Pakistan Columns

All Columns (Urdu and English)Of Pakistan You Could Easily Read Here/

Nai hakoomat Ka Pahla Bajat Aur Saraiki Waseb

قومی ذرائع ابلاغ پر ان دنوں ملکی معیشت زیر بحث ہے اور حالات کے اونٹ کو حکومت اور اپوزیشن دونوں اپنی اپنی مرضی کی کروٹ بٹھانے کی کوشش میں مصروف ہیں۔ دوسری جانب ایشیائی ترقیاتی بنک اور ورلڈ بنک کا دعوی ہے کہ پاکستانی معیشت کے اونٹ کی کوئی بھی کل سیدھی نہیں الغرض جتنے منہ اتنی باتیں ۔پاکستان تحریک اانصاف کی حکومت کڑے احتساب کے موڈ میں ہے جعلی بنک کھاتوں کی تحقیقات کے حوالے سے پیپلزپارٹی کی قیادت کو لپیٹ میں لینے والے سونامی کی لہریں اب شریف خاندان کے محلات کی دیواروں سے ٹکرا رہی ہیں۔ غالباََ نیب کو سابق خادم اعلی کا یہ نکتہ سمجھ میں آگیا ہے کہ مبینہ طور پر کرپشن صرف ایک دھیلے کی نہیں ہوئی ۔کیونکہ وسیب میں سرکاری سطح پر کوئی بڑی رقم نہیں آئی اس وجہ سے یہاں کرپشن کہانیاں بھی بہت کم بلکہ نہ ہونے کے برابر ہیں شاید اسی وجہ سے قیوم جتوئی نے بھی کہہ دیا تھا کہ کرپشن میں بھی مساوات ہونی چاہیئے۔
سیاست اس وقت ایک ایسے محور کے گرد گھوم رہی ہے جس میں وزیر اعظم عمران خان پچھلی دو حکومتوں کے دور میں لئے گئے ساٹھ ارب ڈالر کے بیرونی قرضوں کا حساب مانگ رہے ہیں اور انہیں یقین ہے کہ یہ پیسہ منی لانڈرنگ کے ذریعے باہر بھیج کر اس کا کچھ حصہ پراسرار طور پر واپس لایا گیا جب کہ اپوزیشن اسے سیاسی انتقام اور اٹھارویں ترمیم رول بیک کرنے کے لئے دباو¿ قرار دے رہی ہے ۔
بلاشبہ ملک اس وقت مشکل صورت حال سے دوچار ہے پڑوسی ملک بھارت میں انتخابات ہونے جارہے ہیں او رخدشہ ہے کہ گجرات کے بعد پورے بھارت کے قومی قصائی نریندرا مودی یہ چناو¿ جیتنے کے لئے وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی کے بقول ایک اور جارحیت کی مذموم کوشش کریں گے ۔بڑھتی ہوئی مہنگائی سے انکار ممکن نہیں لہٰذا عوام کی پریشانی اور تنقید فطری عمل ہے، حکومت یہ یقین دلانے کی کوشش کررہی ہے کہ آنے والا بجٹ عوام دوست ہو گا اور اگلے سال چھ مہینے میں برآمدات میں اضافہ اور مہنگائی کم ہونے سے حالات بہتر ہوجائیں گے ۔
وفاقی بجٹ کی تیاری میں قومی سلامتی کے معاملات ہمیشہ پہلی ترجیح ہوتے ہیں اور پھر اب تو خطرات میں اضافہ بھی واضح ہے تاہم ملک کو ریاست مدینہ کی طرز پر فلاحی مملکت بنانے کے عزم کو عملی جامہ پہنانے کے لئے احساس اور تحفظ کے نام سے وزیر اعظم عمران خان کا غربت مٹاو¿ پروگرام یقینا ایک انقلابی قدم ثابت ہو سکتا ہے۔ تعلیم ،صحت ،روزگار ،رہائش اور انسانی مساوات کے لئے حکومتی ترجیحات کا درست اندازہ البتہ بجٹ پیش ہونے کے بعد ہی لگایا جاسکے گا ۔
ابھی جب کہ وفاقی حکومت بجٹ تجاویز تیار کررہی ہے تو یہ مناسب موقع ہے کہ جنوبی پنجاب کی محرومیوں کے حوالے سے وزیر اعظم کی توجہ اس جانب مبذول کروائی جائے کہ ماضی میں جان بوجھ کر پسماندہ رکھے جانے کے باعث سرائیکی وسیب کے امن پسند اور انسانیت سے پیار کرنے والے لوگ اب اپنے جذبات کا اظہار تلخ گوئی سے کرنے لگے ہیں۔ شکوے کی جگہ غصے نے لے لی ہے اور اگر خدانخواستہ اب بھی جنوبی پنجاب کو نظر انداز کیا گیا تو پھر غصہ نفرت میں بدل جائے گا۔
میری رائے میں انتہائی مناسب ہوگا اگر وفاقی حکومت ایک ایسا بااختیار کمیشن تشکیل دے جو پوری غیر جانبداری سے تفصیلی جائزہ لے کر یہ رپورٹ پیش کرے کہ قومی ترقی کے عمل میں سرائیکی دھرتی کے ساتھ سوتیلی ماں جیسا سلوک کیوں روا رکھا گیا ،ایک ایسی دھرتی جو کپاس کی مجموعی پیدوار کا چالیس فیصد فراہم کرتی ہے ،چینی ،گندم ،سبزیوں اور پھلوں کی پیداوار کے حوالے سے بھی پیچھے نہیں جب کہ قومی دفاع ناقابل تسخیر بنانے کا اعزاز بھی اس دھرتی کے پاس ہے کیوں کہ یورینیم ڈیرہ غازی خان کے علاقے بغل چور سے ملا اور پھراس نے اٹامک انرجی کمیشن کے ذریعے پاکستان کو اسلامی دنیا کی پہلی اور دنیا کی ساتویں ایٹمی قوت بنا ڈالا ۔ایسی دھرتی کو تعلیمی میدان میں تعصب کا نشانہ بنانے والی وسطی پنجاب کی طاقت و بیوروکریسی کے خلاف تحقیقات ہونی چاہیے ۔تھل اور چولستان کی زمینیں تو لوٹی گئیں مگر اسی طرح ان علاقوں میں ترقیاتی کام نہیں کروائے گئے جس کی وجہ سے یہاں کے لوگوں کے میٹھے شکوے اب گالیوں میں ڈھل رہے ہیں ۔
کہنے کو اور بھی بہت کچھ ہے لیکن احتیاط اور احترام کا دامن ہاتھ سے چھوڑنا ہرگز مناسب نہیں کیونکہ یہ خواجہ فرید ؒ کی دھرتی ہے جن کا کلام عاجزی و انکساری اور پیارومحبت کا درس دیتا ہے۔موجودہ وفاقی حکومت سے یہ توقع غلط نہ ہوگی کہ آنے والے وفاقی بجٹ میں جنوبی پنجاب کے لیے ایک بڑی رقم مختص کی جائے تاکہ سات عشروں سے زائد عرصہ تک جائز حقوق سے محروم رکھے جانے والے اس خطے کو صوبے کے دیگر ترقی یافتہ علاقوں کے برابر لانے میں مدد مل سکے۔ سیاحت کو فروغ دینے کے حوالے سے حکومتی ترجیحات میں اس خطے کو بھی شامل کیا جائے کیونکہ اس دھرتی پر مغرب میں کوہ سلیمان جیسا شاندار پہاڑی سلسلہ جس کے چشموں اور سوئی ہوئی خوبصورتی کو ابھی تک کسی غیر ملکی تو کجا مقامی سیاحوں تک کو بیدار کرنے کا موقع نہیں ملا جبکہ سندھ جیسا دریا بھی یہاں بہتا ہے جس میں پنجاب کے تمام دریا شامل ہو کر سمندر سے ہم آغوش ہوتے ہیں۔ موہنجودڑواور ہڑپہ کی تہذیبوں کے درمیان اپنے آثار قدیمہ اور تاریخی مقامات کی بدولت نہایت اہمیت کا حامل خطہ ہے، اگر اس علاقے کے صدیوں پرانے آثار کا سنجیدگی سے مطالعہ و مشاہد ہ اور تحقیق و جستجو کی جائے تو اس علاقے کی غیر معمولی تہذیبی حیثیت کا تعین ہوتا ہے۔ ضلع کے کھنڈرات میں تبدیل ہونے والے بائیس قلعہ ، دو دریا جن میں دریائے سندھ جو اب بھی پوری آب و تاب کے ساتھ بہہ رہا ہے اور قدیم دریا دریائے ہاکڑہ جو کہ اب معدوم ہو چکا ہے کہ کناروں پر جنم لینے والی تہذیب اب صحرا کے اونچے اونچے ٹیلوں کے نیچے محو خواب ہے۔محنت کشوں کی اس دھرتی پر جوہر قابل کی بھی کمی نہیں مگر زندگی کے ہر شعبے میں نمایاں کردار ادا کرنے کے باوجود آگے بڑھنے میں بے شمار رکاوٹیں ہیں جنہیں دُور کرنا موجودہ حکومت کی ذمہ داری ہے، تبدیلی یہاں بھی نظر آنی چا ہیے۔ وسیب کے لوگ اب لاہور کے سفر کرکرکے اب تھک چکے ہیں ستر سال کا سفر کوئی چھوٹا سفر نہیں اب ان کی قید ختم کی جائے تو بہت ہی اچھا ہوگا ،سب سیکرٹریٹ سے بڑھ کر صوبے کے وعدے کو عملی شکل دینے کے لیے اس بجٹ میں پیسے رکھے جائیں تو یہ ملکی استحکام کی جانب ایک قدم ہوگا ،ورنہ جس طرح یہاں کے لوگ ن لیگ اور پی پی سے دھوکے کھا چکے ہیں یہی لوگ پی ٹی آئی پر اعتبار کرنا چھوڑ دیں گے یہاں کے لوگوں کے ذہنوں میں یہ بات بھی آرہی ہے کہ شاید ہمارے صوبے میں رکاوٹ اسٹیبلشمنٹ ہے جس کے افسران کی زیادہ تعداد اپر پنجاب کے پنجابیوں کی ہے جن کا خاموش تعصب شاید صوبے کی راہ میں رکاوٹ ہے اس تاثر کو بھی ختم کرنے کی ضرورت ہے ،یہ سرائیکی وسیب میں رہنے والے ہمارے ایسے اپنی دھرتی سے مخلص پنجابیوں پر بھی احسان ہوگا ،آخر میں میں اتنا کہنا چاہتا ہوں کہ آنے والے پی ٹی آئی کے پہلے بجٹ میں تبدیلیاں نظر آنی چاہئیں ورنہ لوگ یہی کہیں گے کہ یہ ٹیم بھی پرانے لوگوں کا چوں چوں کا مربہ ہے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Copied!