Pakistan Columns

All Columns (Urdu and English)Of Pakistan You Could Easily Read Here/

Maulana Ka Mission !

اللہ تعالیٰ مولانا فضل الرحمان کو صحت دے۔ وہ جمعرات کے روز یہاں ایک مقامی ہسپتال میں علالت کے باعث داخل ہوئے تھے۔ جمعہ کو وہ اسلام آباد میں اپنی اقامت گاہ پر منتقل ہوگئے ہیں۔ مولانا اس وقت تحریک انصاف کی حکومت کے خلاف تحریک چلانے کے لیے اپوزیشن جماعتوں کو یکجا کررہے ہیں۔ سابق وزیراعظم نوازشریف اور سابق صدر آصف علی زرداری سے ان کی ملاقاتیں ہو چکی ہیں۔ آصف علی زرداری تو یہ کہہ چکے ہیں کہ وہ موجودہ حکومت کو مزید وقت نہیں دیں گے اور وہ عمران خان حکومت کے خلاف سڑکوں پر نکلیں گے۔ البتہ سابق وزیراعظم اور مسلم لیگ (ن) کے سربراہ میاں نوازشریف سے لاہور میں مولانا نے جو ملاقات کی ہے اس کے بعد ذرائع سے جو خبریں سامنے آئی ہیں ان کے مطابق سابق وزیراعظم نے اس وقت کسی تحریک میں حصہ لینے سے معذرت کرلی ہے۔ سابق وزیراعظم ان دنوں چھ ہفتوں کی ضمانت پر ہیں اور وہ طبی معائنہ کرا رہے ہیں۔ وزیراطلاعات فواد چوہدری سابق وزیراعظم پر جملے کستے رہتے ہیں۔ فوادچوہدری نے یہ طنز کیا ہے کہ جیل سے نکلتے ہیں نوازشریف کی طبیعت بالکل بحال ہوگئی ہے۔ مولانا فضل الرحمان ایک جہاں دیدہ اور تجربہ کار سیاست دان ہیں وہ ماضی کی کئی سیاسی تحریکوں میں حصہ لے چکے ہیں۔ مولانا اس سے قبل جنرل ضیاء الحق کی حکومت کے خلاف اپوزیشن کی تحریک ایم آر ڈی ( تحریک بحالی جمہوریت) میں فعال کردار کر چکے ہیں۔ یہ اسی کی دہائی کی بات ہے اس وقت مولانا جمعیت علماء اسلام کے جواں سال لیڈر تھے۔ اب تو ان کی داڑھی اور سر کے بال سفید ہو چکے ہیں۔ البتہ ان کا حوصلہ اور سیاسی عزم بدستور جواں ہے۔ اس عمر میں وہ بہت متحرک ہیں۔ طویل عرصہ کے بعد قومی اسمبلی کے الیکشن میں شکست نے انہیں اور بھی متحرک بنا دیا ہے۔ مولانا اپوزیشن کی دوبڑی جماعتوں پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ (ن) کو قائل کررہے ہیں کہ وہ اس حکومت کے خلاف سڑکوں پر نکلیں۔ مولانا اس حکومت کو جعلی حکومت قرار دیتے ہیں ملک کی بگڑی ہوئی معاشی صورت حال خاص طورپر افراط زر اور اشیائے صرف کی قیمتوں میں اضافہ ایسا عنصر ہے جو حکومت مخالف سیاسی تحریک میں جان ڈال سکتا ہے پاکستان میں سیاسی جماعتوں نے ماضی میں جو تحریکیں چلائیں وہ زیادہ تر بحالی جمہوریت کی تحریکیں تھیں ایوب خان کے خلاف ساٹھ کی دہائی کے آخری سالوں میں متحدہ اپوزیشن نے مشرقی اور مغربی پاکستان میں جو تحریک چلائی تھی اس کے پیچھے کئی فیکٹر تھے۔ انٹی ایوب اس تحریک کے پیچھے فوری طور پر چینی کی قیمت میں اضافہ تھا لیکن اصل میں ایوب خان کے دس سالہ صدارتی نظام نے ایک تو امیر اور غریب میں بہت بڑا فرق پیدا کر دیا تھا۔

دوسرا ایوب خان نے 1964ء میں دوبارہ صدر منتخب ہونے کے لیے قائداعظم کی ہمشیرہ محترمہ فاطمہ جناح کو جو ان کے خلاف صدارتی الیکشن لڑ رہی تھی جس طرح دھاندلی سے شکست دی تھی اس سے مشرقی اور مغربی پاکستان کی سیاسی جماعتوں کو ایوب خان کے خلاف ایک کر دیا تھا۔ ایوب خان کے خلاف متحدہ اپوزیشن نے زوردار تحریک چلائی یہ بدقسمتی تھی اس کے نتیجے میں جمہوریت بحال ہونے اور نئے انتخابات منعقد ہونے کی بجائے جنرل یحییٰ خان کا مارشل لاء آگیا۔ پھر جو ہوا وہ تاریخ کا سیاہ باب ہے۔

ذوالفقار علی بھٹو کے خلاف 1977ء میں انتخابی دھاندلی کے خلاف جو تحریک چلی اس میں مولانا فضل الرحمان کے والد مولانا مفتی محمود پیش پیش تھے۔ بھٹو مخالف اس تحریک کے بارے میں یہ تاثر اس وقت عام تھا کہ اسے فوج اور امریکہ حمایت حاصل ہے۔بعد میں رونما ہونے والے واقعات نے اس تاثر کو تقویت دی۔ جنرل ضیاء الحق کی حکومت کے خلاف ایم آر ڈی کی تحریک میں مولانا فضل الرحمان کی قیادت میں جمعیت علماء اسلام نے فعال کردار ادا کیا۔ بے نظیر بھٹو اور نوازشریف دونوں نے ایک دوسرے کے خلاف تحریکیں چلائیں جن میں مولانا فعال رہے۔

مولانا اب پھر حکوت مخالف تحریک چلانے کے لیے پر تول رہے ہیں۔ اس مرتبہ عمران خان کو اقتدار سنبھالے سات آٹھ ماہ ہوئے ہیں۔ دوسری طرف مسلم لیگ ن اور پی پی پی کی قیادت پر بدعنوانی کے الزامات میں مقدمات چل رہے ہیں۔ دونوں قیادتیں امتحان سے دو چار ہیں۔ مسلم لیگ (ن) اور پی پی پی 2018ء کے انتخابی نتائج کو کسی حد تک تسلیم کر چکی ہیں ۔ مولانا دونوں اپوزیشن جماعتوں کو گزشتہ سال کے انتخابات کے بعد پارلیمنٹ کا بائیکاٹ کرنے کے لیے قائل نہیں کرسکے تھے۔ اپوزیشن جماعتیں اس بات پر متفق ہیں کہ موجودہ حکومت کو اسٹیبلشمنٹ کی تائید حاصل ہے۔ اسٹیبلشمنٹ کی سیاسی انجینئرنگ کے نتیجے میں پی ٹی آئی حکومت بنانے میں کامیاب ہوئی ہے۔ اپوزیشن جماعتیں وزیراعظم عمران خان کو سلیکٹڈ وزیراعظم ہونے کا طعنہ دے رہی ہیں۔ لگتا ہے کہ مولانا چین سے نہیں بیٹھیں گے وہ اس حکومت کو گھر بھیجنے کے مشن کو چھوڑیں گے نہیں لیکن ان کا موجودہ مشن اگر ناممکن نہیں تو مشکل ضرور ہے۔ اس مشن کی تکمیل کے لیے ان کا صحت مند ہونا ضروری ہے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Copied!