Pakistan Columns

All Columns (Urdu and English)Of Pakistan You Could Easily Read Here/

Pakistan Ki Qurbania, Amrika Ka Aitraf

بلا آ خر امریکہ کو خیال آ ہی گیا پاکستان جو کئی سا لو ں سے دہشت گر دی کے خلا ف جنگ لڑ رہا ۔امریکہ نے ہمیشہ ڈو مور کا مطالبہ کیا ۔آ ج ہما را ملک معاشی بدحالی کی جس نہج پر کھڑا ہے اس میں بہت حد تک عا لمی سطح پر شروع کی گئی دہشت گر دی کی جنگ ہے ۔ جسے آ ج ہما ری پاک فو ج کی قربا نیو ں کی بدو لت کامیا بی نصیب ہو ئی۔ آج ہم پرامن فضا میں سا نس لے رہے ہیں یہ ہما ری پاک فو ج کی محنت اور قر بانیو ں کا ثمر ہے ۔امر یکہ کے کمانڈر سینٹکام جنرل میکنزی نے پاکستان کی سیاسی اورعسکری قیادت سے ملاقاتوں میں دہشت گردی کے خلاف جنگ میں پاکستان کی قربانیوں کا اعتراف کیا ہے۔نائن الیون کے حملوں کے بعد، مسلمانوں کا امیج دنیا بھر میں بری طرح متاثرہوا،اس طرز کے غیر مسلموں پرکیے جانے والے خودکش حملے کافی حد تک مسلم کمیونٹی کی شناخت کے طور پر پیش کیے جانے لگے ہیں۔پاکستان میں جنگ کے خلاف سب سے زیا دہ پاک فو ج نے قربا نیا ں دی ہیں۔ پاک فوج ہمارا اثاثہ اور سرحدوں کا تاج ہے اور پاک وطن کی حفاظت کے دوران ملک دشمن قوتوں کیساتھ لڑتے ہوئے جام شہادت نوش کرنیوالے آفیسر اور اہلکارہمار ا فخر ہیں۔ ان کی قربانیوں کو کبھی بھی فراموش نہیں کیا جا سکتا۔ افواج پاکستان نے عسکری صلاحیتوں کی برتری کو پوری دنیا میں ثابت کردیاکہ ہمارا ملک امن پسند ہے ۔دہشت گردی کے خلاف جنگ میں پاکستانی قربانیوں کی دنیا میں کوئی مثال نہیں ملتی ۔ ہمیں یہ تسلیم کرنا ہوگا دہشت گردی کے خلاف جنگ کسی ایک ملک کی نہیں پوری دنیا کی جنگ بن چکی ہے اور سب کو اس جنگ میں مل جل کر لڑ نا ہوگا۔دہشت گردی کسی بھی نوعیت کی ہو یا اس کا پس منظر سیاسی، سماجی، علاقائی، لسانی، قوم پرستی یا مذہبی بنیاد ہو اس کی ہر سطح پر یا فریق کی جانب سے نہ صرف مذمت ہونی چاہیے بلکہ اس کے خاتمہ پر سب کو مشترکہ حکمت عملی اختیار کرنی ہوگی۔ اس وقت عالمی دنیا میں مسلم دشمن یا مخالف عناصر اس منطق کو بنیاد بنا کر پیش کرتے ہیں کہ دہشت گردی کا تعلق اسلام کے ساتھ جڑا ہوا ہے۔حالیہ دنوں میں نیوزی لینڈ کے شہر کرائسٹ چرچ کی دو مساجد میں نماز جمعہ کے دوران مسلمانوں کے خلاف بدترین دہشت گردی کے عمل نے ایک بار پھر عالمی دنیا کی توجہ دہشت گردی جیسے سنگین مسئلہ کی طرف ڈالی ۔ اس حالیہ دہشت گردی کو مختلف لوگ مختلف پہلوئوں کے ساتھ دیکھ رہے ہیں۔ کوئی اسے اسلامو فوبیاکا نام دے رہا ہے تو کوئی اسے سفید نسل پرستی یا نسل پرستانہ عفریت کا نام دے کر مسئلہ کی اہمیت کو اجاگر کررہا ہے۔ بنیادی طو رپر اس مسئلہ کو سمجھنے کے لیے ضروری ہے کہ ہم اس نکتہ کو بھی سمجھیں کہ عالمی دنیا میں جو ایک خاص بیانیہ کے تحت مسلم دشمنی کو ابھارا جارہا ہے اور مسلمانوں کو ہر مسئلہ کا ذمہ دار قرار دینے کی جو روش ہے اس سے بھی مسلم دشمنی کے جذبات ابھر رہے ہیں۔ یہ سمجھنا ہوگا کہ عالمی میڈیا یا بڑی طاقتیں جس حکمت کے ساتھ مسلم دشمنی کے ایجنڈے کو طاقت فراہم کررہی ہیں۔ اس سے مسلم دنیا سمیت اب خود عالمی سطح پر دیگر ممالک کو داخلی بحران کا سامنا ہے۔ دہشت گردوں کا کوئی مذہب نہیں ہوتا اور جو بھی دہشت گرد ہوتا ہے چاہے وہ انفرادی سطح پر یا کسی گروہ کی شکل میں سامنے آتا ہے اس کی بنیاد انسان دشمنی اور انسانیت کے قاتل کے طور پر پیش کی جاتی ہے۔مغرب کو یہ بھی سمجھنا ہوگا کہ مسلم دنیا میں جو انتہا پسندی یا دہشت گردی کا عمل پھیلا ہے اس میں ان کی اپنی پالیسیوں کا عمل دخل ہے ۔جو خود عالمی دنیا کے لیے بھی خطرہ بن رہا ہے۔امریکہ سمیت عالمی بڑی طاقتوں کو سمجھنا ہوگا کہ جو عملی مظاہرہ نیوزی لینڈ کے وزیر اعظم جیسینڈر آرڈرن نے مسلم دنیا او رمقامی مسلم متاثرین کے ساتھ اختیا رکیا ہے یہ وہی رویہ ہے جو آج عالمی سطح پر ہمیں درکار ہے۔ عالمی سطح پر پھیلی ہوئی دہشت گردی سے نمٹنے کے لیے دنیا کی تمام ریاستوں کو اپنے اپنے داخلی نظام میں انتہا پسندی اور دہشت گردی جیسے مسائل سے نمٹنے کی موثر، شفاف حکمت عملی اختیا ر کرنی ہوگی۔ اس پہلو سے باہر نکلنا ہوگا کہ ہم انتہا پسندی اور دہشت گردی سے پاک ہیں ۔ریاستی اور عالمی یا علاقائی سطح پر ایک دوسرے کے ساتھ الزام تراشی کی بجائے تعاون کے امکانات کو ہی اصل طاقت فراہم کرنی ہوگی۔ عالمی سطح پر ان تمام سیاسی، سماجی او رمعاشی محرکا ت کو سمجھ کر ایک نیا متبادل بیانیہ بنانا ہوگا ۔ مسلم دنیا کو بھی اس تاثر کی نفی کرنی ہوگی او رخود اپنی داخلی سطح پر کمزوریوں او رسمجھوتوں کی سیاست سے باہر نکل کر دنیا کو یہ پیغام دینا ہوگا کہ اسلام امن کا مذہب ہے غیر مسلم دنیا کے درمیان مکالمہ، باہمی رابطوں، سماجی و کلچرل اہم آہنگی کو پیدا کرکے ہی اس دہشت گردی پر مبنی نفرت کی سیاست کو ختم کیا جاسکتا ہے۔آج بھارت پاکستان کے خلاف نفرت اور شر انگیزی کے جو ہیلے بہا نے بنا رہا ہے اقوام متحدہ کو اس پر نو ٹس لینا چا ہئے ۔اس وقت کشمیر،برما،فلسطین اور شام میں جو کچھ ہو رہا ہے اس پر عا لمی دنیا کی خا مو شی ہما رے لئے سو الیہ نشان ہے کیا دہشت گر دی کے خلاف جنگ میں صرف مسلمانو ں کو ہی ایندھن بنا یا جا ئے گا ؟آج مسلما نو ں اور اسلام کے خلاف پھیلتی نفرت اور اسلام دشمنی سب کے سا منے ہے ۔اب مسلما نو ں کو اکٹھا ہو نا ہو گا عا لمی حقوق کی تنظیمو ں کو اس کے با رے میں سو چنا ہو گا کیونکہ دہشت گر دی کے خلاف جنگ اب عا لمی مسئلہ بن چکی ہے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Copied!