Pakistan Columns

All Columns (Urdu and English)Of Pakistan You Could Easily Read Here/

Sahafat Ke Shafaq Rang Shaami …. (1)

الطاف حسن قریشی کا تذکرہ کیا تو جی چاہا کہ لگے ہاتھوں ان کے دست راست مجیب الرحمن شامی کی بہار آفریں شخصیت پر بھی چند حرف لکھ ڈالوں۔ شام کی شفق ایک سہانا، دلکش اور بسا اوقات قوس قزح سے، مزین منظر ہوتا ہے۔ شاعروںنے ا س پر سو سو طرح سے مضمون باندھے ہیں۔ میرے جیسے شام کی شفق میں اپنے اپنے چاند کو تلاش کرتے ہیں اور تاریخ کے قافلے اس شفق کے اندر سے پھوٹنے والی کہکشاں کی روشنی میں راتوں کی تاریکیوں میں منزلوں کے نشان ڈھونڈتے ہیں، اس کہکشاں کے ارد گرد کہیں قطبی ستارہ چمکتا ہے اور اسی کہکشاں کے پہلو سے سپیدہ سحر نمودار ہوتا ہے اور آسمان ایک بار پھر شفق رنگ ہو جاتا ہے۔

میں دبستان اردو ڈائجسٹ کا حصہ بنا تو شامی صاحب کا نام پہلے سنا اور دیکھا انہیں چند ہفتے بعد ۔ وہ ا خبار جہاں میں کام کرتے رہے، مگر اس نسب سے ان کا حسب نہیں بنا ۔ ہفت روزہ زندگی کے ایڈیٹر انچارج بنے تو انہوںنے اوج ثریا کو چھو لیا۔ ان کی پہلی ڈیوٹی بہت سخت تھی۔ انہیں ڈھاکہ بھجوایا گیا تھا کہ وہ پلٹن میدان میںمولانا مودودی کے جلسے کی کوریج کریں مگر مکتی باہنی کے ڈنڈہ برداروں نے ا س جلسے کا جلوس نکال دیا۔ شامی صاحب پھولے سانس کے ساتھ واپس آئے تو ڈاکٹر اعجاز قریشی نے اسی دفتر کی بالائی منزل پر اپنے ڈرائنگ روم میں ایک محفل برپا کی جس میں شامی صاحب نے اپنی بپتا سنائی اور بعد میں اسے تفصیل سے لکھا بھی۔ یہ ان سے پہلی ملاقات تھی۔ اس کے بعد ضیا شاہد اور مقبول جہانگیر اردو ڈائجسٹ چھوڑ گئے تو مجھے اردو ڈائجسٹ میں منتقل کر دیا گیا۔ میں یہ دعویٰ نہیں کر سکتا کہ میں نے شامی صاحب کے ساتھ کام کا آغاز کیا، ہاں ایک چھت تلے ضرور کام کیا مگر ان کا دائرہ الگ تھا۔ وہ سیاست دانوں میں گھرے رہتے اور میں کتابوں میں۔ انہیں علامہ احسان الٰہی ظہیر سے رانا نذرالرحمن تک اور ایم حمزہ سے نوابزادہ نصراللہ، چودھری ظہور الٰہی، مفتی محمود اور ایئر مارشل اصغر خان تک سے قربت کا موقع ملا، ان کے تعلقات کا دائرہ وسیع ہوتا چلا گیا اور آج ایک دنیا ان کے اتوار کے اتوار لنگر سے فیض یاب ہوتی ہے۔ میں صحافت سے یکایک لنگر تک پہنچ گیا مگر شامی صاحب کو اس مقام کو حاصل کرنے کے لئے بڑے پاپڑ بیلنے پڑے مگر اس میں ان کی سیماب صفت طبیعت کا بھی دخل تھا۔ انہیں اتنی جلدی اور اتنی معمولی بات پر ہفت روزہ زندگی کو خیرباد نہیں کہنا چاہئے تھا۔ کیونکہ اس کے بعد وہ ایڈیٹر سے سیدھے مالک بن گئے مگر مالکانہ انتظامی صلاحیتوں کی ابجد بھی نہ سیکھ پائے تھے۔ پھر بھی بہت زور یاروںنے ادب میں مارا۔ شامی نے اسلامی جمہوریہ نکالا اور پھر ہفت روزہ زندگی بھی، ماہنامہ قومی ڈائجسٹ کا اجرا بھی کیا اور پھر انہوں نے زقند بھری اور ڈیلی پاکستان کے مدارالمہام بن گئے۔ یہ ایک طویل کہانی ہے۔ زندگی میں رہتے ہوئے انہوںنے کلمہ حق کہنے کا سبق سیکھاا ور اس کی سزا بھی چکھی۔ ابھی ان کی مسیں بھی نہ بھیگی تھیں کہ بھٹو کی حکومت آ گئی جو اس نظریئے سے ایک سو اسی ڈگری پر الٹ چل رہی تھی جس کا سبق شامی صاحب نے حرز جاں بنا لیا تھا۔ مجھے یاد ہے کہ الطاف حسن قریشی، اعجاز حسن قریشی کے ساتھ انہیں بھی ہتھکڑیاں پہنائی گئیں اور کوٹ لکھپت جیل کی ایک تنگ و تاریک بیرک میں بند کر دیا گیا۔ یہ تجربہ ان کی برداشت سے باہر تھا۔ بھٹو صاحب سول مارشل ایڈمنسٹریٹر تھے۔ ان کی عدالتوں پر بھی نوجوان فوجی سرفراز تھے، ایک صبح ان تینوں کو پا بجولاں فوجی عدالت میں پیش کیا گیا۔ یہ سول سیکرٹریٹ کے پہلو میں ارکان پنجاب اسمبلی کے ہوسٹل میں واقع تھی۔ نوجوان میجر نے کمرے میں داخل ہوتے ہی میز کی دراز کھولی۔ ایک ٹائپ شدہ فیصلہ سامنے رکھ کر فر فر سنا دیا اور یہ جا وہ جا۔ تینوں مجرموں کو کروڑوں کے جرمانے اور طویل سزاسنائی گئی۔ بھٹو کے اس روئیے نے صحافت میں دائیں بازو اور بائیں بازوکی تفریق پیدا کر دی۔ سیاست میں تو یہ وبا پہلے ہی سے موجود تھی۔ نوجوان ایڈیٹر کے لئے یہ پہلی سزا نہ تھی، اس کے بعد بھی پکڑ دھکڑ کا بازار گرم رہا۔ توہین عدالت کے ایک مقدمے میں جسٹس سردار اقبال نے انہی تینوں کو پھر جیل میں بند کر دیا۔ بہرحال جنرل ضیا کا دور دائیںبازو کی صحافت کے لئے کسی نعمت غیر مترقبہ سے کم نہیں تھا۔ شامی صاحب یقینی طور پر وہ سب سختیاں بھول گئے ہوں گے جب وہ جلد ہی جنرل ضیا کی آنکھوں کا تارا بن گئے اور انہیں کابینہ میں شمولیت کی پیش کش کی گئی مگر انہوں نے اپنے انتہائی قریبی دوست جاوید ہاشمی کے لئے قربانی دی اور اپنی جگہ انہیں وزیر بنوا دیا۔ میں نے اسلام آباد میں کسی وزیر کا سب سے پہلے کوئی گھر دیکھا تو یہ جاوید ہاشمی کا تھا۔ ہاشمی صاحب تو جلد روٹھ گئے مگر شامی صاحب جنرل ضیا کے قریبی صلاح کاروں کے گروپ کا اہم حصہ تھے۔ یہ ان کا ایک سیاسی کردار تھا اور سیاست کرنے کا حق انہیں آئین پاکستان دیتا ہے۔ یوں شامی صاحب کی تین حیثیتیں سامنے آئیں، ایک ایڈیٹر اور صحافی کے طور پر۔ دوسرے ایک سیاسی صلاح کار کے طور پر اور آگے چل کر وہ کاروباری میدان میں بھی اپنے بیٹے عمر شامی کے ذریعے داخل ہوئے۔ یہ شعبہ ان کے لئے سونے کی چڑیا ثابت ہوا اور انہوں نے بڑے اچھے دن دیکھے۔ کاروبار کا حق بھی اس ملک کے ہر شہری کو حاصل ہے۔

(جاری ہے)

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Copied!