Pakistan Columns

All Columns (Urdu and English)Of Pakistan You Could Easily Read Here/

Sakoot Bolta Hai

ڈاکٹر صغرا صدف کے پلاک میں صوبائی وزیر صمصام بخاری میلہ چراغاں کی افتتاحی تقریب میں موجود تھے اور کہہ رہے تھے ’’ارکان اسمبلی کی تنخواہوں کے بل میں قانون کے مطابق تبدیلی کی جا رہی ہے۔‘‘ عمران خان مرد قلندر ہیں۔ ان باتوں کا میلہ چراغاں اور شاہ حسین سے کیا تعلق ہے؟ تیسرے نمبر پر بخاری صاحب نے یہ بات کہی کہ برصغیر میں صوفیاء نے اپنے کردار سے محبت کا پیغام دیا ہے۔ ان کا نظریہ جابر سلطان کے سامنے کھڑا ہونے کی دلالت کرتا ہے۔پلاک کی انچارج نے گورنر ہائوس میں تقریب کی تو وہاں صمصام بخاری تقریر نہیں کی۔ گورنر پنجاب چودھری سرور نے بہت زبردست تقریر کی جسے حاضرین نے پسند کیا۔ یہ تقریب پلاک کے اندر بھی ہو سکتی تھی مگر گورنر ہائوس کا اپنا مزا ہے جو ڈاکٹر صغرا صدف خوب جانتی ہیں۔ تقریب بھرپور تھی۔ اس کا کریڈٹ بہرحال ڈاکٹر صاحبہ کو جاتا ہے۔ معروف میاں بیوی ادیب شاعر حسن عباسی اور لبنیٰ صفدر نے ڈنر کیلئے کچھ دوستوں کو اکٹھا کیا جس میں بیرون ملک میں رہنے والے پاکستانی شاعر بھی تھے۔ خاص طورپر جمیل قمر سے مل کر خوشی ہوئی۔ وہ کویت بھی بہت عرصہ رہے۔ آجکل کینیڈا میں ہیں۔ سبطین رضا‘ احمد سبحانی آکاش‘ ارشد نذیر ساحل بھی مہمانوں میں تھے۔ معروف ادبی شخصیت عمرانہ مشتاق نے تقریباً سارا دن میرے ساتھ گورنر ہائوس گزارا۔ وہ بہت بہادر اور کمپلیکس فری خاتون ہیں۔ ہمارے دوست طاہر اسلم گورا بھی وہاں ہیں۔ جمیل قمر اچھے شاعر ہیں۔ انہوں نے اپنی دوکتابیں ’’سکوت بولتا ہے‘‘ ’’موجۂ افہام‘‘ عطا کیں۔ احمد سبحانی آکاش نے بھی اپنی کتاب پس گماں دی۔ ایک شعر دیکھئے؎

میں رضا مند ہوں جو تو چاہے

بات ساری تیری خوشی کی ہے

جمیل قمر باغ و بہار آدمی ہیں اور شاعر بھی ہیں

آس قوت کو چھین لیتی ہے

آسرے بھی نڈھال کرتے ہیں

آپ اپنا جواب ہیں ہم لوگ

لوگ پھر بھی سوال کرتے ہیں

لبنیٰ صفدر نے بہت خوب شاعری سنائی۔

آپ کو بھول ہی نہیں پاتی

میرا کوئی علاج ہے صاحب

لبنیٰ کو کون بتائے کہ ہم لوگ لاعلاج ہیں۔

حسن عباسی کا ایک شعر بہت خوبصورت ہے؎

مجھ سے ملنے میں ایک خرابی ہے

پھرکسی کے نہیں رہو گے تم

آخر میں میرا ایک شعر بھی حسن عباسی نے سنایا؎

عہد غفلت میں مجھے مثل سحر بھیجا گیا

دیر تک سوئے ہوئے لوگوں کے گھر بھیجا گیا

معروف شاعرہ، عنبر شاہد کے ٹیلیفون آرہے تھے۔

شاہد صاحب دوست ہیں۔ وہ عنبر شاہد کے شوہر ہیں۔

ضرور پڑھیں: لیونل میسی نے کلب ٹیم کی تاریخ کے بہترین گول کا ایوارڈ جیت لیا

وہ شاعر نہیں مگر شاعروں کے دوست زیادہ ہیں۔ میرے ساتھ سو اس گھرانے کا بہت پرانا رشتہ ہے۔

مجھے عنبرشاہد نے بتایا کہ رابعہ نورکو جمال خشوگی ایوارڈ ملا ہے۔ یہ بے باک صحافی کو ملتا ہے۔ پہلی دفعہ ایشیا میں یہ ایوارڈ ملا ہے۔ رابعہ پورے ایشیاء میں منتخب خاتون ہے وہ وقت نیوز میں بھی کام کرتی تھی اب ایک اور چینل سے منسلک ہے۔ اس کے لئے ایک نظم عنبر شاہد نے پڑھی

محنت کی اور لگن کی ہے تصویر رابعہ

ایثار کے جہاں کی ہے جاگیر رابع

یہ قوم کی ہے بیٹی دیا اس نے عزم نو

گویا بیٹی ہے قوم کی تقدیر رابعہ

دشمن اندھیروں کی ہے خطروں سے بے نیاز

عنبر یہ صبح نو کی ہے تنویر رابعہ

اس محفل میں ڈپٹی ایڈیٹر نوائے وقت سعید آسی ، موجود تھے۔ بتول سرفراز طاہر ملک ،شاہد ملک، رضوان رضی سعید زمان نیازی نوشین نقوی، فاروق بھٹی اور مقبول سرفراز۔ میاں امجد فرانس میں پاکستان پیرس پریس کلب کے صدر ہیں۔

اس سے پہلے مجھے اسلام آباد سے معروف ،شاعرہ رفعت وحید ملنے آئیں ، برادرم زاہد عباس اسے میرے گھر لے کے آئے۔ رفعت کسی سہیلی کی سالگرہ پر لاہور آئی تھی

اس کے پاس کچھ وقت تھا تو وہ مجھ سے ملنے گھر پر آ گئی۔ اس مہربانی کے لئے رفعت اور زاہد کا شکر گزار ہوں۔ زاہد عباس کو میرے گھر کا علم تھا۔ زاہد نے مجھے اپنا شعری مجموعہ’’کاجل سے خفا‘‘آنکھیں بھی عطا کیا۔ اس کے لئے مرحوم دانشور اور شاعر احمد عقیل روبی نے لکھا ہے۔ مختصربحر سے اچھا شعر نکالنا جوئے شیر لانے کے برابر ہے۔ لیکن زاہد عباس کی ہنرمندی اور فکر و احساس کی سنجیدگی نے یہ کام آسانی سے کیا ہے۔

اچانک مل گئے ہو

ضرور پڑھیں: عابد کی تاریخی اننگز سے خوش‘دعا ہے عالمی کپ میں پاکستان کی نمائندگی کرے : محمد ارشد

بہت اچھے لگے ہو

وفا کے بول کہہ کر

رکو گے یا چلے ہو

یہ آنکھیں کہہ رہی ہیں

کہ شب بھر جاگتے ہو

ایک خاتون کی سرمنڈھی تصویر دیکھ کر بہت پریشان ہوا۔ عورت کے بالوں کو زلفیں کہتے ہیں۔ خاتون کی زلفوں کے ساتھ تصویر بہت خوبصورت ہے۔ یہ بہت بڑا ظلم ہے کہ کسی عورت کے بال کاٹ دئیے جائیں۔ میں اس بے شرم زیادتی کے خلاف احتجاج کرتا ہوں۔ ہم اس کے علاوہ کر بھی کیا سکتے ہیں۔ خبر ہے کہ وہ عورت ظالم انسان کی بیوی ہے۔ اسے شوہر کہتے ہوئے مجھے شرم آتی ہے۔ یہ بھی خبر ہے کہ بے غیرت شوہر نے اپنی اہلیہ کو اپنے دوستوں کے سامنے رقص کرنے کاحکم دیا تھا۔ بیوی کے انکار پر ظالمانہ بے شرمی کی گئی۔ مجھے معلوم نہیں کہ اس جرم بلکہ ظلم کے لئے کوئی قانون ہے۔ قانون نہیں بھی ہے تو بھی اس ظالم انسان کو عبرتناک سزا دی جائے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Copied!