Pakistan Columns

All Columns (Urdu and English)Of Pakistan You Could Easily Read Here/

Mune Bhai Lage Raho !

بنک دولت پاکستان کی زری پالیسی کمیٹی کی جانب سے گذشتہ ہفتے کے اختتام پر تازہ مانیٹری رپورٹ کے اجراءکے بعد ایک نیوز چینل پر ہمارے وزیر خزانہ محمد اسد عمر قوم کویہ نوید سناتے ہوئے دکھائی دئیے کہ ملکی معیشت بحرانی کیفیت سے نکل آئی ہے اور اب مستقبل میں قوم کو اچھی خبریں سننے کو ملیں گی۔یہ بات کانوں کو بھلی لگی اور دل میں امید کا ایک چھوٹا سا دیا بھی روشن ہوگیا۔ مگر اللہ بھلا کرے اوگرا والوں کا ابھی اس خوشی کا مزا بھی نہ لے پائے تھے کہ آئندہ ماہ کے لئے تیل کی مصنوعات کی قیمتوں میںنمایاں اضافے کی سفارش کی خبر پاکستانیوں پر بم کی صورت گرا دی گئی۔ اور اسی پر اکتفا نہیں ساتھ ہی یہ خبر بھی سنادی گئی کہ تیل کی قیمتیں تبدیل ہونے کی وجہ سے بجلی کے نرخوں میں بھی لگ بھگ دو روپے فی یونٹ کا اضافہ ناگزیر ہوجائے گا۔ ادھر ملک میں زر سے وابستہ امور پر مبنی ہر دو ماہ بعد پیش کی جانے والی زری (مانیٹری)پالیسی میں عمومی انداز میں حکومت کے معاشی و مالیاتی اقدامات کے سال2019ءکے ابتدائی دو ماہ میںمثبت نتائج سامنے آنے خصوصاً چین اور سعودی عرب سے قرضوں کی رقوم کی فراہمی کا ذکر کرنے کے بعد مہنگائی میں ہوش ربا اضافے، ترقی کی کم شرح نمو اور دیگر معاشی اعشاریوں کی غیر تسلی بخش صورتحال کا رونا بھی رویا گیاہے۔ مزے کی بات تو یہ ہے کہ جس وقت ہمارے وزیر خزانہ معاشی میدان میں حکومتی کامیابیوں کا مژدئہ خوشنما سنارہے تھے ۔ اسی وقت انکے برادر گرامی سابق گورنرسندھ اور مسلم لیگ ن کے مرکزی راہنماءمحمد زبیر عمر تازہ مانیٹری پالیسی کے مندرجات کو سامنے رکھتے ہوئے حکومت کے” لتے لے”رہے تھے۔ ان کا فرمانا تھا کہ موجودہ حکومت کی ناتجربہ کارٹیم نے معیشت کا بیڑہ غرق کردیا ہے۔ اور یہ میں نہیں کہہ رہا بلکہ بنک دولت پاکستان کی مانیٹری پالیسی رپورٹ کہہ رہی ہے۔ بڑ ا بھائی کہہ رہا تھا کہ اعدادو شمار پر نظر دوڑائیں تو جولائی 2018ءسے فروری2019ءتک کے آٹھ ماہ میں مہنگائی بلحاظ صارف کی شرح 3.8فیصد سے بڑھ کر 6.5فیصد تک پہنچ چکی ہے۔جبکہ رواں سال کے ابتدائی دو مہینوں میں مہنگائی کی یہ شرح جس تیزی سے بڑھی ہے وہ 2014ءسے اب تک سب سے زیادہ ہے یوں فروری 2019ءکے اختتام پر صارف مہنگائی 8.2فیصد پر پہنچ گئی ہے۔دوسری جانب بنیادی مہنگائی کو دیکھا جائے تو وہ ایک برس قبل 5.2فیصد تھی اور اب فروری2019ءکے اختتام پر 8.8فیصد تک بڑھ چکی ہے ۔ منا بھائی کا کہنا تھا کہ مہنگائی میں اضافے کی وجوہات سب جانتے ہیں ۔ روپے کی قدر مسلسل گر رہی ہے۔ پٹرول اور خدمات کی فراہمی کے نرخ بھی اونچی اڑان لئے ہوئے ہیں ساتھ ہی غذائی اشیاءسمیت بنیادی ضروریات کی اشیاءمیں قیمتوں میں تسلسل سے اضافہ ہو رہا ہے۔اسی کےساتھ بجلی اور گیس کے نرخ بھی بڑھ رہے ہیں۔ ۔چنانچہ رواں مالی سال کے اختتام تک اگر معاشی صورتحال میں بہتری آ بھی جاتی ہے تب بھی مہنگائی کی شرح 6.5سے7.5 فیصد تک رہے گی ۔جس کے لئے لوگوں کو تیار رہنا چاہیے ۔ یار لوگ دونوں بھائیوں کے بیانات کو اپنے چینلوں پر خوب بنا سنوار کر آمنے سامنے چلاتے رہے ۔ بڑے بھائی کہہ رہے تھے عمران خان کی پریشانی یہ ہے کہ محاصل اکٹھے نہیں ہورہے اور اب تک صرف براہ راست ٹیکسوں کی وصولیوں میں 285ارب روپے سے زائد کمی کا سامنا ہے۔ دوسری جانب منا بھائی کا کہنا تھا کہ مجھے کوئی تو بتائے کہ ایسا کب ہوا تھا کہ جب ٹیکس وصولیوں کا مقررہ ہدف پورا کیا گیا ہو۔البتہ ہم یہ بات پورے دعویٰ سے کہہ سکتے ہیں کہ موجودحکومت نظام کی درستگی کے لئے پوری توانائیاں صرف کر رہی ہے۔ بڑے بھیا کا خیال تھا کہ ملک میں کاروبار اور سرمایہ کاری سب ٹھپ ہو کر رہ گیا ہے ۔ ہمارے دور میں بیرونی قرضوں کے 2020ءتک 90ارب ڈالر تک پہنچنے کے تخمینے لگائے جارہے تھے جو تب 78ارب ڈالر تھے ۔ مگر موجودہ حکومت کی ناتجربہ کاری کے نتیجے میں بیرونی قرضے ایک برس قبل ہی 100ارب ڈالر سے تجاوز کر گئے ہیں۔اور ہمیں قوم کو قرضوں کے بوجھ تلے دبانے کا طعنہ دینے والے اب خود کشکول لئے مانگتے پھر رہے ہیں۔ جواباً منے بھیا کہہ رہے تھے کہ سابق ادوار میں اندھا دھند لئے گئے قرضوں کی قسطوںکی ادائیگی اور تجارتی خسارے سمیت حکومت کی دیگر ذمہ داریوں کو نبھانے کے لئے قرضوں کا حصول ناگزیر تھا ۔تاہم اب معاملات بتدریج بہتری کی طرف گامزن ہیں اور اسکا ثبوت حالیہ دنوں میں ملکی زرمبادلہ کے ذخائر میں آنے والی بہتری ہے۔ سٹیٹ بنک کی مانیٹری پالیسی رپورٹ کا حوالہ دیتے ہوئے بڑے بھائی کا کہنا تھا کہ ناقص حکومتی پالیسیوں سے صنعتوں کی حالت غیر ہو گئی ہے اور اب بات کئی ایک کی بندش تک آن پہنچی ہے۔ہمارے دور میں بڑی صنعتوں کی پیداوار میں مسلسل اضافہ ہو رہاتھا ۔ رپورٹ اس بات کی تصدیق کرتے ہو ئے بتاتی ہے کہ رواں مالی سال 2019 میں جولائی تا جنوری کے سات ماہ میں صنعتی شعبہ انحطاط کا شکار ہے اور اب تک اس میں2.3فیصد کی کمی ہوچکی ہے جبکہ ہمارے دور کی اسی مدت میں اس میں بڑھوتری کی شرح 7.2فیصد تھی۔اسی طرح زرعی شعبہ بھی سست روی کا شکار ہے ۔اور تمام اہم فصلوں کی پیداواربھی نمایاں طور پر کمی کا شکار ہے۔ وزیر خزانہ کا کہنا تھا کہ پیداواری شعبے کی کارکردگی میں آنے والے دنوں میں نمایاں بہتری آئے گی۔صنعتی شعبے کے لئے مثبت اقدامات کے نتائج آنا شروع ہو گئے ہیں۔ زرعی شعبہ کی کارکردگی پانی کی کمی کے باعث متاثر ہو رہی ہے جسکی وجہ پچھلے ادوار میں قومی ضروریات کو سامنے رکھتے ہوئے نئے ڈیم نہ بنانا ہے۔ اب ہماری حکومت اس پر بھرپور توجہ دے رہی ہے۔ بڑے بھائی فرما رہے تھے ہمارے دور میں ترقی کی شرح نمو ساڑھے چھ فیصد تک پہنچ گئی تھی جو موجودہ حکومت کی نادانیوں کے نتیجے میں اب ساڑھے تین فیصد پر آگئی ہے۔ جب ہم تھے تو زرمبادلہ کے ذخائر 20ارب ڈالر سے بڑھ چکے تھے اور اب عمران اینڈ کمپنی انہیں 10ارب ڈالرزپر لے آئے ہیں جو ملک کی تین ماہ کی درآمدات کی رقم سے بھی کم ہے۔ادھر چھوٹے بھائی اس پر مطمئن تھے کہ بیرونی ادئیگیوں کا توازن بہتر ہو رہا ہے اور اب دوست ملکوں کی جانب سے امداد کی فراہمی کے ساتھ کاروباری طبقے کا اعتماد بھی بڑھ رہا ہے جس کے ثمرات رواں مالی سال کے آخر تک سامنے آنا شروع ہو جائیں گے۔ دو بھائیوں کے ان بیانات سے ہٹ کر نئی مانیٹری پالیسی رپورٹ کے چند نکات توجہ طلب ہیں۔جیسے حکومت نے اب تک 9ارب ڈالرزسے بڑھتے ہوئے تجارتی خسارے کا بڑا حصہ سٹیٹ بنک سے قرض لے کر پورا کیا ہے جسکا حجم 33کھرب روپے سے تجاوز کر چکا ہے اور اس سلسلے کے جاری رہنے کی صورت میں نہ صرف سٹیٹ بنک کے لئے زری امور کی انجام دہی میں مشکلات پیدا ہوں گی ساتھ ہی تجارتی خسارہ اپنے مقررہ ہدف سے بڑھ جائے گا ۔اسی حوالے سے مانیٹری پالیسی میںزور دیا گیا ہے کہ حکومت معیشت کو سنبھالا دینے کے لئے مزید اقدامات اٹھائے کیونکہ اس وقت مہنگائی کے دباﺅ میں مضمر اضافہ جاری ہے۔مالیاتی خسارہ بلند ہے اور تمام تر کاوشوں کے باوجود جاری کھاتے کا خسارہ بھی بلند ہے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Copied!