Pakistan Columns

All Columns (Urdu and English)Of Pakistan You Could Easily Read Here/

” Naf,Siat”

دوستو،آج جمعہ مبارک ہے،رجب اپنے اختتام کی جانب ہے اور شعبان کی آمدآمد ہے،بس پھر ایک ماہ بعد ہی رمضان المبارک ہمارے دروازے پر حاضر ہوگا، یہ وہ مہینہ ہے جس میں پورے ایک ماہ اپنے نفس سے جنگ لڑنی پڑتی ہے۔جدید سائنس نفس سے جنگ کو ’’ نفس ۔ یات ‘‘ کا نام دیتی ہے ۔نفسیات کے حوالے سے آج کچھ اوٹ پٹانگ باتیں کرلی جائیں تو شاید آپ کو موڈ بھی خوشگوار ہوجائے۔۔ایک عورت نے نفسیاتی علاج کے ماہر ڈاکٹر سے کہا۔۔اللہ کے لیے میرے شوہر کو سدھارنے کے لیے کچھ کریں۔وہ سارا دن ایک بہت بڑا ڈھو”ل بجاتے ہوئے گھومتے پھرتے ہیں۔۔ڈاکٹر نے انہیں حوصلہ دیا اور کہا۔۔ اسے خبط تو نہیں کہا جا سکتا ہے،اک نارمل عادت ہے یہ،میں خود بھی کبھی کبھی ایک بہت بڑا ڈھول بجاتا ہوں۔عورت نے ڈاکٹر کو اوپر سے نیچے تک دیکھا اور حیرت سے پوچھا۔۔ڈھول کے اندر بیٹھ کر۔آج کل کے بچے استانیوں سے گالوں پر سٹار بنوا کر آتے ہیں، جب کہ ہم اپنے زمانے میں ماسٹروں سے ڈنڈے کے نشانات لیکر آتے تھے۔۔کیا یہ کھلا تضاد نہیں؟؟ایک اداس شخص دریا کے کنارے ر بیٹھا دریا میں پتھر اچھال رہا تھا۔کچھ دیر بعد ایک مگر مچھ نے دریا سے منہ نکالا اور بولا۔۔ذرا اندر آ تیری اداسی کڈھاں، وٹا مار کے نکے منڈے دا سر پاڑ دتا ای۔۔ممتحن صاحب کے پاس پیپرز چیک کرنے کا کافی کام تھا۔انہوں نے ہاتھ بٹانے کے لیے اپنی بیگم کو بھی ساتھ بٹھا لیا۔بعد میں بیگم کے چیک کیے ہوئے پیپرز پر ایک نظر ڈالتے ہوئے ممتحن صاحب بے اختیار حیرت سے چیخ اٹھے۔۔بیگم ! اس اسٹوڈنٹ کو تم نے سو میں سے ایک سو دس نمبر دے دیئے ، یہ تو انگلش کا پیپر ہے۔اگر میتھس کا پیپر بھی بالکل صحیح ہو تو اس میں بھی سو سے زیادہ نمبر نہیں دیئے جا سکتے ہیں۔۔بیگم نے شوہر کی بات انتہائی انہماک سے سنی اور پھر بڑی متانت سے جواب دیا۔۔وہ تو ٹھیک ہے۔لیکن اس اسٹوڈنٹ نے ایک ایسے سوال کا جواب بھی لکھا ہے،جو پیپر میں ہے ہی نہیں۔۔موت کا فرشتہ کہنے لگا، میں تمہارے لئے آیا ہوں۔بندے نے کہا کیوں؟ میں ٹھیک ہوں، خوش ہوں، صحتمند ہوں۔فرشتہ بولا، تم اپنا موبائل بغیر لاک کئے گھر بھول آئے ہو اور وہ تمہاری بیوی کے ہاتھ لگ گیا ہے۔بندہ کہنے لگا۔۔ چل فِر چلئیے۔۔دفتر سے نکلتے یاد آیا ،کار کی چابی دفتر میں بھول آئی ہوں۔ واپس جا کر دیکھا چابیاں نہیں تھیں۔ دوبارہ پرس چھان مارا۔ چابیاں ندارد۔۔اف! چابیاں گاڑی میں رہ گئیں تھیں!۔بھاگم بھاگ پارکنگ میں پہنچی، گاڑی غائب!!!پولیس کو فون کر کے گاڑی کا نمبر بتایا اور اعتراف کیا کہ چابیاں گاڑی میں رہ گئی تھیں اور گاڑی چوری ہو گئی ہے۔ پھر دھڑکتے دل کے ساتھ میاں کو زندگی کی مشکل ترین کال کی اور اٹکتے اٹکتے بتایا گاڑی چوری ہو گئی ہے۔۔شوہر نے گرج کر کہا۔۔بے وقوف عورت میں تمہیں دفتر ڈراپ کر کے آیا تھا صبح۔۔بیگم صاحبہ یہ سن کر مسکرائی،شوہر کے غصے کو نظراندازکرکے خدا کا شکر ادا کیا اور میاں سے کہا کہ آ کر لے جائیں۔۔لے تو جاؤں، پہلے پولیس کو تو یقین دلا لوں کہ تمہاری کار میں نے چوری نہیں کی، میاں صاحب نے بھن کر کہا۔۔شوہر ایک ہفتہ سے کوما میں تھا اور بیوی مسلسل اس کے بستر کے پاس بیٹھی تھی۔ اچانک شوہر نے آنکھ کھولی اور بیوی کو ساتھ بیٹھا دیکھ کر اس کی آنکھ بھر آئی اور محبت سے بولا۔۔۔جب بھی مجھ پر مشکل وقت آیا میں نے تمھیں اپنے پاس پایا۔جب مجھے کاروبار میں شدید نقصان ہوا تم میرے ساتھ تھیں اور مجھے سہارا دے رہی تھیں۔جب میرا ایکسیڈنٹ ہوا اور میں موت کے قریب پہنچ گیا تم میرے ساتھ تھیں اور میری دلجوئی کر رہی تھیں۔اور آج میں ہسپتال کے بستر پر پڑا ہوں تو اب بھی تم میرے ساتھ ہو۔۔۔تمہیں معلوم ہے مجھے کیا احساس ہو رہا ہے؟بیوی نے محبت بھری نظروں سے شوہر کو دیکھا۔۔شوہر نے بیوی کی مسکراہٹ کو اگنوربلکہ دفع دُورکیا اور بولا۔۔ مجھے احساس ہو رہا ہے کہ تم میرے لیے سخت منحوس ہو۔۔۔شوہرایک بار پھر بہت لیٹ گھر آیا۔ دل ہی دل میں ڈر رہا تھا کہ بیوی جھگڑا کرے گی۔ اور وہی ہوا۔ جیسے ہی وہ دبے پاؤں گھر میں داخل ہوا، بیوی نے اسے غور سے دیکھا اور پوچھا کہ اتنی دیر وہ کہاں رہا؟ شوہر نے ایک لمحہ کے لیے تذبذب کیا اور پھر ٹھہرے ہوئے لہجے میں بولا ۔۔بیگم! میں آج جھوٹ نہیں بولوں گا۔ میں اعتراف کرتا ہوں کہ میری سیکرٹری کے ساتھ میرا افئیر ہے۔ آج دفتر کے بعد ہم اکٹھے اس کے گھر چلے گئے۔ اس نے پرتکلف کھانا بنایا ہم نے اکٹھے کھایا اور پھر میں وہیں سو گیا۔ ابھی آنکھ کھلی تو گھر آگیا۔بیوی نے غور سے شوہر کو اوپر سے نیچے اور نیچے سے اوپر تک دیکھا۔ غصے سے لال پیلی ہوگئی۔ پوری قوت سے چلاّ کر بولی۔۔جھوٹے، مکار، فریبی، دغا باز، تمہاری پینٹ پر گھاس کے سبزے کے نشانات موجود ہیں۔ تم آج پھر فٹبال کھیلنے چلے گئے تھے۔۔اور اب چلتے چلتے جمعہ مبارک کے بابرکت دن کے حوالے سے آخری بات۔۔آج سے پچاس ساٹھ سال بعد نئی نسل میں جمعہ کے دن کی مبارک دینا لازمی رواج بن چکا ہوگا،اگلی صدی میں تو اسے ایک سنت یا فریضے کے طور پر جانا جائے گا۔۔ اس وقت جو شخص لوگوں کو بتائے گا کہ۔۔یومِ جمعہ کی مبارکباد دیناسنت ہے نہ فرض ، بلکہ بدعت ہے، کیونکہ ایسا کرنا قرآن و حدیث اور صحابہ سے ثابت نہیں ہے۔۔تو لوگ اس سے کہیں گے۔۔ تم عجیب بات کر رہے ہو، ہم نے تو اپنے باپ دادا کو ایساہی کرتے دیکھا ہے اور ان کے علماء بھی ان کو منع نہیں کرتے تھے تو تم ان علماء سے زیادہ علم رکھتے ہو؟ ہم نہیں بلکہ تم نئی بات کر رہے ہو!وہ شخص اس دور کا وھابی کہلائے گا اور بزرگوں کا گستاخ ٹھہرے گا! ہماری آنکھوں کے سامنے سوشل میڈیا اور واٹسپ کی ایجاد کے بعد پروان چڑھنے والی ایسی ان گنت بدعات اور خود ساختہ خرافات اور موضوعات کی حوصلہ شکنی کیجئے اور اپنے آپ کو اور آئندہ نسل کو بدعات سے بچائیے۔ اگر یومِ جمعہ کی مبارک دینا مستحسن کام ہوتا تو رسولِ اکرم صل اللہ علیہ وسلم ضرور اس کا حکم دے دیتے اور صحابہ کرام رضی اللہ عنہم اسے ضرور اپناتے کیونکہ وہ دین کی سمجھ اور نیک عمل کی محبت میں یقیناًہم سے آگے تھے۔خوش رہیں اور خوشیاں بانٹیں۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Copied!