید بے چینی اور مایوسی پھیلی ہوئی تھی۔ اس کو دیکھنے ، سمجھنے کے لئے ہمیں تاریخ میں مزید پیچھے جانا ہوگا۔ 1857ءکی جنگ آزادی سے پہلے دوسوسال مسلمانوں کے زوال کی وجوہات سے بھرے ہوئے تھے ۔ دہلی میں مغل سلطنت سکڑکر دہلی تک محدود ہوگئی تھی ۔ پورے ہندوستان برصغیر میں سینکڑوں چھوٹی چھوٹی ریاستیں وجود میں آچکی تھیں۔ اس طرح طاقت کے بہت سے مراکز پیدا ہو چکے تھے ۔ اس صورتحال سے مغربی تاجروں نے سب سے زیادہ فائدہ اٹھایا ۔ پہلے پرتگیزی ، فرانسیسی اور بعد میں انگریزوں نے اپنی تجارتی کوٹھیاں قائم کیں، انہوں نے نوابو ںمہاراجو ںکی عداوتوں اور ہوس کا فائدہ اٹھایا ۔ اپنے مفادات کے لئے وہ یک دوسرے کو لڑانے لگے اور تجارت سے حکومت کی طرف چلے گئے۔ انگریز ، نوابو ںاور مہاراجو ںکی عیاشی کی کمزوریوں کو وہ خوب بھانپ گئے تھے ۔ وہ ان کو عیاشیوں کے لئے پیسہ اور سامان فراہم کرتے تھے اور یہ حکمرانوں اپنی ریاستوں میں رعایا پر ظلم ستم کے پہاڑ توڑنے لگے ۔ کسی کی گھر اورعزت محفوظ نہ ہوتی۔
اس صورتحال کا سب سے زیادہ فائدہ انگریزوں نے اٹھایا ۔ جہاں بنگال میں سراج الدولہ کو میر جعفر سے مل کر شکست دی اور بنگال کی دیوانی حاصل کرلی۔ اور پھر جب یورپ مستقل جنگوں کے بعد ایک تحریک اصلاحی کی طرف جارہا تھا ہندوستان کے حکمرانوں عیاشیوں میں گھرے ہوئے تھے مرکز نگاہ حکمرانوں کو عیاشی ہی تھی ۔ اس طرح تقریباً سوسال کے عرصہ میں انگریزوں نے پورے ہندوستان پر قبضہ کرلیا تھا۔ بہتر سامان حرب ، ٹریننگ نے بھی یورپی اقتدار کو فائدہ دیا۔ انہو ںنے پھر ہندوستانی نوجوانوں کو ہی ایک معقول تنخواہ اور مراعات پر ملازم رکھ کر یورپین انداز میں اپنی فوجوں کو تربیت کرلیا۔ پھر انہی (لوکل ) فوجوں نے انگریز کو ہندوستان کامالک بنادیا۔ زیر نگیں علاقوں میں رعایا راجاﺅں اور نوابوںکے ظلم سے تنگ تھی ۔ انگریز نے ایک بہتر انتظامی ڈھانچہ کھڑا کرکے رعایا کے بھی دل جیت لئے۔ اور وہ انصاف کے لئے اپنے انگریز آقاﺅں کی طرف دیکھنے لگے۔ انگریزی تسلط میںجب استحصال زیادہ ہونے لگا تو ایک احساس محرومی اٹھنے لگا کہ ہندوستان پوری طرح انگریز کی غلامی میں جکڑگیا ہے ۔ آزادی کی تحریکوں نے جنم لینا شروع کردیا ۔ آخری مربوط کوشش ہندوستان میں ٹیپو سلطان نے کی تھی جن کو نوابو ں مہاراجو ںکی سازشوں سے کچل دیا گیا۔ بعدازاں 1857ءتحریک آزادی بھی لوکل سپاہیوں اور وفادار نوجوانوں مہاراجوں کی مدد سے کچل دی گئی۔ اس کی سب سے زیادہ سزا مسلمانو ںکو ہی دی گئی۔ دہلی میں بہادر شاہ ظفر ، حکمران کو گرفتار کرکے برمالے جایا گیا جہا ںوہ رنگون کے کمشنر کے گراج میں بند کردیا گیا اور وہیں انتقال کرگیا۔ پورے ہندوستان میں باغیوں کو چن چن کر قتل کیا گیا جس میں زیادہ مسلمان ہی تھے ۔ دہلی کی آبادی اس وقت تقریباً ڈیڑھ لاکھ تھی، اسی ہزار مسلمانوں کو موت کے گھاٹ اتار دیا گیا ۔ ہندوستان میں اس صورتحال کا سب سے زیادہ فائدہ ہندوﺅں نے اٹھایا ۔ہندو کے نزدیک انگریز کی اطاعت محض ایک آقا کی تبدیلی تھی۔ انگریزوں نے ہندوﺅں کو نوکریو ںاور مراعات میں ہر طرح ترجیح دی خاص طور پر جب نظام تعلیم کو بدل کر فارسی سے انگریزی کردیا گیا تو مسلمان بالکل کٹ کر رہ گئے ۔ ہمارے علماءنے انگریزی کا بائیکاٹ کیا اور مسلمانوں حکومت میں پیچھے ہوتے گئے ۔
دسمبر 1885ءکو ایک انگریز نے ہی Indian National Congress کی بنیاد رکھی ۔ اس پارٹی کو ہندوستان کی آزادی کیلئے بنیاد کہا جاتا ہے ۔ مگر کانگریس کا رویہ مسلمانوں کے ساتھ پہلے دن ہی سے دوسرے درجہ کے شہریوں کا تھا۔ مسلمانو ں میں ایک مایوسی اور بے بسی کا عالم تھا۔ اسی حالات میں سرسید نے علی گڑھ سکول بعدازاں یونیورسٹی کی بنیاد رکھی جس نے احیائے مسلم میں نمایاں کردار ادا کیا اور یہاں کے نوجوانوں نے بعد ازاں آزادی کے لئے اور مسلمانوں کے حقوق کی جنگ لڑی ۔ ان حالات میں 30دسمبر 1906ءکو مسلم رہنماﺅں نے ڈھاکہ میں مسلم لیگ کی بنیاد رکھی۔ اپنے قیام کے ابتدائی برسوں میں ہندوستان کے سیاسی منظر نامہ میں مسلم لیگ کوئی قابل قدر جگہ نہ بناسکی ۔ مسلمانو ںکے اندرونی اختلافات اور کانگریس کی ریشہ دورانیوں نے مسلمانوں میں کبھی اتحاد نہ پیدا ہونے دیا۔ تاآنکہ قائداعظم بھی دل برداشتہ ہوکر انگلستان چلے گئے اور پھر علامہ اقبال ، چوہدری رحمت اور دوسرے مسلمان لیڈروں کی درخواستوں پر 1934ءمیں واپس تشریف لائے اور دوبارہ مسلم لیگ کی تنظیم نو شروع کی۔ بدقسمتی سے مسلمانوں کے خلفشار کا وہی حال رہا (جو آج بھی ہے)۔اور مسلمان جلد قوم متحد نہ ہوسکے ۔انہی حالات میں مسلم لیگ نے 1936ءکے انتخابات میں حصہ لیا اور شکست کھائی ۔ ہندوستان کے متعددصوبوں میں کانگریس کی حکومت قائم ہوئی ۔ کانگریس نے پہلا کام یہ کیا کہ بندے ماترم کو ہندوستان کا ترانہ قرار دے کر اسکولو ں میں لازمی قرار دے دیا۔ ترنگے کو ہندوستان کا جھنڈا قرار دے دیا۔ تیسرے مسلمانوں پر معاشی اور سیاسی پابندیاں لگانا شروع کردیں۔ ان پر ملازمتوں کے دروازے بند ہوگئے۔ کانگریسی لیڈروں نے دعوی کرنا شروع کردیا کہ مسلم لیگ کی سیاسی موت ہوچکی ہے۔ مگر قائد اور ان کے قریبی رفقا نے اپنی کوشش تیز تر کردی اسی دوران بہت ساری تحریکیں بھی اٹھیں جن کو انگریز سرکار نے سختی سے دبادیا ۔ قائداعظم نے پورے ہندوستان کے دورے کئے ۔ 1938 ءکو آل انڈیا مسلم لیگ کے سالانہ جلسے میں ان کو اعلان کرنا پڑا کہ مسلم لیگ کی جدوجہد نہ صرف انگریز کے خلاف ہے بلکہ ہندوﺅں کی دائمی غلامی سے نجات حاصل کرنا ہے ۔ اس کے ساتھ ہی انہو ں نے اعلان کیا کہ ہم کو زمیندار سیاستدان اور ان ملاﺅں سے بھی چھٹکارا حاصل کرنا ہے جو مسلمانوں کے اتحاد میں سب سے بڑی رکاوٹ ہیں۔
اسی دورمیں ہندوستان میں ہندو ۔ مسلمان فسادات بھی شروع کردیئے گئے تھے ۔ کانگریس RSS اور دوسری ہندو اتحاد قوتیں علی الاعلان کہہ رہی تھیں کہ مسلمان ہندوستان میں صرف رعایا کے طور پر ہی رہ سکتے ہیں (جیسا کہ آج کے بھارت میں ہے )۔ ان حالات میں قائداعظم اور ان کے ساتھیوں کی کوشش رنگ لائیں اور لاہور میں22-23 مارچ1940 ءبنگال کے مولوی فضل حق نے قرارداد پاکستان پیش کی۔ جو نہ صرف پاکستان کے قیام کی بنیاد بنی بلکہ بعدازاں 1949 میں Objective Resolution ”قرار داد مقاصد “کی ماخذ ہوئی۔
یہ کہنا بجا نہ ہوگا کہ قرارداد پاکستان سے قیام پاکستان تک کا دور مسلمانو ں کے لئے آگ و خون کا دریا تھا جو ان کو عبور کرنا پڑا ۔ پاکستان زندہ باد ۔ پاکستان پائندہ باد ۔ آج پاکستان الحمداللہ ناقابل تسخیر طاقت ہے مگر ہم کو اتحاد، تنظیم ، ایمان کی رسی کو پکڑ نا ہوگا۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Copied!