Pakistan Columns

All Columns (Urdu and English)Of Pakistan You Could Easily Read Here/

” Sahafi Ky Safar Namey “

سفرناموں سے ہمیں بے حددلچسپی ہے‘ ہم زندگی میں بہت کم سفر کرسکے ہیں اوراس کی کمی سفرنامے پڑھ کر پوری کرنے کی کوشش کرتے چلے آرہے ہیں ۔ ادیب،شاعراور صحافی دانشور عام لوگوں کے مقابلے میں بہتر سفرنامہ لکھتے ہیں۔ ہمارے پسندیدہ ادیبوں میں سے اے حمید اور عطاءالحق قاسمی چند برس امریکہ جبکہ مستنصر حسین تارڑ روس میں مقیم رہے تھے ۔عطاءالحق قاسمی اورمستنصر حسین تارڑ نے اوائل جوانی جبکہ اے حمید نے ادھیڑ عمری میںدنیا کی سپر طاقت سے ملاقات کی تھی اور وطن واپسی پر سفرنامے لکھے تھے ۔عطاءالحق قاسمی کا سفرنامہ ” فنون “ مستنصر حسین تارڑ کا ” قندیل “ جبکہ اے حمید کا سفرنامہ نوائے وقت جمعہ میگزین میں پہلے قسط وار شائع ہوا تھا بعدازاں تینوں کے سفرنامے کتابی صورت میں بھی چھپے تھے۔ اے حمید نے تو لڑکپن میں تقسیم ہند سے قبل گھر سے بھاگ کر دلی ،بمبئی، کلکتہ سمیت ہندوستان بھر کی سیرو سیاحت بلکہ برمااورلنکا کی جہاں گردی بھی کی تھی۔ آزادی سے سے پہلے دوسری جنگ عظیم کے دوران ڈاکٹر شفیق الرحمان بھی برٹش انڈین آرمی کی میڈیکل کور میں شامل ہو کر مصر اور حجاز وغیرہ کے محاذوںپر تعینات رہے تھے جن کا ذکر ان کی کتابوں میں بھی ملتا ہے ۔
سفرنامہ نگار عموماََ کتاب میں کسی ایک ملک کا سفرنامہ لکھتے ہیں تاہم ڈاکٹر وزیر آغا نے انگلینڈ ،سویڈن اور انڈیا کی یاترا پر مشتمل ”تین سفر“ کے عنوان سے سفرنامہ لکھا تھا جو 2013 ءمیں شائع ہوا تھا لیکن معروف صحافی ولکھاری اورچیف ایڈیٹر روزنامہ خبریں جناب ضیا شاہد کے سفرنامہ”صحافی کے سفرنامے“ کی یہ انفرادیت ہے کہ اس میں قاری کو دنیا کی تین سپر پاورز امریکہ ،برطانیہ اور چین کے علاوہ لاﺅس ،کمبوڈیا ،ہانگ کانگ ،تھائی لینڈ اور افغانستان پر مشتمل 8 ممالک کے سفر کا احوال بھی پڑھنے کو مل جاتا ہے ۔ جناب ضیا شاہدنے بطور صحافی ان آٹھ ممالک کا سفر کیا تھا ۔وہ پیش لفظ میں بتاتے ہیں کہ یہ سفرنامے بنیادی طور پر ان مشاہدات پر مبنی ہیں جو انہوں نے ان ممالک میں کئے وہاں کے اداروں کو دیکھا کہ وہ کیسے کام کرتے ہیں اور ہمارے مقابلے میں ان ممالک کے ادارے کتنے مختلف ہیں۔
امریکہ کے سات روزہ دورہ پر جب ضیا شاہد واشنگٹن پہنچے توامریکہ کی دھرتی پر قدم رکھتے ہی سب سے پہلے انہیں پاکستان کی غربت کا احساس ہوا تاہم صرف گراﺅنڈ فلور اورفرسٹ فلور پر مشتمل ڈیلس ائرپورٹ کو دیکھ کر انہیں مایوسی ہوئی اور انہوں نے سوچا کہ اس سے تو ہمارے کراچی ائرپورٹ کا جناح ٹرمینل زیادہ خوبصورت ہے ۔ڈیلس ائرپورٹ سے واشنگٹن کا انٹرنیشنل ائر پورٹ بڑا ضرور ہے لیکن اس کی عمارت بھی سادہ سی ہے ۔امریکیوں کے گھروں کی ہماری طرح تزئین و آرائش نہیں کی جاتی گویا سفرنامہ نگار بتانا چاہتے ہیں کہ امریکی قوم ہماری طرح نمود و نمائش کی عادی نہیں ہم پاکستانی تو بڑے بڑے گھر بنانے اور ان کی تزئین و آرائش پر لاکھوں روپے خرچ کر دیتے ہیں اس کی ذمہ داری ہماری خواتین پر عائد ہوتی ہے جودکھاوے کی عادی ہوتی ہیں اور شوہر کی کمائی کو مکانوںپر لگا دیتی ہیں جس کی وجہ سے لوگ کئی ضروری کام بھی بروقت نمٹانے سے محروم رہ جاتے ہیں۔سفرنامے کے ابتدائی ابواب میںگھروں کی سادگی پر اتنا زیادہ زور دیا گیا ہے کہ ہم نے متاثر ہو کرصحافی کالونی میں ملنے والے پلاٹ پرمستقبل میں مکان بنانے کا ارادہ ہی ترک کردیا ہے ۔
کسی بھی قوم کی خوراک کے بارے میں بھی جاننا ضروری ہوتا ہے۔ سفرنامہ نگار بتاتے ہیں کہ امریکی لوگ زیادہ تر فاسٹ فوڈ استعمال کرتے ہیں اور پانی کی جگہ کوک پیتے ہیں ۔چند برسوں سے پاکستان کے بڑے شہروں میں بھی فاسٹ فوڈ اور کولا مشروبات کا استعمال بڑھ چکا ہے امریکی تو پھر بھی ورزش کرلیتے ہیں جبکہ ہم پاکستانی ورزش کیلئے وقت نکالنا گوارہ نہیں کرتے۔ فاسٹ فوڈ استعمال کرنے کے حوالے سے امریکیوں اور پاکستانیوں کا موازنہ کرتے ہوئے جناب ضیا شاہد بتاتے ہیں کہ پاکستان میں جہاں ہاتھ پاﺅں ہلانے کا رواج نہیں اور پانی بھی کوئی اور پلاتا ہے اتنا زیادہ فاسٹ فوڈ کبھی ہضم نہیں ہوگا چنانچہ جلد ہی ہمارے یہاں متمول طبقوں میں مرد گینڈے اورعورتیں بھینس نما نظر آئیں گی !“
لوگ بیرون ملک جا کراپنے وطن کو بھول جاتے ہیں لیکن جناب ضیا شاہد امریکہ پہنچ کر قدم قدم پر پاکستان کاذکرتے رہے، امریکہ و امریکیوں کا پاکستان اورپاکستانیوں سے موازنہ کرتے رہے۔ وہاں جا کر ان کی پاکستانیت پوری طرح بیدار ہو گئی تھی یہی وجہ تھی کہ جب ان سے امریکہ میں مقیم خواہر نسبتی کے صاحبزادے کامران قریشی نے اپنی پہلی ناکام شادی کے تلخ تجربے کی وجہ سے پاکستان اورپاکستانیوں سے بیزاری کا اظہار کیا تو انہوں نے دونوں ممالک کی ڈھیروں مثالوں کے ساتھ طویل لیکچر دے کر بالآخر انہیں مادر وطن سے محبت برقرار رکھنے پر قائل کرلیا اور کامران قریشی نے بعدازاںدوبارہ شادی کیلئے بھی دلہن کا انتخاب پاکستان سے ہی کیا تھا۔سفرنامہ نگار واشنگٹن میں بیٹھ کر بھی وہاں کی روداد سپرد قلم کرتے ہوئے پاکستان کے بارے میں زیادہ لکھتے رہے ۔کتاب کے تیسرے باب کے اختتام پرقارئین کو مخاطب کرتے ہوئے لکھتے ہیں کہ سپر طاقتوں کے اختیارات اور قوت رکھنے والے اداروں میں گھومتے پھرتے ہوئے پاکستان ،اپنے اور آپ کے متعلق سوچنا اچھا لگتا ہے!“
کہا جاتا ہے کہ دنیا بھر میں امریکہ حکومتیں گراتا اور بناتا ہے،بادشاہتوں اورمارشل لاﺅں کی حمایت کرتا ہے، جنرل (ر) پرویز مشرف کے دور میں امریکہ نے فوجی حکمران کوافغانستان کے حوالے سے اپنے مقاصد کیلئے استعمال کیا حتیٰ کہ ان دنوں کے ڈپٹی وزیرخارجہ آرمیٹج نے بیان بھی دیا تھا کہ صدر جنرل پرویز مشرف اگر الیکشن کروادیں ،پارلیمنٹ کام بھی شروع کردے اوروہ فوجی وردی بھی پہنے رہیں تو امریکہ کو اس پر کوئی اعتراض نہیں ہوگا۔ امریکہ کے سیاسی کلچر پر روشنی ڈالتے ہوئے ضیاشاہد بتاتے ہیں کہ ہمارے یہاںعوام وزیراعظم ہاﺅس ،ایوان صدر یا جی ایچ کیو دیکھنے نہیں جا سکتے لیکن امریکہ میں وائٹ ہاﺅس دیکھنے جا سکتے ہیں ،وائٹ ہاﺅس ممنوعہ علاقہ نہیں یہ کھلا پن خاص طور پر رکھا گیا ہے تاکہ حکمرانوں اور عام لوگوں کے درمیان فاصلہ کم سے کم رکھا جا سکے ،امریکی پنٹاگون کی عمارت کے گرد بھی کوئی اونچی فصیل نہیں اس جگہ غیرملکی بھی گاڑی پر جا کر شاپنگ کرسکتے ہیں البتہ وہاں فوجیوں کو ہیلی کاپٹر کی اضافی سہولت حاصل ہے تاہم کوئی ان کے بارے میں یہ نہیں سوچتا کہ وہ حکومت پر قبضہ کرلیں گے ،واشنگٹن میں نمائندہ خبریں امریکی افواج کے سربراہ کا نام نہ جانتے تھے ۔
یہ ایک تلخ حقیقت ہے کہ امریکہ اپنے مفادات کیلئے جنرل ایوب خان کے دور سے پاکستان کو استعمال کرتا آیا ہے ،سیاستدانوں کے برعکس فوجی حکمرانوں کو چونکہ عوام کے دباﺅ کا سامنا نہیں کرنا پڑتاشاید اس لئے امریکہ ان سے زیادہ کام لیتا رہا ،جنرل ضیا ءالحق نے افغانستان میں روسی فوجوں کے خلاف لڑنے کیلئے امریکہ کا بھرپور ساتھ دیا تو جنرل پرویز مشرف نے افغانستان پر حملے کیلئے اپنے فضائی اڈے امریکہ کے حوالے کردیئے تھے۔ جنرل ایوب خان نے سب سے پہلے بڈ بیرکا فوجی اڈہ امریکہ کو دیا تھا اس سہولت کاری کے باوجود امریکہ پاکستان کے بجائے بھارت کا ساتھ دیتا چلاآرہا ہے ،مسئلہ کشمیر کے حوالے سے بھی اس کی پالیسی بھارت کے حق میں رہی ہے۔ سابق امریکی صدر بل کلنٹن نے جنرل پرویز مشرف کے دورمیںبھارت کا پانچ روزہ دورہ کیا تھا اور واپسی پر صرف دوگھنٹے کیلئے پاکستان رکا تھا اس نے فوٹو سیشن سے بھی انکار کردیا تھا ۔تاہم نائن الیون کے بعد دہشت گردی کیخلاف نام نہاد جنگ کیلئے امریکہ نے اسی جنرل پرویز مشرف کو سر آنکھوں پر بٹھا لیا تھا ۔ دورہ امریکہ کے دوران جناب ضیا شاہد جب جنوبی ایشیا میں امریکی پالیسی پر ایشیا پروگرام کے ڈائریکٹر ڈاکٹر رابرٹ ہاتھورن کی بریفنگ کیلئے پاکستانی صحافیوں کے ساتھ واشنگٹن ڈی سی کی ریگن بلڈنگ پہنچے تو مسئلہ کشمیر پر ڈاکٹر رابرٹ ہاتھورن کے منہ سے بھارتی زبان سن کر بیحد مایوس ہوئے ،وہ کنٹرول لائن کو مستقل سرحد قراردینے پر زور دیتا رہا جس پر ضیا شاہد نے اس سے کہا تھا کہ یہ مسئلہ کشمیر کا حل نہیں،کشمیری عوام بھیڑ بکریاں نہیں ان کی رائے تسلیم کی جائے ،مسئلہ کشمیر بارے رائے شماری کیلئے اقوام متحدہ کی منظور شدہ قرارداد پر عمل کرنا چاہیے۔
جموں و کشمیر میں رائے شماری کروانے کی قرارداد پر امریکہ نے بھی دستخط کئے تھے بلکہ یہ قرارداد امریکہ ،برطانیہ ،چین، کینیڈا ،کولمبیا اوربلجیم نے 21 اپریل 1948ءکو اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل میں پیش کی تھی اورمنظور بھی کرلی گئی تھی تاہم ووٹنگ کے وقت روس ،یوکرائن کے علاوہ کولمبیا اوربلجیم بھی غیرحاضر رہے تھے جبکہ حاضرممالک میں سے کسی نے قرارداد کے خلاف ووٹ نہ دیا تھا، رواں ماہ قرارداد کی منظوری کو 71 سال مکمل ہو جائیں گے ۔اس دوران مظلوم کشمیری عوام کی تین نسلیں بھارتی قابض فوج کے ظلم و ستم کا شکار رہی ہیں مگر اقوام متحدہ میں قرارداد منظور کرنے والے امریکہ سمیت دیگر ممالک کو کشمیری عوام پر ترس نہیں آیا اور نجانے کشمیری عوام ابھی مزید کتنا عرصہ بھارتی مظالم کانشانہ بنتے رہیں گے ۔ جناب ضیا شاہد نے سفرنامے میں برطانیہ کے دورہ پر بھی مقبوضہ جموں و کشمیر کا مسئلہ حل کرنے کے حوالے سے ان دنوں کے برطانوی وزیراعظم ٹونی بلیئر کی جانب سے کردار ادا کرنے کے اعلان کا بھی ذکر کیا ہے تاہم طوالت سے بچنے کیلئے اس موضوع پر آئندہ کسی کالم میں بات کریں گے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Copied!