Pakistan Columns

All Columns (Urdu and English)Of Pakistan You Could Easily Read Here/

Sangeen Challengs Paida Karny Wala Zahni Khalaf Shaar

آج سیاسی جماعتوں اورحکمرانوں میں شدید نوعیت کاذہنی خلفشارپایاجاتاہے جس کے باعث پہاڑ جیسے مسائل سراُٹھا رہے ہیں۔عمران خاں دیکھنے میںوزیراعظم ہیں‘ مگراپنی پریشاں خیالی اورناتجربے کاری سے حکمرانی کا استحقاق تیزی سے کھوتے جارہے ہیں۔ انہوں نے جوخواب دیکھے اورپاکستان کے فریب خوردہ عوام کو دکھائے تھے‘ وہ یکے بعد دیگرے چکنا چورہوتے جارہے ہیں۔ اُن کی مردم شناسی کے بڑے بڑے دعوے غلط ثابت ہوئے۔ انہیں فی البدیہہ تقریر کرنے کاجو زعم تھا‘ اس نے ایران کے دورے کے موقع پر جو گل کھلائے ہیں‘ اُس کے مضحکہ خیز چرچے غیرملکی اخبارات اورنشریاتی اداروں میں ہورہے ہیں۔ اُنہوں نے دریا کی سی روانی میں یہ فرمایا کہ جرمنی اورجاپان جنہوں نے دو جنگوں میںایک دوسرے کے لاکھوں افراد موت کے گھاٹ اُتار دئیے تھے‘ دوسری جنگ عظیم کے بعد اُنہوں نے اپنی مشترکہ سرحدوں پر صنعتی زون قائم کیے۔ ان ’انکشافات‘پرلوگ حیران رہ گئے کہ یہ دونوں ملک تو دونوں عظیم جنگوں میں ایک دوسرے کے حلیف رہے تھے اور ان کی سرحدیں بھی اس لئے نہیں مل سکتیں کہ دونوں ممالک دو علیحدہ براعظموں میں واقع ہیں۔ جناب عمران خان کے پرستاروں نے اس بیان پر کہاکہ خاں صاحب کی زبان لڑکھڑا گئی تھی‘ مگر سوشل میڈیا میں خاں صاحب کاایک اورکلپ دکھایاگیا جس میں انہوں نے ایک دوسرے موقع پر بھی بالکل یہی الفاظ ادا کیے تھے۔یہ زبان اس وقت لڑکھڑاتی ہے جب ذہن میں انتشار اورسوچ میں اُلجھاﺅ پایاجاتاہو۔ اِس اُلجھاﺅ کابرملا اظہار جناب وزیراعظم نے اس وقت کیا جب وہ بلاول زرداری بھٹوکو ’صاحبہ“ کہہ گئے۔ بدقسمتی سے ہماری سیاست میں جوغیرسنجیدگی اورمسخرا پن غالب آنے لگا ہے‘ وہ ہماری قومی زندگی کوایک انتہائی سنگین چیلنج سے دو چار کرتا جارہاہے۔
اِسی ذہنی افراتفری نے ملکی معیشت کے لئے خوف ناک مسائل پیداکردئیے ہیں۔ معیشت کاپہیہ رُک گیاہے‘ محاصل میں پانچ سو ارب روپے کی کمی کاخدشہ ہے جس کے باعث دفاعی اخراجات پردباﺅ بڑھتا جارہاہے اور عوام بے یقینی‘ مہنگائی اوربے روزگاری کی چکی میں پس رہے ہیں۔ اعلیٰ تعلیمی ادارے جن کے ذریعے معاشرہ توانائی اور افکار کی تازگی حاصل کرتاہے‘ اُن کی گرانٹ میں پچاس فیصد تخفیف کردی گئی ہے۔ عام تاثر یہی اُبھرتا جارہا ہے کہ حکومت میں بعض ایسے کم علم اورکم ظرف لوگ آگئے ہیں جو ریاست کے اُمورچلانے کاتجربہ رکھتے ہیں نہ عوام کو زندگی کی بنیادی سہولتیں فراہم کرنے کی صلاحیت۔ اِن حالات میں مستقبل کے روشن ہونے کی امیدیں دم توڑنے لگی ہیں اوراچھے انسانی اوصاف کی شمعیں بجھ جانے سے اندھیرا پھیلتا جارہاہے۔ سب سے بڑا حادثہ وفاقی کابینہ میں ڈرامائی ردوبدل سے رونما ہوا۔ وزیرخزانہ اسدعمر کو وزارت سے علیحدگی کی خبر بہت دیر سے موصول ہوئی جبکہ چند روز پہلے چار صحافی اُن کی برطرفی کی خبرپورے اعتماد کے ساتھ پھیلا رہے تھے۔ اس تبدیلی سے وفاکے رشتے کمزور پڑ گئے ہیں اوراُن کی جگہ جوافراد منتخب کیے گئے ہیں‘اُن کی اہلیت اور ذہانت پربڑے بڑے سوال اُٹھائے جارہے ہیں۔ یہ ایک ایسی حکومت کے طورپر قائم ہے جس سے غریب لوگ بھی ناخوش ہیں اورامیرطبقہ بھی۔
کہتے ہیں کہ جس وقت ہلاکو خاں بغداد میں مسلمانوں کی لاشوں کے میناربنارہا تھا‘ تو بعض علما کے مابین یہ مناظرہ جاری تھا کہ کوّا حلال ہے یا حرام۔ یہی سب کچھ آج پاکستان میں وقوع پذیر ہورہاہے۔ اِس آن جب عوام کے مسائل نہایت گھمبیر ہوچکے ہیں‘ قومی سلامتی کو ہولناک چیلنجز درپیش ہیں اورپورا نظام حکومت شدید ابتری سے دوچار ہے‘ تو پس پردہ طاقتوںنے ’اسلامی صدارتی نظام‘ کی بحث چھڑ دی ہے۔ پارلیمانی نظام کی تباہ کاریوں اورصدارتی نظام کے فیوض وبرکات کے بارے میں فصاحت وبلاغت کے دریابہائے جارہے ہیں۔ ہمارے آج کے بقراط یہ ثابت کرنے پرتُلے ہوئے ہیں کہ ہماری زیادہ تر مشکلات پارلیمانی طرزِ حکومت کی پیداکردہ ہیں جس میں اربابِ حکومت کو قدم قدم پرارکانِ پارلیمان کی حمایت حاصل کرنے کے لئے سمجھوتے اورمیرٹ پرسودے کرناپڑتے ہیں۔ اس نااہلی‘ بدانتظامی اوربدعنوانی کی جڑیں گہری ہوتی جاتی ہیں اور کوئی بڑا کارنامہ سرانجام دیناتقریباً ناممکن ہو گا ۔ ہماری خوش نصیبی ملاحظہ کیجئے کہ پارلیمانی نظام کے حق میں شیخ رشید احمد میدان میں اُترے ہیں۔
اِس ذہنی کھینچا تانی میں لوگوں کویہ ادراک نہیں ہوپارہا کہ ملک میں نصف صدارتی نظام تو نافذ ہو چکا ہے۔ پارلیمانی نظام کے اندر صدارتی نظام نے اپنے پنجے گاڑ دیے ہیں اورگاڑتا چلا جارہاہے۔ وزیراعظم عمران خاں کی کابینہ میں سترہ کے لگ بھگ غیرمنتخب اورٹیکنوکریٹ براجمان ہیں۔ ہرلحظہ اُن کی تعداد میں حیرت انگیز رفتار سے اضافہ ہورہا ہے اور انہی کواہم وزارتیں سونپی گئی ہیں۔ یہ بات زبانِ زدعام ہے کہ جہانگیرترین جن کو عدالت عظمیٰ نے خائن قرار دے کر زندگی بھر کے لئے حکومتی معاملات سے بے دخل کردیاتھا‘ وہ اسد عمر کوکابینہ سے نکلوانے کے ذمہ دار ہیں اورکچھ اوربااَثر افراد بھی ان کے ہدف پر ہیں۔ اِس رسہ کشی میں پارلیمان اور وزرا کی حیثیت غیرمو¿ثر ہوتی جارہی ہے۔ تمام اختیارات وزیراعظم کی ذات میں مرتکز ہوگئے ہیں جوکسی سے مشاورت کے بغیر انہیں بے دردی سے استعمال کررہے ہیں۔اُنہوں نے تین صوبوںکے معاملات بھی اپنی تحویل میں لے رکھے ہیں۔ پارلیمانی طرز حکومت میں پارلیمان بالادست ہوتی ہے جبکہ صدارتی نظامِ حکومت میں صدرِ مملکت لامحدود اختیارات کامالک ہوتاہے۔ اب ایسے حالات پیداکر دیے گئے ہیں جن میں منتخب اسمبلیاں ہنگامہ آرائی کی زد میں ہیں۔ان میں قانون سازی ہورہی ہے نہ ملکی مسائل سنجیدگی سے زیربحث آتے ہیں۔ یہ ایک خطرناک صورتحال ہے جس میں کسی وقت بھی سیاسی نظام کی بساط لپیٹی جاسکتی ہے۔
وہ طاقتیں جو ’اعلیٰ کارکردگی‘ کے نام پر اس ملک میں صدارتی نظام پوری طاقت کے ساتھ نافذ کرناچاہتی ہیں‘ انہوں نے سیاسی عمل میں نقب لگادی ہے اور وہ آئندہ ایسے اقدامات کرتی چلی جائیں گی جن سے سیاسی جماعتیں عوام کے اندراپنی اہمیت کھو بیٹھیں گی اور آپس میں دست وگریباں رہنے کی وجہ سے غیر سیاسی عناصر کو فتحیاب ہونے کاموقع فراہم کریں گی۔اِن غیر یقینی حالات میں قومی اکابرین پریہ ذمے داری عائد ہوتی ہے کہ وہ سیاسی مفاہمت کی فضاپیدا کریں‘ باہمی احترام‘ رواداری اورکشادہ ظرفی کوفروغ دیں اورصدارتی نظام کاراستہ روکنے کے لئے مجاہدانہ کردارادا کریں۔ یہ جوریفرنڈم کرانے کی تجاویز دی جارہی ہیں‘ وہ پاکستان کی سالمیت کے لئے سمِ قاتل کی حیثیت رکھتی ہیں۔ خیبرپختونخوا کے گورنرشاہ فرمان نے جس دستور پرحلف اُٹھایا ہے وہ پارلیمانی نظام کی ضمانت دیتاہے۔ اُنہیں صدارتی نظام کے حق میں بیانات دینے سے پہلے اِس پہلو پر غورکرناچاہیے کہ وہ اپنے حلف کی خلاف ورزی کے مرتکب تو نہیں ہورہے۔ صدر ایوب خاں نے جوصدارتی نظام عوام پر زبردستی مسلط کیاتھا‘ اس کے نتیجے میں پاکستا ن دولخت ہوگیاتھا اورہم ہاتھ ملتے رہ گئے تھے۔ تاریخ سے نابلد لوگ ہوسِ اقتدار میں ایک بار پھر پاکستان کو اُسی خوفناک تجربے سے گزارنا چاہتے ہیں‘ اس کے خلاف پوری قوم کوتمام ترقوت کے ساتھ مزاحمت کرناہوگی اور جمہوری عمل کو طاقت ور بنانے کے لئے فروعی باتوں اورتقسیم کرنے والے رجحانات سے بہت اوپر اُٹھنا ہوگا۔ اس وقت سب سے اہم ضرورت سیاست میں سنجیدگی‘ شائستگی اورباہمی رواداری کوپروان چڑھانا اوراعلیٰ مناصب پرفائز شخصیتوں کاکڑا احتساب کرناہے۔ ان کے ذہنی افلاس اور اخلاقی خلفشار نے قوم کوشدید خطرات سے دوچار کردیاہے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Copied!