Pakistan Columns

All Columns (Urdu and English)Of Pakistan You Could Easily Read Here/

Oposition Ko Grand Alliance Ky Ishare

2018 ءکے عام انتخابات کے بعد سے ہی جمعیت علما ئے اسلام (ف) کے سربراہ مولانا فضل الرحمان عمران خان حکومت کے خلاف سرگرم نظر آ رہے ہیں وہ حکومت کو ایک دن کا مزید اقتدار بھی دینے پر آمادہ نہیں ہیں۔ مولانا فضل الرحمان حکومت مخالف تحریک کا آغاز خیبرپختونخوا سے کر چکے ہیں اور اب اپنی اس تحریک کا دائرہ کار ملک کے دوسرے شہروں تک پھیلانے کے لیے انہیں دو بڑی اپوزیشن جماعتوں مسلم لیگ ن اور پاکستان پیپلز پارٹی کے تعاون کی ضرورت ہے تا کہ وہ اپوزیشن کا گرینڈ الائنس بنا کر مشترکہ طور پر حکومت کے خلاف اپنی سرگرمیوں میں شدت لا سکیں۔ ابتدائی طور پر مولانا فضل الرحمان نے متحدہ مجلس عمل کے پلیٹ فارم پر حکومت مخالف تحریک کا آغاز کر دیا ہے۔ متحدہ مجلس عمل کے زیراہتمام جلسے جلوسوں میں حکومت کی داخلی اور خارجہ پالیسی پر کڑی تنقید کرتے ہوئے بیانات داغ رہے ہیں کہ حکومت روزانہ کی بنیادوں پر قرضے حاصل کرنے کے لیے مختلف ممالک سے رابطوں میں مصروف ہے ۔ قرضوں کے حصول کے باوجود بھی حکومت ملک کی معاشی اور اقتصادی صورتحال پر قابو پانے میں مکمل طور پر ناکام ہوچکی ہے اس لیے اسے 22 کروڑ عوام پر حکمرانی کرنے کا کوئی حق حاصل نہیں ہے۔ عمران خان کے وزارت عظمی کا منصب سنبھالنے کے9 ماہ بعد مولانا فضل الرحمان کی حکومت مخالف سرگرمیوں کو معنی خیز قرار دیا جا رہا ہے خود ان کے تیور بھی پتہ دے رہے ہیں کہ شاید انہیں نادیدہ قوتوں کی پشت پناہی اور حمایت حاصل ہوچکی ہے، اسی لیے انہوں نے چند مقامات پر جلسوں کے بعد سب سے پہلے مسلم لیگ ن کے تاحیات قائد و سابق وزیراعظم میاں نواز شریف سے ملاقات کی ۔ میاں نواز شریف سے ملاقات کی وجہ بیان کرتے ہوئے مولانا فضل الرحمان نے صرف یہ کہا تھا کہ مزاج پرسی اور تیماداری کی غرض سے سابق وزیراعظم سے ملے تھے لیکن اس حقیقت کا اندازہ لگانا مشکل نہیں کہ جب دو سیاسی شخصیات مل بیٹھتی ہیں تو قومی اور سیاسی امور پر بھی بات چیت یقیناہوا کرتی ہے۔ یہ الگ بات ہے کہ مسلم لیگ ن کے تاحیات قائد میاں نواز شریف اپنی علالت کی وجہ سے حکومت کے خلاف جارحانہ انداز ترک کر کے خاموشی اختیار کیے ہوئے ہیں لیکن وہ دبے لفظوں میں بڑھتی ہوئی مہنگائی پر تشویش کا اظہار بھی کرتے دکھائی دیتے ہیں۔ سب سے اہم بات یہ ہے کہ میاں نوازشریف حکومت کے خلاف کسی بھی قسم کی تحریک چلانے کے موڈ میں ہرگز نہیں ہیں۔ جیل میں بھی جب پیپلز پارٹی اور ن لیگ کے سیاسی رہنما حکومت مخالف تحریک چلانے کی تجویز لے کر جاتے تو میاں نواز شریف ایسی تمام تجاویز کو مسترد کر دیتے تھے۔ میاں نواز شریف کی خاموشی کو مسلم لیگ ن کے صدر اور قومی اسمبلی میں اپوزیشن لیڈر میاں شہباز شریف کے مصالحت پسندانہ بیانیہ کی کامیابی کا پیش خیمہ بھی قرار دیا جاسکتا ہے۔
پچھلے چند روز کے دوران سیاسی منظرنامہ پر ہونے والی تبدیلیوں کو بھی معنی خیز سمجھا جا رہا ہے۔ اس سلسلے میں میاں شہباز شریف کو عدالتوں کی طرف سے ضمانت اور پھر باہر جانے کی اجازت ملنے کو مثال کے طور پر سامنے رکھا جاسکتا ہے۔ دوسری جانب پاکستان پیپلز پارٹی کے شریک چیئرمین آصف علی زرداری حکومت مخالف تحریک چلانے پر مولانا فضل الرحمان کے موقف کی ناصرف تائید کرتے ہیں بلکہ وہ اپنی پارٹی کے پلیٹ فارم پر بھی کارکنان کو حکومت کے خلاف تحریک میں شامل ہونے کی ترغیب دیتے نظر آتے ہیں جبکہ پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری کے جارحانہ انداز اور عوامی رابطہ مہم سے بھی بخوبی اندازہ لگایا جاسکتا ہے کہ وہ عمران خان حکومت کی پالیسیوں سے نا خوش ہیں۔ اسی لیے جوش خطابت میں وہ ایک لات مار کر حکومت گرانے کی بات کر ڈالتے ہیں۔ مولانا فضل الرحمان ، آصف علی زرداری اور میاں نوازشریف حکومت کے خلاف ایک جیسا موقف رکھتے ہیں لیکن ابھی وہ ایک دوسرے سے ہاتھ ملانے کے لیے تیار نہیں ہیں، اسی لیے مولانا فضل الرحمان پاکستان پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ ن کی قیادت کے درمیان پل کا کردار ادا کرتے ہوئے ایک بار پھر ایک دوسرے سے میثاق جمہوریت کی طرز پر ہاتھوں میں ہاتھ ڈالنے پر قائل کرنے کی کوششوں میں مصروف ہیں۔
حکومت کی داخلی و خارجہ پالیسیوں نے بھی ملک کی معاشی صورتحال کو ابتر کر کے رکھ دیا ہے۔ اس ملک کے عوام کے لیے تشویشناک بات یہ ہے کہ پہلے ایشین ڈویلپمنٹ بینک پھر ورلڈ بینک نے بھی پاکستان کی معاشی صورتحال کو سنگین قرار دے دیا ۔ ان رپورٹس میں حکومت کی ناتجربہ کار ی کا عمل دخل بھی شامل ہے یہی وجہ ہے کہ حکومت کے خلاف گرینڈ الائنس بننے جا رہا ہے اگر عمران خان حکومت کی پالیسیاں برقرار رہیں تو اگلے چند ماہ فیصلہ کن ثابت ہو سکتے ہیں اور کسی بھی فیصلہ کن تحریک کا آغاز ہو سکتا ہے۔ پیپلزپارٹی کے شریک چیئرمین آصف زرداری سے جے یو آئی (ف) کے امیر مولانا فضل الرحمن نے ملاقات کی، جس میں حکومت مخالف تحریک چلانے پر مشاورت کی گئی، فوجی عدالتوں کے قیام میں توسیع اور نیشنل ایکشن پلان پرعمل درآمد پر بھی تبادلہ خیال کیا گیا۔ سابق صدر آصف زرداری نے کہا کپتان کو گھر جانا پڑے گا، ہم نے قیادت نہ کی تو کوئی اور فورس آئے گی۔ زرداری ہاﺅس اسلام آباد میں ہونیوالی ملاقات کے دوران فضل الرحمن نے سابق وزیر اعظم نواز شریف سے ملاقات کی تفصیلات سے آگاہ کیا، مہنگائی پر، قومی اسمبلی اور سینیٹ میں اپوزیشن کی مشترکہ حکمت عملی پر بات چیت کی گئی، فضل الرحمن نے نیب کی کارروائیوں پر آصف زرداری کے موقف کی تائید کی اور آنیوالے دنوں میں احتساب بیورو کے ممکنہ اقدامات پر بھی تبادلہ خیال کیا۔ دونوں رہنماں نے اس بات پر اتفاق کیا کہ اپوزیشن کا متحد ہونا ضروری ہے،اطلاعات ہیں کہ فضل الرحمن نے آصف زرداری کو نواز شریف سے ملاقات پر راضی کرلیاجبکہ سابق صدر نے بھی نواز شریف سے ملاقات کی حامی بھرلی، وہ جلد جاتی امرا میں ملاقات کریں گے۔ آ صف زرداری نے کہا ہمیشہ کی طرح مولانا کی ہم پر نوازش رہتی ہے، یہ معلوم نہیں کہ وہ میرے بزرگ ہیں یا میں بزرگ ہوں، سیاست میں دونوں ایک ہی نظریے اور سوچ پر ہیں، حکومت کی وجہ سے پاکستان بہت پیچھے جا رہا ہے، یہ ہم پر لازم ہے کہ حکومت کیخلاف آواز بلند کریں، حکمرانوں کو اس وقت چلتا نہ کیا تو نقصانات کی تلافی نہیں کر سکیں گے اور آنیوالی نسلیں معاف نہیں کرینگی، یہ وقت بتائے گا کہ ان ہاﺅس تبدیلی یا وسط مدتی انتخابات ہونگے۔سابق وزیر اعظم نواز شریف کی عیادت کے سوال پر سابق صدر نے کہا بلاول بھٹو نواز شریف کی عیادت کر چکے ہیں، حکومت کیخلاف عملی طور پر تحریک کے آغاز کے وقت کے حوالے سے کہا یہ وقت اور موسم پر منحصر ہے، محرم اور رمضان کے بعد ہی کچھ ہو سکے گا۔ فضل الرحمن نے کہا کوئی سرپرائز دینے نہیں آئے، ملاقاتیں معمول کا حصہ ہیں، یہ ملاقات بھی کھانے کی دعوت تھی، کوئی ایجنڈا نہیں تھا، نواز شریف سے بھی تفصیلی باتیں ہوئی تھیں، سیاسی لوگ جب اکٹھے بیٹھتے ہیں تو مجموعی صورتحال پر بات ہوتی ہے، آئندہ بھی ملاقاتیں ہوں گی اور سیاسی ایجنڈے کو آگے بڑھایا جائے گا۔ سیاسی صورتحال پر مکمل یکجہتی اور ہم آہنگی کی ضرورت ہے اور اسی ضرورت کے تحت تمام اپوزیشن جماعتوں کا گرینڈ الائنس بنانے کی ضرورت ہے تاکہ قوم کو موجودہ حکمرانوں سے نجات دلائی جاسکے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Copied!