Pakistan Columns

All Columns (Urdu and English)Of Pakistan You Could Easily Read Here/

Mushkil Gahdi

کسی بھی ملک کی تبا ہی کیلئے کا فی ہے کہ اس ملک کی معیشت کو تبا ہ کر دیا جا ئے۔آج ہما را ملک تبا ہی کے جس دہا نے پر کھڑا ہے اس کو بچا نے کا واحد حل معیشت کی بحالی ہے ۔ کسی بھی ملک میں معاشی بحران اچا نک زلزلے کی صورت میں نہیں آ تا ،معیشت کی تبا ہی کے اعشارئیے پہلے سے مل رہے ہو تے ہیں۔غیر ذمہ دارانہ طر یقہ سے حاصل کئے گئے قرضہ جات ،معاشی اصلاحات کا فقدان،غیر منا فع بخش ادا روں کے لئے فنڈز کی فرا ہمی،اپنی سا کھ بنا نے کے لئے غیر ضروری ترقیا تی کام معیشت کی تبا ہی کی بنیا دی وجو ہات ہیں۔اس وقت ملک میں انتشار پھیلا ہوا ہے ۔ ہر طرف موجودہ حکومت کو معاشی بحرا ن کا ذمہ دار ٹھہرا یا جا رہا ہے ۔معاشی بحران موجودہ حکومت نے پیدا نہیں کیا ، یہ بحران دہائیوں میں پیدا ہواہے ، اس وقت پاکستانی معیشت کرنٹ اکائونٹ خسارے سے دوچار ہے جس کا حل یہ ہے کہ یا تودر آمدات کم کی جائیں اور یا قرض لیا جائے۔ حکومت کو ملک کی بہتر ی کے لئے ایم ایف کی طرف جانا پڑ رہا ہے ، آئی ایم ایف کا کام ہی یہی ہے کہ وہ اپنے ممبر ملکوں کو بحران میں قرض دیتاہے جس سے معیشت کو سنبھالا ملتا ہے اور پھر آہستہ آہستہ وہ قرض واپس کردیا جاتاہے۔ اس وقت ہمارا مسئلہ یہ ہے کہ بر آمدات کم ہیں اور در آمدات زیادہ ہیں، آمد ن کم اورخرچے زیادہ ہیں ، اس طرح کوئی گھر ہویا ملک چلایا نہیں جا سکتا۔ ٹیکس بڑھا ہے لیکن اس رفتار سے نہیں بڑھا جس رفتار سے بڑھنا چاہئے تھا۔ معاشی بحران سے اس وقت سٹاک مارکیٹ میں کھلبلی مچی ہے جس سے غیر یقینی صورتحال پیدا ہوئی ہے۔ اس وقت ہمیں یہ بات سمجھ لینی چاہئے کہ عمران خان کا قصور نہیں۔جب سے پاکستان وجود میں آ یا ہے ۔حکمرا نو ں نے بنا کسی پالیسی کے قرضے حا صل کئے ۔سود در سور قرضہ جات ۔کبھی یہ سو چا تک نہیں کہ قرض واپس کیسے کرنا ہے۔پالیسی کا فقدان۔کس مقصد کیلئے قر ض لیا جا ئے اس مقصد میں استعمال نا کر نا ۔غیر ضروری ترقیا تی کام ۔آمدن سے زیا دہ اخراجا ت ۔نتیجہ یہ نکلا کہ بو جھ عوام پر پڑ جا تا ہے اور ملک معاشی بحران کی دہلیز پر آ کھڑا ہو تا ہے ۔مسلم ن لیگ دورمیں پاورسیکٹرکے لیے غلط فیصلے لیے گئے جس سے نقصان پہنچا، نواز حکومت میں بجلی چوری روکنے کیلئے موثرپالیسی مرتب نہیں کی گئی ، یکم جون2013 کو گردشی قرضوں کا حجم 884 ارب روپے تھا، مئی 2018 تک گردشی قرضوں کا حجم 1190ارب روپے ہوگیا۔ یکم جون2013 کو گردشی قرضوں کا حجم 884 ارب روپے تھا، پاورہولڈنگ کمپنی کے 382 ارب روپے بھی شامل تھے۔ مسلم لیگ ن نے ملکی معیشت کو خطرے میں ڈالا، ن لیگ دورمیں پاورسیکٹرکے لیے غلط فیصلے لیے گئے جس سے نقصان پہنچا۔مسلم لیگ ن نے ووٹ کے حصول کے لیے غیرذمہ دارانہ فیصلے کیے۔مئی 2018 تک گردشی قرضوں کا حجم 1190ارب روپے ہوگیا، پاور ہولڈنگ کمپنی کے 582 ارب اور608 ار ب کی واجبات تھے۔ ن لیگ نے 280 ارب کپیسٹی چارجزکی مد میں سیاسی بنیادوں پرروکے رکھے، بجلی ٹیرف کا نوٹیفکیشن ڈیڑھ سال تک روک کر رکھا گیا۔کپیسٹی چارجز کی وجہ وہ مہنگی بجلی تھی جوسسٹم میں شامل کی گئی، ان وجوہات کے باعث گردشی قرضوں کا حجم 1470ارب روپے ہوگیا۔ بجلی چوری روکنے کے لیے موثرپالیسی مرتب نہیں کی گئی۔ گردشی قرضوں میں اضافے کی رفتار اب کم ہوگئی ہے۔ ملک اس وقت تبا ہی کے جس دہا نے پر کھڑا ہے ۔یقینا موجودہ حکومت کے لئے ایک بہت برا چیلنج ہے ۔صدیو ں کی گندگی کو صاف کر نا ۔نیا نظام بنانا ایک مشکل امر ہے ۔مگر ہر تا ریک را ت کے بعد سہا نی صبح ضرور طلو ع ہو تی ہے ۔ اور وہ انشاء اللہ جلد ہو گی!!

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Copied!