Pakistan Columns

All Columns (Urdu and English)Of Pakistan You Could Easily Read Here/

Meri Baat Sammaj Gaye Na!

یہ سر پر کلغی سجانے کا شوق ہمارے سب اہل سیاست کو ہے‘ اس میں کوئی استثنیٰ نہیں۔ ہمارے اہل سیاست ہی کیا دنیا بھر کے سیاست دان ایسا ہی کرتے ہوں گے۔ ہمارے سیاستدانوں کا البتہ یہ کمال ہے کہ وہ دوسروں کا کریڈٹ بھی چھیننے کی کوشش کرتے ہیں یا اس بات کی سعی کرتے ہیں کہ کہیں ان کے کسی اچھے کام کے ڈانڈے دوسروں سے نہ جا ملیں۔ بے شمار باتیں ہیں جن کا حوالہ دیا جا سکتا ہے۔ اس لئے جب کوئی نئی تختی لگاتا ہے تو مجھے یقین ہوتا ہے کہ کوئی پرانا آ کر بتا دے گا کہ یہ سب کچھ تو ہمارے منصوبے میں شامل تھا۔ مثال کے طور پر یہ جو سی پیک کا مغربی روٹ ہے تو کیا یہ منصوبے کا حصہ نہیں ہے۔ ٹھیک ہے اس پر بہت سیاست ہوئی ہے مگر اس کا کیا یہ مطلب ہے کہ لاہور ملتان کے درمیان تقریباً مکمل ہونے والا موٹر وے کا افتتاح روک دیاجائے یا ملتان سکھر موٹر وے پر چپ سادھ لی جائے اور اگر بات بھی کی جائے تو کیا کسی مبینہ بددیانتی کی۔ لاہور کی اورنج لائن یہاں کے شہریوں کا منہ چڑا رہی ہے۔ یہی نہیں‘ جنوبی پنجاب کی ایسی گردان شروع ہوئی ہے کہ لاہور کی سڑکیں ادھڑنا شروع ہو گئی ہیں۔ لاہور گویا شہباز شریف کا تھا۔ یہاں جو کام بھی ہوا ہے‘ اس میں کوئی بہتری آئے گی تو لوگ ن لیگ کو یاد کریں گے۔ اورنج لائن کے پہلے 22ماہ عدلیہ کھا گئی۔ آٹھ ماہ تو صرف فیصلہ محفوظ رہا اور اب اسے سیاست کھائے جا رہی ہے۔ معلوم نہیں پشاور کی میٹرو کو کون کھا گیا۔ ملک میں کوئی اچھا کام ہوا ہے تو اس کا یہ مطلب نہیں کہ اسے صرف غلط قرار دے کر اس لئے مٹا دیا جائے کہ ہمارے سر کی کلغی اس سے نیچی ہو رہی ہے۔ غضب خدا کا ہر قسم کا کاروبار حیات بند پڑا ہے اور ہم کہہ رہے ہیں‘ معیشت ٹھیک ہو رہی ہے۔ یہ کیسی معیشت کی درستی ہے کہ غریب آدمی چیخیں مار رہا ہے اور حکومت کہہ رہی ہے مشکلات تو آئیں گی‘ غربت بھی بڑھے گی اور بے روزگاری بھی۔ آخر معیشت درست کرنے کی ہمیں کوئی تو قیمت دینا پڑے گی۔ یہ کون سی معیشت ہے جس کی قیمت ہمیں دینا پڑ رہی ہے اور فائدہ معلوم نہیں کس کو ہو رہا ہے۔ مسئلہ یہ نہیں کہ سی پیک کے تیسرے روٹ کا افتتاح ہو گیا۔ مسئلہ یہ ہے کہ یہ جو گزشتہ آٹھ ماہ سے اس منصوبے پر کام ٹھپ پڑا تھا اس کی قیمت کون ادا کرے گا۔ بتائو نا‘ کون ادا کرے گا۔ رزاق دائود نامی ایک بزر جمہر نے فرمایا تھا کہ سی پیک کو ایک سال کے لئے ملتوی کر دیا جائے۔ آخر کر دیا نا۔ اور ایک عدد ڈیم کی تعمیر کا چین سے مل کر ٹھیکہ بھی لے اڑے۔ یہ صاحب تو عوام کے منتخب کردہ نہیں تھے۔ یہ کہاں سے آئے ہیں؟ اس وقت تو لگتا ہے ہماری معیشت اسد عمر نہیں‘ یہ چلا رہے ہیں۔ یہ پاکستان میں کس لابی کے نمائندہ ہیں۔ ماضی میں اس لابی سے ہمیں کیا فیض ملا ہے۔ اس کا تجزیہ بھی ہونا چاہیے۔ کاش ہماری یونیورسٹیاں کچھ کر سکتیں۔ مگر ان پر بھی تو اسی لابی کا قبضہ ہوتا جا رہا ہے۔ ملک کو گہرے تجزیے کی ضرورت ہے۔چاہے یونیورسٹیاں کریں یا تھنک ٹینک‘ مگر ہمارے جیسے حوضۂ علمیہ بنے بیٹھے ہیں۔ تیسرے روٹ کی بات چھوڑیے۔ ہمارے ہاں معاملات اس طرح چل رہے ہیں کہ وزیر اعظم نے کراچی میں اتر کر اس بات کا اہتمام کیا کہ وہ وزیر اعلیٰ سے نہ مل پائیں۔گورنر ہائوس ہی میں انہوں نے میٹنگ کی‘ صرف گورنر کو مرکز محور بنایا اور 162ارب کے ایک پروگرام کا اعلان کر دیا۔ ساتھ ہی یہ اعلان کیا کہ وہ زرداری‘ نواز شریف کو چھوڑیں گے نہیں۔ اب پی ٹی آئی کا بیانیہ یہ ہے کہ 18ویں ترمیم سے صوبوں کو جو فنڈز ملتے تھے‘ وہ لوٹ کر ملک سے باہر لے جائے جاتے تھے‘ صوبے پر خرچ نہ ہوتے تھے۔ ہم یہ فنڈز خود خرچ کریں گے۔ یادش بخیر نواز شریف نے کراچی کو 200ارب دیے تھے۔ وہاں ماس ٹرانزٹ کا ایک منصوبہ بندر روڈ سے شمالی کراچی تک جانا ہے۔ اسے ہم نے تیزی سے بنتا دیکھا ہے۔ مری نصف سے زیادہ زندگی کراچی میں گزری ہے۔ اس کا گلی گلی کوچہ کوچہ مجھے ازبر ہے۔ مگر یہ منصوبہ اتنا اہم‘ بنیادی اور بڑا ہے کہ جس علاقے سے روز گزرتا تھا اس کی وجہ سے اس علاقے کو بھی پہچان نہیں پاتا تھا۔ یہ منصوبہ اس لئے رک گیا کہ صوبائی حکومت نے اس کے لئے جو سرمایہ فراہم کرنا تھا وہ غالباً بسوں کی خریداری پر صرف ہونا تھا۔ وہ فراہم ہی نہیں ہوا۔ آج کل سندھ میں صرف ایک شور ہے‘ وفاق ہمیں کھا گیا۔ کراچی شہر تو لاوارث ہے۔ شہر پر جانے کس کی حکومت ہے پی ٹی آئی کہتی ہے۔ ہم جیتے ہیں۔ ایم کیو ایم والے کہتے ہیں اصل وارث ہم ہیں‘ بلدیہ اب بھی ہماری ہے۔ سندھ کی حکومت پیپلز پارٹی کا جھنڈا اٹھائے آج کل 18ویں ترمیم کی جنگ لڑ رہی ہے۔ پیپلز پارٹی اور ایم کیو ایم کا جھگڑا کوئی سندھی مہاجر کا جھگڑا نہیں۔ یہ دو راجوں کا جھگڑا ہے۔ اندرون سندھ ابھی تک زرعی مزاج رکھتا ہے۔ وڈیرہ شاہی اور جاگیرداری ایسی گھٹی میں پڑی ہے کہ بھٹو جیسا آکسفورڈ کا پڑھا ہوا نوجوان بھی اپنے اندر سے فیوڈل تھا۔ جب تک ہم سچ نہیں بولیں گے‘ ہم بات کو سمجھ نہیں پائیں گے۔ اندرون سندھ کا یہ فیوڈل کلچر کراچی پر صرف حکومت کرنا چاہتا ہے۔ ترقی کا لفظ تو اس نے اپنے علاقے کے لئے نہیں سیکھا۔ کراچی تو پھر اس کے لئے پجارو دوڑانے والی سڑکوں کا نام ہے۔ نتیجہ کیا ہوتا‘ یہ 162ارب روپے بھی جانے کہاں اور کیسے خرچ ہوں گے۔ اس پارٹی کو تو پشاور میں پیسہ خرچ کرنا نہیں آیا۔ یہاں ان سے کیا توقعات باندھیں۔ کراچی کی حالت دیکھ کر مجھے بہت تکلیف ہوتی ہے۔ یہ پاکستان کا واحد شہر ہے جس میں شہری قیادت کی بجائے شہری مافیا نے اپنا تسلط جما لیا ہے۔ میں نے اس شہر کے تہذیبی ماحول میں سانسیں لی ہیں۔ یہاں سے بہت کچھ سیکھا ہے اور بہت فخر سے کہہ سکتا ہوں کہ بہت کچھ دیا ہے۔ اب مگر جب یہاں جانے کا موقع بھی ملتا ہے تو آبدیدہ ہو کر واپس آتا ہوں۔ شہر اینٹ اور پتھر کی دیواروں کا نام نہیں ہوتے‘ یہ اس خون اور گودے سے عبارت ہے جو اس کی رگوں اور ہڈیوں میں دوڑ رہا ہوتا ہے۔ ہم نے اس شہر کو بے حال کر دیا ہے۔ یہاں ماس ٹرانزٹ کے کئی منصوبے کاغذات پر بنے مگر ان پر عمل نہ ہو سکا۔ یہ ایک منصوبہ بنا تھا۔ یہ بھی کھنڈر بنا کھڑا ہے۔ سندھ کہہ رہا ہے وفاق ہمارے 120ارب روپے دے نہیں رہا۔ ہماری گیس کھا گیا ہے۔ ہمارا پانی پی گیا ہے۔ ٹیکس ہم دیتے ہیں ‘ کھاتا پورا ملک ہے۔ وغیرہ وغیرہ۔ تمہی کہو‘ یہ باتیں زندہ رہنے کی ہیں۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ کراچی جیسا شہر جس حسن انتظام کا مطالبہ کرتا ہے‘ وہ اس سے کوسوں دور ہے۔ یہ شہر ایسا تو نہ تھا۔ میں نے دیکھا ہے۔ پہلے تو یہ طے نہیں کہ یہاں سے پی ٹی آئی کو جو اکثریت دی گئی ہے‘ وہ اس کی ہے بھی یا نہیں۔ اگر ہے بھی تو کیا کراچی کے آئینی وسائل کو کراچی کے لئے خرچ کیا جاتا ہے یا نہیں۔ دنیا کے ایک شاندار شہر کو ہم نے گندگی کے ڈھیر میں تبدیل کر دیا ہے۔ یہ سیاست زیادہ دیر نہیں چلے گی اور غیر سیاسی بندوبست ہمیشہ تباہی لاتا ہے۔ ایسے میں کوئی بتائے کہ کیا کیا جائے۔ ہم یہ چھوٹے چھوٹے معاملات نہیں بتا رہے اور امریکہ کا ایک ذمہ دار ترین شخص کہتا ہے‘ ان کا وزیر دفاع کہ امریکہ کو تین ممالک سے خطرہ ہے۔ چین‘ شمالی کوریا اور پاکستان اور یہ کہ یہاں کا ایٹمی پروگرام دشمنوں کے ہاتھ لگ سکتا ہے اور ہم کہتے ہیں ہماری خارجہ پالیسی بہت کامیاب ہے اور اس بات پر تلملاتے ہیں جب افغانستان میں امریکہ کا سفیر ہمارے وزیر اعظم کے ایک بیان پر کہتا ہے کہ یہ ’’بال ٹمپرنگ‘‘ ہے۔ ہم نے کرکٹ کی اصطلاحات اتنی استعمال کی کہ اب کرکٹ نہ کھیلنے والی امریکی قوم بھی اسے بولنے لگی ہے ہم تو خیر اس کا استعمال بھی الل ٹپ کرتے ہیں‘ اپنے وزیر اعظم کے شوق کی وجہ سے۔ اس نے تو ٹھیک وار کیا ہے۔ ہمارے ایک وزیر کسی کے خلاف بولتے ہیں کہ وہ وکٹ کے دونوں طرف کھیل رہا ہے تو یہ سمجھتے ہیں تو اس کے خلاف بات کر رہے ہیں۔ ذرا عمران ہی سے پوچھ لیں یہ خوبی کی بات ہے یا خرابی کی۔ ہمیں تو لفظوں کا استعمال ہی نہیں آتا۔ اب بھلا شیریں مزاری اس پر امریکی سفیر کو ٹھگنا‘ بونا اور کوتاہ قد کہتے اچھی لگتی ہیں۔ بہت ہو گئی‘ اب خدا کے لئے کچھ کام کیجیے۔ سو دن حکومت نے مانگے تھے۔ ان 100دنوں کے خاتمے کے بعد فوجی ترجمان نے چھ ماہ کی مانگ کی تھی میں نے عرض کیا تھا حکومت کے پاس حالات کو ٹھیک کرنے کے لئے اب مزید چھ ماہ ہیں یا یوں کہہ لیجیے انہیں چھ ماہ دیدیے گئے ہیں۔ معاف کرنا یہ چھ ماہ بھی گزر رہے ہیں اور ابھی آئی ایم ایف ہونا باقی ہے۔ مری بات سمجھ گئے نا۔ 

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Copied!