Pakistan Columns

All Columns (Urdu and English)Of Pakistan You Could Easily Read Here/

Sharifo Keliey Paigham

“متحدہ” اپوزیشن کی چائے کی پیالی میں طوفان برپا ہے۔ ہم دیکھتے ہیں کہ اس طوفان میں سے کبھی پیپلز پارٹی کے نمائندے نکلتے ہیں چیخ و پکار کرتے اور گم ہو جاتے ہیں۔ کبھی فضل الرحمان نکلتے ہیں اسلام آباد سے دوری کے غم کا رونا روتے ہیں چلے جاتے ہیں۔ کبھی اے این پی والے آتے ہیں غصہ نکالتے ہیں اور گم ہو جاتے ہیں۔کبھی نواز شریف کی جماعت کے نمائندے آتے ہیں چیخ و پکار کرتے ہیں، عوام کو گمراہ کرنے کی کوشش کرتے ہیں چلے جاتے ہیں۔ پہلے انہوں نے حکومت کرنے اور خزانہ لوٹنے کی باریاں لگائی ہوئی تھیں اب باری باری رونے دھونے کے سیشن کرتے ہیں۔ ہم حیران ہوتے ہیں کہ چائے کی پیالی میں طوفان کیوں ہے، اسکی وجہ کیا ہے۔ کچھ لمحوں کے لیے پیالی اٹھاتے اور دیکھتے ہیں کہ نیچے تو زلزلہ ہے، بڑی شدت کا زلزلہ ہے۔ ایسا زلزلہ کہ پورے نظام کے درودیوار ہل رہے ہیں، “سٹیسٹس کو” کی عمارتیں ادھر ادھر جھولتی نظر آ رہی ہیں۔ دہائیوں سے ملک پر حکمرانی کرنے والا کرپٹ ٹولہ ہاتھ پاؤں مار رہا ہے۔ اندرونی اور بیرونی طور پر کوششیں کر رہا ہے، کبھی چیخ و پکار کرتے ہیں، کبھی درخواست کرتے ہیں، کبھی سفارش کرواتے ہیں، کبھی الجھا کر اپنا کام سلجھانے کی کوشش کرتے ہیں لیکن کوئی راستہ نہیں ملتا۔ پھر ہمیں سمجھ آتی ہے کہ چائے کی پیالی میں طوفان کیوں برپا ہے۔ اس طوفان کی وجہ وہ زلزلہ ہے جس نے سب کو بھاگنے پر مجبور کر دیا ہے۔ عمران خان کی سونامی نے ان لٹیروں کو حکومت سے باہر نکالا تھا اب “زلزلہ عمرانی” ان لٹیروں کو نیست و نابود کر دے گا۔ ملک کو نام نہاد قائدین اور خزانہ لوٹنے والوں سے نجات دلائے گا۔اس زلزلے نے بلند و بالا عمارتوں میں رہنے والے نام نہاد سیاسی قائدین کو ہلا کر رکھ دیا ہے۔ یہ زلزلے کی شدت کو دیکھتے ہوئے ادھر سے اْدھر، یہاں سے وہاں بھاگ رہے ہیں لیکن ہر خارجی دروازے پر عمران خان سینہ تانے کھڑا ہے اور ملک لوٹنے والوں کو ایک ہی پیغام دے رہا ہے کہ میری بائیس سال کی سیاسی جدوجہد کا مقصد ملک کو لٹیروں سے آزاد کروانا ہے، مافیا سے نجات دلانا ہے، میں حکومت میں کاروبار کرنے پیسہ بنانے نہیں آیا، میں اپنی قوم کو عظیم قوم بنانے آیا ہوں، تم نے میری قوم کو تباہ کیا ہے۔ میں تمہیں نہیں چھوڑوں گا۔ mاب عوام کو بھی یہ سمجھ جانا چاہیے کہ مختلف سیاسی جماعتوں کے نمائندے جب میڈیا پر اپنے خیالات کا اظہار کرتے ہیں، حکومت پر تنقید کرتے ہیں، اپنی بھڑاس نکالتے ہیں تو اسکی وجہ ملک و قوم کا درد نہیں ہے۔ اسکی وجہ انکا اپنا مالی نقصان ہے، اسکی وجہ ذاتی مفادات ہیں، اسکی وجہ ذاتی کاروبار ہیں، اسکی وجہ شاہانہ طرز زندگی ہے، اسکی وجہ حکومت کا چھن جانا ہے، اسکی وجہ سرکتی زمین اور گرتا آسمان ہے۔ انہیں عوام کا درد ہوتا تو ملک کو اربوں ڈالر قرضوں میں دباتے۔ انکے کاروبار فائدے میں رہے اور ملک پر قرضوں کا بوجھ بڑھتا رہا۔ ہماری رائے میں ملک لوٹنے والوں کے لیے پاکستان تحریک انصاف نے واضح پیغام دیا ہے اور اب تک مضبوطی کے ساتھ اس پیغام پر قائم ہے کہ ملک لوٹنے والوں کو محفوظ راستہ نہیں دیا جائے گا۔ میاں نواز شریف کی قیام گاہ جیل ہے۔ سپریم کورٹ سے ضمانت میں توسیع اور بیرون ملک علاج کی درخواستیں مسترد ہونے کے بعد انہیں اپنے اصل ٹھکانے پر جانا ہے۔ وہ ٹھکانا جہاں مستقبل میں ہر ملک لوٹنے والے کو جانا ہو گا۔ کسی کو رعایت نہیں مل سکتی۔ پورے ملک اور نظام کو بیمار کرنے کے بعد بیرون ملک علاج کے لیے بھاگنے والوں کو اس وقت علاج کی ضرورت کیوں محسوس نہ ہوئی جب بیدردی سے ملک کو لوٹ رہے تھے۔ عمران خان انکی بیماریوں کا علاج بھی کرے گا اور جو بیماریاں انکے کرپٹ دور حکومتوں میں پھیلی ہیں ان کا علاج بھی کرے گا۔ آنے والے دن شریفوں کے لیے مزید سختی کا سامان کریں گے۔ یہ بھاگنے کی کوشش کریں گے لیکن راستہ نہیں ملے گا۔ شہباز شریف اگر یہ سمجھتے ہیں کہ وہ درمیانہ راستہ نکال لیں گے تو یہ انکی بھول ہے۔ انہیں بھی احتساب کے عمل سے گذرنا ہے، کیسوں کا سامنا کرنا ہے اور قوم کو پتہ چلے گا کہ حقیقت میں انہوں نے کس طرح ملکی سرمائے کو ذاتی مفادات کے لیے استعمال کیا ہے۔ آنے والے دنوں میں حمزہ شہباز شریف بھی اپنے تایا کے ہمسائے بن جائیں گے۔ اس مرتبہ کوئی این آر او نہیں ہو گا۔ تمام حربے ناکام ہوتے دیکھ کر انیس سو ننانوے کی طرح “شریفوں” نے ایک مرتبہ پھر پارٹی قیادت کو ہومیوپیتھک سیاست دانوں کے سپرد کرنے کا عمل شروع کیا ہے تاکہ مشکل وقت گذرنے کے بعد دوبارہ بادشاہ بن کر بیٹھ جائیں۔ یاد رکھیں یہ انیس سو نوے، ننانوے یا دوہزار سات نہیں ہے۔ اب واپسی کا راستہ نہیں ملنا۔ البتہ حقیقی شرفاء  کے لیے پاکستان تحریک انصاف اور عمران خان کا دل اور دروازے کھلے ہیں وہ شریف جو ملک کی خدمت کرنا چاہتے ہیں, وہ شریف جو قوم کو ترقی کے راستے پر ڈالنا چاہتے ہیں,وہ شریف جو سیاست کو خدمت سمجھ کر کرنا چاہتے ہیں,وہ شریف جو قوم کا درد رکھتے ہیں,وہ شریف جو انیوالی نسلوں کے لیے، نئے اور ایک پاکستان کے لیے وزیراعظم کی طرح اپنا تن من دھن قربان کرنے کا جذبہ رکھتے ہیں اب یہ ملک اور مستقبل بھی ان کا ہے۔ کیونکہ اب ذاتی فیکٹریاں نہیں قوم کی تعمیر وترقی پر نسلوں کو سنوارنے کے منصوبوں پر کام ہونا ہے۔ مہمند ڈیم کا سنگ بنیاد رکھ کر عمران خان نے ایک مرتبہ پھر واضح کر دیا ہے کہ اب ان ترقیاتی منصوبوں پر کام ہو گا جس سے آنیوالی نسلیں بھی فائدہ اٹھائیں گی اب آئندہ الیکشن کو ہدف بنا کر ترقی کے نام پر ملک کو مقروض نہیں کیا جائے گا۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Copied!