Pakistan Columns

All Columns (Urdu and English)Of Pakistan You Could Easily Read Here/

Sara Bahar Aur Shah Mahmood Qureshi Yaar

یہ بات سوفی صد درست ہے کہ پشاور سے کراچی تک حکمران اور عوام پیرپرست ہیں، آصف زرداری، اپنے پیر سمیت ایوان صدر میں رہے تھے، اور ان کے حکم کے مطابق اندرونی یا بیرونی دورے کرتے تھے، جنرل مشرف تو چونکہ خود سید خاندان سے تعلق رکھتے تھے، اور آسانی سے دعویٰ دستگیری کرسکتے تھے، مگر چونکہ ان کے شب وروزکے مشاغل عتیقہ اوڈھو جیسے تھے، بلکہ ان کا رقص شنواری اور دوستوں، رشتے داروں کے منگنی، شادی اور بیاہ پہ شراب بھرا سر پہ جام وسبو رکھ کر ٹھمکہ انجمن وصائمہ ، صبح صادق تک لگانا بائیں ہاتھ کا کام ہے …. بلکہ وہ اس میں اتنے مشاق ہیں، کہ وہ عدالت عظمیٰ کے خوف سے خوا مخواہ اجتناب برت رہے ہیں، ورنہ تو بیرون ملکوں ، لیکچرز دینے سے زیادہ وہ شغل خسروانہ سے کما سکتے ہیں ان پہ الزامات کی بھرمار ، میں ایک پُکاریہ بھی سنائی دیتی ہے کہ تحریک انصاف کی کابینہ تو جنرل مشرف والی کابینہ ہے، اگر وہ اس حکومت کے ہوتے ہوئے، پاکستان نہیں آتے، تو پھر اُن کا وطن آنا خاصا مشکل ہے۔ اور ان کی مشکلات میں اضافہ کرنے والے کوئی اور نہیں، آصف سعید کھوسہ ہیں، کیونکہ اب تک آئے ہوئے باقی چیف جسٹس سے بالکل مختلف ہیں گو ان کا دورانیہ بالکل مختصر ہے، تاہم قوم یہی توقع لگائے ہوئے ہے کہ وہ واقعی کچھ ضروری فیصلہ جات کرکے جائیں گے، جس کا قوم کو انتظار ہے ، کیونکہ نہ تو وہ خود نوٹس لیتے ہیں، اور نہ ہی دوران سماعت کوئی ضروری بلکہ مشکوک بیان بازی اور ”ریمارکس“ دے کر عوام میں ہیجان خیزی کا باعث بنتے ہیں، ہمیں تو یوں دکھائی دیتا ہے، کہ مقدمات کے فیصلے کے لیے کم سے کم مدت کو معین کرکے جانا چاہتے ہیں، اور یہی وہ حسرت ہے جو کروڑوں عوام دلوں میں لیے بیٹھے ہیں، اور عمران خان کا بوقت کنٹینر اور اس کے بعد یہ بیان دینا، کہ کھوسہ صاحب نے انہیں کہا تھا، کہ دھرنے دینے کی بجائے میری عدالت میں مسئلہ پیش کرنا اور وقت بھی بتا دیا تھا ….تو پھر نجانے گلہ کس سے بنتا ہے؟ شاید عوام کی قسمت سے، قارئین اِس موضوع پر تو بات ہوتی رہے گی۔ فی الحال پیرسید شاہ محمود قریشی صاحب کی بات کرلیتے ہیں، پوری تحریک انصاف کی کابینہ میں وہ سب سے زیادہ بہتر، محنتی اور اپنے عہدے کی مناسبت کے مطابق اہلیت رکھتے ہیں، جس طرح آئی ایس پی آر کے میجر جنرل آصف غفور اپنے منصب سے ہمیشہ انصاف کرتے نظر رکھتے ہیں، بھارت کے ساتھ حالیہ کشیدگی جس نے جھڑپ کی شکل اختیار کرلی تھی، ان دونوں شخصیات کی وجہ سے ہی عالمی سطح پہ کامیابی ملی، اس میں کوئی شک نہیں کہشاہ محمود قریشی نے فوراً ہندوستان کی سازش کو بڑے منظم اور کامیاب حکمت عملی سے ناکام ونامراد بنادیا، اب انہوں نے جو بہترین سفارتکاری کا مظاہرہ کرتے ہوئے ہندوستانی جارحیت کو دنیا کے سامنے بے نقاب کردیا ہے کہ اپریل کی آخری تاریخوں میں بھارت کی طرف سے جارحیت کا اشد خطرہ ہے، اور سب سے بڑھ کر یہ کہ انہوں نے سلامتی کونسل کے پانچوں ممبران سے نہ صرف خود بات کی ہے بلکہ تحریری طورپر بھی وہ یہ بات ان کے علم میں لائے ہیں۔ بیرونی ممالک سے پاکستان کو جو امداد ملی یا اس کا وعدہ کیا گیا ہے، وہ محض قریشیصاحب اور قمرجاوید باجوہ کی کوششوں کا مرہون منت ہے اس حوالے سے چین، متحدہ عرب امارات ، سعودی عرب وغیرہ تو جنرل باجوہ سے مخصوص ہمدردی اور پیاررکھتے ہیں، اور ان سے بوقت ملاقات جو ملاکانہ مسکراہٹ ان کے لبوں پہ پھیل جاتی ہے، اس کے پردے کے پیچھے کچھ ”مفاد مومتانہ “چغلی کھاتے نظر آرہے ہوتے ہیں اور پھر ضرورت کے وہ ضرب المثل کی خوبصورت مثال بنے ہوتے ہیں۔ اس کی وجہ صرف اور صرف روش سابقہ پہ عمل پیرا ہونے کی بجائے جدیدیت کا لبادہ اوڑھنے میں تیتر ، بٹیر بن جانے کی غلطی کر بیٹھنا ہے، مگر اگر روح بیدار اور فطرت معصوم ہو تو انسان بہت جلد اپنی غلطی تسلیم کرلیتا ہے، کیونکہ معصومیت میں منافقت نہیں ہوتی، اگر ہمارے چیف آف آرمی سٹاف قمر جاوید باجوہ تو ضرور اپنی اس حقیقت سے آشنا ہوں گے کہ بظاہر اور قدرے عملاً وہ ان کی ضرورت ہیں کیونکہ وہ شاید نااہلی کی بنیاد پہ وہ ریشہ دوانیاں کو اتنا وسیع کرچکے ہیں کہ اب اس کو پاٹنا یا اس کو سمیٹنے میں شاید دہائیاں درکار ہیں، اور وزیراعظم عمران خان کی دادودہش کے پیچھے بھی یہی مصلحت بروئے کار ہوتی ہے، اگلی دفعہ میں ان شاءاللہ اس موضوع پہ تفصیل سے لکھوں گا، تاکہ امت مسلمہ کو اس عاجلانہ روش کو آشکارکرسکوں، اگر ذرہ برابر بھی عقل ہوتی تو واقعہ خاشمقی وقوع پذیر نہ ہوتا، قارئین اس مثال سے شاید آپ کا دریچہ دل واہوگیا ہو اس حوالے سے پاکستان کا مو¿قف چونکہ عسکری، اور سیاسی قیادت مل کر کرتی ہے اس میں غلطی کا شائبہ کم ہے۔ عمران خان کی کابینہ میں شاہ محمود قریشی ہی ایسی شخصیت ہیں کہ بلاواسطہ وزیر اطلاعات کی ذمہ داری بھی لیے ہوئے ہیں، اور وزارت داخلہ کی باریکیاں سمیت وزیر خزانہ کو بھی بچانا، انہوں نے اپنی ذمہ داری سمجھ لی ہے، حتیٰ کہ وزیراعظم کے بیانات کی تشریحات کرنا بھی انہوں نے اپنا شعار بنالیا ہے، اپنی وزارت کے سابقہ تجربات کے علاوہ اس حقیقت سے بھی انکار نہیں کیاجاسکتا کہ تحریک انصاف میں یہ واحد شخصیت ہیں، جنہوں نے اپنا ”ہوم ورک“ مکمل کیا ہوتا ہے۔ اصل مسئلہ یہ ہے کہ اسد عمر، فیصل واوڈاجیسے وزیروں کی خامیوں کو دیکھتے ہوئے یہ کہا جاتا ہے کہ ان جیسوں کی وجہ سے شاہ محمود قریشی کی صلاحیتیں بھی گہنائی نظر آتی ہے، حالانکہ بیرون ملک سوائے شاہ محمود قریشی کے دنیا بھر میں کسی بھی وزیر کو کوئی نہیں جانتا، اور وزیراعظم بھی جانتے ہیں کہ ان کے کندھوں پہ بڑا سارا بھار ان کا یہ یار اٹھائے گا مگر اگر عمران خان بقول اقبالؒ یہ کہہ دیں

میں تو اس کی عاقبت بینی کا کچھ قائل نہیں

جس نے افرنگی سیاست کو کیا یوں بے حجاب


Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Copied!