Pakistan Columns

All Columns (Urdu and English)Of Pakistan You Could Easily Read Here/

Pakistan Main Sadarti Aur Palimani Nazam Ki Jang

کسی مملکت کے اداروں، منصوبوں اور خیالات کو ظاہر کرنے اور اس کا نظام چلانے کے لیے حکومت کی تشکیل عمل میں لائی جاتی ہے۔ دنیا بھر میں نظام حکومت کے مختلف طریقے رائج ہیں۔ تاہم پاکستان میں آج تک دو طرح کا نظام حکومت اپنایا گیا جو یا تو صدارتی تھا یا پھر پارلیمانی پیشتر حکومتوں بالخصوص فوجی حکمرانوں نے اپنے لئے صدارتی نظام کو پسند کیا اور پارلیمانی نظام کے خلاف رہے یا پھر جمہوریت پسندوں نے پارلیمانی نظام رائج کرنے کی کوشش کی اور صدارتی نظام کے خاتمے کے لئے قربانیاں دیں۔ قیام پاکستان کے بعد اب تک اکہتر سالوں میں مجموعی طور پر بارہ حکومتیں بن چکی ہیں جن میں سے سات حکومتیں صدارتی نظام کے تحت چلیں جبکہ بقیہ پانچ حکومتوں میں سے تین نے پارلیمانی نظام کی بنیاد رکھی۔ تاہم اب یہ تیسری ایسی حکومت کا تسلسل ہے جو پارلیمانی نظام کے تحت قائم ہوئی۔ تحریک انصاف کے برسر اقتدار آنے سے قبل دو حکومتوں نے پہلی بار اپنی مدت بھی مکمل کی ۔ پارلیمانی نظام ایسی جمہوری حکومت کو کہتے ہیں جس میں مجلس عاملہ کے وزراءپارلیمنٹاور مقننہ کو جوابدہ ہوتے ہیں۔ صدارتی جمہوریت یا صدارتی طرز حکومت ایک ایسا نظام حکمرانی ہے جس میں تمام تر انتظامی اختیارات صدر مملکت کے پاس ہوتے ہیں۔ صدر کو کابینہ کی تشکیل اس میں تبدیلی اور کسی وزیر کو اس کے عہدے سے برطرف کرنے کا مکمل اختیار حاصل ہوتا ہے۔ پاکستان میں سب سے پہلے صدارتی نظام پہلے باوردی صدر میجر جنرل سکندر مرزا نے اپنایا جو دو سال سات ماہ صدر رہے۔ یہ اقدام انھوں نے اس وقت اٹھایا جب 1956 میں پہلا پارلیمانی آئین بنے دو سال ہی گزرے تھے اور پارلیمانی حکومت کی بنیاد رکھی جا رہی تھی۔ اس کے بعد جنرل ایوب خان اور پھر جنرل یحییٰ خان نے بھی باوردی صدر بننے کا سلسلہ جاری رکھا اور1971 تک تیرہ سال ملک میں باوردی صدارتی نظام نافذ رہا۔ آمریت کے اس دور میں مادر ملت محترمہ فاطمہ جناح کی پارلیمانی نظام کے لئے خدمات ناقابل فراموش ہیں۔ جنہوں نے جنرل ایوب کے صدارتی نظام حکومت کے خلاف تحریک بھی چلائی۔ 20 دسمبر 1971 سے 13 اگست 1973 تک پیپلزپارٹی کے بانی ذوالفقار علی بھٹو ملک کے پہلے صدر اور سویلین مارشل لا ایڈمنسٹریٹر بنے۔ لیکن انھیں ان صدور کی صف میں شامل نہیں کیا جا سکتا جنھوں نے صدارتی نظام کے سر پر حکومت کی ۔ بلکہ ذوالفقار علی بھٹو نے ملک کو متفقہ آئین دیا اور قیامپاکستان کے 26 سال بعد پہلی مرتبہ پارلیمانی نظام حکومت قائم کرتے ہوئے پارلیمنٹ کو اختیار دیا گیا کہ وہ حکومت کا سربراہ وزیراعظم کو مقرر کرے، جب پاکستان ایک پارلیمانی جمہوریہ بنا تو ذوالفقار علی بھٹو وزیر اعظم بننے کے لیے صدارت سے مستعفی ہوئے۔ بھٹو کے بعد فضل الہٰی چوہدری 1973 کے آئین کے تحت پاکستانکے وہ پہلے صدر بنے، جن کے پاس وزیر اعظم سے کم اختیارات تھے۔ لیکن چار سال بعد ہی 5 جولائی 1977 کو مسلح افواج کے سربراہ جنرل محمد ضیاالحق نے ذوالفقار علی بھٹو کو عہدے سے ہٹا کر ملک میں مارشل لا اور پھر دوبارہ صدارتی نظام نافذ کر دیا۔ جبکہ پاکستان کو پارلیمانی جمہوریہ بنانے والے ذوالفقار علی بھٹو کو صدارتی نظاموالوں نے قتل کے ایک مقدمے میں گرفتار کر کے 4 اپریل 1979 کو سولی پر چڑھا دیا۔ فضل الہٰی کے 14 ستمبر 1978 کو سبکدوش ہونے کے بعد جنرل ضیا الحق اسی صدارتی نظام کے بل بوتے پر لگ بھگ 10 سال صدارت کے عہدے پر براجمان رہے۔ اسی دوران جنرل ضیاالحق نے غیرجماعتی انتخابات منعقد کروا کر نومنتخب اسمبلی سے آٹھویں ترمیم بھی منظور کروا لی جس کی شق 58 (ٹو) (بی) کے تحت صدر کو اسمبلی تحلیل کرنے کا اختیار حاصل ہوگیا اور یہی شق بعد میں صدارتی نظام کا سب سے بڑا ہتھیار بنی۔ 17 اگست 1988 کو صدر ضیاالحق کی وفات کے بعد 1973 کے آئین کے تحت سینیٹ کے چیئرمین غلام اسحٰق خان ملک کے پانچویں طاقتور صدر بن گئے۔ جن کا دور صدارت تقریباً 5 برسوں پر محیط رہا اور انھوں نے صدارتی نظام کی بدولت دو حکومتوں کو ختم کرنے کا کریڈٹ بھی حاصل کیا۔ 16 نومبر 1988 کو انتخابات کے بعد پیپلز پارٹی ایک بار پھر اقتدار میں آگئی۔ تاہم غلام اسحٰق خان نے دو سال کے اندر ہی آٹھویں ترمیم کے تحت صدر کو حاصل اختیار استعمال کرتے ہوئے بے نظیر بھٹو کی حکومت کی بساط لپیٹ دی۔اس کے بعد نواز شریف کی حکومت بنی لیکن جولائی 1993 میں نواز شریف نہ صرف خود وزارتِ عظمیٰ سے ہاتھ دھو بیٹھے بلکہ غلام اسحٰق خان کو بھی ساتھ لے ڈوبے۔ 1993 میں نئی حکمراں جماعت پاکستان پیپلز پارٹی کے فاروق احمد خان لغاری ملک کے صدر بنے۔ انہوں نے بھی 1996 میں صدارتی نظام کا ہتھیار استعمال کرتے ہوئے اپنی ہی پارٹی کی حکومت کو کرپشن کے الزام میں برطرف کردیا۔ 1997 کے انتخابات میں میاں نواز شریف کی جماعت نے بھرپور اکثریت کے ساتھ کامیابی حاصل کی اور بھاری مینڈیٹ کا فائدہ اٹھاتے ہوئے اسمبلی تحلیل کرنے کے صدارتی اختیارات کو ختم کرا دیا جس کے بعد نواز شریف اور صدر کے درمیان شدید اختلافات پیدا ہوئے اور فاروق لغاری کو مستعفی ہونا پڑا۔ پھر سپریم کورٹ کے سابق جج رفیق تارڑ یکم جنوری 1998 کو ملک کے صدر بنے۔ ان کے دور میں صدر کے اختیارات کو بتدریج کم کیا گیا اور بالآخر تیرہویں ترمیم کے ذریعے صدر کے اختیارات میں مزید کمی کردی گئی۔ لیکن سیاستدانوں کی ان تمام کاوشوں پر اس وقت پانی پھر گیا جب جنرل مشرف نے 12 اکتوبر 1999 کو نواز شریف کی حکومت کو برطرف کیا اور سابق فوجی سربراہان کی طرح 20 جون 2001 کو خود باوردی صدر بن گئے اور صدارتی نظام ایک بار پھر سے نافذ ہو گیا۔ دسمبر 2007 میں بےنظیر بھٹو کی ہلاکت اور 2008 کے انتخابات میں پاکستان پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ (ن) کی کامیابی کے بعد پرویز مشرف اگست 2008 میں مستعفی ہوگئے۔ ان کے بعد 9 ستمبر 2008 کو آصف علی زرداری نے صدر کا عہدہ سنبھالا۔ ذوالفقار علی بھٹو کے بعد آصف زرداری کو یہ اعزاز حاصل ہے کہ انھوں نے ایک بار پھر پارلیمانی نظام حکومت بنانے کے لئے 18ویں ترمیم منظور کروای اور تمام اختیارات وزیر اعظم کو منتقل کر دیئے۔ آصف علی زرداری کے بعد پارلیمانی نظامحکومت میں وزیراعظم اور کابینہ بااختیار ہوئے اور صدارت بالترتیب ممنون حسین اور اب آصف علوی تک پہنچ سکی ہے۔ اکہتر سالوں میں مجموعی طور پر پاکستان میں بارہ صدور بنے جن میں سے چھ صدور فوجی جبکہ چھ سویلین تھے۔ تاہم صدارتی نظام کو چھ فوجی اور دو سویلین سمیت آٹھ صدور نے اپنایا، دو صدور ذوالفقار علی بھٹو اور آصف زرداری نے پارلیمانی نظام کے لئے عملی اقدامات کئے۔ بغور جائزہ لیا جائے تو پتہ چلے گا کہ آج تک اس ملک میں جنگ ہی صدارتی اور پارلیمانی نظام حکومت کی چلتی آ رہی ہے۔ جس میں پارلیمانی نظام مظلوم نظر آتا ہے۔ آج کل جاری اس بحث کے پیچھے بھی غالباً یہی محرک کارفرما ہے کہ صدارتی نظام کے تحت ون مین شو بحال کیا جائے۔ تاہم آئینی ماہرین کا کہنا ہے کہ صدارتی نظام حکومت پر سب سے بڑا اعتراض یہ ہے کہ اس میں فرد واحد اختیارات کا منبع ہوتا ہے اور صدر کسی بھی شخص کو کابینہ میں شامل کر سکتا ہے جبکہ پارلیمانیسسٹم میں صرف عوام کے ووٹوں سے منتخب ہونے والا ہی کابینہ کا رکن بن سکتا ہے۔ اور یہاں جب بھی اقتدار کا منبع فرد واحد کو بنایا گیا، وہیں ملک و قوم کو نقصان پہنچا۔ معروف آئینی ماہر عابد حسن منٹو سے اس معاملے پر بات کرنے کا اتفاق ہوا تو انھوں نے اس امکان کو رد کر دیا کہ تحریک انصاف کی حکومت صدارتی نظام لا سکتی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ہمارا آئین پارلیمانی ہے اور پارلیمانی نظام حکومت کی بات کرتا ہے، صدارتی نظام لانے کے لیے اسے بدلنا پڑے گا اور آئین بدلنے کے لئے دونوں ایوانوں میں دو تہائی اکثریت کی ضرورت ہے جو ان کے پاس نہیں ہے۔ اب صرف ایک صورت میں ہی صدارتی نظام آ سکتا ہے کہ فوج سب کو برخاست کر کے مارشل لاءلگا دے اور آئین معطل کر کے صدارتی نظام نافذ کر دے۔ اس لئے سیاست دانوں کو یہ سوچنا ہو گا کہ انھوں نے اس پارلیمانی نظام کی حفاظت کرنی ہے جو قربانیوں کے نتیجے میں ملا ہے یا پھر سابق فوجی حکمرانوںکی سوچ کے مطابق باوردی صدارتی نظام کی راہ ہموار کرنی ہے۔


Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Copied!