Pakistan Columns

All Columns (Urdu and English)Of Pakistan You Could Easily Read Here/

Saat Samnandar Paar Se Kashmir Ky Mutliq Haqaiq

کشمیریوں کی آوازبن کرسری نگرکامقامی پریس جو دہائیاں دیتارہامگربھارتی نقارخانے میں طوطی کی آواز کون سنتا۔ ریاستی دہشت گردی کے دوران کشمیریوں کے بہنے والے خون کے شور اور اس خون کے بہانے پرقابض بھارتی فوج کے جشن میں کون کشمیریوں کی بات کو سنتا لیکن جوحقیقت نقش بر حجرہو یعنی وہ سچ جو پتھر پر لکھا جاچکا ہو وہ کسی کے مٹانے سے قطعاً نہیں مٹتا۔ یہی وجہ ہے کہ آج سات سمندر پار دنیا کے سب سے بڑے اخبارواشنگٹن پوسٹ میںکشمیرسے متعلق حقائق کااعتراف کیا گیا ہے ۔ گزشتہ تین عشروں کے دوران ہم نے دیکھاکہ آزاد دنیا کا کوئی سفارتکار، سفارتی مشن یا اخبار نویس سری نگرمیں قدم رکھے تو اس کے باوجودکہ وہ فوجی حصارمیں ہوتاہے اوراسے عام کشمیری سے ملنے نہیں دیا جاتا لیکن اس کے باوجودوہ اصل صورتحال اخذ کرتا ہے کہ کشمیری کس کرب والم کے شکارہیں۔ امریکہ کے معروف اخبار واشنگٹن پوسٹ نے 28 مارچ 2019ء کومقبوضہ کشمیرکی اندرونی صورتحال کو کھل کر بیان کیا ہے۔ اخبار میںکشمیرسے متعلق جو رپورٹ شائع ہوئی اس میں کشمیر کے زمینی حقائق کا اعتراف کیا گیا ہے۔ امریکی اخبار واشنگٹن پوسٹ میں شائع ہونے والی کشمیرسے متعلق تحقیقی رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ بھارتی فورسز کی دہشت گردی اور مظالم کشمیر کے پڑھے لکھے نوجوانوں کو اسلحہ اٹھانے پر مجبور کررہے ہیں۔ امریکی اخبار واشنگٹن پوسٹ نے لکھاکہ 31 برس کے پروفیسر ڈاکٹرمحمد رفیع بٹ نے کشمیر یونیورسٹی سے پی ایچ ڈی کی تھی جن کے سامنے شاندار مستقبل تھا لیکن انہوں نے بھارت کے خلاف مزاحمتی تحریک میں شمولیت اختیار کی اوربھارتی فورسزکے ساتھ ایک معرکے میںجاں بحق ہوئے حالانکہ پروفیسرڈاکٹرمحمد رفیع تمام طلبہ کے پسندیدہ استاد تھے اور وہ ایسے دانشور تھے جنہوں نے ایک شعبے میں نمایاں تحقیق کی تھی۔ امریکی اخبار لکھتاہے کہ پروفیسرڈاکٹرمحمد رفیع کی درس و تدریس کے شعبے سے مزاحمتی تحریک میں شمولیت نئے رجحان کا حصہ بنی۔پروفیسر محمد رفیع کے علاوہ انجینئر عیسیٰ بھی مزاحمتی تحریک میں شامل تھے جو آخری سمسٹر میں لاپتہ ہوئے اور چند ماہ بعد مبینہ مقابلے میں جاں بحق ہو گئے۔ واشنگٹن پوسٹ لکھتا ہے کہ اعلیٰ ڈگری ہولڈرزکو جاں بحق کئے جانے کے بعد کشمیرکے نوجوان اپنے والدین سے پوچھتے ہیں کہ اسلحہ کے مقابلے میں ڈگریوں کا کیا فائدہ ۔ امریکی اخبار کی تحقیق کے مطابق 2008ء کے بعد سے مزاحمتی تحریک میں شامل ہونیوالے نوجوانوں کی تعداد بڑھ رہی ہے اورکشمیرکی مسلح جدوجہد میں نئی توانائی آگئی ہے۔2013ء میں مزاحمتی تحریک میں شامل ہونے والے نوجوانوں کی تعداد صرف 16فیصد تھی جب کہ اسکے مقابلے میں مزاحمتی تحریک میں نوجوانوں کی شرکت 2018ء میں 52 فیصد رہی۔ اخبار کے مطابق 2018ء میں 191 کشمیری نوجوانوں نے مزاحمتی تحریک میں شمولیت اختیار کی، اخبارکے مطابق محققین کے مطابق کشمیر میں داخلی استحکام اور گورننس کو یکسر انداز کیا جارہا ہے جس کے باعث کشمیریوں کو چھوٹی چھوٹی باتوں پر روزانہ تضحیک آمیز بھارتی رویہ اشتعال کی وجہ ہے۔امریکی اخبار کے مطابق بھارت نے پچھلے برس سے غیر ملکی صحافیوں پر کشمیر میں رپورٹنگ کی پابندی لگا دی ہے یہاں تک کہ واشنگٹن پوسٹ کو سری نگر تک محدود رہنے اور بھارت مخالف افراد سے نہ ملنے کی شرط پر اجازت دی گئی ۔ محقق کے مطابق سوشل میڈیا کی سبب پڑھا لکھا طبقہ مزاحمتی تحریک میں زیادہ شامل ہورہا ہے تاہم سینئر بھارتی اہلکار نے امریکی اخبار سے اعتراف کیا کہ نوجوانوں کا مزاحمتی تحریک میں شامل ہونا پریشان کن ہے۔اس قبل گاہے بگاہے امریکی اخبارات کشمیر پر حقائق کوطشت از بام کرتے رہے ہیں۔ نوے کی دہائی میں جب آج کی طرح عالمی ذرائع ابلاغ کا کشمیر میں داخلہ بند تھا تو امریکی اخبارات ٹائم میگزین، نیوزویک، واشنگٹن پوسٹ، واشنگٹن ٹائمز اور برطانوی اخبارات گارجین، دی ٹائمز اور بی بی سی نے ایسی ہی معرکۃ الآرا رپورٹس میں وادی کی اندرونی تصویر دنیا کو دکھانے میں اہم کردار ادا کیا تھا۔آج تیس برس گزرجانے کے باوجود امریکی اخبار یہ حقیقت تسلیم کر رہے ہیں کہ کشمیر ایشیا کے خطرناک ترین فلیش پوائنٹس میں سے ایک ہے۔ جہاں کسی بھی وقت ایٹمی تصادم کا امکان بدستور موجود ہے۔ پاکستان اور ہندوستان دونوں ممالک کے پاس ایٹمی ہتھیار ہیں اور دونوں میں مذہب کی لکیر حائل ہے اور کشمیر دونوں کے درمیان پھنس کر رہ گیا ہے جبکہ نیویارک ٹائمزمیں گزشتہ برس ایک مضمون شائع ہواجس میں نیویارک ٹائمز میںایک مضمون نگار نے یہ اعتراف بھی کیا ہے کہ کشمیر میں بھارتی فوج کو ٹیکنالوجی کی شکل میں اسرائیل کی تکنیکی معاونت حاصل ہے۔ بالالفاظ دیگر کشمیریوں کے خلاف بیک وقت بھارت اور اسرائیل برسرجنگ ہیں۔ 4 اگست 2018ء کو معروف امریکی اخبار نیویارک ٹائمز نے اپنی ایک رپورٹ میں لکھاتھا کہ اب کوئی کشمیری بھارت کا حصہ نہیں بننا چاہتا۔ امریکی اخبار کی رپورٹ میں بتایا گیا کہ بھارت کی اکثریتی آبادی ہندئووں میں قوم پرستی کے جذبات میں اضافے کے نتیجہ میں کشمیری مسلمانوں میں بھارت کے خلاف نفرت بڑھی ہے۔ہندو آبادی میں قوم پرستی کے جذبات میں اضافے کا نشانہ زیادہ تر مسلمان ہی بنتے ہیں۔ اس کا نتیجہ یہ نکلا ہے کہ بھارت سے نفرت کرنے والے کشمیریوں کی تعداد پہلے سے کہیں زیادہ ہو چکی ہے اور وہ بھارتی تسلط سے آزادی کی جدو جہد میں مصروف کشمیریوں کی صفوں میں شامل ہو رہے ہیں۔ نیو یارک ٹائمز کی کشمیرسے متعلق رپورٹ میں کہا گیاکہ بھارتی حکمراں جماعت بی جے پی کے برسراقتدار آنے کے بعد بھارتی ہندئووں میں قوم پرستانہ جذبات میں اضافہ ہوا ہے اور حکمراں جماعت کے کئی اہم لیڈروں کا ریکارڈ مسلم اقلیت کے ساتھ سلوک کے حوالے سے قابل اعتراض ہے۔ بی جے پی لیڈروں کے طرز عمل نے انتہا پسند ہندئووں کی حوصلہ افزائی کی ہے جس کی وجہ سے بھارت بھر میں مسلمانوں پر حملوں اور ان کے قتل کی وارداتوں میں اضافہ ہو گیا ہے۔خیال رہے کہ مقبوضہ کشمیر میں بھارتی مظالم کا سلسلہ جاری ہے جو ہر گزرتے دن کے ساتھ زور پکڑتا جا رہا ہے اور2018ء میں بھارتی فوج کی بربریت کے دوران چارسوسے زائدکشمیری نوجوان شہیدجبکہ ہزاروں زخمی ہوئے۔ 

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Copied!