Pakistan Columns

All Columns (Urdu and English)Of Pakistan You Could Easily Read Here/

Mazdooro Ky Haqooq Ka Tahufuz Kaon Karega?

”دیہاڑی لگ گئی تو روزی اور نہ لگی تو روزہ“ یہ جملہ ہمارے مزدور طبقہ کی صحیح ترجمانی کرتا ہے۔ ہر سال یکم مئی کو مختلف شہروں میں محنت کشوں اور مزدوروں کے حقوق کے لیے جلسے جلوس، کانفرنسز، سمینارز کا انعقاد کیا جاتا ہے۔ مختلف این جی اوز، سیاسی و سماجی لیڈر مزدوروں کے حق میں اسلامی تاریخ اور خلفائے راشدین کا حوالہ دیتے ہوئے بلند بانگ تقاریر کرتے ہیں۔ ٹاک شوز میں گرما گرم بحث و مباحثہ کر کے اپنا اور عوام کا وقت ضائع کرتے ہیں۔ یوم مزدور کو لوگ گھروں میں خوابِ خرگوش میں مست ہوتے ہیں یا چھٹی کا فائدہ اٹھا کر پکنک پوائنٹ پر پہنچ جاتے ہیں لیکن مزدور اس روز بھی مزدوری کی تلاش میں تپتی دھوپ کی پرواہ کیے بغیر بھٹک رہا ہوتا ہے۔ اس دن تعطیل ہونے کے باعث دیہاڑی دار مزدور کا معاشی قتل ہوتا ہے۔ حالانکہ اس دن کے منانے سے مزدوروں کے حالات زندگی پر کوئی مثبت اثرات مرتب نہیں ہوتے۔ عام مزدوروں کو یوم مئی سے کیا غرض؟ مہنگائی آسمان کو چھو رہی ہے۔ 18 اپریل 2019 ءکو اختتام پذیر ہونے والے ہفتے کے دوران مہنگائی کی شرح میں 12.42% اضافہ ہوا۔ دی اکانومسٹ کی اکنامک انٹیلی جنس جائزہ رپورٹ کے مطابق پاکستان میں 2019ءکے ایک ماہ نے ہی مہنگائی کے گزشتہ تمام ریکارڈ توڑ دئیے۔ دیہاڑی دار محنت کش 1000/- روپے میں بچوں کو دو وقت کا کھانا تو کھلا دے گا مگر بیماری کا علاج، بچوں کے سکول کی فیس، کرایہ، بجلی، گیس، پانی کے بلوں کی ادائیگی کیسے کرے گا۔ سبزیاں، گھی، چینی، آٹا، دالیں، چکن، بیف، غریب طبقہ کی پہنچ سے دور ہوتے جا رہے ہیں۔
مزدور سے مراد صرف اور صرف راج گیر، مستری، معمار نہیں بلکہ اس کا دائرہ کار بہت وسیع ہے۔ محنت کش دو طرح کے ہوتے ہیں۔ ایک وہ جو کسی کے پابند نہیں ہوتے۔ روزانہ کی بنیاد پر اپنا رزق تلاش کرتے ہیں مثال کے طور پر پلمبر، سنار، بڑھئی، درزی، دستکار وغیرہ جبکہ دوسری قسم میں وہ افراد شامل ہیں جو کسی کمپنی، ادارے، کارخانہ، فیکٹری میں ملازمت کے پیشے سے وابستہ ہیں۔نبی کریم نے آجر اور اجیر یعنی سرمایہ دار اور محنت کش کے حقوق و فرائض کے ضمن میں بھی ہماری رہنمائی فرمائی ہے اور تلقین کی کہ ”مزدور کی مزدوری اسکا پسینہ خشک ہونے سے پہلے ادا کرو“۔ کہنے کو تو ہم پڑھے لکھے، مہذب لوگ ہیں حقوق و فرائض سے بخوبی آشنا ہیں۔ یومِ مزدور کو مزدوروں کے حقوق کی بات کرتے ہوئے اپنے آپ کو بھول جاتے ہیں۔ دوسروں کو نصیحت کرتے ہوئے خود میاں فصیحت بن بیٹھتے ہیں۔ آئیے ذرا اپنا محاسبہ بھی کر لیجئے۔ مزدوروں کی فہرست میں آپ کے گھر کے ملازمین، مالی، ڈرائیور، خانساماں، چوکیدار وغیرہ بھی آتے ہیں۔ کیا آپ ان سے حسنِ سلوک کرتے ہیں؟ ان کی ضروریات وطعام کا خیال رکھتے ہیں؟ ملازمین کے حق میں نبی کریم کے فرمان پر کس حد تک عمل درآمد کر رہے ہیں کہ ”جو کھاﺅ انہیں بھی کھلاﺅ“ جو پہنو انہیں بھی پہناﺅ“۔
سوشل میڈیا پر ایک دلخراش تصویر وائرل ہوئی کہ جس مےں مالکان اپنے بچوں سمیت مرغن کھانا تناول کر رہے تھے اور ملازمہ بچی ڈرے سہمے ان کو دیکھ رہی تھی۔ ایک اور لرزہ خیر واقعہ، لاہور میں ہوا کہ ایک گھر کی سفاک مالکن نے بےچاری ملازمہ عظمیٰ کو اپنی بیٹی کی پلیٹ سے اک نوالہ اُٹھانے کی پاداش میں موت کے گھاٹ اُتار دیا اور مزید ظلم ےہ کہ اس کی لاش کی بے حرمتی کرتے ہوئے اسے کوڑے کے ڈھیر کی نذر کر دیا۔ 25 مارچ کو یہ خبر بھی ہوش اڑانے کے لیے کافی تھی کہ گھاس کاٹتی عورتوں کے سامنے گزرنے پر زمیندار نے محنت کش پر کتے چھوڑ دئیے اور متاثرہ فرد کو انتہائی تشویشناک حالت پر ہسپتال منتقل کر دیا گیا۔ شرم آنی چاہیے اسقدر گھٹیا اور طاغوتی سوچ کے حامل افراد کو کہ وہ محنت کش جو قوم و ملت کی تعمیر و ترقی اور عوام کی سہولت و فائدہ کے لیے اپنا دن رات ایک کرتے ہیں ان کے ساتھ ہتک آمیز سلوک کیا جائے۔آئیے اپنا احتساب خود کیجئے کہ کہیں ہم ان سے اضافی محنت تو نہیں لے رہے۔ پاکستان میں 96% بھٹہ مزدور جبری مشقت کر رہے ہیں۔ انہیں جنسی، جسمانی، تشدد سمیت مختلف طرح کے استحصال کا سامنا ہے۔ حکومت نے 740 روپے فی ہزار اینٹ اجرت مقرر کر رکھی ہے۔ مگر بھٹہ مالکان اپنی مرضی سے صرف 200، 300 روپے تک اجرت دیتے ہیں۔ اخلاقًا کام کی مقدار متعین ہونی چاہیے نہ کہ خادم اور مزدور سے اس کی وسعت اور طاقت سے زیادہ کام لے کر اسکو گرانبار اور بوجھل کیا جائے۔ نیز بوڑھے، معمر مزدور حضرات سے خاص رعایت برتی جائے۔ لاہور کی شاہ عالم مارکیٹ اور دہلی گیٹ میں 70 سال تک کے ضعیف اپنے اہل و عیال کی خاطر کمزور کندھوں پر بوجھ لادے ہوئے ہوتے ہیں۔
سمال گارمنٹس انڈسٹریز میں مزدوروں کے لیے بیمار ہونا جرم ہے۔ ایک سے زائد چھٹی پر کٹوتی ہوتی ہے۔ حاملہ خواتین کو ملازمت سے برخاست کر دیا جاتا ہے۔ 100 میں سے 80% مزدور مضرِ صحت ماحول میں کام کرتے ہیں۔ حفظانِ صحت کے مطابق اور فول پروف ماحول فراہم کرنا آجر کی ذمہ داری ہے۔ پاکستان میں آجر اور اجیر کے درمیان بہتر خوشگوار تعلقات اور صنعتی امن کے تحفظ کے لیے لیبر قوانےن موجود ہیں مثلاً صنعتی تعلقات کا آرڈیننس 1969۔ ایمپلائز سوشل سکےورٹی آرڈیننس 1969، ایمپلائز اولڈ ایج بینی فٹس ایکٹ (EOBI) 1976۔ ورکرز ویلفیئر فنڈز آڑڈیننس 1971۔ ورکرز چلڈرن ایجوکیشن آرڈیننس 1972۔ اس کے علاوہ اقوامِ متحدہ کا ایک ذیلی ادارہ، انٹرنیشنل لیبر آرگنائزیشن (ILO) بھی ہے جو دنیا بھر میں مزدوروں کے مفادات کا نگران ہے لیکن صدحےف کہ ان اداروں اور قوانین کی موجودگی کے باوجود پاکستان کا مزدور اپنے بنیادی حقوق سے محروم ہوتا جارہا ہے۔ صنعتی تعلقات کا آرڈیننس 1969 ءآجر کو پابند کرتا ہے کہ وہ ہر عارضی ملازم کو 90 دن مکمل ہونے پر مستقل کرے لیکن پاکستان کے صنعتی اداروں بشمول پرائیویٹ، ملٹی نیشنل، سرکاری، نیم سرکاری غرضیکہ ہر جگہ اس قانون کی دھجیاں بکھیری جارہی ہیں۔ بدقسمتی سے ماضی میں پاکستان کے صنعتی اداروں کی اکثر ٹریڈ یونینز کا وہ مثبت کردار نہیں رہا جس کی ان سے توقع کی جا رہی تھی۔ اب ایسا ٹھےکےداری سسٹم رائج کیا جارہا ہے جس میں عارضی ملازمین کو ادارہ یا فیکٹری اپنا ملازم تصور نہیں کرتے اور نہ کمپنی مستقل کرنے کی پابند ہے۔
کسی بھی ملک کی معاشی بہتری تبھی ممکن ہے جب وہاں کے مزدور مطمئن اور خوشحال ہوں۔ مزدور قوم و ملت کے لیے معمار و ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتے ہیں۔ ایسا معاشرہ ختم ہونا چاہیے جو مزدور کا استحصال کرے اور محنت کی صحیح قیمت وقت پر ادا نہ کرے۔ حکومت کو چاہیے کہ مزدوروں کی اُجرت میں اضافہ کیا جائے ان کی رہائشی کالونیاں بنائی جائیں تا کہ انہےں کسی حد تک ریلیف مےسر آسکے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Copied!