Pakistan Columns

All Columns (Urdu and English)Of Pakistan You Could Easily Read Here/

Tabdeeli Darama!

میں نے اپنے گزشتہ کالم ”جھوٹے“ میں حکمرانوں، سیاستدانوں خصوصاً موجودہ وزیروں مشیروں کے بارے میں عرض کیا تھا ”وہ اس قدر جھوٹ بولتے ہیں اور روز حشر اُن کی باقی خرابیاں یا گناہ تو شاید ایک طرف رہ جائیں صرف جھوٹ کی بنیاد پر ہی وہ دوزخ کے مستحق قرار پائیں گے“۔ اول تو اِن میں سے کوئی سچ بولتا نہیں، کِسی روز غیر دانستہ طورپر سچ بول لے تو اُسے اپنی ”کُرسی“ خطرے میں محسوس ہونے لگتی ہے، …. جِس روز کابینہ میں ردوبدل ہوا، اُس سے ایک روز پہلے اُس وقت کے انفارمیشن بلکہ ”ڈس انفارمیشن“ کے وفاقی وزیر فواد چوہدری فرمارہے تھے ”وزیراعظم نے اُن سے کہا ہے “ وفاقی کابینہ میں کسی قسم کی تبدیلی نہیں ہورہی لہٰذا وزراءکو ہٹائے جانے یا اُن کے محکمے تبدیل ہونے کی تمام اطلاعات اور خبریں بالکل بے بنیاد ہیں “،….اُس وقت کے منسٹر فارڈس انفارمیشن کے اِس بیان یا اِس یقین کی تین وجوہات ہوسکتی ہیں، ممکن ہے وزیراعظم عمران خان نے اُن سے ایسی کوئی بات کہی ہی نہ ہو، یہ بھی ممکن ہے اُنہوں نے اپنی تبدیلی کے بارے میں وزیراعظم سے پوچھا ہو، اور وزیراعظم نے اپنی جان چھڑوانے کے لیے اُن سے یہ کہہ دیا ہو ”کسی وزیر کا محکمہ تبدیل نہیں کیا جارہا نہ کسی کو نکالا جارہا ہے “ ،….یہ بھی ہوسکتا ہے خود وزیراعظم کو بھی کابینہ میں تبدیلی کے بارے میں معلوم نہ ہو، یا آخری وقت پر معلوم ہوا ہو، جِس کے بعد وہ فوری طورپر اسد عمر یا فواد چوہدری کو بچانے کی پوزیشن میں ہی نہ رہے ہوں، اِس بات میں زیادہ وزن اِس لیے محسوس ہورہا ہے کہ یہ دونوں وزراءوزیر اعظم کے بہت چہیتے اِس لیے تھے کہ یہ دونوں اپوزیشن کے خلاف جو بیانات دیتے تھے، یا اسمبلی اجلاس میں اپوزیشن کے لیے جو زبان استعمال کرتے تھے، یا اِن کا جو جارحانہ رویہ ہوتا تھا وہ محترم وزیراعظم کو پسند ہے، بہت برسوں سے ہماری سیاست اور حکومت میں ایسے ہی ہوتا آرہا ہے کہ کِسی وزیر کی اُس کے محکمے میں کارکردگی یا اُس کی اہلیت تو کہیں میٹرہی نہیں کرتی،اُس کی اہلیت اور کارکردگی کو صرف اِس لحاظ سے جانچا اور پرکھاجاتا ہے کہ اپوزیشن رہنماﺅں کے بارے میں وہ بدزبانی کتنی کرتا ہے؟۔ اِس حوالے سے اسد عمر خصوصاً فواد چوہدری بہت ٹھیک جارہے تھے، لہٰذا اُن کا تبدیل ہونا سمجھ سے بالاتر ہے، مگر ظاہر ہے سب کچھ ہمارے وزیراعظم کے اختیار میں کہاں ہے ؟ بہرحال محکمہ تبدیل ہونے سے فواد چوہدری کے پاس ایک بار پھر جماعت تبدیل کرنے کی اچھی خاصی گنجائش پیدا ہوگئی ہے ۔ اُن کی خوبی یہ ہے وہ اپنی جماعت تبدیل بھی کرلیں تو اُن کی سابقہ جماعت اُنہیں اپنا ہی بندہ سمجھتی ہے، مگر اصل میں وہ کِس کے بندے ہیں ؟ یا اصل میں کِس کے نمائندے ہیں میرے خیال میں یہ راز ہر اُس سیاسی جماعت کو معلوم ہے جِس میں وہ رہے ہیں، اب اُنہیں سائنس اور ٹیکنالوجی کا وزیر بنادیا گیا ہے، سائنس کا اُن کے ساتھ بڑا گہرا تعلق یہ ہے کہ بچپن میں سائنس بطور لازمی مضمون اُنہوں نے پڑھی تھی ، ممکن ہے وہ سائنس میں فیل ہو گئے ہوں، جس طرح وزارت اطلاعات چلانے میں فیل ہوگئے ، ہمارے ہاں کسی کو اُس کی ”کامیابیوں“ پر اتنے انعامات نہیں مِلتے جتنے ناکامیوں پر مِلتے ہیں، یہ بھی ممکن ہے اُنہیں سائنس کا وزیر اس لیے بنادیا گیا ہو وہ کوئی ایسی گیس چھوڑیں جو اپوزیشن کے ناک میں دم کردے، البتہ وزیر سائنس کی حیثیت سے اُن کے لیے شکر کا مقام یہ ہے یہاں اُنہیں جھوٹ کم بولنا پڑیں گے، جو وزارت اطلاعات میں اُنہیں اتنے بولنے پڑتے تھے کہ سچ وہ صرف اُسی صورت میں بولتے تھے ۔جب وہ خاموش ہوتے تھے اُن کے بعد پی ٹی آئی میں وزارت اطلاعات و نشریات کا حقدار کسی رُکن اسمبلی کو نہیں سمجھا گیا، چنانچہ یہ وزارت قومی اسمبلی کا الیکشن ہار جانے والی اور پیپلزپارٹی سے آنے والی بلکہ آنے جانے والی فردوس عاشق اعوان کے سپرد خاک کردی گئی ہے، پیپلزپارٹی کے دور میں وہ اِس وزارت کی مکمل انچارج یعنی وفاقی وزیر اطلاعات ونشریات تھیں۔اب اُنہیں اِس وزارت کے لیے وزیراعظم عمران خان نے اپنا معاون خصوصی مقرر کیا ہے، مجھے یقین ہے وہ دیگر معاملات میں بھی وزیراعظم کی بھرپور معاونت کریں گی جس کے بعد اُن کا وزارت اطلاعات میں کوئی کارکردگی دکھانانہ دکھانا اتنا اہم نہیں رہے گا، ….اطلاعات و نشریات کا محکمہ بڑا اہم ہوتا ہے، وزیراعظم عمران خان کو اِس کی معاون خصوصی مقرر کرنے کے بجائے اِس محکمے کا باقاعدہ وزیر مقرر کرنا چاہیے تھا، پی ٹی آئی کے کئی ارکانِ اسمبلی اِس محکمے یا وزارت کو چلانے کی مکمل اہلیت رکھتے ہیں، میرے ذہن میں اِس حوالے سے فوری طورپر فیصل آباد سے رُکن قومی اسمبلی فرخ حبیب کا نام آرہا ہے، وزیراعظم عمران خان میری بات نوٹ کرلیں، اُن پر جب بھی مشکل وقت آیا اُن کی ساری جماعت ” لوٹی“ ہوسکتی ہے، سب سے پہلے اُن کا لاڈلا وزیراعلیٰ پنجاب بزدار ہوگا، فرخ حبیب مگر کسی اور جماعت میں جانے کا تصوربھی نہیں کرسکتا، پی ٹی آئی اُس کی جڑوں میں بیٹھی ہوئی ہے جبکہ پی ٹی آئی کے بے شمار لوگ پی ٹی آئی کی جڑوں میں بیٹھے ہوئے ہیں، میڈیا کے ساتھ فرخ حبیب کی ریلیشن شپ کا عالم یہ ہے وطن عزیز کا شاید ہی کوئی کالم نویس یا اینکر ایسا ہوگا جو اُس کی بے پناہ خوبیاں خصوصاً اُس کے اچھے اخلاق کے باعث اُسے پسند نہ کرتا ہو، شیدے ٹلی کی وزارت ریلوے کا پارلیمانی سیکرٹری بناکر اُس کی اصل صلاحیتوں کو زنگ لگادیا گیا ہے، اُس کے علاوہ سینیٹر فیصل جاوید کو بھی وزیراطلاعات بنایا جاسکتا تھا، یہ ایک ظلم ہے اور یہ ظلم کسی اور نے نہیں خود عمران خان نے خود پر کیا ہے ہوا کہ بیالیس رُکنی کابینہ میں زیادہ تر وزرائ، مشیران اور معاونین خصوصی غیر منتخب افراد پر مشتمل ہیں، مجھے ڈر ہے یہ معاملہ کہیں وزارت عظمیٰ تک وسیع نہ ہوجائے۔ محترم وزیراعظم عمران خان اپنے طورپر یا کسی پریشر پر مختلف اہم عہدے غیر منتخب افرادکو دینے پر مجبور ہیں تو ہوسکتا ہے کسی روز یہ سانحہ نہ ہوجائے وہ ٹی وی پر آکر اعلان فرما دےں ”میں منتخب رُکن اسمبلی کی حیثیت سے وزارتِ عظمیٰ چلانے کا اہل نہیں ہوں لہٰذا میری اِس ملک کی ”اصل قوتوں “ سے اپیل یا گزارش ہے یہ عہدہ بھی کسی غیرمنتخب شخصیت کے حوالے کردیں“،….ایسی صورت میں ایک عام آدمی کے طورپراِس عہدے کا ایک حقدار میں بھی ہوسکتا ہوں، اِس ملک کی ”اصل قوتیں“ مجھے جتنی اجازت دیں گی میں اُس سے ایک فی صد زیادہ کرپشن نہیں کروں گا، جھوٹ بھی جتنا وہ مجھ سے بلوانا چاہیں گی میں اُتنا ہی بولوں گا۔ عوام کے حقوق بھی جتنے وہ چاہیں گی میں اُتنے ہی ماروں گا۔ میں اُن قوتوں کے حقوق کی حفاظت اپنے حقوق سے زیادہ کروں گا۔ قصہ مختصر یہ میں اُن کے اشاروں پر ناچوں گا، لہٰذا اُنہیں چاہیے اپنے اگلے ڈرامے کا ہیرو مجھے بنا دیں !!


Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Copied!