Pakistan Columns

All Columns (Urdu and English)Of Pakistan You Could Easily Read Here/

Siasi Aur Ghair Siasi Patey Khan

سابق سینیٹر اور پیپلز پارٹی کے نمبردار فرحت اللہ بابر نے course correction کے عنوان سے ایک اینٹی سٹیٹ مضمون مقامی معاصر میں لکھا ہے، جس تک عام قاری کی رسائی بھی ممکن نہیں۔ اس مضمون میں انہوں نے یہ ثابت کرنے کی کوشش کی ہے کہ پاکستان کے سیکیورٹی ادارے دہشت گردی کا خاتمہ کرنے کی ہر کوشش کو ناکام بنادیتے ہیں اور پاکستان خاکم بدہن ایک دہشت گرد ملک بن کر رہ گیا ہے۔ انہوں نے اپنے اس استدلال کے حق میں وہی دلائل دیے ہیں جو بھارتی اور امریکی حکومت ایک عرصے سے دیتی آرہی ہے۔ امید کی جانی چاہیے کہ جلد ہی آپ کی یہ لاف و گزاف کسی بھارتی اخبار کی زینت بنے گی اور عین ممکن ہے کہ کسی اگلے کلبھوشن کی گرفتاری کے بعد کسی نام نہاد عدالت میں چلنے والے کیس میں آپ کا یہ مضمون پاکستان کے خلاف ایک دلیل بناکر پیش کیا جائے گا۔ جس طرح سابق وزیراعظم میاں نواز شریف کے ڈان لیکس کو بھارتی وکیلوں نے عالمی عدالت انصاف میں پاکستان کے خلاف بطور دلیل پیش کیا ہے۔
اس مضمون کی ٹائمنگ بڑی شاندار ہے۔ آپ جانتے ہیں کہ آج کل چین اور امریکا کی مولوی اظہر سعید کے معاملے میں ٹھن چکی ہے۔ بھارت سے زیادہ امریکا نے اس کیس کو اپنی پریسٹیج کا مسئلہ بنالیا ہے۔ اور اقوام متحدہ میں حالیہ چھترول کے بعد بھارت نے امریکا کو اچھا خاصا انگیخت کیا ہوا ہے، امریکا دوبارہ یہ کیس لے کر جارہا ہے جب کہ چین نے اس پر امریکا کو خبردار کیا ہے۔ مرے پر سو درے کہ بلاول اینڈ کمپنی کی طرف سے کرپشن کیسز پر پیشیوں کے بعد سے جو مسلسل ریاست پاکستان کے خلاف بھارت کے بیانیے کو زور شور سے آگے بڑھایا جارہا ہے۔ اس کے بعد تازہ خبر یہ ہے کہ آئی ایم ایف نے پاکستان سے کہا ہے کہ وہ ایف اے ٹی ایف سے کلیئرنس لے جس کے بعد ہی وہ پاکستان کو قرضہ دے سکتے ہیں۔
اب آپ کو سمجھ تو آگئی ہوگی کہ بلاول اینڈ کمپنی مسلسل دہشت گردی کے پٹے ہوئے موضوع کو کیوں اچھال رہی ہے، کوئی بھی سیاسی بلونگڑا اتنا بے وقوف نہیں ہوسکتا کہ وہ موجودہ حالات میں جب کہ پاکستان اور بھارت کے درمیان اتنی ٹینشن ہے کہ جنگ کی نوبت آتے آتے رہ گئی تھی، ان حالات میں ایسا بیان جو بلاول بھٹو زرداری نے دیا تھا کہ حکومت نے دہشت گردوں کو بھارتی ٖفضائیہ سے بچانے کے لیے حفاظتی حراست میں لیا ہے۔ اس نوعیت کا بیان اپنے ملک کی سیکیورٹی کو کمپرومائز کرنے کے سوا کیا معنی رکھتا ہے؟ یہ افواہ بھی سرگرم ہے کہ حسین حقانی نے بلاول کی امریکی ذمے داروں سے سیکرٹ ملاقات کرائی ہے اور پاکستان کے خلاف آج کل امریکی جو زبان بول رہے ہیں، وہ بھی آپ کے سامنے ہے۔
 میں آپ سے ایک بات اپنے صحافتی تجربے کی بنیاد پر کہہ رہا ہوں کہ پاکستان کے قریباً تمام اے کیٹگری کے سیاست دانوں کی سیاست کبھی ملکی مسائل یا پاکستانی عوام کو مطمئن رکھنے کی نہیں ہوتی، ان کا ایک ہی ساری زندگی مقصد اور مطمع نظر ہوتا ہے کہ حکومت سازی میں ممد و معاون قوتوں کا قرب حاصل رہے، وہ ملکی ہوں یا غیر ملکی۔ ہمارے پاس ماضی میں اپنے غیر ملکی آقائوں کے سامنے اپنے مقاصد کے حصول کے لیے گڑگڑانے کی درجنوں مثالیں موجود ہیں۔فرحت اللہ بابر اور ان جیسے دیگر سیاسی مافیاز کے ملازمین بے چارے کیا حیثیت رکھتے ہیں، انہیں ان کے مالکان اپنے بین الاقوامی مالکان کا ایجنڈا آگے بڑھانے کا حکم دیتے ہیں اور وہ روبوٹ کی طرح اپنے کام میں لگ جاتے ہیں، ان کی کوئی نظریاتی بنیاد تو ہوتی نہیں کہ ان کی باتوں کا نوٹس لیا جائے، البتہ ان کی حرکات و سکنات سے ان کے مالکان اور پھر ان کے مالکان کے آقائوں کے عزائم سمجھنے میں ضرور مدد ملتی ہے، اس سے زیادہ ان بے چاروں کی اوقات ہی کیا ہے۔
اب ہمارے لیے یہ کوئی اچنبھے کی بات نہیں رہی کہ یہ لوگ کس حد تک گرسکتے ہیں۔ اس لیے نہ تو حیرانی ہوتی ہے نہ ہی پریشانی، ہمارا ایمان ہے کہ لاکھوں قربانیوں کے بعد حاصل ہونے والی اس مملکت خداداد پاکستان کی حفاظت اللہ اپنے بندوں سے کرارہا ہے، وہ کسی بھی نام سے سامنے دکھائی دیں۔ کیا مریم نواز شریف یا میاں صاحب کے نظریاتی بیانیے کو دیکھتے ہوئے آپ یہ سوچ سکتے ہیں کہ اللہ نے ایٹمی دھماکوں کی ذمے داری بھی ان لوگوں سے پوری کرانی تھی؟

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Copied!