Pakistan Columns

All Columns (Urdu and English)Of Pakistan You Could Easily Read Here/

Sood Khoroon Ki Ghunda Ghardi

اب تو حکومت پاکستان بھی سود خوروں کے خلاف ایکشن لینے کیلئے تیار ہوگئی ہے۔ روزنامہ خبریں کے چیف ایڈیٹر جناب ضیاشاہد نے سود خوروں کے خلاف کافی عرصہ سے مہم چلائی ہوئی ہے ۔روزنامہ خبریں کے اس اچھے اقدام پر پاکستانی قوم بہت خوش ہے۔ ادارہ خبریں کی وجہ سے کتنے لوگ ظالم سود خوروں سے محفوظ ہوگئے ہیں۔ورنہ سود خورمافیا تو آئے دن مضبوط سے مضبوط تر ہوتا جارہا تھا ان کا کوئی کچھ نہیں بگاڑ سکتا تھا۔ یہ تو مہربانی ہے کہ ادا رہ خبریں نے ان سود خوروں کو نکیل ڈال دی ہے ورنہ سود خور مافیا نے کتنے گھروں کو برباد کردیا تھا۔ جو بھی شخص سو د خوروں کے خلاف آواز اٹھائے تو یہ سود خور اس شخص کی جان و مال نقصان پہنچانے کی کوشش کر تے ہیں۔ راقم الحروف کالم نگار ہونے کے ساتھ ساتھ سیاسی و سماجی کاموں میں بھی بڑھ چڑھ کر حصہ لیتا ہے، بحالی صوبہ بہاول پور کی تنظیم کو بھی بطور چیئرمین چلا رہا ہوں۔ روزنامہ خبریں میں کالم نگار ہوں ۔ چیف ایڈیٹر جناب ضیا شاہد کی پیروی کرتے ہوئے مجھے بھی جہاں کسی غریب پر ظلم ہوتا ہوا نظر آتا ہے تو میں قلم کے ذریعے بھی آواز اٹھاتا ہوں اور عملی طور پر بھی مد د کیلئے پہنچ جاتا ہوں۔
روزنامہ خبریں ظلم کے خلاف جو بھی تحریک چلائے گا ہم ضیا شاہد کے ساتھ شانہ بشانہ کھڑے ہیں اور ہر ظالم کا ڈٹ کر مقابلہ کریں گے۔ اب حال ہی میں سو دخوروں کے ایک گروہ نے ایک غریب آدمی انس قصاب پر بڑا ظلم کیا ہے ۔یہ سود خور ٹولہ بڑے عرصے سے قائم پور شہر میں بڑے دھڑلے سے کام کر رہا ہے۔ یہ ایک بہت بڑا منظم گروہ ہے اس میں ایک وکیل صاحب ہیں او ردو سابق خبریں کے نمائندے ہیںجبکہ دو تین کالعدم تنظیم کے لوگ ہیں۔ ریذیڈنٹ ایڈیٹر خبریں ملتان میاں عبدالغفار کو پتہ چلا تو انہوں نے ان کا ریکارڈ دیکھا فوراً ادارہ خبریں سے نکال دیا۔ یہ لوگ آئے دن غریب لوگوں پر ظلم ڈھارہے ہوئے ہیں، انس قصاب پر ابھی تازہ تازہ ظلم کی انتہا ہوئی ہے۔ اپنی تحریر میں عوام تک پہنچانا چاہتا ہوں۔ راﺅ منیر اکبر جوکہ قائم پور شہر کا رہائشی ہے، اس نے انس قصاب کو ایک لاکھ روپے سود پر دیا تیرہ ہزار روپے سود منتھلی طے ہوا۔ انس قصاب نے سود سمیت دو لاکھ تریسٹھ ہزار روپے سود خور منیر اکبر کو اد اکردیا لیکن اس منیر اکبر کا پھر بھی پیٹ نہ بھرا ،آئے دن اس کے اوپر تشدد کرکے اور پیسے کا مطالبہ کرتے تھے ۔ انس قصاب بیچارے نے ان کے ڈر سے جان چھڑوانے کیلئے اپنی بیوی کے زیور بیچ کران ظالموں کو دے دئیے لیکن یہ سود خور ٹولہ آئے دن پھربھی اس پر تشدد کرتے تھے ، تنگ آکر قائم پور میں سود خوروں کے خلاف درخواست دی اور روزنامہ خبریں میں خبر بھی لگوائی کہ ان سود خوروں سے میری جان چھڑوائی جائے۔ان سود خور وں کے خلاف خبر لگوانے اور درخواست پر ان کو رنج ہوا انہوں نے دن دیہاڑے لاری اڈا قائم پور پر انس قصاب کو شدید تشدد کا نشانہ بنایا اس غریب کی ہڈیاں توڑ دیں، اتنا تشدد کیا کہ اپنی طرف سے اسے جان سے مار کر خون سے لت پت سڑک پر پھینک کرچلے گئے۔ ساری دنیا دیکھتی رہی مگر کسی کی جرا¿ت نہ ہوئی کہ آگے بڑھ کر ان ظالموں کو کوئی روک سکے۔ انس کا والد اپنے بیٹے کو زخمی حالت میں لے کر تھانے چلا گیا اور ہسپتال میں داخل کروادیا۔ مقامی ڈاکٹروں نے ان سود خوروں کے خوف سے میڈیکل نہ بنایا ،سمپل لکھ دیا۔ انس قصاب نے بہاول پور میڈیکل بورڈ کو درخواست دی تو پانچ ڈاکٹروں پر مشتمل ایک کمیٹی بیٹھی انہوں نے ہڈیاں ٹوٹنے کا میڈیکل بنا دیا ۔محمود عرف مودی خاقان ،راﺅ منیر،رانا طارق وغیرہ کے خلاف تھانہ قائم پور میں 34/19بجرم 337/Aپرچہ درج ہوا ۔سود خور منیر اکبر کا سگابھانجا خاقان ایڈووکیٹ ہے ‘اس ٹولے کے تھانے کچہری کے معاملات سارے خاقان ایڈووکیٹ کے ذمہ ہوتے ہیں، تشدد کرنے والوں میں خاقان بھی ساتھ تھا اس کے خلاف بھی پرچہ درج ہوا۔ اب اس وکیل صاحب نے انس قصاب کو پریشرائز کرنے کیلئے خود خاقان وکیل نے اپنی مدعیت میں انس قصاب کے خلاف عدالت میں رٹ کردی اور 406امانت میں خیانت پرچے کا آرڈر لے کر انس قصاب کے خلاف تھانہ قائم پور میں 406کا جھوٹا پرچہ درج کروادیا ،اوپر سے پولیس بھی غریب مظلوم انس قصاب کا ساتھ دینے کی بجائے ان سود خوروں کے ساتھ مل گئی جو میڈیکل کا پرچہ سو دخوروں کے خلاف تھا پولیس نے خارج کردیا اور جو انس قصاب کے خلاف وکیل صاحب نے 406کی جھوٹی FIRکروائی تھی اس میں پولیس نے انس قصاب کو تیرہ دن تھانے میں بند رکھا اس کے اوپر تشدد کرتے رہے اور کہتے تھے کہ صلح لکھ کر دےدو ورنہ ساری زندگی آپ کی جیلوں میں گزر جائے گی تیرہ دن کے بعد جب انس قصاب جیل سے باہر آیا تو سود خوروں نے پھر اس پر حملہ کردیا۔ یہ بیچارہ پولیس کے ہر آفیسر کے آگے ہاتھ جوڑ کر انصاف مانگتا رہا اس کو کہیں سے بھی انصاف نہ ملا آخر کار انس قصاب نے مسجد میں بیٹھ کر قرآن پاک پر ہاتھ رکھ کر اپنی ظلم کی داستان کی ویڈیو بنا کر وائرل کردی جسے پاکستان میںلاکھو ں لوگ دیکھ چکے ہیں ۔یہ ارباب اختیار سے انصاف مانگ رہا ہے۔ پھر ضلع بہاول پور کی انتظامیہ حرکت میں آئی یہ سود خود ٹولہ انس قصاب کو قتل کی دھمکیاں دے رہے ہیں اس کی ریکارڈنگ بھی پولیس کے ہتھے چڑھ گئی ہے پولیس نے فوراًان سود خوروں کے خلاف تھانہ قائم پور میں FIR 111/19بجرم 506/Bدرج ہوا ۔
جب میں نے یہ ویڈیو دیکھی تو مجھے بہت دکھ ہو امیں اس انس قصاب کی مدد کرنے کیلئے تیار ہوگیا میدان میں اتر آیا اب یہ سود خور ٹولہ میری جان کا دشمن بنا ہوا ہے۔ مجھے جان سے ماردینے کی دھمکیاں بھی آرہی ہےں اور خاقان وکیل نے اپنی مدعیت میں میرے خلاف بھی عدالت میں استغاثہ کردیا ہے ۔میرا یہی قصور ہے کہ میں نے انس قصاب مظلوم کی مدد کی ہے۔ میں جناب ضیاشاہد اور انتظامیہ کے نوٹس میں لایا ہوں کہ اس سود خور ٹولہ سے میری جا ن کو خطرہ ہے ۔میں اپنے تمام میڈیا کے صحافی بھائی ،کالم نگار اور لکھاری بھائیوں سے عرض کرتا ہوں ہمارے ہاتھ میں تو صرف قلم ہوتا ہے بندوق تو بدمعاشوں کے ہاتھ میں ہوتی ہے کیا اب یہ سودخور ٹولہ ہم سے ہمارا قلم بھی چھیننا چاہتے ہیں ۔کیا ہم لکھاریوںکا یہی قصور ہے کہ جہاں ظلم دیکھتے ہیں لکھنے کی کوشش کرتے ہیں اب ہمیں تمام لکھاری بھائیوں کو ایک ہی صف میں کھڑا ہو کر اس مافیاکا مقابلہ کرنا چاہیے ورنہ ہمیں ایک ایک کو نشانہ بنا کر وار کرتے رہےں گے ۔ اب میں تھوڑا سا اس سود خور ٹولے کا تعارف کرادیتا ہوں تاکہ ان کا چہرہ کھل کر حکومت اور تمام ذمہ دار اداروں کے سامنے آسکے۔ اس گرو ہ کے لیڈ ر محمود عرف مودی اور رانا خالد محمودہیں۔ یہ خالد محمود خود افغان ٹریننگ یافتہ ہے۔ اس کا سگابھائی عابد فورتھ شیڈول میں ہے اس خالد محمود نے آج سے تین سال قبل لاری اڈا قائم پور علامہ شکور مارکیٹ پر کالعدم دہشت گرد تنظیم کا جھنڈ ا لگا کر ویڈیو وائرل کردی تھی ۔23اگست 2016ءکو روزنامہ خبریں میں ان کے خلاف بہت بڑی خبر لگی ، اداروں نے فوراًایکشن لیتے ہوئے ان میں سے کئی لوگوں کو گرفتارکر لیالیکن خالد محمود اپنے مضبوط سورسز کی وجہ سے بچ نکلا اس خالد محمود کی وجہ سے قائم پور کے کتنے لوگ فورتھ شیڈول میں آگئے تھے یہ خالد محمودکالعدم تنظیم کا نمائندہ ہے جس کا ساتھی محمود عرف مودی اس کی تمام ٹیم کے خلاف درجنوں سنگین جرم کی FIRہیں جس کا ریکارڈ ثبوت کے طور پر میرے پاس آگیا ہے۔ آئے دن لوگوں کے پلاٹوں پر قبضہ کرنا ،فراڈ کرنا، بھتہ لینا ان کا معمول بنا ہوا ہے ۔اسی محمود کے پاس جعلی پیسے بنانے وا لی مشینیں بھی برآمد ہوئی ہےں جوکہ مختلف تھانوں میں اندر رہا ہے اور لاری اڈا قائم پور پر یہ ٹولہ سرعام بھتہ وصول کرتے ہیں عدالت عالیہ ہائیکورٹ بہاول پور نے بھتہ وصول کرنے کے خلاف قانونی کاروائی کا حکم بھی دیا جوکہ پولیس نے آج تک عمل درآمد نہ کیا یہ ابھی بھی بھتہ وصول کررہے ہیں ہائیکورٹ کے آرڈر کی کاپی میرے پاس موجود ہے اگر کسی بھی ادارے کو ان سود خوروں اور غنڈہ گردی کا ریکارڈ جتنے بھی کریمنل کیس میں ملوث ہیں اس کا ریکارڈ میرے پاس بہت زیادہ تعداد میں موجود ہے ‘ جومیں دینے کیلئے تیا ر ہوں حکومت کو چاہیے کہ ایسے شرپسند عناصر کے خلاف قانونی کاروائی ہونی چاہیے آخر میں جناب ضیا شاہد سے بھی اپیل کرتا ہوں کہ ہم جرات کے ساتھ ان ظالموں کے خلاف لکھتے رہےں گے۔ان کے گھناﺅنے جرائم کو بے نقاب کرتے رہےں گے، آپ ہمارے تحفظ کیلئے حکومت سے بات کریں تاکہ آئندہ کوئی بدمعاش بھی مظلوم کی طرف میلی آنکھ سے دیکھنے کی جرات نہ کرے اور ان سود خوروں کے خلاف FIRدر ج ہونی چاہیے۔جوکہ ضلع بہاول پور کی پولیس اس طرف توجہ نہیں دے رہی شاید ضلع بہاول پور میں ابھی تک سو دخوروں کے خلاف کوئی ایک ایکشن بھی نہیں لیا گیا ورنہ یہ سود خور لوگ انسانیت کیلئے ناسور بن جائیں گے۔ان کو فی ال فور انجام تک پہنچانا ضروری ہے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Copied!