Pakistan Columns

All Columns (Urdu and English)Of Pakistan You Could Easily Read Here/

Naye Pakistan Main Ameero Ka Kirdar !!!!

یہ کیسا نظام ہے، یہ کیسی روایت ہے، کیسا طرز عمل ہے کہ امیر امیر تر اور غریب غریب تر ہوتا جائے، کیا ہمارے امراء کی کوئی ذمہ داری نہیں ہے، کیا اس ملک نے انہیں کچھ نہیں دیا، کیا اس ملک سے ہزاروں، لاکھوں، کروڑوں اور اربوں کمانے والوں نے اس دھرتی کو کچھ واپس نہیں کرنا، کیا معاشی طور پر مضبوط طبقے کی کوئی ذمہ داری نہیں ہے، کیا انہوں نے اس ملک کو سدھارنے اور نچلے طبقے کی مشکلات کی کمی میں اپنا حصہ نہیں ڈالنا، ہم کب تک سب کچھ حکومت پر ڈال کر ایک طرف ہوتے رہیں گے، کیا امراء کی کوئی ذمہ داری نہیں ہے۔ اب وقت آ گیا ہے کہ یہ لوگ بھی معاشرے میں بہتری کے لیے اپنا کردار ادا کریں۔ پرآسائش زندگی ضرور گزاریں لیکن ملکی بہتری کے لیے نمود و نمائش اور سٹیٹس قائم رکھنے کے خول سے باہر نکلیں۔ جب وزیراعظم سادگی اپنا سکتے ہیں تو کیا ہر طبقے کو اسکی تقلید نہیں کرنی چاہیے۔ ہماری بدقسمتی رہی ہے کہ کئی دہائیوں سے ہمیں ایسے حکمران ملے ہیں سادگی اور عوام سے حقیقی محبت انکے قریب سے بھی نہیں گذری آج امراء کا طبقہ نچلے طبقے سے دور ہے تو اس کی ایک بڑی وجہ وہ طرز حکمرانی بھی ہے جس نے ملک کو کھوکھلا کر دیا ہے۔ اگر ہم نے خود کو بدلنا ہے، اپنی نسلوں کو سنوارنا ہے، اپنے بچوں کے مستقبل کو بہتر کرنا ہے، پاکستان کو پرامن اور فلاحی ریاست بنانا ہے تو ہم سب کو مل کر کام کرنے کی ضرورت ہے، ہمیں اپنی اپنی جگہ پر قربانی دینے کی ضرورت ہے، یہ سننے میں آ رہا ہے کہ ملک میں ان دنوں سب سے بڑا مسئلہ قوت خرید کا کم ہونا ہے، کیا واقعی یہ حقیقت ہے، یا پھر یہ مافیا کا کیا دھرا ہے، یا پھر اسمیں وہ مفاد پرست شامل ہیں جو پس پردہ نئے پاکستان کے مخالف ہیں، یا پھر وہ قوتیں ہیں جو دہائیوں سے پاکستان کے بے بس عوام کا خون چوس رہی ہیں انکا استحصال کر رہی ہیں اور عوام کے لیے زندگی مشکل سے مشکل تر ہوتی جا رہی ہے۔ پاکستان تحریک انصاف نے اس نظام کو چیلنج کیا ہے، ان پس پردہ قوتوں کو للکارا ہے، پی ٹی آئی نے اس مافیا کو چیلنج کیا ہے جس نے دہائیوں عوام کا خون چوسا ہے، عمران خان نے ان مفاد پرستوں کو للکارا ہے جنہوں نے برسوں عوام کو دبائے رکھا ہے۔ اب عوام کی آزادی کا وقت آ رہا ہے تو ظالموں اور ملک لوٹنے والوں کو اپنا مستقبل تاریک نظر آ رہا ہے تو سب عمران خان کے خلاف اکٹھے ہو رہے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ آج حکومت کے اقدامات کے خلاف منفی پراپیگنڈہ جاری ہے۔ نئے پاکستان کے راستے میں وہی طبقہ رکاوٹیں کھڑی کر رہا ہے جس نے ملک کو بے دردی سے لوٹا ہے لیکن مافیا کا گٹھ جوڑ ٹوٹے گا۔ نئے اور ایک پاکستان کا قافلہ آگے بڑھے گا۔ ستم ظریفی ہے کہ محدود طبقے کے وسائل لامحدود ہیں اور انکے لامحدود وسائل کی وجہ سے کم قوت خرید رکھنے والے افراد کو بے پناہ مسائل کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔ پرتعیش زندگی گزارنے اور وسائل رکھنے والے طبقے کی وجہ سے کم قوت خرید والوں کے لیے مسائل بڑھتے ہیں۔ ہم یہ مسائل اپنے وسائل میں رہتے ہوئے کیسے کم کر سکتے ہیں، آج نئے اور ایک پاکستان کے سفر میں مالدار طبقے کی کیا ذمہ داری بنتی ہے، عمران خان کو ووٹ دینے کے بعد اس طبقے کی کیا ذمہ داری ہے، یہ کیسے مہنگائی کو کم کرنے اور نچلے طبقے کی قوت خرید کو کیسے بڑھانے میں مدد کر سکتا ہے۔ گزشتہ کئی ہفتوں سے ہم لاہور کی منڈیوں میں کام کر رہے ہیں، مختلف بازاروں میں جا رہے، عوام کے مسائل ان کی دہلیز پر سن کر انہیں حل کرنے کی کامیاب کوشش بھی کر رہے ہیں۔ آج پاکستان میں وہ طبقہ جس کی قوت خرید بہت اچھی ہے نئے پاکستان کی تعمیر اور ایک پاکستان کے قیام کے سفر میں اس کا کردار بہت اہم ہے۔ پوش ایریاز میں بڑے سٹوروں پر اشیاء خوردونوش کی قیمتیں عام آدمی کی پہنچ سے باہر ہوتی ہیں اور یہاں سے قیمتوں کے تعین کا ایک ٹرینڈ چلتا ہے اور پھر یہ رجحان نیچے تک جاتا ہے یوں مرحلہ وار کم قیمت والی اشیاء بھی عام آدمی کی پہنچ سے باہر ہو جاتی ہیں۔ پوش علاقوں کے بڑے سٹوروں سے نکلنے والی قیمتوں کا اثر چھوٹی مارکیٹوں اور دکانوں پر بھی پڑتا ہے، ناجائز منافع خوری بڑھتی ہے اور عوام مصنوعی مہنگائی میں پستے نظر آتے ہیں۔ امراء بڑے سٹور سے روزمرہ کے استعمال کی جو اشیاء دس ہزار میں خریدتے ہیں اگر وہ ان اشیاء کو خریدنے کے لیے نسبتاً چھوٹے علاقوں کا رخ کریں تو انہیں یہی اشیاء چھ سات ہزار میں مل جائیں گی۔ اس اقدام سے نا صرف ناجائز منافع خوری کی حوصلہ شکنی ہو گی بلکہ اس کے ساتھ بڑھتی ہوئی مصنوعی مہنگائی کا بھی سدباب ہو گا۔ وہ طبقہ جو عوام کی معصومیت اور کم علمی کی وجہ سے لوٹ مار کرتا ہے اس کا راستہ رکے گا۔ امیر اور غریب کا فرق ختم ہو گا، دوریاں کم ہوں گی اور کم قوت خرید رکھنے والے افراد کی بھی مدد ہو گی۔ یہ وہ کام ہے جس میں کسی کا کچھ خرچ نہیں ہو گا۔ ہم نے مل کر سوچ بدلنی ہے، طرز فکر ، طرز عمل پر کام کرتے ہوئے مل کر ایک پاکستان کی تعمیر میں اپنا کردار ادا کرنا ہے۔ امراء کے بعد مالی طور پر نسبتاً کمزور افراد کی کیا ذمہ داری ہے۔ ہماری رائے میں مالی طور پر کمزور افراد کی ذمہ داری ہے کہ وہ خریداری کرتے وقت ریٹ لسٹ کا تقاضا کریں اور طے شدہ قیمتوں کے مطابق ادائیگی کریں۔ اپنے حقوق کی حفاظت خود کریں اس راستے میں رکاوٹ بننے پر حکومت سے مدد لیں۔ پاکستان تحریک انصاف کی حکومت یقین رکھتی ہے کہ عوام کے مسائل حل کرنے ہیں اور عام آدمی کو شعور دینا ہے۔ عمران خان حکومت کرنے نہیں ملک سنوارنے اور قوم بنانے آئے ہیں۔ اس مقصد میں ہر طبقے کو انکا ساتھ دینا ہے تب ہی نیا اور ایک پاکستان بنے گا۔ یہ ایک فلسفہ ہے کوئی کتاب یا فلم نہیں کہ پلک جھپکنے میں منظر نامہ بدل جائے۔ اس مقصد کے لیے سب کا متحد ہونا انتہائی اہم ہے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Copied!