Pakistan Columns

All Columns (Urdu and English)Of Pakistan You Could Easily Read Here/

Sher e Maesoor Teepo Sultan

چار مئی ہمیںاُس غیرت مند اورعظیم مسلم حکمران شیر میسور ٹیپو سلطان کی یاد دلاتا ہے جس نے فرنگی کو طویل عرصہ تک ناکوں چنے چبوائے۔جنرل اسٹیورڈ اور جنر ل لانگ کے فوجی دستے اس کے آگے خس و خاشاک کی طرح بہہ گئے۔ٹیپوسلطان ایک عہد ساز حکمران اورعزم و استقلال کا پیکر تھا، اس کی تلوار کی گرج چمک سے تخت برطانیہ پرہمیشہ لرزہ طاری رہا۔ انگریز نے اس سپوت کوخریدنا چاہا تواس نے یہ پیشکش پائے حقارت سے ٹھکرا دی اورپوری زندگی دشمن کو اپنی سرزمین کی جانب نہ بڑھنے دیا،اورجب وہ اپنوں کی غداری کے نتیجے میں دشمن کے محاصرے میں آگیاتو ہتھیار ڈالنے کے بجائے مردانہ وار لڑتے ہوئے شہادت پائی ۔ فرنگی ایک ہی فن جانتا تھا کہ غداروں کو خرید کرہی ٹیپو جیسے وفاشعار وںکو شکست دی جا سکتی ہے۔ جنگ ِ پلاسی میں’کلائیو‘نے میر جعفرومیر قاسم کو خرید کر نواب سرا ج الدولہ کوبیدردی سے شہیدکر کے اس کی سلطنت پر قبضہ کیا اوربعد میں ٹیپو سلطان کو میر صادق جیسے غدارکی مددسے شکست دی۔
جرات اور استقامت کے اس امام نے انگریز کے تین بڑے حملے پسپا کیے ۔ میسور کی چوتھی لڑائی میں جب سلطان کی شکست یقینی تھی ایک افسر نے اسے بھاگ جانے کا مشورہ دیا لیکن میسور کے شیر نے ایسی زندگی پر موت کو ترجیح دی ۔اس موقع پر اس نے تاریخی جملہ کہا تھاکہ:” شیر کی ایک دن کی زندگی گیدڑ کی سو سالہ زندگی سے بہتر ہے“ ۔ سلطان جب چاروں طرف سے گھرچکا تو اس نے سرنگا پٹم قلعہ میں مورچہ بند ہو کر کئی روز تک انگریزوں کا مقابلہ کیا ،آخر کارانگریز جن غداروں کی مدد سے قلعہ میں داخل ہو ا تاریخ میں ان کے نام میر صادق ، پورنیاں،غلام علی اور بدر الزمان ملتے ہیں ۔شیر میسور نے دوبدو لڑتے ہوئے کئی انگریزوں کو جہنم واصل کرنے کے بعد سرنگاپٹم قلعہ کے دروازے پر مورخہ چار مئی 1799ءکو49سال کی عمر میں جام شہادت نوش کیا ۔دوسرے دن سلطان کے وفادارسپاہی احمد خان نے ملت اسلامیہ کے غدار میر صادق کو بھی واصل جہنم کردیا۔
جس وقت سرنگا پٹم کے قلعہ سے ہزاروں مسلمانوں نے سلطان کاجنازہ اٹھایا پوری ریاست میسور پر غم و اندوہ کے بادل چھا گئے۔ جنازے کے ساتھ ساتھ چلتے ہوئے غیر مسلم بھی افسردہ تھے کہ آج ان کا عادل حکمران سفر آخرت پر روانہ تھا۔ اس دن ابر بھی ٹوٹ کر برسا تھا جیسے وہ بھی سلطان کی موت پر رٍو رہا ہو۔ قلعہ میں موجود ٹیپو کے پچاس پالتوشیر بھی دھاڑیں ماررہے تھے اور اس کے جنگی گھوڑے ہنہنا رہے تھے۔انگریز نے ٹیپو کا جسد خاکی دیکھا تو واشگاف نعرہ لگایا کہ” آج سے ہندوستا ن ہمارا ہے“ ۔کہاجاتا ہے کہ اگر سلطان کو شکست نہ ہوتی تو آج اس خطے کی تاریخ مختلف ہوتی۔ٹیپو کے حوالے سے دانش وروں ا ور مورخین کا موقف ہے کہ ایسا بہادر اورجری حکمران برصغیر کی تاریخ نے نہیں دیکھا۔ بلاشبہ یہ ٹیپو کے خون کی برکت تھی کہ اس کے بعدبھی انگریز کے خلاف جدو جہد جاری رہی اورحاجی امداد اللہ مہاجر مکیؒ،شیخ الہندؒ،رحمت اللہ کیرانویؒ،فضل حق خیر آبادیؒ،رائے احمد خان کھرلؒ،مولوی احمد اللہ شاہؒ،مراد فتیانہؒ،جنرل بخت خانؒ ،شبیر علی شاہ ؒ،گلزار علی شاہؒ،سید احمد شہیدؒ،مولوی عنایت علی شاہؒ،سمیت اس کے لاتعداد جانثاروںنے انگریز کے خلاف علم بغاوت بلند رکھا۔ ٹیپو کے متوالوں نے جنگ آزادی1857ءبھی لڑی اور قوم کو انگریز سے نفرت کا درس دیا۔
ٹیپو سلطان 20مئی 1750ءکو ریاست میسور کے حکمران حیدر علی کے گھر پیدا ہوا۔اس کا نام ایک بزرگ’ ٹیپو مستان‘ کے نام پررکھا گیا۔ٹیپوکا پورانام ’فتح علی ٹیپوسلطان‘ تھا۔فتح علی انہیں اپنے دادا فتح محمد کی نسبت سے پکارا جاتا ہے۔ٹیپو کے والد حیدرعلی نے کئی دہائیوں تک جنوبی ہندمیں انگریزکو نہ گھسنے دیا ۔حیدر علی نے ٹیپو کی تعلیم وتربیت پر خاص توجہ دی اور فوج ، سیاسی و سفارتی امور اور عربی، فارسی، اردو، فرانسیسی، انگریزی سمیت بہت سی زبانوں پراسے مہارت دلوائی۔ ٹیپو نے والد کی وفات کے بعد 1782ءمیں ریاست میسور کی حکمرانی سنبھالی اور 17سال تک حکمران رہا۔ سلطان اپنے زمانے کے تمام فنون سپہ گری سے واقف تھا۔ اس نے اپنی پیدل فوج کو سواروں اور توپ خانوں کے ذریعے جدت عطا کی۔ ٹیپو سلطان جب تخت نشین ہوا پہلے خطاب میں کہا: جب تک میں زندہ رہوں گا میری سانسیں عوام کی خدمت کے لیے وقف ہیں۔خدا کی قسم میں دنیا کی کسی بھی طاقت سے نہیں ڈرتا ، اگر کسی شئے سے ڈرتا ہوں تو وہ فقط رب ذ والجلال کی ذات ہے“ ۔ٹیپونے ریاست میسور کا نام بدل کر ”سلطنت خدادا د“رکھا۔اس دن سلطان نے اعلان کیا تھا کہ میری سلطنت میں کوئی بھوکا نہیں سوئے گا، کسی کا حق نہیں مارا جا ئے گا۔ہر فریادی کے لیے محل کے دروازے کھلے رہیں گے۔ریاست میسور ایک مثالی ریاست تھی ۔ بلاتخصیص رنگ ،نسل اور مذہب بوڑھوں ، بیواﺅں اور بیماروں تک ماہانہ وظیفہ پہنچتا۔ ہندوﺅں اور دیگر غیر مسلموں کو تمام مذہبی و سماجی حقوق ان کی دہلیز پر میسر تھے۔ ٹیپو ہر وقت باوضو رہتا،تلاوت قرآن اس کا معمول تھا ۔ظاہری حاکمانہ نمودو نمائش میں اسے دلچسپی نہ تھی۔ زمین پر کھدر بچھا کر سویا کرتا۔ اسے موت سے محبت تھی ، وہ کہتاکہ ایک مومن کبھی موت سے نہیں ڈرتا۔ وہ گناہوں ، فحش کاموں اور بدکاری سے سخت نفرت کرتا۔ اپنا جسم ہمیشہ ڈھانپ کر رکھتا،اس نے نہ صرف مسلمانوں بلکہ غیر مسلم خواتین کی عزت اور آبرو کی بھی حفاظت کی۔ سلطان نے سرنگا پٹم میں خوبصورت مسجد بنوائی اور اعلان کیا کہ مسجد کا افتتاح وہ شخص کرے گا جس نے زندگی بھر نماز قضا نہ کی ہو ۔کافی دیر تک کوئی بھی شخص آگے نہ آیا تو سلطان خود اٹھ کر آگے بڑھااور کہا ” خدا کا شکر ہے میری آج تک کوئی نماز قضا نہیں ہوئی “۔
ٹیپو کی شہادت کے بعد انگریزوں نے ریاست میں لوٹ مار کا بازار گرم کیا۔ سرنگا پٹم قلعے میں موجود سلطان کا خزانہ ایک میدان میں جمع کیا گیا تو فرنگیوں کی آنکھیں پھٹی رہ گئیں۔ٹیپو کی تلواریں،خنجر اور نیزے قیمتی یاقوت او ر ہیروں سے مرصع تھے۔ سلطان کی نایاب تلوار جنرل لارڈزولز کو دی گئی،دوسری تلوار جنرل بیرڈ کواور تیسری تلوار جنرل لارڈ کارنیلیئس کو انگلستان بھیجی گئی۔ جنرل ہارس کے حصے میں ایک لاکھ بیالیس ہزار نو سو اشرفیاں آئیں۔باقی ہیرے جواہرات انگریز فوج کے کمانڈر انچیف جنرل لارڈ ہیرس کو بھیجے گئے۔سلطان کا وہ بے مثال تخت جو سونے کے چار شیروں کی پشت پر کھڑا تھا اس کے ٹکڑے کر کے فوجی ا فسروں میں تقسیم کر دیا گیا۔برٹش میوزیم میں ٹیپو سلطان کی تلواریں آج بھی محفوظ ہیں ۔ صحافی اعجاز شیخ لکھتے ہیں کہ:”میں لندن میں واقع میوزیم میں گیا اورگیٹ پر کھڑے ایک انگریز سے ٹیپو کی تلوار دیکھنے کی خواہش کی تو اس نے کہا ©:”You Mean Great Soldier“کیا آپ اس عظیم سپاہی کے متعلق پوچھ رہے ہو؟۔انگریز کی جانب سے اپنے سب سے بڑے دشمن کو یوں خراج تحسین پیش کرنا دلیل ہے کہ ٹیپو کی شجاعت آج بھی اس کے دل میں بیٹھی ہوئی ہے “۔انگریز آج بھی ا پنے اس بہادر دشمن پر ناز کرتا ہے ۔بس مسلمانوں نے اپنے اس عظیم ہیروکو فراموش کردیا ہے ۔ٹیپوکے بعد انگریز نے جس طرح اس خطے پر اپنے قدم جمائے ہم آج بھی اس کے خطرناک اثرات بھگت رہے ہیں۔ آج بھی ملت اسلامیہ میں نہ جانے کتنے ہی میر جعفر ، میر صادق،غلام علی اور بدر الزمان چھپے ہوئے ہیں جواسے مسلسل نقصان پہنچا رہے ہیں۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Copied!