Pakistan Columns

All Columns (Urdu and English)Of Pakistan You Could Easily Read Here/

Rupy Ki Qadrar Gatana, Wafadari Ya Ghadari?

ہمارے پیارے وطن میں ایک رسم چل نکلی ہے، کہ کسی شخص کی تعریف یا منفی پہلو پہ تبصرہ آرائی ، کچھ اس شدومد سے کی جاتی ہے کہ حقائق مسخ ہوکر رہ جاتے ہیں ، اور یارلوگ وہ پہلو اجاگر کرنے میں کامیاب ہوجاتے ہیں، جس کو وہ منظر عام پہ لانا چاہتے ہوتے ہیں، کچھ ایسی صورت حال پاکستانی وزیر خزانہ، اسدعمر کے ساتھ بھی ہوئی گو اب وہ ”سابق“ القاب کے ساتھ پکارے جاتے ہیں۔ مگرتحریک انصاف نے اپنی جدوجہد حکمرانی میں پہلے تو ایک مستند قادیانی کا نام لیا تھا، کہ وہ وزیر خزانہ ہوں گے، اس وقت وزیراعظم عمران خان کو اس کے بارے میں کوئی معلومات نہیں تھیں، بلکہ اس کے نام کے اعلان کے وقت انہوں نے اپنے پیچھے کھڑے ہوئے، جہانگیر ترین سے منہ موڑ کے پوچھا، اور انہوں نے پھر بتایا کہ وہ غالباً ہارورڈ کا پڑھا لکھا، اور وہاں کے چند ٹاپ کے اقتصادیات کے ماہرین میں شامل تھے، خداخدا کرکے پاکستانیوں کے شدید احتجاج کی بنا پر یہ فیصلہ ملتوی کردیا گیا۔ مگر بدقسمتی اور شرکے سائے ابھی تک چھائے ہوئے تھے، کیونکہ ہم وطنوں کو ایک اور خبر سنائی گئی کہ حکومت ملنے پر تحریک انصاف اسدعمر کو بائیس کروڑ عوام کے ملک کا وزیر خزانہ بنائے گی، اور پھر اس کے ساتھ ان کیتعریف وتوصیف میں زمین اور آسمان کے قلابے ملائے جانے لگے، جبکہ ان کے سگے بھائی زبیر، جوکراچی کے گورنر بھی رہے، انہوں نے اس اعلان اور”نوید“ کو ٹھکرادیا، اور فرمایا کہ اس سے زیادہ اپنے ملک سے زیادتی نہیں ہوسکتی کہ ایک نااہل شخص کے ہاتھ میں اتنی بڑی اہم ذمہ داری سونپ دی جائے، لہٰذا ان کا فرمان تھا کہ خدارا ہوش کے ناخن لیں، اور ایک ایسے شخص کے ہاتھ میں معیشت کی باگ ڈور نہ دیں، کہ جس کا اس کوکوئی تجربہ ہی نہ ہو، امید ہے اعظم سواتی میری بات کا بُرا نہیں منائیں گے کیونکہ اسد عمر اینگرو کھاد کے سی ای او تھے محض ایک کھاد بیچنے والا جس کو مارکیٹنگ کا تجربہ تھا، اس کو اتنے بڑے ملک کا وزیر خزانہ بنادیا گیا، اور اس حوالے سے کسی مخالفت کو خاطر میں نہیں لایا گیا، کچھ دن پہلے میں نے پڑھا کہ کرپشن اتنا نقصان نہیں پہنچاتی ، جتنا نقصان نااہل قیادت پہنچاتی ہے، مسلمانوں کو یہ بتایا گیا ہے کہ قیامت کی نشانیوں میں ایک نشانی یہ بھی ہے، کہ حکومت نااہل لوگوں کے ہاتھوں میں ہوگی ”مارکیٹنگ“ کے بندے نے اپنی مارکیٹنگ کچھ اس فکروفلسفے سے کی، کہ اس نے عوام اور حکمران کو چکرا کررکھ دیا، اور اپنی نااہلی کو کچھ اس ملمع کاری سے چھپایا کہ کسی کو کانوں کان خبر نہ ہونے دی، ان کے روزمرہ کے بیانات، اور خیالات کا اظہار کچھ اس تواترسے ہوتا رہا، ایسا دکھائی دیتا تھا کہ تحریک انصاف کی حکومت محض اس شخص کی قابلیت کی مرہون منت ہے، اور ہماری کمزور معیشت کو استوار صرف اور صرف یہی کرسکتا ہے، اور بقول حکیم الامت حضرت علامہ اقبالؒ

آزادی افکار سے ہے، ان کی تباہی

رکھتے نہیں، جو فکرو تدبر کا سلیقہ!

انسان کو حیوان بنانے کا طریقہ !

قارئین کرام ، ہمارے وطن کی دوبڑی اور کئی چھوٹی جماعتوں پر الزام ہے کہ ان کے سربراہوں نے قانون شکنی، اور بعض نے آئین شکنی کی ہے، لہٰذا ان پر غداری کا مقدمہ چلنا چاہیے، ان میں کچھ لوگ تو ملک سے باہر اور کچھ جیل کے اندر ہیں، سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ جنرل ایوب خان مرحوم کے دور میں پاکستان نے ترقی کیجانب سفر شروع کردیا تھا، اور مرحوم کہا کرتے تھے، کہ جنگ عظیم کی حشرسامانیوں کے باوجود اگر جاپان ترقیکی منازل طے کرسکتا ہے تو پاکستان کیوں ترقی یافتہ ملک نہیں بن سکتا؟ اور میں ان شاءاللہ پاکستان کو جاپان جیسا بناکر چھوڑوں گا ، اور انہوں نے اپنے وزیر خزانہ اور ماہرین اقتصادیات کو سختی سے تنبیہہ کی ہوئی تھی، کہ روپےکی قدر میں میرے ہوتے ہوئے کبھی کمی نہیں کی جائے گی، اور یہ ہرصورت ہندوستان روپے کے مقابلے میں زیادہ رہے گا، اور تاریخ گواہ ہے کہ ایوب خان کے دور میں پاکستانی روپیہ بھارت کے روپے کے مقابلے میں تقریباً ایسا تھا ، کہ پاکستانی روپیہ اگر سوکا تھا، تو بھارتی روپیہ 170روپے کا تھا خداگواہ ہے کہ میراخیال ہمیشہ بار بار اس بات پہ کڑھتا ہے کہ اسد عمرنے آتے ہی بغیر کسی بات کی پروا کیے اور بغیر کسی کے کہے، چارگنا کم کردی، جس کی وجہ سے کروڑوں عوام کو مہنگائی کی چکی میں پیس کر رکھ دیا گیا۔ کیا یہ پاکستان سے وفاداریہے، یا یہ ”غداری“ ہے؟کیونکہ مہنگائی ناقابل برداشت بڑھنے سے اس دوران غریبوں اور ناداروں نے ہزاروںکی تعدادمیں خودکشیاں کی ہیں اگر حکمت عملی یہی تھی، کہ ڈالر کی قیمت بڑھاکر ناقابل بیان حدتک پاکستانیوں کے سروں پر قرضہ کا بوجھ ڈال دیا گیا، ایسا کرنے کا نہ تو آئی ایم ایف نے کہا ہے اور نہ ہی کسی اور بینک نے، تو پھر یہ اقتصادی خودکشی کرنے کی کیا ضرورت تھی ؟اس حوالے سے اسد عمر نے کہا ہے، کہ میں نے اپنی CONTRIBUTIONدے دی ہے، لیکن اس کا نہیں بتایا کہ کس کس کو دی ہے، اور کتنی دی ہے؟ کیا قوم جاننے میں حق بجانب نہیں ہے کہ روپے کی قدر میں کمی سے کس کس نے اربوں ڈالر کمائے ہیں ؟ موجودہ وزیر خزانہ حفیظ شیخ کو اتنی کم مدت میں قوم کے لیے بجٹ تیار کرنا ہے، میں چونکہ ان کو زیادہ نہیں جانتا مگر شیخ ہونا، ان کی سب سے بڑی خوبی ہے، اسد عمر کا اس موقعے پہ استعفیٰ دینا، یا ان سے استعفیٰ لینا، ہماری سمجھ سے باہر ہے، بجٹ کا اتنا کم وقت دینا، اور نئے وزیر خزانہ کو گھبراہٹ میں مبتلا کرنے کے بارے میں رسول پاک کا فرمان ہے کہ کسی مسلمان کے لیے جائز نہیں ہے، کہ وہ اپنے بھائی کو گھبراہٹ میں مبتلا کرے، مگر اس وقت خدشہ یہ ہے کہ کوئی دل جلا اگر اسد عمر کے خلاف سپریم کورٹ چلا گیا تو پھر کیا ہوگا؟ کیونکہ اب تو چیف جسٹس بھی کوئی دباﺅ قبول نہ کرنے والے ہیں !

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Copied!