Pakistan Columns

All Columns (Urdu and English)Of Pakistan You Could Easily Read Here/

Social Media Par Dr Amjid Saqib Ki Ranking

ڈاکٹر امجد ثاقب کی گفتگو طویل ہوتی جا رہی تھی، ان کے کارنامے اس سے بھی طویل ہیں اور لکھنے بیٹھو تو قلم کا سانس پھول جائے۔ اسے ایک دو کالموں میں کجا، کسی ایک کتاب میں سمیٹنا مشکل ہے۔ ایک حصہ قارئین کی نذر کر چکا ہوں۔ مزید نکات جو بیان نہیں ہو سکے، اب پیش خدمت ہیں۔ ڈاکٹر امجد ثاقب نے گفتگو جاری رکھتے ہوئے کہا:امریکہ کے تیسرے صدر تھامس جیفرسن نے یونیورسٹی آف ورجینیا کی بنیاد رکھی۔میں جب امریکہ پڑھنے گیا تو میں نے یہ یونیورسٹی دیکھی۔یونیورسٹی میں ایک کتبہ لگا ہوا تھا۔ اس کتبے پر یہ تحریر درج تھی ۔’’میرا نام تھامس جیفرسن ہے۔میں ورجینیا ریاست کا گورنر رہا۔میں نے بل آف رائٹس لکھا۔ میں نے ڈیکلریشن آف انڈیپینڈنس لکھا۔ میں فرانس میں امریکہ کا سفیر رہا۔ میں امریکہ کا وزیرخارجہ رہا۔امریکہ کا نائب صدر رہا اور میں آٹھ سال امریکہ کا صدر رہا لیکن میں چاہتا ہوں کہ تاریخ میں اگر میرا نام لکھا جائے تو وہ یونیورسٹی کے بانی کی حیثیت سے لکھا جائے۔مجھے لوگ اگر یاد کریں تو اس حیثیت سے یاد کریں کہ میں نے ایک یونیورسٹی بنائی تھی‘‘۔1994ء میں جب یہ کتبہ میں پڑھ رہا تھا تو مجھے یہ معلوم نہیں تھا کہ اس کا کس قدر اثر میری زندگی پر پڑنے والا ہے۔مائیکروفنانس کی سکیم اخوت پندرہ سولہ برس کامیابی سے چلتی رہی لیکن میں نے سوچا کہ کل کلاں کیا معلوم جب میں نہ رہوں اس سکیم کا کیا بنے۔ کیا معلوم غربت کے خاتمے کے نئے طریقے آ جائیں تو کیوں نہ ایسا کام کیا جائے جو صدیوں آباد رہے۔ آج بھی ہارورڈ اور کیمبرج جیسی یونیورسٹیاں سینکڑوں برس سے دنیا بھر کے طالب علموں کو علم کی روشنی سے منور کر رہی ہیں اور وہ اس علم سے اپنے اپنے ملک بلکہ دنیا بھر کے لئے نت نئی تخلیقات اور آسانیاں پیدا کر رہے ہیں۔ یونیورسٹی آف ورجینیا میں لگا وہ کتبہ میری آنکھوں کے سامنے آ گیا اور میں نے بھی ایک ایسی یونیورسٹی بنانے کا فیصلہ کیا جو نادار طالب علموں کے لئے علم کا ایسا مرکز ثابت ہوجہاں وہ اپنے خوابوں کی آبیاری کر سکیں۔جہاں انہیں تعلیم کے ساتھ اخلاقیات اور فلسفہ پڑھایا جائے۔ کل کو ہم نہیں رہیں گے لیکن یہ بچے ہمارے فلسفے کو آگے لے کر چلیں گے۔اس بنیاد پر ہم نے چھ سات سال پہلے یونیورسٹی کے خواب کی تعبیر پر عمل کرنا شروع کیا۔پھر ہم نے سوچا کہ اس وقت چاروں طرف بازار میں علم مہنگے داموں فروخت ہو رہا ہے تو غریب کا بچہ چاہے وہ کتنا ہی ذہین کیوں نہ ہو‘ وہ کیسے دس لاکھ بیس لاکھ کی فیسیں افورڈ کرے گا۔ وہ تو پراسپیکٹس کی قیمت دیکھ کر ہی واپس آ جائے گا۔جب اسے پتہ چلے گا کہ ہر سمیسٹر سے پہلے لاکھوں روپے جمع کرانے ہوں گے اس کے بعد ہی اسے کمرہ جماعت میں جانے کی اجازت دی جائے گی تو پھر اس کے خواب تو وہیں بکھر جائیں گے۔جس طرح ہم نے مائیکروفنانس سکیم اخوت کا ماڈل چلایا کہ اس میں ہم سود نہیں لیتے اسی طرح ہم نے طالب علم کو کہا کہ کوئی بھی فیس نہ دو اور کمرہ جماعت میں چلے جائو‘ خوب دل لگا کر پڑھو اور پانچ دس یا بیس سال بعد اگر اس پوزیشن میں ہو تو فیس دے دینا ۔ یعنی فیس پہلے نہیں فیس بعد میں۔ پہلے ہم نے کالج بنایا۔ پانچ ایکڑ زمین خریدی۔آہستہ آہستہ اس میں اضافہ ہوتا گیا آج ہمارے پاس چالیس ایکڑ سے زائد زمین ہے ۔ اڑھائی لاکھ مربع فٹ کی عمارت اپنی تکمیل کے آخری مراحل میں ہے۔نوے فیصد تعمیراتی کام مکمل ہو چکا ہے۔ اس وقت چار سو طلبا زیرتعلیم ہیں۔یہ سارے بچے وہیں رہتے ہیں۔ کھانا پینا رہائش تعلیم کتابیں سب کچھ مفت ہے۔وہ ایک منی پاکستان ہے جس میں پندرہ فیصد بچے ہر صوبے سے ہیں اور باقی پندرہ فیصد گلگت بلتستان‘ آزاد کشمیر اور فاٹا سے ہیں۔سب کو یکساں نمائندگی دی گئی ہے۔ 48اضلاع سے وہاں بچے تعلیم حاصل کررہے ہیں۔وہ بارہ زبانیں بولتے ہیں۔ان میں ہندو بھی ہیں سکھ بھی ہیں عیسائی بھی او ر مسلمان بھی۔یہ بچے ایک ہی چھت تلے رہتے ہیں۔ان کی شخصیت سازی اور تربیت پر ہم خصوصی توجہ دیتے ہیں۔وہ ہمارے پاس داخلے کے وقت آتے ہیں تو قینچی چپل میں ہوتے ہیں۔ ایک ہفتے بعد آپ انہیں

پہچان نہیں سکتے۔ان کی شخصیت ہی بدل جاتی ہے۔

یونیورسٹی کی تعمیر کی کہانی بھی بڑی دلچسپ ہے۔ڈاکٹر امجد ثاقب بولے: ہمارے آرکیٹیکٹ نے کہا کہ یونیورسٹی کی تعمیر پر پچاس کروڑ روپے لگیں گے۔ہم نے کہا اتنے پیسے اکٹھے کون دے گا۔ ہم نے اس رقم کو ایک ہزار پر تقسیم کیا جو پانچ لاکھ بنی۔ ہم نے پانچ لاکھ لوگوں کے پاس جانے کا فیصلہ کیا کہ وہ ایک ایک ہزار دیں تاکہ یہ ادارہ قائم ہو سکے۔ پھر ہم نے ایک سلوگن بنایا کہ ایک اینٹ خریدو‘ ایک اینٹ کی قیمت ایک ہزار روپے ہے۔جو ایک ہزار روپے دے گا ہم اس کا نام وال آف فائونڈرز پر لکھ دیں گے۔کسی نے ایک ،کسی نے پانچ، کسی نے دس اینٹیں اور کسی نے سو اینٹیں خریدیں اور یوں پچاس کروڑ روپے ہمیں ایک سال کے اندر اکٹھے ہو گئے۔پورے منصوبے پر تقریباً سوا ارب روپیہ خرچ ہوا۔ ایک دھیلہ بھی حکومت سے نہیں لیا گیا۔وہاں شمالی وزیرستان کا بچہ بھی ہے‘ بگٹی قبیلے کا بھی ہے‘ تھر کا بھی ہے۔ملک کے ہر کونے سے بچے وہاں ہیں۔ہم نے نیوزی لینڈ سے پرنسپل ہائر کیا ۔ وہ گورا ہے۔ ہم جس طرح کا بندہ چاہتے تھے وہ ہمیں یہاں سے نہیں ملا۔ ہمیں ایک لیڈر چاہیے تھا جو پرنسپل کے طور پر کام کرے۔اتنا ہمارا معیار پر زور ہے۔آج کل وہ گورا نیوزی لینڈ چھٹیوں پر گیا ہوا ہے۔ اگست ستمبر تک عمار ت سو فیصد مکمل ہو جائے گی۔ اسی طرح کا ایک تعلیمی منصوبہ لڑکیوں کے لئے بھی ہے۔ چکوال میں یہ بھی اس سال جولائی اگست میں شروع ہو جائے گا۔ یہاں بھی لڑکیوں کو مفت تعلیم اور رہائش کی سہولت ہو گی۔ابھی یہ گفتگو چل رہی تھی کہ ایک ساتھی نے پنجاب آئی ٹی بورڈ کے سابق چیئرمین ڈاکٹر عمر سیف کا ٹویٹ پڑھ کر سنایا۔ ڈاکٹر عمر سیف نے لکھا تھا کہ ’’میں دو بچوں کا باپ ہوں اور ان کی تربیت کر رہا ہوں۔ میں چاہتا ہوں کہ آپ مجھے پاکستان کی ایسی شخصیت کا نام بتائیں جو میرے بچوں کیلئے رول ماڈل ہو اور جنہیں وہ فالو کر سکیں۔لیکن یہ شخصیت سیاستدان نہیں ہونی چاہیے‘‘۔اس ٹویٹ پر انہیں ہزاروں لائیکس ملے اور کمنٹس میں لوگوں نے بہت سے نام تجویز کئے۔ ان ناموں میں جو نام بار بار سب سے زیادہ شیئر کئے گئے وہ یہ تھے۔ قائداعظم‘ علامہ اقبال‘ عبدالستار ایدھی‘ ڈاکٹر عبدالقدیر‘حکیم سعید اور ڈاکٹر امجد ثاقب ۔حاضرین نے تالیاں بجا کر ڈاکٹر امجد ثاقب کو خراج تحسین پیش کیا۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Copied!