Pakistan Columns

All Columns (Urdu and English)Of Pakistan You Could Easily Read Here/

Modi Se Aman Ki Umeed Na Rakhy

وزیر اعظم عمران خان کا خیا ل ہے بھارت کے انتخابات میں مودی صاحب ایک بار پھر جیت کر واپس آگئے تو پا کستان اور بھارت کے درمیان مذاکرات کا سلسلہ بحال ہو سکتا ہے مجھے عمران خان صاحب کا بیان سن کر بہت ہی عجیب لگا اور بات صرف یہا ں ہی نہیں رکی انھوں نے تو نیتن یا ہو صاحب کے بارے میں بھی ایسی ہی بات کہہ دی کہ اگر اسرائیل میں وہ جیت کر آگئے تو فلسطین کے مسئلہ کا بھی حل نکل سکتا ہے ۔لیکن عمران خان صاب کو معلوم ہونا چاہیے کہ اس کام کے لیے بہت ہی مثبت سوچ درکار ہوتی ہے جو کہ ان دو حضرات میں موجود نہیں ہے ۔یہاں پر میں بی جے پی کی بات بھی نہیں کرتا ماضی میں بی جے پی پا کستان کے حوالے سے بہت مثبت سوچ کا مظاہرہ کر چکی ہے اور واجپائی صاحب کا تعلق بھی بی جے پی سے ہی تھا اور انھوں نے لاہور کا دورہ بھی کیا تھا لیکن مودی صاحب کی سوچ تبدیل نہیں کی جاسکتی وہ آر ایس ایس کے تربیت یافتہ انتہا پسند ہیں اور بی جے پی سے بھی بالکل ایک الگ سوچ رکھتے ہیں ان سے بہار کی امید رکھنا بالکل ہی غلط ہو گا ۔شاہ محمود قریشی صاحب نے بھی حال ہی میں بھارت کے حوالے اپنے خدشات کا اظہار کیا ہے میں اس حوالے سے یہ ہی کہنا چاہوں گا کہ پاکستان کو بطور ملک اپنے گھوڑے تیار رکھنے چاہئیں، گھوڑے تیار رکھنے سے مراد جنگ کی تیاری ہے پاکستان بھارت کی جانب سے غافل نہیں رہ سکتا تیاری ہر حال میں مکمل رکھنا ہوگی ۔
یہاں یہ بات اہمیت کی حامل ہے کہ پا کستان کو بھارت کا مقابلہ کرنے کے لیے اقتصادی طور پرمضبوط ہونا ہو گا اس کے بغیر ہمارا دفاع کبھی بھی ایک حد سے زیادہ مضبوط نہیں ہو سکے گا ۔ بھارت کی معیشت بہت تیزی سے بڑھ رہی ہے اور اسی رفتار سے وہ اپنا دفاعی بجٹ بھی بڑھا رہے ہیں بات کا خلاصہ یہ ہے کہ جب تک پا کستان خود بھی ایک بڑی اقتصادی قوت نہیں بن جاتا تب تک بھارت پا کستان کو چین سے نہیں بیٹھنے دے گا ۔بھارت کے ساتھ پا کستان کا امن ہو جانا بھی بہت ہی مشکل ہے چند سال تک بھارت کے ساتھ ہمارے تعلقات قدرے بہتری کی کیفیت میں رہتے ہیں تو ہم سمجھتے ہیں کہ دوستی ہو گئی جب کہ حقیقت میں ایسا کو ئی رشتہ موجود نہیں ہوتا اور پھر اگر بات کی جائے مسئلہ کشمیر کی تو اس مسئلہ کی موجودگی میں تو پا کستان اور بھارت کی دوستی تو ہو ہی نہیں سکتی ۔اور کشمیر کے لیے تو بھارت جس انداز کے اقدامات اٹھا رہا ہے اس کی تو کوئی مثا ل ہی نہیں ملتی اور یہ بھی پا کستان حکومت کی ناہلی تھی کہ ہم او آئی سی کے اجلا س میں گئے ہی نہیں ہمیں اس اجلاس میں جا کر اس فورم کا استعمال کرتے ہوئے بھارت کو سفارتی طور پر تنہا کرنے کی کوشش کرنی چاہیے تھی ۔
کشمیر ہمیشہ کشمیریوں کا ہی رہے گا اور کشمیری ہمیشہ لڑتے رہیں گے ،ہندوستان پہلے ہی اپنی فوجی قوت کشمیر میں آزما کر دیکھ چکا ہے اس سے مسئلہ کا کوئی حل نہیں نکل سکا، ہندوستان اب کشمیریوں کے ساتھ اور کیا کرنا چاہتا ہے ۔خدارا ہندوستان اب کشمیریوں کی جان چھوڑ دے اور ان پر رحم کرے ۔پا کستان کو بھی تمام بین الاقوامی فورمز پر کشمیریوں کے حق کے لیے بھر پور آواز اٹھانا ہو گی اور اس کے ساتھ ساتھ اپنے گھوڑے بھی تیار رکھنا ہو ں گے ۔بات شروع ہوئی تھی بھارت کے الیکشن اور عمران خان کے بیان سے بھارتی الیکشن کے نتیجے میں جو بھی جیت کر آئے پاکستان کو اپنا لائحہ عمل ایک ٹھوس بنیاد پر بہت سوچ و بچار کے بعد اور پوری سنجیدگی کے ساتھ بنانا ہو گا ۔اس خطے میں ہمیں ایک ہمسائیگی کی سوچ پروان چڑھانے کی ضرورت ہے اگر آپ کو اپنا کوئی پڑوسی پسند نہیں ہے تو اسے بدلنا تو نہیں جا سکتا یہ چیز انسان کے اختیار میں نہیں ہے گزر بسر تو انہیں کے ساتھ کرنا ہوتا ہے یہ بات بھارت کے ساتھ ساتھ پاکستان کے دوسرے ہمسائے افغانستان کے لیے بھی صادق ہے ۔افغانستان بھی شدید اضطراب میں مبتلا ہے گزشتہ چالیس برس سے افغانستان میں جنگ کی صورتحال ہے اور جو افغانستان پر گزر رہی ہے وہ ہمارے ملک پر بھی گزر رہی ہے افغانستان کے حالات کا براہ راست اثر پاکستان پر بھی پڑتا ہے افغانستان کے خراب حالات کی وجہ سے ہی پا کستان میں کلا شنکوف کا کلچر آیا اور دنیا کی ہر قسم کا اسلحہ پاکستان میں سر عام بکنے لگا۔
منشیات بھی ریوڑیوں کے دام فروخت ہوئیں ہمارے ملک میں ایک لا ءاینڈ آرڈر کی صورتحال پیدا ہو ئی نہ صرف کلاشنکوف آئی بلکہ لاکھوں مہاجرین بھی آئے اور ان کے ساتھ طالبان بھی آئے اور اس طریقے سے آئے کہ ہمارا ملک ایک نئی قسم کے لوگوں کی آماجگاہ بن گیا ۔وزیر اعظم عمران خان کے لیے یہ ایک سنہری موقع ہے کہ وہ افغانستان کی صورتحال پر ایک مثبت سوچ پیدا کریں اور اس کے نتیجے میں افغانستان اپنی موجودہ صورتحال سے نکل کر امن کی طرف چلا جائے افغانستان کے امن میں میں ہی پاکستان کا امن ہے اور خاص طور پر بلوچستان کے لیے تو افغان امن کی حیثیت نہایت ہی کلیدی ہے جب تک افغانستان میں امن نہ آجائے تب تک پا کستان اور بلخصوص بلوچستان میں تو امن آہی نہیں سکتا ۔اسی لیے شاعر مشرق ڈاکٹر محمد علامہ اقبال نے کہا تھا کہ افغانستان تو دل ہے ایشیا کا اور افغانستان کے امن میں میں ہی ایشیا کا امن ہے ۔بہت وقت گزر چکا ہے روس شکست کھا گیا ، امریکہ شکست کھا گیا انگریز نے بھی شکست کھائی اب اور کسی کو شکست نہیں کھانی چاہیے تمام بین الاقوامی اور علاقائی قوتیں مل کر افغان مسئلہ کا ایک ایسا حل نکالیں جو کہ افغان عوام کی امنگو ں اور خواہشات کے مطابق ہو اور انہیں ترقی اور خوشحالی کے راستے پر گامزن کر سکے ۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Copied!