Pakistan Columns

All Columns (Urdu and English)Of Pakistan You Could Easily Read Here/

Mahnat Kash Ki Sarkashi Se Bacho

اس مادی دور میں وہی شخص کامیاب ہے جو محنت اور مستقل مزاجی کے گھوڑے پر سوار ہو کر صبا رفتاررکھنے کےلئے عقلِ سلیم کا تازیانہ بھی ہاتھ میں رکھتا ہو۔ آج ہم ایک دن کے لئے اس طبقے کی محنت و مشقت کو خراجِ تحسین پیش کرتے ہیں جس نے بڑی بڑی عمارات کی بنیادوں میں اپنا خون پسینہ بہایا ہوا ہے او رمسلسل بہا رہا ہے ۔ ایسے محنت کشوں کے سرکشی سے ڈرو ۔ جب وہ اپنی ضرورتوں اور سہولتو ںکے لئے میدان احتجاج میں اتر آئیں گے۔ اس وقت تو انہیں سوائے اس کے ہوش ہی نہیں ہے کہ دال روٹی کیسے پوری کرنی ہے۔ اپنی روزی کمانے کے لئے ہر روز کنواں کھود کر پانی پینے والے مزدور کی عظمت کو ہم سلام تو کرتے ہیں اور ایک روز اُن کے ساتھ یوم مئی منا کر شگاگو کے مزدوروں کو یاد بھی کر لیتے ہیں مگر پاکستان میں اُن ہاتھوں کو بھول جاتے ہیں جو مادرِ وطن کی تعمیر و ترقی میں حرکت میں رہتے ہیں۔ اس میں کوئی شک نہیں ہے کہ مسلسل محنت بھی آدمی کو تھکا دیتی ہے اور مسلسل آرام بھی تھکاوٹ کی ہی نشاندہی کرتا ہے ۔ آرام موت ہے اور کام زندگی ہے۔ کاہلی اور سستی بیماریوں اور بھوک کو دعوت دیتی ہے جبکہ حرکت و حرارت آپ کوصحت یاب رکھتی ہے آب رواں چمکتا ہے اور آب ایستادہ سڑتا ہے ۔ خود محنت کرنے والا ترقی کی منزلوں کو چھوسکتا ہے ۔کوئی امداد ، کوئی ترغیب، کوئی ہدایت ، کوئی تربیت، کوئی نصیحت، کتاب اور عالمانہ مباحثے آپ کو صرف راستے کے نشانوں کی طرح تمہیں راہ راست سے بھٹکنے نہ دیں مگر خود وہ تم کو اٹھا کر ایک قدم آگے نہیں لے جاسکتے۔ منزل کو طے کرنا تمہاری اپنی ٹانگوں کا کام ہے ۔ مزدور ہر روز مزدوری کرکے ہی زندہ رہ سکتا ہے وہ گن گن کے روپے جمع نہیں کرسکتا وہ چُن چُن کر اپنے اخراجات پورے کرتا ہے۔ مزدور کی مزدوری اس کا پسینہ خشک ہونے سے پہلے ادا کرنے کا حکم ہمارے نبی مکرم نے واضح طو رپر دیا ہے اور عزت بارگاہِ خداوندی میں اس شخص کی ہے جو ہاتھ سے کام کرتا اور حلال کی روزی کماتا ہے۔ وہ اس دور کا ولی ہے ۔ ہاتھ سے کام کرنے والا اللہ کا دوست ہے۔
پاکستان کے استحکام میں مزدو کی کارکردگی آپ کو سڑکوں ، پلوں ، سکولوں، کالجوں ، یونیورسٹیوں او ربڑے بڑے پلازوں اور فلک بوس عمارتوں میں نظر آئے گی۔ جو مزدور ہی کے دست محنت کاشاہکار دکھائی دیتی ہے۔ 70 سال سے ہر آنے والی حکومت نے مزدور کی زندگی میں آسانی تخلیق نہیں کی بلکہ یہی سنتے آرہے ہیںکہ بندہ¿ مزدور کے اوقات بڑے تلخ ہیں اُن کی یہ تلخی کب خوشی میں بدلے گی۔ لاکھوں مزدورں کی محنت کاحاصلِ محنت کون کھا رہا ہے اور وہ خون بیچ کر شام کے فاقوںکو ٹال رہا ہے۔ ایسے خوددار مزدور کی حمیت تمہیں لے ڈوبے گی اور سرمایہ پرستی کا سفینہ اب ڈوبنے کے قریب ہے۔ ایک نئی دنیا اب اپنے اندر ایسی ناانصافیوں کو جگہ نہیں دے سکتی اور وہ نئی دنیا خود بخود پیدا ہورہی ہے ۔ شگاگو کے مزدوروں کاقتل تو دنیا جان گئی مگر وہ مزدور جن کو ہمارے مل مالکان نے احتجاج پر بھٹیوں میں زندہ جلا دیا اُن کو بھی یاد کرلینا ضروری ہے اور اگر ہم اُن کو بھول جائیں گے تو ناانصافی سر اٹھائے گی اور مزدورکی مزدوری سے بھی ہاتھ دھوناپڑ جائے گا اس وقت یوم مئی مزدوروں کا دن منایا گیا ہے اور مزدور آج اس لئے خوش ہیں کہ آج شاید اُن کو کام نہ کرنا پڑے گا۔ ماﺅزے تنگ نے اپنی قوم کو زندگی اور حرارت عطا کی آج چین کی ترقی میں چینی مزدوروں کا کردار سب سے زیادہ ہے اورانہوں نے اپنے مسیحا کی موت پر چھٹی نہیں کی بلکہ دو گھنٹے زیادہ کام کرکے اپنے قائد کی روح کو تسکین پہنچانے کا اہتمام کیا۔ ویسے بھی ماﺅزے تنگ نے وصیت کی کہ میرے مرنے پر چھٹی نہ کی جائے بلکہ اس روز دو گھنٹے زیادہ کام کیا جائے اور آج چین دنیا کی سپر پاور بنتا جارہا ہے اور ا س کے عقب میں مزدور کی محنت شاقہ کار فرما ہے۔ ہم نے زیادہ تر وقت مزدوروں کو بے ہنر رکھنے اور انہیں مشقت والے کاموں میں رکھا او رآج جدید عہد کے تعمیر و ترقی کے آلات میسر ہیں اُن کا ہنر مزدور کے لئے آسانیاں پیدا کرے گا۔ میرے خیال میں یوم مئی پر رخصت کی نہیں کام کی ضرورت ہے۔ تعطیل، تعمیر و ترقی کو تحلیل کرتی ہے جب کہ کام کام او رکام قائدکی روح کی تسکین کا سامان فراہم کرتا ہے۔ ماﺅزے تنگ قول کے نہیں عمل کے آدمی تھے اور یہی خوبی ہمارے بانی پاکستان قائد اعظم محمدعلی جناح کی تھی جنہوں نے جنوبی ایشیا کے مسلمانوں کی آزادی کے لئے آزاد خطہ زمین پاکستان لے کر دی اور آج ہم سب کو مادرِ وطن کی خدمت اپنے اپنے شعبوں میں اسی طرح کرنی چاہیے جس طرح مزدور دل وجاں سے لگا ہوا ہے۔
محنت کش کی سرکشی سے ڈرو وہ اپنے حقوق کے لئے جس روز کھڑا ہوگیا تو پھر اس کی سرکشی کے سامنے بڑے بڑے سرکش سرنگوں ہوجائیں گے۔ مزدور کے حقوق دین اسلام میں سب سے زیادہ ہیں اور ہم نے مزدور کی آنکھوں سے وہ سہولتیں اور ضرورتیں اوجھل رکھی ہوئی ہیں ۔ہم نے اُن کوشگاگو کے مزدوروں کی یاد میں مست کر دیا ہے اور اُن کے حقوق غصب کئے جارہے ہیں سب سے زیادہ نا انصافی مل مالکان کر رہے ہیںجو اُن کا خون چوس چوس کر سرمایہ دار بن رہے ہیں اور مزدور کے اوقات کو تلخ اور اپنے حالات شیریں بنا رہے ہیں۔ جن کی باز پرس ہوگی ۔ اس باز پرس سے بچنے کا واحد ذریعہ یہی ہے کہ مزدوروں کے لئے آسانیاں پیدا کی جائیں۔ مزدور کی آہ سے بچو زمین سے عرش کا فاصلہ اس کی آہ کے سامنے کچھ بھی نہیں۔ ارباب حکومت مزدور کی فلاح کی طرف توجہ دیں ۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Copied!