Pakistan Columns

All Columns (Urdu and English)Of Pakistan You Could Easily Read Here/

Mela Charagha

پنجابی صوفی شاعر شاہ حسین سے منسوب لاہور کے میلہ چراغاں سے متعلق کتابوں میں لکھا ہے کہ میلہ چراغاں یا میلہ شالامار دراصل پنجابی صوفی شاعر شاہ حسین کے عرس کی تین روزہ تقاریب کا نام ہے۔ یہ تقاریب شاہ حسین کے مزار، جو لاہور کے علاقے باغبانپورہ میں واقع کے قریبی علاقوں میں منعقد ہوتی ہیں۔ میلہ چراغاں کی ایک شاندار تقریب لاہور میں پنجاب انسٹی ٹیوٹ میں دیکھنے کو ملی۔ڈاکٹر صغریٰ صدف ادب اور ثقافت کے حوالے سے ایک بڑا نام ہیں۔ وہ طویل عرصے سے شاعری‘ تحقیق اور کالم نگاری کے علاوہ پی ٹی وی پر پنجابی کے پروگراموں کی کمپیئرنگ کررہی ہیں۔ پنجابی سے انہیں جنون کی حد تک عشق ہے۔ اسی عشق کی بدولت انہیں چند سال قبل پنجاب انسٹی ٹیوٹ آف لینگوئج، آرٹ اینڈ کلچر کا ڈائریکٹر اور پھر ڈائریکٹر جنرل مقرر کیا گیا۔ صغرٰی صدف کا ایک میسج ہمیں میلہ چراغاں لے گیا۔شکریہ میری بہن بہت اعلی ماحول اور پروگرام دینے کا۔۔۔شاہ حسین کے بارے میں مختلف تاریخ اور آرا پائی جاتی ہے۔شاہ حسین کا میلہ چراغاں یا عرس پنجاب میں ثقافت کے اعتبار سے سب سے بڑی تقریب سمجھا جاتا ہے۔کچھ کتب کے مطابق شاہ حسین المعروف مادھو لال حسین ایک صوفی اور پنجابی شاعر تھے جو فقیرِ لاہور سے معروف ہیں۔ شاہ حسین لاہوری 945ھ میں ٹکسالی دروازے لاہور میں پیدا ہوئے ۔آپ کے والد گرامی کا نام شیخ عثمان تھا جوکہ کپڑا بننے کا کام کرتے تھے۔ آپ کے دادا کا نام کلجس رائے ہندو تھا۔ جوکہ فیروز شاہ تغلق کے دور میں دائرہ اسلام میں داخل ہوئے تھے لیکن والد حلقہ بگوش اسلام ہوئے۔

شاہ حسین کا زمانہ مغلیہ سلطنت کے مرکزی علاقوں میں احیائے دین کی تحریکوں کا زمانہ تھا۔ صوفی بزرگ حضرت بہلول مکتب میں آئے تو حضرت شاہ حسین کی روشن پیشانی اورذہین آنکھیں دیکھ کر ان کے استاد سے پوچھا کہ اس لڑکے کا کیا نام ہے اور یہ کیا پڑھتا ہے۔ انہوں نے عرض کی کہ اس کا نام شاہ حسین ہے اور ساتواں پارہ حفظ کر رہا ہے۔ انہوں نے شاہ حسین کو اپنے حلقے میں شامل کر لیا اور خصوصی توجہ سے تربیت کرنے لگے۔ شاہ حسین کے شب و روز عبادتوں اور ریاضتوں میں بسر ہونے لگے۔ حضرت بہلول نے انہیں روحانیت سے نوازا۔ لیکن وہ رقص کرتے ‘ وجد میں رہتے ‘ دھمال ڈالتے اور لال رنگ کے کپڑے پہنتے۔ اسی بنا پر لال حسین کے نام سے مشہور ہوگئے اور اپنے حال میں مست رہے۔

جب حضرت بہلول کا فریضہ سرانجام ہوا تو شاہ حسین سے وقت رخصت کہا کہ اے حسین! یہاں لاھور میں جناب حضرت عثمان بن علی ہجویری گنج بخش کا مزار پر انوار ہے۔ جب ہم چلے جائیں تو غم نہ کرنا ہم نے تم کو حضرت عثمان بن علی ہجویری گنج بخش کے سپرد کر دیا ہے۔ اب ہمارے بعد ان کے آستانے پر حاضری دینا ‘ وہی تمہارے رہنما اور راہبر ہونگے اور تمہیں منزل تک پہنچائیں گے۔ شاہ حسین نے عبادت و ریاضت کو زندگی کا اولین مقصد بنا لیا۔ بارہ سال متواتر حضرت عثمان بن علی ہجویری گنج بخش کے مزار پر حاضری دیتے رہے۔ شاہ حسین کو یہ انفرادیت حاصل ہے کہ ان کے مرشد کامل خود چل کر ان کے شہر میں آئے۔ ان کو راہ ہدائت دکھائی۔ اس وقت آپ کی عمر چھتیس برس تھی۔ اس دوران شیخ سعد اللہ نامی ایک ملامتی درویش لاہور آ نکلا۔ اس نے زمانے کی نرمی گرمی کا ذائقہ چکھا تھا۔ جہاندیدہ تھا ‘ باغی تھا۔بس اس روز سے آپ نے طریقہ ملامتیہ اختیار کر لیا۔دارا شکوہ نے شاہ حسین کو ’’ملامیتوں کے گروہ کا سردار’’ لکھا ہے۔شاہ حسین تصوف کے فرقہ ملامتیہ سے تعلق رکھنے والے صاحب کرامت صوفی بزرگ اور شاعر تھے۔ وہ اْس عہد کے نمائندہ ہیں جب شہنشاہ اکبر مسند اقتدار پر متمکن تھا۔ شاہ حسین پنجابی زبان و ادب میں کافی کی صنف کے موجد ہیں۔ وہ پنجابی کے اولین شاعر تھے جنہوں نے ہجر و فراق کی کیفیات کے اظہار کے لئے عورت کی پرتاثیر زبان استعمال کی۔ شاہ حسین نے بے مثل پنجابی شاعری کی۔ اْنکی شاعری میں عشق حقیقی کا اظہار ہوتا ہے۔اپنی زندگی کے ایک حصے میں شاہ حسین کی مادھو سے ملاقات ہوئی۔ مادھو ایک برہمن زادے تھے۔ برہمن زادے نے ان کی خود اعتمادی ‘ خود پر ستی اور حق شناسی کے آئینے کو ایک ہی نظر میں چور چور کر دیا۔ شاہ حسین اس کے پیچھے ہو لیے۔ اور پھران دو افراد کا تعلق اتنا گہرا ہوگیا کہ عوام شاہ حسین کو مادھو لال حسین کے نام سے جاننے لگے۔ شاہ حسین بدستور اپنے طرز معمولات پر قائم مست الست گلیوں اور بازاروں میں پھرتے رہے۔ مادھو شاہدرہ کا ایک برہمن زادہ تھا۔ اس وقت شاہ حسین کی عمر 38 سال تھی۔ بقول مصنف تحقیقات چشتی مادھو کی عمر تین برس کی تھی کہ جب وہ شاہ حسین کے منظور نظر ہوئے۔شاہ حسین کی مادھو لال سے محبت کے سبب ان کا نام شاہ مادھو لال حسین پڑ گیا جو آج تک مشہور ہے۔شاہ حسین سے منسوب دلا بھٹی کا واقعہ بھی خاصا مشہور ہے۔ایک دن اکبر بادشاہ کے حکم کے مطابق دْلّا بھٹی کو گرفتار کرکے لاہور لایا گیا۔ حکم شاہی تھا کہ دْلّا بھٹی کو پھانسی کا حکم تھا۔دْلّا بھٹی نے شہنشاہ اکبر کے خلاف بغاوت کی ہوئی تھی۔ کوتوال دْلّا بھٹی کو پھانسی دینے کے واسطے آیا ہوا تھا۔ شاہ حسین بھی وہاں آ پہنچے اور دْلّا بھٹی کو دیکھنے لگے۔ لوگ شاہ حسین کے اردو گرد جمع ہوئے تو شاہ حسین نے لوگوں سے کہا کہ ‘‘دْلّا بھٹی پنجاب کا غیرت مند بیٹا ہے۔ پنجاب کا کوئی غیرت مند بیٹا کبھی پنجاب کی سرزمین کو فروخت نہیں کرے گا’’ اور شعر کہا کہ ’’ کہے حسین فقیر سائیں دا – تخت نہ ملدے منگے۔کوتوال نے شاہ حسین کے پائوں میں زنجیر ڈالی دی۔قدرت الٰہی سے وہ زنجیر اسی وقت ٹوٹ گئی۔ اس نے کہا کہ تو جادوگر ہے۔ میں تجھے اب ایسی میخ ماروں گا کہ جاں بر نہ ہوگا۔ شاہ حسین نے کہا کہ؛اس سے پہلے کہ تم مجھے میخ مارو ‘ تم کو میخ لگے گی۔دْلّا بھٹی نے بوقت دار اکبر کو ہزارہا گالیاں دیں۔ پھانسی دینے کے بعد کوتوال نے عرضی بحضور اکبر لکھی کہ بوقت دار دلابھٹی نے فلاں فلاں گالیاں آپ کو دیں اور تمام حال حضرت شاہ حسین کا بھی لکھا کہ اس طرح اتنی دفعہ زنجیر اس کے پائوں سے ٹوٹ گئی تھی۔ جب وہ عرضی اکبر نے سنی تو کہنے لگا اس پاجی کوتوال نے کچھ خیالِ ادب نہ کیا اور تفصیل وار گالیاں درج کردیں۔ اسی وقت حکم دیا کہ کوتوال کے میخ ٹھونکیں اور اس سے اس کو ماریں۔ الغرض وہ اسی طرح سے مارا گیا اور تمام شہر میں شاہ حسین کی یہ کرامت مشہور ہوئی اور تابہ اکبر پہنچی۔ وہ سن کر حیران ہوا۔’’ شاہ حسین پنجاب کے ان سرکردہ صوفیاء میں سے ہیں جنہوں نے پنجاب میں خدا کی وحدانیت کا پیغام گھر گھر پہنچایا۔ پنجاب کے چند صوفی دانشوروں کی طرح حسینی فکر بھی عقل کی جگہ حس پر زیادہ توجہ دیتی تھی۔ شاہ حسین نے شاعری کو وسیلہ اظہار بنایا اور موسیقی آمیز شاعری کے ذریعے اپنے افکار و نظریہ کو خاص و عام میں فروغ دینے کی کوشش کی۔ شاہ حسین ‘ صاحب حال صوفی تھے ان پر جو کیفیات گزرتیں ‘ سادہ زبان میں بیان کر دیتے۔ قوتِ مشاہدہ کی بدولت ان کی شاعری کے سادہ الفاظ میں گہرے معنی پائے جانے لگے اور ان کی کافیوں میں استعمال کیے گئے عام الفاظ علامتوں کا روپ دھارنے لگے۔ صوفیانہ اظہار کی یہ صورت بعد ازاں پنجاب کی شاعری میں ایک صنف بن گئی اور عشقِ حقیقی میں ڈوبے ایک درویش صفت اور مست الست انسان کی آواز خطہ پنجاب سے نکل کر دیکھتے دیکھتے پاک و ہند میں پھیلنے لگی۔ لاہور میں برس ہا برس تک درو یشانہ رقص و سرود کی محفلیں آباد کرنے کے بعد یہ درویش 1599ء میں اللہ کو پیارا ہوگئے۔ ان کی قبر اور مزار لاہور کے شالیمار باغ کے قریب باغبانپورہ میں واقع ہے۔ ہر سال میلہ چراغاں کے موقع پر ان کا عرس منایا جاتا ہے۔ مادھو انکے بعد اڑتالیس سال بعد تک زندہ رہے اور انہیں شاہ حسین کے برابر میں ایک مقبرے میں دفنایا گیا۔ یہ مزار آج تک عقیدت مندوں کی بہت بڑی تعداد کا مرجع ہے کہ یہاں جدا نہ ہو سکنے والے دو ایسے عاشقوں کی قبریں ہیں جو مرنے کے بعد بھی اسی طرح ایک ہیں ‘ جیسے زندگی میں تھے۔ ایک میلہ جو ہر سال ماہ مارچ کے آخری ہفتے اور اتوار کو باغبان پورہ لاہور میں لگتا ہے۔ اگرچہ اسے مشہور صوفی حضرت مادھو لال حسین کی یادگار سمجھا جاتا ہے۔ لیکن دراصل یہ ایک موسمی میلہ تھا۔ اتفاق سے ایک دفعہ مادھو لال حسین کا عرس انہی تاریخوں میں آگیا جو میلے کے لیے مخصوص تھیں اور یہ دونوں اکٹھے منائے گئے۔ میلے میں زیادہ تعداد کسانوں کی ہوتی ہے جو اپنی منڈلیوں کے ساتھ گاتے بجاتے اور ناچتے آتے ہیں۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Copied!