Pakistan Columns

All Columns (Urdu and English)Of Pakistan You Could Easily Read Here/

Meri Maan Aur Sab Ki Maan !

آج میری والدہ محترمہ ( اماں جی ) کی آٹھویں برسی ہے۔ 11 اپریل 2011 ءرات دس بجے کا وقت میں کبھی نہیں بھول سکتا۔ میں اُنہیں اچھا بھلا چھوڑ کر ایک شادی میں شرکت کے لیے گیا۔ اُن کی آواز آج بھی میرے کانوں میں گونج رہی ہے۔ میں جب اُس روز گھر سے نکلنے لگا اُنہوں نے فرمایا ” پُتر آج جلدی گھر آجاویں“ میں جب بھی کہیں جانے کے لئے گھر سے نکلنے لگتا وہ عموماً یہی کہتیں ” پُتر جلدی گھر آجاویں“۔ اُس روز مگر یہ بات اُنہوں نے اِس انداز اور اِس لہجے میں کہی میں نے عرض کیا ” ماں جی آپ حکم کریں میں نہیں جاتا“۔ فرمانے لگیں ” ضرور جاﺅ مگر جلدی آجانا “ …. میں ابھی شادی پر پہنچا ہی تھا، میرا عزیز اور عظیم ترین دوست حافظ محمد احمد میرے ساتھ تھا۔ بینڈ باجے کے شور میں پتہ ہی نہ چل سکا میرے موبائل پر چھوٹے بھائی کی کتنی ہی کالز آچکی تھیں۔ کچھ میسجز بھی تھے جو میں نے پڑھے بغیر اُسے کال کی اُس نے بتایا ” امّی کی طبیعت اچانک بہت خراب ہو گئی ہے آپ فوراً گھر آئیں۔ امّی کی طبیعت پہلے بھی کبھی کبھار خراب ہوتی تھی مگر کبھی مجھے ایسے کال نہیں آئی تھی۔ امّی ہمیشہ منع کر دیتی تھیں کہ اُسے مت بتانا وہ پریشان ہو جاتا ہے۔ بھائی کے لہجے میں ایک ویرانی تھی۔ میرا دِل گواہی دے رہا تھا وہ لمحہ آن پہنچا ہے جس کا زندگی میں ‘ میں نے کبھی تصور بھی نہیں کیاتھا۔ احمد ہمیشہ بڑی آہستگی سے گاڑی چلاتا تھا۔ اُسے پتہ ہے تیز رفتاری پسند نہیں۔ چنانچہ میں جب اُس کے ساتھ ہوتا وہ زیادہ آہستگی اور احتیاط سے گاڑی چلاتا تھا۔ اُس روز اُس نے گاڑی کو باقاعدہ ” جہاز“ بنا دیا تھا۔ میرا بھی یہی جی چاہ رہا تھا اُڑ کر گھر پہنچ جاﺅں۔ گھر پہنچا پتہ چلا امّی کو ہسپتال لے گئے ہیں۔ ہسپتال پہنچا امّی کہیں اور پہنچ چکی تھیں، جہاں سے کوئی واپس نہیں آتا۔ بھائی نے بتایا اچھی بھلی تھیں، کھانا کھانے کے بعد باہر لان میں تھوڑی چہل قدمی کی ۔ پھر واپس آکر لیٹ گئیں، والدِ محترم سے باتیں کرتے اچانک ہلکی سی کھانسی آئی، بھائی سے کہا ” میرے لئے پانی لے کر آﺅ“ …. وہ پانی لے کر پہنچا اُس نے دیکھا وہ واش روم کا دروازہ پکڑ کر زمین پر بیٹھی تھیں۔ بھائی کو دیکھ کر اُسی سے کہنے لگیں ” میری ٹانگوں سے کوئی جان نکال رہا ہے“۔ اِس دوران اُن کا چہرہ سفید ہوتا جا رہا تھا۔ جیسے اندر ہی اندر سے کوئی اُن کا خون پیتا جا رہا ہو۔ پھر وہ کلمہ پڑھنے لگیں۔ اشارے سے بھائی سے کہا” تم بھی کلمہ پڑھو۔ “ اُس کے دو چار سیکنڈ بعد اُن کی گردن ایک طرف لڑھک گئی…. اُن کی وفات پر میں نے لکھا تھا ” جب کوئی انسان بطور مسلمان پیدا ہوتا ہے اُس کے کان میں اذان دی جاتی ہے۔ اُس اذان کی نماز نہیں ہوتی۔ اور جب بھی کوئی انسان بطور مسلمان انتقال کر جاتا ہے اُس کی نماز ( نمازِ جنازہ ) پڑھائی جاتی ہے۔ اِس نماز کی اذان نہیںہوتی۔ گویا میری نظر میں زندگی اذان اور نماز کے درمیانی وقفے کا نام ہے۔ مگر امّی جان نے جِس طرح چند سیکنڈ میں زندگی سے موت کا سفر مکمل کیا پہلی بار یہ راز مجھ پر کھلا زندگی اور موت میں اتنا وقفہ بھی نہیںہوتا جتنا اذان اور نماز میں ہوتا ہے…. امّی جان کے بغیر زندگی کے یہ آٹھ برس کیسے گزرے؟ میںہی جانتا ہوں۔ والدین کا بچھڑ جانا ایسا صدمہ ایسی اذیت ہے میں ہمیشہ دعا کرتا ہوں اللہ ہر کسی کو اِس محفوظ فرمائے۔ مائیں اِس حوالے سے بھی بڑی عظیم ہوتی ہیںکہ اولاد کا جتنا درد اُن کے دِل میںہوتا ہے کِسی اور رشتے میں ہو ہی نہیں سکتا۔ دوسرا رشتہ باپ کا ہوتا ہے جو ہر قسم کیاغراض سے پاک ہوتا ہے۔ یہ دونوں رشتے جب تک کسی انسان کی زندگی میں موجود رہتے ہیں زندگی موجود رہتی ہے۔ اِن میںسے جیسے ہی کسی ایک رشتے یا دونوں رشتوں سے انسان محروم ہو جاتا ہے گویا زندگی سے محروم ہو جاتا ہے۔ ماں چھاﺅں ہوتی ہے اور باپ سایہ ہوتا ہے۔ دونوں کی ٹھنڈک انسان کی زندگی کو ترو تازہ رکھتی ہے۔ کسی انسان کو دنیا جہان کی نعمتیں اور سہولتیں میسر ہوں لیکن وہ والدین کی نعمت سے محروم ہو تو اصل میںوہ ” محروم“ نہیں ” مرحوم“ ہوتا ہے۔ 2015 ءمیں میرے والدِ محترم جب آخری سانسیں لے رہے تھے۔ میں بے بس اُن کے پاس کھڑا سوچ رہا تھا ” کاش اِس وقت مجھے کوئی یہ آفر کرے عزت ‘ دولت ‘ شہرت جو کچھ تمہارے پاس ہے سب کچھ ہمیں دے دو“ اِس کے بدلے میں تمہارے والد کو چند سانسیں عطا کر دی جائیں گی‘ میں فوراً قبول کر لوں گا۔ مگر موت کا اِک دِن مقرر ہے کوئی اِس سے بچ نہیں سکتا۔ ہر شے کو فنا ہے۔ رہے نام اللہ کا …. میری ماں بہت عظیم تھیں۔ میں آج اللہ کے فضل ، کرم اور خاص ترس سے جِس دنیاوی مقام پر ہوں اُنہیں کی دعاﺅں کے نتیجے میںہوں۔ میں جب بھی اُن کی خِدمت کی ہلکی سی کوئی کوشش بھی کرتا وہ باقاعدہ ماﺅں کے روایتی انداز میں جھولی اُٹھا کر مجھے دعا دیتیں ” میرا پُتر مٹی چُکے سونا ہو جاوے“ بالکل ایسے ہی ہو رہا ہے۔ نکمے ترین انسان کو دنیا بھر میں عزت اور محبت مِل رہی ہے۔ کچھ لوگ کہتے ہیں ” جب کسی کی ماں دنیا سے رخصت ہو جاتی ہے‘ ایسی صورت میں وہ چونکہ ماں کی دعاﺅں سے محروم ہو جاتا ہے تو اُس کے بعد زندگی کے ہر معاملے میں اُسے پھونک پھونک کر قدم رکھنا چاہئے“ …. میں اِس پر یقین نہیں کرتا۔ میں یہ سمجھتا ہوں ماں اپنی زندگی میں اپنی اولاد کو ایڈوانس میں اتنی دعائیں دے جاتی ہے اُس کے انتقال کے بعد بھی وہ اولاد کے کام آتی رہتی ہیں۔ دعاﺅں کا بھی ایک ” بینک “ ہوتا ہے۔ ماں اِس بینک میں اتنی دعائیں جمع کروا جاتی ہے اُس کے جانے کے بعد اُس کی اولاد کسی بھی دنیاوی تکلیف میںمبتلا ہو وہ اِس بینک سے ماں کی جمع کروائی ہوئی کچھ دعائیں ” کیش “ کروالیتی ہے۔ …. میں اکثر یہی طریقہ اختیار کرتا ہوں۔ میں جب بھی کسی دنیاوی مشکل ‘ پریشانی یا آزمائش کا شکار ہوتا ہوں ماں کی قبر پر چلے جاتا ہوں۔ مجھے محسوس ہوتا ہے یہ قبر نہیں وہ ”بینک “ ہے جہاں میری ماں میرے لئے بہت سی دعائیں جمع کروا گئی ہے۔ میں وہاں سے کچھ دعائیں ” کیش “ کروا لیتا ہوں۔ میری مشکل آسان ہو جاتی ہے۔ بلکہ میں آپ کو بتاﺅں کِسی نے زندگی میں اپنی ماں یا والدین کی اُن کے حق کے مطابق اُن کی خدمت کی ہلکی سی کوشش بھی کی ہو مشکلیں ‘ پریشانیاں اور آزمائشیوں ویسے ہی اُس سے دور بھاگتی ہیں۔ وہ بڑا ہی بدقسمت اور محروم انسان ہے جس کی ماں ( والدین) زندہ ہوں اور وہ اُن کی خدمت نہ کرے یا اُن کی عزت نہ کرے۔ اور وہ بڑا ہی خوش قسمت انسان ہے جس کی ماں ( والدین) زندہ ہوں اور وہ اُن کے حق کے مطابق اُن کی خِدمت کرے یا اُن کی عزت کرے۔ اللہ نے اِس حوالے سے مجھ پر خاص کرم کیا۔ میں دعا کرتا ہوں اِس حوالے سے اللہ سب پر خاص کرم فرمائے۔ (جاری ہے)


Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Copied!