Pakistan Columns

All Columns (Urdu and English)Of Pakistan You Could Easily Read Here/

Roshan Rahein !

ہمارے ہاں جدید دور کی ناقابل فہم ترقی میں اخلاقی استحکام ایک خواب سابن کررہ گےا ہے ، ہم عظےم الشان اقدار کے وارث ہونے کے باوجود سماجی اطوار کی پست ترےن منزل پر کھڑے ہےں ۔ آج جب مےں اپنے معاشرے کی حالت دےکھتا ہوں تو مجھ پر لرز ہ طاری ہو جا تا ہے ، جھوٹ، منافقت اور نو سر بازی عام ہےں، اسی پر ہمارا معاشرہ آگے بڑھ رہا ہے ۔ انفرادی طور پر اگر ہم اپنے روےوں کا محاسبہ کرےں تو جن طور طرےقوں کی ہمارے ہاں کوئی گنجائش نہےں ہونی چاہےے انہی کے سہارے ہم ہر طرح کی غلاظت مول لے رہے ہےں ۔جھوٹ جو کہ ہمارے سماج کاسب سے بڑا نا سور ہے جس کی ہمارے معاشرے مےں کوئی گنجائش نہےں ہونی چاہئے ، وہ عام ہے۔اےک اسلامی معاشرہ کے فرد ہونے کے ناطے ہمےں سوچنا چاہےے کہ ہم نے اپنی الگ رےاست کےوں بنائی تھی، اس رےاست مےں بطور مسلمان ہمارے کےا روےے ہونے چاہئیں ، وہ دو قومی نظرےہ جس کی بنےاد پر ہم نے پاکستان حاصل کےا ،ہم نے اپنی سنہری اقدار کے واسطے لڑائی لڑی ۔ کےا آج ہم واپس انہی حالات پر نہےں کھڑے؟کےا ڈاکٹر علامہ اقبال نے پاکستان کا خواب اس لےے دےکھا تھا کہ ہم اس مےں رہتے ہوئے ہم اچھے برے کی تمےز بھول جائےں ، کےا قائد اعظم محمد علی جناح نے اس لئے لےڈ کےا تھا کہ ہم دنےا وی طور پر اےک دوسرے سے آگے نکلنے کی دوڑ مےںاپنے اسلاف کی رواےات کو پاش پاش کر دےں ، جب ہم اپنے باپ دادا کو دےکھتے ہےں، ہمےں جو جےنے کے انداز نظر آتے ہےں ،ہم ان سے کےوں بےگانے ہو گئے ہےں ۔سوشل مےڈےا پر اےک طائرانہ نظر ڈالےں تو وہاں کئی قبا حتےں ملےں گی ، اےک دوسرے کو نےچا دکھانے کے لےے ذاتی زندگےوں پر حملے ہو رہے ہےں، سچ کو جھوٹ اور جھوٹ کو سچ بنا کر پےش کےا جا رہا ہے، کسی کی عزت محفوظ نہےں ہے، نا جائز پگڑےاں اچھالی جا رہی ہےں ،احسن اقدار کو روندا جا رہا ہے ، مٹھی بھر فائدے کے لےے سماجی حسن کو داغ دار کےا جا رہا ہے، گو سوشل مےڈےا شےطانی کھےل کا ذرےعہ سا معلوم ہوتا ہے ،اس طرح دوسرے مےڈےم ہےں ، باقاعدہ مہم کی شکل مےں ہمارے اسلاف کی تعلےمات کو ہماری نظروں سے اوجھل کر دےا گےا ہے، اس سازش کو بے نقاب کرنے کی ضرورت ہے، جو ہمارے خلاف بُنی گئی ہے ۔
آج ہم نے اپنی اس دنےاوی زندگی ہی کو اپنا اصل بناےا ہوا ہے، ہمےں ےہ سمجھنے کی ضرورت ہے کہ ےہ دار لامتحان کی جگہ ہے ، اس کے بعد انسان اےک نئے سفر پر چل نکلے گا ، جس کا زادِ راہ پہلے سفر مےںکےے گئے اعمال کے نتےجے کے مطابق ملے گا ،اللہ تعالیٰ سے ہمےں ہمےشہ اچھی امےد رکھنے چاہئے ۔وہ انسان پر انتہائی رحم کرنے والا ہے ، وہ چاہتا ہے کہ اس کا بناےا ہوا ےہ شاہکار ہمےشہ کامےاب و کامران اور پر سکون رہے ۔ ےہی وجہ ہے کہ حضرت آدم علےہ السلام سے لے کر نبی آخر الزمان حضرت محمد تک متواتر انسان کی صحےح راہ نمائی کے لےے وہ اپنے رسول بھےجتا رہا ہے اور ہمارے لےے شکر کا مقام ہے کہ ہم قرآنی عہد مےں پےدا ہوئے ،اگر ہم اس کے مطابق زندگی گزارےں گے تو ےقےنا زندگی کے ہر موڑ پر کامےاب و کامران ہو ں گے ، ہمےں اغےار کے آگے جھکنے کی ضرورت نہےں پڑے گی ، ہمارا معاشرہ جنت بن جائے گا ،ہمارے رشتے امن و امان کا گہوارہ ہو ں گے، دنےا ہمےں قدر کی نگاہ سے دےکھے گی ۔ قےامت کے دن ناکامی سے بچنے کا واحد حل ےہی ہے کہ ہم اس دنےا مےں اپنی زندگی کو اصل ڈگر پر لے کر چلےں ۔اپنے باپ دادا کی طرف سے ودےعت کی گئی سنہری اقدار کو دوبارہ زندہ کریں گوےا اپنے نفس کی اس طرح تربےت کرےں کہ موت کے بعد جنتی ماحول کے معےا ر پر پورا اترےں ، ہم خوب سمجھ لےں کہ صدےوں کے سفر مےں اس دنےا کا لمحہ لمحہ اہم ترےن ہے ، ےہی وہ موقع ہے جس مےں ہم اپنے آپ کو اس سمت کی طرف ڈھال سکتے ہےں جوجنت کو جاتی ہے۔ ےہ بات ےاد رکھنے کے قابل ہے کہ جنت کو جانے والاراستہ انتہائی تنگ ہے جسے پل صراط بھی کہا گےا ہے، رسول نے اسے تلوار سے زےادہ تےز اور بال سے زےادہ بارےک کے ساتھ تشبےہہ دی ہے ، اگر پل صراط سے ادھر ادھر ہو گئے تو جنت کو کھو کر دوزخ کی اتھاہ گہرائےوں مےں گم ہو سکتے ہےں ،ہم نے ےہ سمجھ لےا ہے کہ اس جدےددنےا کے مقابلے مےں ہمارے باپ دادا کے سنہری اصول پرانے ہو گئے ہےں ، ےہی ہماری بنےادی غلطی ہے، حےرانی کی بات ہے کہ ہم اپنے گردو پےش کی ہر اچھی بری شے کو ہر جائز ناجائز طرےقے سے حاصل کرنے کی تگ و دو مےں پڑے رہتے ہےں ، اول بات تو ےہ کہ ہمےں طے کر لےنا چاہئے کہ دنےا کے فائدے عارضی ہےں جنہےں حاصل کرنے کے لےے ہم جھوٹ کا سہارا لے رہے ہےں جو دنےا مےں بھی ہمارے لےے ذلت کا باعث ہی بنا رہا ہے اور آخرت مےں تو اس روےے کا برا نتےجہ بر آمد ہو گا، ہم اپنے اچھے روےوں کو اپنے بُرے روےوں پر قربان کر رہے ہےں ، مجھے دکھ ہوتا ہے ہم اعلیٰ تہذےبوں کے وارث ہےں ،ہم ےہ جانتے ہےں کہ دنےا مےں جو پےدا ہوا ہے اسے فنا بھی ہونا ہے مگر ہم باز نہےں آتے ، معاشرتی زندگی ہماری بد اعمالےوں کی وجہ سے بد بو دار ہو چکی ہے ۔ہم حسن سلوک سے پےش آنے کو مسلسل نظرانداز کر رہے ہےں، اس سے کسی کا نقصان نہےں بلکہ ہم اپنے آپ کو دھوکا دے رہے ہےں ۔ ہم فائدہ کے شےدائی ہےں لےکن اپنے ہی ابدی فوائد کے خلاف کام کر رہے ہےں ، سفر جاری ہے مگر افسوس ہے کہ مسافر ےوں پڑاﺅ ڈال کر بےٹھ گئے ہےں جیسے اب ےہاںسے کبھی اٹھنا ہی نہےں ۔ لےکن جب اللہ تعالیٰ کے سپاہی اگلے سفر کی طرف دھکےل دےتے ہےں تو پھر اپنی کوتاہی نظری پر افسوس کے سوا کچھ حاصل نہےں ہوتا ، ہمارے روےے قابل اعتراض ہےں مثلاً جب ہم نے کہےں اےک دن کا بھی سفر کرنا ہوتا ہے تو اس کے لےے خوب تےاری ہوتی ہے لےکن زندگی کے ہمےشہ کے سفر کے لےے کچھ تےاری نہےں ہوتی ۔
آج ہم جس دور مےں زندگی گزار رہے ہےں اگر ہم اپنے روےوں پر غور کرےں تو مشاہدے مےں یہ بات آتی ہے کہ انسان کی محبت اور توجہ کا رخ غلط ہے، اس کی تگ و دو عارضی ماحول کو بہتر بنانے پر منحصر ہے ، لےکن اس کی پہچان سے غفلت بے حد نقصان ثابت ہو سکتی ہے ،مجھے بطور اداکار انسانی روےوں کو بڑے قرےب سے د یکھنے کا اتفاق ہوا ہے مےں ےہ جان پاےا ہوں کی ہم لوگ زندگی بھر اپنا وقت، دولت اور محنت اپنے جسم کی نشو و نما کے لےے صرف کرتے ہےں لےکن جسم کے اندر بسنے والی اپنی ” اصل“ کی ترقی کے لےے کچھ نہےں کرتے ۔ جدےد دور کے طور طرےقوں پر تو ےقےن رکھتے ہےں مگر اصل منزل تک پہچانے والے اصولوں پر سمجھوتہ کر بےٹھے ہےں ۔ مےں اپنا کالم حضرت محمد کی اس بات پر ختم کروں گا جس کا مفہوم ہے کہ اگر تم چاہتے ہو کہ اللہ تم سے محبت کرے تو دنےا کے بارے مےں زہد اختےار کرو ، اگر تم چاہتے ہو کہ لوگ تم سے محبت کرےں تو جو لوگوں کے پاس ہے اس سے بے فکر اور سخی ہو جاﺅ۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Copied!