Pakistan Columns

All Columns (Urdu and English)Of Pakistan You Could Easily Read Here/

Pahly Jaisa Ahtram Q Nahi …… ?

چیف جسٹس آف پاکستان جسٹس آصف سعید کھوسہ نے لاہور میں لاء کالج کی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا ہے کہ آج مُلک کاہر سیاسی ،معاشرتی اور اقتصادی مسئلہ عدالتوں میں ہوتا ہے لیکن ججز اور وکلاء کا معاشرے میں آج وہ احترام نہیں رہا جو ماضی میں اُ نہیں حاصل تھا۔ وکالت کا شعبہ بہت مُقدس ہے ۔وکیل محروم طبقے کے لئے قانونی جنگ لڑتا ہے ، ڈاکٹر جسم اور قانون دان معاشرتی برائیوں کا علاج کرتا ہے لیکن رویوں کی تبدیلی سے عزت میں فرق آیا۔رویوں کو بہتر بنا کر ایک دوسرے کی عزت میں اضافہ کیا جاسکتا ہے ۔جناب چیف جسٹس کا کہنا تھا کہ قانون کی اصل روح سے آشنائی ہو تو وکیل کے دلائل میں وزن ہوتا ہے ۔اچھا قانون دان بننے کیلئے قانون پر دسترس ضروری ہے ۔قانون کی روح ،تاریخ اور مقاصد جانے بغیر اچھا وکیل اپنے دلائل مکمل نہیں کرسکتا ،کیس کی تمام باریکیوں کا احاطہ کرنے کے لیئے وکلاء کو تاریخ ،ریاضی اور ادب پر دسترس حاصل کرنی چاہیے ۔نئے وکلاء سے زیادہ منشیوں اورکلرکوں کو عدالتی کاروائی کے بارے میں پتہ ہوتا ہے ۔ڈاکٹروں کی طرح وکلاء کیلئے ایک سال کا ہاؤس جاب ہونا چاہیے۔جناب چیف جسٹس پاکستان کے فاضلانہ اور عالمانہ خطاب کے تمام نکات ہی انتہائی قابلِ قدر اور فِکر انگیز ہیں۔اُنہوں نے بڑے خوبصورت اور حکیمانہ انداز میں ججز اور وکلاء (بینچ اور بار )سے متعلقہ امور اور انہیں درپیش مسائل و مشکلات کی وجوہات کا جائزہ ہی نہیں لیا بلکہ اِنکے حل اور معاملات کی بہتری کے لئے نکات بھی پیش کیے ہیں۔جناب چیف جسٹس کا خطاب یقیناًغورو فکر کی دعوت دیتا ہے ۔اِن کا یہ کہنا دُرست اور سو فی فیصد دُرست ہے کہ ججز اور وکلاء کا معاشرے میں وہ مقام نہیں رہا جو ماضی میں اُ نہیں حاصل تھا ۔بلاشبہ جب کوئی ادارہ ،افراد کا گرو یا کوئی اکیلا فرد اپنے مخصوص مقاصد یا مفوضہ فرائض یا تعین کردہ راہ سے ہٹ کر لائحہ عمل اختیار کرتا ہے ،افراط وتفریظ کا شکار ہوتا ہے یا سستی شہرت حاصل کرنے یا اپنی انا کی تسکین کے لیے ایسے فیصلے کرتا ہے جو انصاف کے تسلیم شُدہ مروجہ اصولوں سے ہٹ کر ہوتے ہیں تو پھر لازمی طور پر اُس ادارے ،افراد کے گرو یا اکیلے فرد کے وقار اور نیک نامی میں ہی کمی نہیں آتی بلکہ تنقید اور ردوکد کا بھی سامنا کرنا پڑتا ہے ۔ آج ججز اور وکلاء کو معاشرے میں اعلیٰ مقام کا حامل ہونے کے باوجود مسائل کا سامنا ہے اور اُن کی عزتِ اوراحترام میں ماضی کے مقابلے میں کمی آچکی ہے تو بلاشبہ اِس میں جیسا جناب چیف جسٹس نے کہا ہے اُن کے اپنے رویوں کا بڑا عمل دخل ہے ۔اِس میں کوئی شک نہیں کہ اعلیٰ تعلیمی اور پیشہ وارانہ صلاحتیوں کے ساتھ اہلیت ،قابلیت،تحمل ،بردباری ،متانت،سنجیدگی اورنمودونمائش اور ذاتی تعریف و توصیف (Self Projection)سے دُوری کے ساتھ آئین و قانون کی پاسداری اور مروجہ قواعد و ضوابط کی پابندی ایسے امور اور خصوصیات ہیں جِن کی بجا آوری اور جِن کے حامل ہونے کی اُمیدکِسی بھی شعبہ زندگی سے متعلقہ افراد سے باالعموم اور قانون اور انصاف کے شعبے سے متعلقہ افراد سے بطورِ خاص کی جاتی ہے لیکن افسوس سے کہنا پڑتا ہے کہ انصاف اور قانون سے وابستہ افراد کے رویوں میں سختی ،ہٹ دھرمی،اِنا پسندی ، شہرت کی طلب اور اپنے آپ کو ہر طرح کے قواعد و ضوابط سے مُبرا سمجھنے کی روش دِن بدن ضرور پکڑتی جا رہی ہے جس کا نتیجہ اِس صورت میں سامنے آیا ہے کہ جناب چیف جسٹس کو بھی یہ تسلیم کرنا پڑا ہے کہ ججز اور وکلاء کا معاشرے میں آج وہ احترام نہیں رہا جو ماضی میں اُ نہیں حاصل تھا ۔جناب چیف جسٹس کا یہ کہنا کہ وکالت کا شعبہ بہت مُقدس ہے ،وکیل محروم طبقے کے لئے قانونی جنگ لڑتا ہے لیکن رویوں کی تبدیلی سے عزت میں فرق آیا ایک ایسی حقیقت ہے جس کو جھُٹلایا نہیں جا سکتا ۔بلاشبہ وکالت کا پیشہ انتہائی معزز اور قابلِ قدر سمجھا جاتا رہا ہے اور اب بھی سمجھا جاتا ہے ۔اِسی طرح عدلیہ کا شعبہ بھی انتہائی مقدس اور محترم ہے ۔انصاف کی فراہمی اور عدل کے قیام کے ارفع و اعلیٰ مقاصد کی تکمیل اور سر انجام دہی عدلیہ کی ہی مرہون مِنت ہے ۔گویا وکلاء یا قانون دان جِن کا تعلق بار کونسل سے ہوتا ہے اور انہیں ہم بار کا نام بھی دے سکتے ہیں اور عدالتوں سے وابستہ ججز جنہیں ہم بینچ بھی کہہ سکتے ہیں باہمی مِل کر انصاف کی فراہمی ،آئین و قانون کی بالا دستی اور عدل کے قیام جیسے اہم امور کو سر انجام دیتے ہیں۔اِس طرح وکلاء یعنی بار اور ججز یعنی بینچ کا آپس میں چولی دامن کا ساتھ ہے اورہر دو کو اپنے فرائض کی سرانجام دہی کے لیئے ایک دوسرے کے تعاون ، معاونت اور راہنمائی کی ضرورت ہوتی ہے ۔وکلاء اور ججز اپنے اپنے دائرہ کار اوردائرہ اختیار کے اندر رہ کر اور شُشتہ اور مہذب رویوں کے ساتھ اِن امور کو بہتر طور پر سر انجام دے سکتے ہیں۔اگر رویوں میں کرختگی آجائے یا غرور ،تکبر اور خود نمائی اور خود ستائی حائل ہو جائے تو پھر قانون کی بالا دستی اور عدل و انصاف کی فراہمی کے اہم ترین مقاصد کا حصول یقیناًمشکل ہو جاتا ہے ۔اگر دیکھا جائے تو آج بار اور بینچ کچھ کچھ اسی صورتِ حال سے دو چار ہیں جس کا نتیجہ احترام کی کمی اور بار اور بینچ کے بارے میں شکوک و شبہات کے پیدا ہونے کی صورت میں سامنے آیا ہے ۔یہ دُرست ہے کہ مُشرف دور میں سپریم کورٹ کے چیف جسٹس ریٹائرڈ افتخار محمد چوہدری کی معزولی کے بعد اُن کی بحالی کی تحریک جِسے عدلیہ کی بحالی کی تحریک کا نام دیا جاتا ہے آئین اور قانون کی بالا دستی اور اعلیٰ عدلیہ کے ججز کے مقام اور مرتبے کی بحالی کے حوالے سے ایک درخشندہ باب کی حیثیت رکھتی ہے ۔اِس کے ساتھ نومبر 2007ء میں جنرل مشرف کے مُلک میں ایمر جنسی پلس کے نفاذ اور آئین کے معطل کیے جانے کے نتیجے میں سپریم کورٹ سمیت اعلیٰ عدلیہ کے معزول ججز کی بحالی کے لیئے یہ تحریک دوبارہ شروع ہوئی جو چیف جسٹس ریٹائرڈ افتخار محمد چوہدری اور دیگر عزت مآب ججز کی 2009ء میں بحالی تک جاری رہی ۔یہ تحریک بھی جہاں کچھ مثبت اور روشن پہلوؤں کی حامل بن کرآئی وہاں کچھ منفی پہلو بھی اُبھر کر سامنے آئے ۔ اِن میں حد سے بڑھا ہوا جوڈیشنل ایکٹیو ازم یا عدالتی فعالیت کا عمل دخل ہی کچھ وسعت پذیر نہیں ہوا بلکہ وکلاء برادری نے بھی اپنے آپ کو فاتح اور بینچ کا محسن سمجھنا شروع کردیا ۔یقیناًیہ وہ اندازِ فکر و نظر یا رویے ہی ہیں جو اب تک بار اور بینچ سے وابستہ بعض شخصیات میں کم یا زیادہ کسی نہ کسی صورت میں جڑے ہوئے نظر آتے ہیں۔وکلاء حضرات کا عدالتوں کا بائیکاٹ کرنا یا کسی معزز جج کی عدالت کا گھیراؤ کرنا یا پولیس یا قانون نافذ کرنے والے اداروں کے افراد کے ساتھ اُلجھنا اور جھگڑنا اِس کی ایک طرف مثالیں ہیں تو دوسری طرف اعلیٰ عدلیہ کے ججز کے بعض اقدامات بالخصوص پچھلے چند برسوں میں عدالت عظمیٰ کے قابلِ احترام چیف جسٹس صاحبان (جو ریٹائرڈ ہو چُکے ہیں)کااز خودنوٹسز (سوموٹو)کی بھرمار کرنا بھی ایسی روایات ہیں جن پر عوام الناس کو ہی نہیں اعلیٰ قانونی اور عدالتی حلقوں کو بھی کچھ نہ کچھ تحفظات اور اعتراضات رہے ہیں۔اچھا ہوا کہ موجودہ چیف جسٹس آف پاکستان جسٹس آصف سعید کھوسہ نے از خود نوٹسز (سوموٹو)لینے کو ختم کر رکھا ہے ۔جنوری کے وسط میں چیف جسٹس کا منصب سنبھالنے کے بعد اب تک اُنہوں نے صرف ایک معاملے میں از خود نوٹس لیا ہے وہ برگیڈئیر ریٹائرڈ اسد مُنیر کے نیب کے رویے سے تنگ آکر خود کُشی کر نے کا معاملہ ہے ورنہ جناب چیف جسٹس بڑی سرعت اور تیزی سے سپریم کورٹ میں زیرِ التواء مقامات کی تیزی سے سماعت اور اُن کو نمٹانے کی قابلِ تعریف روش اپنائے ہوئے ہیں ۔یہاں روزنامہ جنگ میں اِسی معاصر کے برادر انگریزی اخبار ’’دی نیوز ‘‘کے ایڈیٹر انویسٹی گیشن محترم انصار عباسی کی ’’پاکستان کِڈنی اینڈ لیور انسٹیٹیوٹ کی کامیابی سے تباہی کی داستان ‘‘کے عنوان سے رپورٹ چھپی ہے جس میں اُنہوں نے حقائق و واقعات کو سامنے رکھ کر یہ واضح کیا ہے کہ کِس طرح سابق چیف جسٹس آف پاکستان جسٹس ثاقب نثار کے اِس ادارے کے حوالے سے غیر ضروری از خود نوٹس (سوموٹو ایکشن)سے اِس ادارے کی تباہی کا عمل سرانجام پایا ہے ۔ وہ پاکستان کِڈنی اینڈ لِیور انسٹیٹیوٹ (پی کے ایل آئی)کے ملازمت چھوڑنے والے میڈیکل ڈائریکٹر اور چیف اپریٹینگ افیسر ڈاکٹر عامر یار خان کے بیان کا حوالہ دیتے ہوئے لِکھتے ہیں کہ’’چھوٹے لوگ بڑے عہدوں پر بیٹھ گئے ہیں یہی پاکستان کا المیہ ہے ‘‘وہ مزید لکھتے ہیں کہ ’’پاکستان کِڈنی اینڈ لِیور انسٹیٹیوٹ ،جِسے کسی دور میں اُمید کی کِرن سمجھا جا رہا تھا اب مایوس کُن ادارہ بن چُکا ہے جِس کی ابتدائی وجہ سابق چیف جسٹس کی جانب سے لیے گئے از خود نوٹس اور اِس کے بعد پنجاب حکومت کے مُتنازع اقدامات ہیں‘‘۔جناب انصارعباسی اپنی رپورٹ میں بتاتے ہیں کہ امریکہ اور برطانیہ وغیرہ سے اپنی پُرکشش ملازمتیں اور عہدے چھوڑ کر خدمت کے جذبے سے پاکستان کِڈنی اور لِیور انسٹیٹیوٹ میں کام کرنے کے لئے آنے والے بہت سارے ماہر ڈاکٹر حضرات اپنی وابستگی ختم کر کے مایوسی اور بددِلی کی حالت میں واپس غیر ممالک کو سدھار چُکے ہیں۔اِس کی بڑی وجہ سابق چیف جسٹس جناب ثاقب نثار کا آئے روز پاکستان کِڈنی اینڈ لِیور انسٹیٹیوٹ کے مدار المہام ڈاکٹر سعید اختر کی عدالت میں طلبی اور تضحیک کرنا ہو سکتا ہے ۔اِس رپورٹ کا حوالہ دینے کا مقصد صرف اتنا ہے کہ اعلیٰ عدلیہ کے ججز کا فرض بنتا ہے کہ وہ کِسی طرح کی انا پرستی اور ذاتی شہرت کے حصول کی بجائے انصاف و قانون کے مسلمہ اصولوں کے مطابق عدل اور انصاف کی فراہمی کو یقینی بنائیں۔ججز کے فیصلے بولنے چاہیں نہ کہ خود اُ نہیں اپنے فیصلوں کی وضاحتیں کرنی پڑیں جیسے سابق چیف جسٹس کرتے رہے ہیں۔اِس طرح کے رویوں سے ججز کے احترام میںیقیناًکمی آتی ہے ۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Copied!