Pakistan Columns

All Columns (Urdu and English)Of Pakistan You Could Easily Read Here/

Mahngayi Ky Hatoon Pareshan Awam

ملک اس وقت شدید معاشی بحران کا شکا ر ہے غریب عوام کے منہ سے رو ٹی کا نو الہ تک چھنتا ہو امحسوس ہو رہا ہے ۔ غریب عوام حکمرا نو ن کو ووٹ اس لئے دیتے ہیں کہ وہ بر سر اقتدار آ کر عوام کے دکھوں کا مدا وا کر یں گے۔مگر پاکستان کا ہمیشہ سے یہی المیہ رہا ہے کہ ہر نئی آ نے والی حکومت پہلی سے بھی زیا دہ عوام کو مہنگا ئی کی چکی میں پیستی ہے اور عوام حال بے حال ان حکمرا نو ں کی نوازشوں کو قبول کرنے کے سوا کچھ نہیں کر سکتے ۔کسی بھی ملک میں حکومت کے بنیا دی فرا ئض میں عوام کو جو بنیا دی سہولیات فرا ہم کر نا ان کی ذمہ دا ری ہو تی ہے ۔اس میں تعلیم ،صحت اور روز گار ،اس ملک کے عوام کا بنیا دی حق ہے ۔مگر یہاں سب سے پہلے عوام کو اسی بنیا دی حق سے ہی محروم کر دیا جا تا ہے ۔ملک میں کئی عوام دو ست حکومتیں آ ئیں کسی نے عوام کو رو ٹی کپڑا اور مکان کا نعرہ دیا تو کسی نے اقتصادی تر قی کے خواب دکھلا کر آ نکھو ں میں لالچ پیدا کیا۔ مگر نتیجہ عوام غریب سے غریب تر اور کا ورو با ری طبقہ امیر سے امیر تر ہو تا گیا ۔نتیجہ کیا نکلا ملک میں بے روزگا ری بڑھی،مہنگا ئی کی شر ح میں اضا فے کے سا تھ سا تھ ملک میں جرا ئم کی شر ح میں بھی بے پنا ہ اضا فہ ہو تا گیا ۔اگر ہم اس کی وجو ہات پر نظر دو ڑائیں تو ہمیں وا ضح طو ر پر دکھائی دیتا ہے کہ کسی بھی حکومت نے کبھی مہنگا ئی کو کنٹرول کرنے کیلئے کو ئی جا مع پالیسی نہیں بنا ئی اور نا ہی کو ئی حکمت عملی اختیا ر کی جا تی ہے کہ اگر کو ئی حکومت مئوثرپالیسی بنا جا ئے تو دیگر ا ٓنے والی حکومتو ں کیلئے آ سا نی پیدا ہو اجا ئے۔ مگر ہما رے یہا ں تو گنگا ہی الٹی بہتی ہے ۔ہر آ نے والی حکومت کے لئے آ سا ن را ستہ ہو تا ہے کہ معیشت کا پہیہ چلا نے کیلئے آ ئی ایم ایف سے قرضہ حاصل کر لیا جا ئے اور پھر اس قر ض کی قسط ادا کرنے کیلئے عوام پر بے جا ٹیکسوں میں اضا فہ کر دیا جا ئے ۔ہر حکومت اپنا وقت نکا لنے کیلئے آ ئی ایم ایف سے مشکل سے مشکل تر ین شرائط پر قر ضہ حا صل کر لیتے ہیں نتیجہ کیا نکلتا ہے کہ آج ہما رے ملک کا بچہ بچہ قرض کے نیچے دبا ہوا ہے بلکہ ہما ری آ نے والی نسل کا وہ بچہ جس نے ابھی اس دنیامیں قدم بھی نہیں رکھا وہ بھی قرض کے بو جھ تلے دبا ہوا ہے ۔کسی بھی ملک کی تبا ہی کیلئے کا فی ہے کہ اس ملک کی معیشت کو تبا ہ کر دیا جا ئے۔آج ہما را ملک تبا ہی کے جس دہا نے پر کھڑا ہے اس کو بچا نے کا واحد حل معیشت کی بحالی ہے ۔ کسی بھی ملک میں معاشی بحران اچا نک زلزلے کی صورت میں نہیں آ تا ،معیشت کی تبا ہی کے اعشارئیے پہلے سے مل رہے ہو تے ہیں۔غیر ذمہ دارانہ طر یقہ سے حاصل کئے گئے قرضہ جات ،معاشی اصلاحات کا فقدان،غیر منا فع بخش ادا روں کے لئے فنڈز کی فراہمی،اپنی سا کھ بنا نے کے لئے غیر ضروری ترقیا تی کام معیشت کی تبا ہی کی بنیا دی وجو ہات ہیں۔اس وقت ملک میں انتشار پھیلا ہوا ہے ۔ ہر طرف موجودہ حکومت کو معاشی بحرا ن کا ذمہ دار ٹھہرا یا جا رہا ہے ۔اگر ہم حقیقت کا جا ئزہ لیں تو معاشی بحران موجودہ حکومت نے پیدا نہیں کیا ، یہ بحران دہائیوں میں پیدا ہواہے ، اس وقت پاکستانی معیشت کرنٹ اکائونٹ خسارے سے دوچار ہے جس کا حل یہ ہے کہ یا تودر آمدات کم کی جائیں اور یا قرض لیا جائے ، آئی ایم ایف کا کام ہی یہی ہے کہ وہ اپنے ممبر ملکوں کو بحران میں قرض دیتاہے جس سے معیشت کو سنبھالا ملتا ہے اور پھر آہستہ آہستہ وہ قرض واپس کردیا جاتاہے۔مگر اس با ر تو آ ئی ایم ایف نے بھی عندیہ دے دیا ہے کہ ملک میں معاشی بحرا ن سنگینی اختیا ر کر سکتا ہے ۔اس وقت ہمارا مسئلہ یہ ہے کہ بر آمدات کم ہیں اور در آمدات زیادہ ہیں، آمد ن کم اورخرچے زیادہ ہیں ، اس طرح کوئی گھر ہویا ملک چلایا نہیں جا سکتا۔ ٹیکس بڑھا ہے لیکن اس رفتار سے نہیں بڑھا جس رفتار سے بڑھنا چاہئے تھا۔ معاشی بحران سے اس وقت سٹاک مارکیٹ میں کھلبلی مچی ہے جس سے غیر یقینی صورتحال پیدا ہوئی ہے ۔ملک میں پٹرول،بجلی،گیس اور دیگر ضرورت کی اشیا کی قیمتو ں میں سو فیصد اضا فے کے با وجودحالا ت سنگین سے سنگین تر ہو تے جا رہے ہیں ۔ اشیا ئے خورد ونوش بھی عوام کی پہنچ سے با ہر ہو چکے ہیں ۔ستم ظریفی یہ ہے کہ ادویات جو کہ عوام کا بنیا دی حق ہیں ان میں بھی تین سو فیصد تک اضافہ عوام کو سولی پر لٹکانے میں کو ئی کمی نہیں چھو ڑ رہا ۔ جدھر دیکھو ملک کے حالات بد حا لی کی طر ف جا رہے ہیں۔اگر ہم حالات کا جا ئزہ لیں تو کو ئی ایسا دن نہیں جب ہمیں اخبارات میں مہنگا ئی سے خود کشی کرنے کی خبر یں نہیں ملتیں ۔نوجوان بے روزگا ری کے ہا تھوں تنگ آ کر جرا ئم میں ملوث ہو رہے ہیںیا پھر نشہ کرنے پر مجبور ہو رہے ہیں۔غریب عوام کے حالات تو اپنی جگہ کا رو با ری طبقہ بھی پریشانی سے دو چا رہے ۔یقینا یہ سنگین حا لات ایک یا دو ن میں پیدا نہیں ہو ئے اس کے پیچھے کئی سا لو ں کی کرپشن اور بد عنوانیا ں کا ر فرما ہیںمگر اس وقت موجودہ حکومت کے لئے ایک بہت برا چیلنج ہے ۔نیا نظام بنانا ایک مشکل امرضرور ہے مگر مشکل کو ئی کام نہیں ہو تا ۔کسی بھی برا ئی کو ختم کرنے کیلئے کہیں نہ کہیںسے تو آغاز کر نا پڑتا ہے یہی آزما ئش ہے عمران خان سے عوام کو بہت سی توقعات وابستہ ہیں۔کیونکہ وہ بہت سی حکومتوں کو آ زما چکی ہے اور اب تبدیلی کی منتظر ہے ۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Copied!