Pakistan Columns

All Columns (Urdu and English)Of Pakistan You Could Easily Read Here/

Soboon Ka Zanjeer Ya Sindh Card?

قارئین کرام، پاکستان کے بعض سیاستدانوں کی حب الوطنی پہ شک کیا جاسکتا اور انگشت نمائی بھی کی جاسکتی ہے، مگر خدا گواہ ہے، کہ جنرل محمدایوب خان کی دریافت، اور اُنہیں ڈیڈی کہنے والا، ذوالفقارعلی بھٹو شہید نہ صرف ملک سے مخلص تھا، بلکہ وہ امت کا بہترین سپوت تھا، جس کی حب الوطنی شک وشبے سے بالاتر تھی۔ غلطیاں ہرانسان اور ہرحکمران سے سرزد ہوتی ہیں، کیا مرحوم لیاقت علی خان شہید کے اس عمل پر مناظرے، مقالات، اور تحریریں نہیں لکھی جاتیں، کہ اپنے قرب میں واقع روس کی باربار پیشکشوں کے باوجود ہمارے اس وقت کے وزیراعظم نے امریکی غلامی کو کیوں پسند کیا ؟ہوسکتا ہے کہ اس ضمن میں لیاقت علی خان کے پاس بے شمار دلائل ہوں اور اس خاندان کے اخلاص ، اور پاکستان بن جانے کے بعد ان کے افلاس کا ذاتی گواہ ہوں، کیونکہ نواب لیاقت علی خان کے حقیقی بھتیجے نواب شہزاد علی خان ، نواب بہزادعلی خان، اور ان کی ہمشیرہ صاحبہ اور ان کے میاں جناب شہزاد قیصر جوکہ ڈی ایم جی گروپ کے افسر تھے جن کا گلبرگ اور میکلوڈ روڈ پہ لاہور کا مشہورترین علی گڑھ سکول تھا شاید اب بھی ہو۔ اور جن کی سب سے پہلے بطور اسسٹنٹ کمشنر تعیناتی ڈیرہ غازی خان میں ہوئی تھی، جنہیں میں وہاں خود لے کر گیا تھا مجھے اس بات کا بھی بخوبی پتہ ہے ، پاکستان بننے کے بعد انہوں نے بہت کچھ گنوایا ہے مگر بنایا کچھ نہیں، پبلک سروس کمیشن کے ساتھ انہوں نے اپنی محل نما کوٹھی اونے پونے بیچ دی، اور شیخوپورہ کی زمینیں بھی انہیں بادل نخواستہ آہستہ آہستہ بیچ دینی پڑیں، اور بھکر میں جو زمینیں انہیں الاٹ کی گئی تھیں۔ صاحب اختیار لوگ اس پر قابض ہوگئے چونکہ ہماری عدالتیں بدقسمتی سے پاکستان بن جانے کے بعد بھی آزاد نہیں ہوسکیں حتیٰ کہ میرا وہم ہے کہ اگر یہ موجودہ چیف جسٹس جناب آصف سعید کھوسہ کے دور میں آزاد نہ ہوئیں ، تو پھر شاید کبھی آزاد نہ ہوسکیں، اللہ کرے ایسا نہ ہو۔ بہرحال کروڑوں پاکستانی اس بات کو کیسے بھول جائیں کہ پاکستان کو ایٹمی ملک بنانے والا کوئی اور نہیں بلکہ ذوالفقار علی بھٹو شہید تھا، ان پہ کس قسم کا دباﺅ تھا، امریکی وزیر خارجہ کسینجر نے تو انہیں سرعام دھمکی دی تھی، کہ اگر تم باز نہ آئے تو تمہیں نشان عبرت بنادیا جائے گا، اور نجانے کتنے پاکستانی سیاستدانوں کو صفحہ ہستی سے مٹا دیا گیا، مگر بھٹو صاحب نے ان کا کسی قسم کا دباﺅ قبول کرنے سے انکار کردیا، ان کی اگر تعریف اور تعریف سننی ہو تو قارئین اگر آپ کی رسائی پاکستانی سائنسدان پاکستان کے قابل فخر سپوت عبدالقدیر خان سے ہو تو ان سے سن لیں۔ میری ان کی دوست پاکستانی فوج کے ایک ریٹائرڈ لیفٹیننٹ جنرل خالد لطیف مغل صاحب سے میل ملاقات اور نیازمندی ہے تو انہوں نے بھی اس دکھ کا اظہار کیا کہ ہمیں تو چاہیے تھا کہ ہم انہیں سرآنکھوں پہ بٹھاتے۔ اور ان کی صلاحیتوں اور اہلیتوں سے فائدہ اٹھاتے مگر کسی بھی کم فہم حکمران نے اس جانب اپنی توجہ ہی نہیں کی ، اور اس ضمن میں سب سے قابل مذمت کردار سابق جنرل مشرف نے ادا کیا تھا جیسے انہوں نے زبردستی بلکہ اپنے ادارے کی طاقت کا غلط استعمال کرکے سابق چیف جسٹس افتخار چودھری صاحب کے ساتھ کیا تھا، بعد کے عوامل کو زیربحث لائے بغیر ان کی اس وقت کی ہمت اور عظمت کو سلام کیے بغیر نہیں بنتی۔ قارئین میں دکھی دل سے ذوالفقار علی بھٹو شہید کے عزائم اور خیالات مومنانہ کی بات کررہا ہوں، جنہوں نے اسلامی تاریخ کا سب سے بڑا کارنامہ یہ کیا کہ انہوں نے لاہور میں تمام مسلم سربراہان کو اکٹھا کیا، یہ الگ بات ہے کہ اس اجلاس میں شریک بھٹو شہید سمیت اکثر سربراہان کو چن چن کر مروا دیا گیا۔ قارئین بات کا رخ بھٹو شہید کی حب الوطنی سے ہٹنے سے پہلے، ان کے خیالات کی عظمت کا ذکر اس طرح سے کرتے ہیں کہ کیا رسول پاک کی ختم نبوت پر ان کا بے مثال و بے نظیر کارنامہ ، جس پہ نہ صرف ان کو بلکہ دنیا بھر کے مسلمانوں کو فخر ہے کہ انہوں نے قادیانیوں کو غیر مسلم قرار دے کر اقلیت میں تبدیل کردیا، اور خود فرمایا کہ روز محشر میں اللہ تعالیٰ کو کہوں گا، کہ صرف میری یہی زادراہ ہے ہمارے خیال میں ان کی یہ راہ انہیں جنت الفردوس کے اونچے واعلیٰ مقام پہ فائز کرنے کے لیے کافی ہے۔ قارئین دور ایوب خان سے ایک سائنس دان ، جس پر الزام ہے کہ وہ قطعی طورپر غیر مسلم تھا، عبدالسلام ، جس کا ”سبجیکٹ فزکس“ تھا پاکستانی نیوکلیئر لیبارٹری کا روح رواں تھا، اس کے دور میں نیوکلیئر کے بارے میں ہونے والی ہراطلاع ”وکی لیکس“ کی مخبری سے بھی زیادہ تیزی سے باہر پہنچ جاتی تھی۔ ذوالفقار علی بھٹو شہید نے سب سے پہلے اسے نکالا، جسے کسی اور کونکالنے کی ہمت نہیں تھی۔ قارئین یہ بات انتہائی اہم ہے کہ مصدقہ اطلاعات کے مطابق، امریکہ میں ایک اسرائیلی کمپنی جو فصلوں اور سبزیوں کے بیج پوری دنیا سمیت پاکستان کو بھی سپلائی کرتی تھی، بلکہ ہمیں مفت وہ بیج ملتا تھا، قارئین آپ حیرت زدہ ہو جائیں گے کیونکہ اس بیج کے استعمال سے زمین بنجر ہوجاتی تھی۔ اور یہی یہودی مطمحنظر تھا، اور پھر اس کا دوسرا نقصان یہ تھا کہ زمین کو دوگنا بلکہ اس سے بھی زیادہ پانی دینا پڑتا تھا، پاکستانی زمین بنجر کرنے کا دوسرا گر یہ تھا، کہ انہوں نے پاکستانی حکومت کے ذہن میں سیم و تھور ختم کرنے کے لیے ”سفیدے“ کے درخت لگانے پر زور دیا، جن کا نقصان یہ ہے کہ وہ زمین سے پانی چوس کر اس کو بنجر بنادیتے ہیں، بھٹو شہید نے فوراً اس بیج پہ پابندی لگائی، کیونکہ اس کی وجہ سے زمینداروں اور حکومت کو ٹیوب ویلز لگانے پڑے۔ خدا ذوالفقار علی بھٹو کو کروٹ کروٹ جنت نصیب کرے، اس نے ہروہ کام کرنے میں ایک لمحہ تاخیر نہیں کی جو ملکی مفاد میں تھے کتنے افسوس کا مقام ہے کہ جو شخص مسلم امہ کا مستند رہنما تھا، جو مسلمان ملکوں کو متحد کرنا چاہتا تھا، بلکہ مسلمان ممالک کا علیحدہ بلاک بنانا چاہتا تھا، بعد کے پیپلزپارٹی کے نام نہاد رہنماﺅں نے ذوالفقار علی بھٹو کے خیالات وخواب کو چکنا چور کردیا، بھٹو شہید نے اپنی پارٹی کو چاروں صوبوں کی زنجیر کہا تھا، مگر چھوٹے ذہن کے چھوٹوں نے اسے ” سندھ کارڈ“ میں بدل دیا، بظاہر ” سندھ کھپے“ ایک دل خوش کن نعرہ ہے، جسے بروقت اور برمحل آصف علی زرداری نے بے نظیر بھٹو شہید کی شہادت پر لگوایا ہے، اس میں بھی کوئی شک ہی نہیں کہ پیپلزپارٹی کی حکومت کو کوئی مائی کا لعل گرا سکتا ہے، قارئین میں اکثر باتوں اور خیالات و نظریات پر پیپلزپارٹی سے اتفاق نہیں کرتا، مگر اس بات سے اتفاق کرتا ہوں، کہ اگر تمام تر کوششوں کے باوجود تحریک انصاف ”شرجیل میمن“ کا سابق جسٹس ثاقب نثار سمیت بال بیکا نہیں کرسکی، تو آصف علی زرداری کا کیا بگاڑے گی؟ میں اخلاقاً سابق اٹارنی جنرل عرفان قادر صاحب والا اشارہ کرتا کیونکہ محب وطن نہیں چاہے گا کہ اداروں کی اینٹ سے اینٹ بج جائے، اینٹیں تو تحریک انصاف نے ویسے ہی ”مہنگی “ کردی ہیں اس کا ایک ہی حل ہے بقول اقبالؒ

اے شیخ ،امیروں کو مسجد سے نکلوا دے

ہے ان کی نمازوں سے محراب ترش ابرو

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Copied!