Pakistan Columns

All Columns (Urdu and English)Of Pakistan You Could Easily Read Here/

Rony Keliey Kaafi Hai

معاشیات، ادویات، ضروریات اور حادثات سے ہٹ کر گزشتہ دس دن نہایت تکلیف کے حامل تھے۔ بارہ اپریل کو کوئٹہ کے علاقے ہزار گنجی کی سبزی منڈی میں ایک خودکش دھماکے میں بیس افراد جاں بحق اور اڑتالیس زخمی ہوگئے اور یوں دہشت گردی کا ایک اور افسوس ناک واقعہ پاکستان کی تاریخ میں رقم ہوگیا۔ کسی رنگ، نسل،مذہب اور فرقے کی تفریق کے بغیر دیکھا جائے تو جاں بحق ہونے والوں کے خون کا رنگ ایک سا ہی ہوتاہے ۔ سب ایک جیسے انسان جنہیں سفاک دہشت گرد نے مار ڈالا۔ واقعے کے بعد ہمیشہ کی طرح ہر جانب سے مذمتوں کا آغاز ہوگیا۔وزرا ¿نے آکر تسلی دی۔دشمن کا سر کچل دیں گے۔ دہشت گردوں کو نشانِ عبرت بنانےکے عزم کو دہرایا گیا۔ لیکن کوئٹہ میں آباد ایک برادری جسے ہزارہ برادری کہا جاتا ہے چار دن تک سڑک پر بیٹھی سراپا احتجاج رہی۔ یہ پہلا موقع نہیں تھا کہ اس برادری کو دہشت گردی کا نشانہ بنایا گیا ہو۔ گزشتہ سترہ سالوں میں اپنے تین ہزار جوانوں کا غم لیے یہ برادری بار بار سخت موسم اور بارش کی پرواہ کیے بغیر اپنے مطالبات کے لیے کئی کئی دنوں پر محیط احتجاج کرتی رہی ہے ۔ ماضی میں کبھی وزیراعظم، کبھی آرمی چیف، کبھی وزیر داخلہ ان کے پرامن احتجاج کے آگے کئی بار گھٹنے ٹیکنے پر مجبور ہوئے اور تسلی، تشفی اور دلاسہ دینے خود چل کر ان کے پاس پہنچے۔ یہ حکام سے پوچھتے رہے کہ آخر ہمارا قصور کیا ہے ۔ ہماری حب الوطنی کا عالم یہہے کہ ہماری برادری سے تعلق رکھنے والے پاک فوج میں افسر بھی اور جوان بھی، کالج اور یونیورسٹی میں پروفیسر بھی اور طالب علم بھی ، بڑے بڑے ڈاکٹر، نامور کھلاڑی ہم سب کچھ بننے کے لیے تیار رہتے ہیں۔ سو فیصد شرح خواندگی رکھنے والے ان بے ضرر پاکستانیوں کو ابھی تک معلوم نہیں کہ اتنی بڑی بڑی کالعدم تنظیمیں انہیں مار کر ذمہ داری قبول کرنے پر فخر کیوں محسوس کرتی ہیں۔ حقوق انسانی کے لیے کام کرنے والی ایک کارکن جلیلہ حیدر سے جب میری گفتگو ہوئی تو آنکھوں میں آنسو لیے ان کا کہنا تھا کہ اب تو قبرستانوں میں جگہ بھی نہیں رہی۔ صرف دو ماہ بعد یعنی مئی کے مہینے میں ہم اپنی نہ قتل ہونے کی سالگرہ منانے والے تھے اور اس سلسلے میں ایک شکریہ کا خط آرمی چیف کو ارسال کرنے کی تیاری بھی کرلی گئی تھی۔ مگر ظالموں نے یہ خوشی بھی پوری نہیں ہونے دی۔ ان کے بے ضرر ہونے کا اس سے بڑا ثبوت کیا ہوگا کہ آسٹریلیا اور نیوزی لینڈ جیسے پرامن ممالک نے ماضی میں ان کے لیے امیگریشن تک کھول دی تھی۔ اگر یہ اتنا ہی فتنہ پرور ہوتے تو یہ ممالک انہیں کبھی بھی اپنی شہریت اختیار کرنے کی دعوت نہ دیتے۔ دوسری لاچارگی دیگر پاکستانیوں کی نظر آئی۔ صرف گزشتہ دس دنوں میں وہ یہ سوچنے پر مجبور ہوگئے ہیں کہ گھر سے نکلے تو ہنستے مسکراتے مگر کوئی اندھی گولی ناجانے کہاں سے آکر میرے بچے کی جان لے لیتی ہے ۔ ذرا سے پیٹ میں درد اگر ہوگیا تو کوئی جاہل غلط انجیکشن لگا کر میرے بچے کو زندگی بھر کے لیے مفلوج کردیتا ہے ۔ منہ پیٹنے کے لیے یہ کافی ہے کہ میرا بچہ تو مر کر بھی محفوظ نہیں ہے ۔ کوئی شیطان قبر میں سوئے ننھے فرشتے کو نکال لیتا ہے ۔ سانحہ ماڈل ٹاو¿ن اور سانحہ ساہیوال جیسے بدنما داغ اپنے ماتھے پر سجائے پنجاب پولیس کیا کم تھی کہ کراچی میں پولیس کی یونیفارم میں قاتل دندناتے محسوس ہونے لگے ہیں۔ ہماری سیکورٹی فورسز الرٹ ہیں۔ ہمارے ادارے کئی محاذوں پر دشمنوں کا مقابلہ کررہے ہیں۔بلوچستان جہاں کالعدم تنظیموں سے نمٹنا پڑ رہا ہے وہاں بھارت کی مداخلت بھی ثابت ہے ۔ کلبھوشن یادیو زندہ ثبوت….سی پیک اور گوادرعالمی نظریں….یہ سب ہمیں اور دنیا کو نظر آرہا ہے ۔ ایسے موقع پر جب سوئٹزرلینڈ جیسا ملک چائنہ کے ساتھ ون بیلٹ ون روڈ منصوبے میں شراکت دار بننے جارہا ہے پاکستانکے صوبہ بلوچستان کے ضلع گوادر میں نامعلوم مسلح افراد نے 14 افراد کو گولیاں مار کر شہید کر دیا۔ یہ واقعہ اورماڑہ میں بدھ اور جمعرات کی درمیانی شب پیش آیا جب مختلف مسافر بسوں میں کراچی اور گوادر کے درمیان سفر کر رہے تھے۔ اس علاقے میں نامعلوم مسلح افراد نے چار، پانچ بسوں کو روکا اور نہایت تسلی اور بے خوفی سے ان بے قصور افراد کو بسوں سے نیچے اتارا، ان کے شناختی کارڈ چیک کیے جب مکمل طور پر محب وطن پاکستانی کی شناخت کا یقین کرلیا تو ہاتھ باندھے اور گولیوں سے بھون ڈالا۔ حد تو یہ ہے کہ ان مرنے والوں کو بھی یہ نہیں پتہ تھا کہ ان کو مارنے والے کے پاس ہمیں مارنے کے لیے وجہ کیا ہے ۔ تاہم مارنے والوں نے اپنی ذمہ داری اس بار بھی فخریہ انداز میں قبول کی۔ جو بلوچستان لبریشن فرنٹ، بلوچستان لبریشن آرمی اور بلوچستان ریپبلکن گارڈز پر مشتمل مسلح اتحاد ہے ، اور اس کا قیام گزشتہ سال ہی عمل میں آیا تھا۔ اور اس حوالے سے 10 نومبر کو ایک مشترکہ اعلامیہ بھی جاری کیا گیا تھا۔ اس اتحاد کی کارروائیوں کا مرکز زیادہ تر چین پاکستان اقتصادری راہدری کے آس پاس کے علاقے ہیں۔ یعنی طے یہ ہوا کہ مارنے والے پاکستان کے خلاف الحاق کرچکے۔ میرا سوال تمام سیاسی اور مذہبی جماعتوں سے یہ ہے کہ کل جمعے کے روز ان چودہ خالص پاکستانیوں کے بہیمانہ قتل پر کسی ملک گیر ہڑتال کی کال کیوں نہیں دی گئی؟ کیوں نہیں کہا گیا کہ بعد نماز جمعہ ہم اپنے پاکستانی بھائیوں کےخاندانوں کے ساتھ اظہار تعزیت اور یکجہتی کے لیے عظیم الشان ریلی کا انعقاد کریں گے۔یا پھر قاتلوں کی گرفتاری تک دھرنا دیا جائے گا۔نہیں ایسا نہیں کیا گیا۔کدھر گئے پاکستان کے قاضی،مفتی،مولانا ، علامہ، شریف، نیازی، زرداری، بھٹو۔ ہاں یہ سب مصروف ہیں حکومت کو ڈھانے، گرانے، اٹھانے اور ہرانے میں۔


Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Copied!