Pakistan Columns

All Columns (Urdu and English)Of Pakistan You Could Easily Read Here/

Maghrab Main Tezi Se Pahlta Islamo Fobia

آ ج دنیا بھر میں مسلمانوں کو تعصب اور نفرت کا نشانہ بنایا جا رہا ہے ۔ مسلمانو ںپر تشدد کے بڑھتے واقعات اس جانب اشارہ کر رہے ہیںدنیا بھر میں ایک منظم منصوبے کے تحت اسلام اور مسلمانوں کے خلاف نفرت انگیز تحریکیں چلائی جارہی ہیں۔جس کا بنیادی ہدف اسلام اور مسلمانوں کو دنیا بھر میں کمزور کرنا ہے۔بدقسمتی سے اسلامی ممالک کے بعض مفاد پرست حکمران بھی غیرممالک کا آلہ کار بن کر رہ گئے ہیں۔چنانچہ ریڈیکل اسلام جیسی اسلام دشمنوں کی اصطلاحات مفاد پرست حکمران نام نہاد امت مسلمہ کے خیرخواہ بھی قبول کرچکے ہیں۔ایک طرف دنیا میں امن کے ٹھیکداروں نے دہشت گردی کو اسلام اور مسلمانوں سے جوڑا تو دوسری طرف یہی بے حس مفاد پرست حکمران ہیں جو خود کو سیکولراور لبرل کہلاوانے میں مصروف ہیں۔آج پوری دنیا میں دہشت گردی کے نام پرصرف امت مسلمہ کا خون بہایا جا رہاہے۔چنانچہ شام سے لے کر یمن تک،افغانستان سے لے کر عراق تک،برما اورسری لنکاسے لے کر فلسطین تک ہرجگہ مظلوم مسلمان ہیں۔او آئی سی جیسی اسلامی دنیا کی نمائندہ تنظیم بھی سوائے سالانہ میٹنگیں کرنے کے مسلمانوں کے لیے کچھ نہیں کرسکی۔اس کی بے حسی کا اندازہ شامی شہر غوطہ میں گزشتہ کئی دنوں سے جاری مظالم پر افسوس ناک خاموشی سے لگایا جاسکتاہے۔افسوس کی بات ہے! کہ امت مسلمہ کے نام نہاد حکمران قاتلوں اور ظالموں کو اپنا ہمنوا ور ہم خیال بنائے بیٹھے ہیں۔جس کا اندازہ امریکا ،برطانیہ کے ساتھ ان کے گہرے مراسم کے ساتھ لگایا جاسکتاہے۔ہم ان کے مفادات تو حاصل کرتے ہیں۔،مگر امت مسلمہ کے مظلوموں پر ان کے ظلم کو رکوانے کے لیے لب تک نہیں کھولتے۔آ ج جدھر دیکھو دنیا میں مسلمان ظلم کا شکار نظر آ تے ہیں۔چا ہے وہ امریکہ ہو ،بر طانیہ ہو یا پھر نیو زی لینڈ۔کہیں مسلما نوں کو ووٹ حا صل کرنے کی لالچ میں قتل کیا جا رہا ہے تو کہیںاپنے مقاصد کی تکمیل کیلئے نفرت انگیزی پھیلائی جا رہی ہے ۔بھارت کے مقاصد بھی کسی سے ڈھکے چھپے نہیں ہیں۔بھارت ایک صدی سے کشمیر کے مسلما نوں پر ظلم کے پہاڑ تو ڑ رہا ہے۔کشمیر میں روزانہ خون کی ہو لی کھیلی جا تی ہے۔ہر رو ز ما ئیں اپنے جوان بچوں کے جنازے اٹھا تی ہیں ۔معصوم بچیو ں کی عصمت دری کی جا تی ہے ۔بھارتی افواج گزشتہ 71 برسوں سے مقبوضہ کشمیر میں انسانیت کے خلاف سنگین جرائم کا ارتکاب کررہی ہے۔ نہتے شہریوں کے خلاف وحشیانہ طاقت کا استعمال بھارت کیلئے شرمناک ہے۔بھارتی بنیاد پرستوں نے پلوامہ حملے کے بعد بھارت میں مقیم مسلمان کشمیریوں کو نشانہ بنایا ہے۔مگر اس کے با وجود خود کو لبرل کہلانے ،دوسروں کو دہشت گرد کہنے والا ملک روزا نہ کتنی بڑی دہشت گر دی کر تا ہے ۔وہ شا ید کسی کو نظر نہیں آ تا۔بھارت نے پہلے دن سے پاکستان کوآزاد خود مختار ریا ست کے طور پر قبول نہیں کیا۔1992ء میں بابری مسجد کو شہید کر دیا گیا ۔ مسلمانوں کے پْر امن احتجاج پرہندو دہشت گردوں نے مسلمانوں کا قتل عام کیا۔ سمجھوتہ ایکسپریس کے دروازے بند کر کے آگ لگا دی گئی۔ اور پاکستان کے سینکڑوں مسلمان دوران سفر زندہ جلا دیے گئے۔ کشمیر میں بھارت کے ظلم و تشدد میں شدت اور بھارتی افواج کی درندگی میں اضافے کا ماسٹر مائنڈ اسرائیل ہے۔کیا بھارت میں ہندوئوں کا مسلمانوں پر ظلم و ستم، اسرائیل کا فلسطینیوں کا وقفہ وقفہ سے قتل عام ہماری آنکھیں کھولنے کے لیے کافی نہیں ہے؟ مغربی میڈیا نے اسلامو فوبیا کے نام پر یورپی معاشرہ کو مسلمانوں کے خلاف مشتعل کیا ۔مسلمانوں کے خلاف من گھڑت کہانیاں شائع کی گئیں کہ اگر اسلام آگیا ہے تو ان کی تہذیب و تمدن اورزندگی خطرے میں پڑ جائے گی، ان کا وجود مٹ جائے گا ۔ نائن الیون کے بعدمیڈیا کے بعد تو یورپ میں مسلمانوں کے خلاف نفرت کاسیلاب آگیا۔ عالمی سطح پر کرائے جانے والے ایک جائزے سے اسلام اور مغرب کے درمیان ایک گہری خلیج کا پتہ چلتا ہے۔ اسلام اور مغرب ایک دوسرے کو انتہاپسند، تشدد پسند اور خواتین کی ابتری کا مرتکب تصور کرتے ہیں۔ مغرب میں متعدد لوگ مسلمانوں کو تشددپسند اور انتہاپسند سمجھتے ہیں۔ ان کے خیال میں جب کوئی ایک مذہبی شخص کی حیثیت سے جدید معاشرے میں جینے کی کوشش کرتا ہے توتضاد پیدا ہوتا ہے۔ایک اندازے کے مطابق یورپی ممالک میں ایک کروڑ تیس لاکھ سے زائد مسلمان رہائش پذیر ہیں۔مسلمانوں کے خلاف اشتعال اور بڑھتے تشددکے واقعات سے صرف عام مسلمان فکر مند نہیں ہیں۔بلکہ تمام عالم اسلام میں تشویش لاحق ہے۔بھارت میں بی جے پی مسلمانوں کے خلاف تعصب رکھتی ہے۔وہاں سماجی، سیاسی اور معاشی امتیاز برتا جارہا ہے۔ہندوئوں کے ہاتھوں مسلمانوں کی توہین کی جاتی ہے اور تضحیک کا نشانہ بنایا جاتا ہے۔گائے کی حفاظت کے نام پر مسلمانوں کو قتل کیاجاتا ہے۔زبردستی مذہب تبدیل کرایا جاتا ہے۔ سکھوں، مسیحیوں اور دلت اقلیتوں کو جبروتشدد کا نشانہ بنایاجاتا ہے۔پریشا نی کی بات ہے کہ اقوام متحدہ کے پاس کوئی نظام نہیں جو ہندئوں کی سوچ دہشت گردی کرنے والوں کو کالعدم قرار دے۔ کرائسٹ چرچ کے شہدا اس مسئلے کی وجہ سے نشانہ بنے ہیں۔یہ پہلی بار نہیں ہوا، نہ ہی آخری واقعہ ہے۔ ہمیں گہرائی سے اس مسئلے پر غور کرنا ہوگا اور اصلاح احوال کی کوشش کرنا ہوگی۔ اسلامو فوبیا کے مسئلے سے انکارممکن ہے اور نہ ہی نظر اندازکیا جا سکتا۔ اس مسئلے کا سامنا کرنا ہوگا۔ سیاسی طاقتوں کی جانب سے مسلمانوں کے خلاف نفرت پھیلانے کی لہر کو روکنا ہوگا۔ مسلمان ممالک میں اتحاد کے بغیر اس لہر کے سامنے بند باندھنا ممکن نہیں ہوگا۔ اوآئی سی کی سطح پر ادارہ جاتی طریقہ کار وضع کیا جائے جو مسلمان اقلیتوں کے حقوق کے تحفظ کے لئے کام اورنگرانی کرے۔ مستقل بنیادوں پر رپورٹس کا اجرا کیا جائے، جس میں مسلمانوں کے خلاف ایسے رویوں کی نگرانی پر مبنی حقائق جمع ہوں۔ مسلح تنازعات، عدم مساوات،مسلمانوں کے خلاف امتیازی سلوک کی وجوہ کو حل کرنا ہوگا۔اب وقت آگیا ہے دنیا کے تمام مسلما نوں کو اکٹھا ہو نا ہو گا۔۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Copied!